گوشہء نور کی کرنیں…
آمین ڈار۔
آپ لوگ جب مدینہ منورہ جاؤ گے تو امین ڈار سے ضرور ملنا ۔قیوم بھائی جان نے ہمیں ہدایت کی ۔وہ کون ہے بھائی جان؟ میں نے سوال کیاوہ بہت خاص بندہ ہے۔ اس کا کوئی ایڈریس وغیرہ ہمیں دے دیں۔
عصر سے مغرب تک گنبد کے ساتھ جنت البقیع والی سائیڈ پر دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے آنکھیں بند کیے بہتی آنکھوں کے ساتھ ایک شخص تمہیں آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی شان اقدس میں گلہائے عقیدت پیش کرتا ہوا نظر آئے گا۔
یہی اس کا ایڈریس ہے اور یہی پتہ عصر سے مغرب مسلسل وہ آپ کو وہی ملے گا ۔
اگر آ پ پر کوئی مشکل پیش آئی اور آپ نے آ قا علیہ الصلواۃ السلام کی خدمت میں عرض کر دی تو امین ڈار خود آ پ کو ڈھونڈ لے گا۔
آپ سے ان کی ملاقات کیسے ہوئی؟ میں بہت کچھ جاننے کے در پے تھی۔ میرا سوال سن کر کر بھائی جان کے چہرے پر بہت ساری یادوں کی خوشنما لہریں نمودار ہوئی ۔وہ مسکرائے اور بولے یہ بھی ایک عجیب قصہ تھا ۔
ہم عمرہ کے لیےمدینہ منورہ میں موجود تھے ۔گروپ لیڈر ہونے کی وجہ سےگروپ کے تمام لوگوں کے اخراجات کے پیسے میرے پاس تھے ۔ہمارے گروپ میں کچھ بزرگ زائرین بھی شامل تھے ان بزرگوں نے اپنے تمام پیسے بھی میرے پاس بطور امانت رکھوا دیے ہوئے تھے ۔
یوں ایک گروپ کا لیڈر بھی تھا اور ان کے پیسوں کا آمین بھی۔ وہ تمام پیسے میں نے ایک چھوٹے سے ہینڈبیگ میں رکھے ہوئے تھےاور وہ مجھ سے گم ہوگیا۔ میرے ذاتی پیسے ہوتے تو شاید میری پریشانی کا یہ عالم نہ ہوتا۔
گروپ کے انتظامات خرچے کے تمام پیسے اور ان بزرگ زائرین کے جیب خرچ کے پیسے بھی اسی بیگ میں تھے۔ میں بالکل خالی ہاتھ تھا ایک کپ چاۓ پینے کے پیسے بھی پاکٹ میں نہیں تھے ۔میں اپنےگروپ ممبران اور خاص طور پر ان بزرگوں سے آنکھیں نہیں ملا پا رہا تھا جو ہر چھوٹی چھوٹی ضرورت کے لیے اپنی امانتوں سے سے مجھ سے طلب کرتے ۔
اس شدید پریشانی کے عالم میں مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں کیا کروں میرے پاس کوئی رستہ نہ تھا تھا کہاں جاؤں؟ کس سےکہوں؟
گروپ والوں کے سامنے اس گمشدگی کا اظہار بھی کرنا میرے لیے ایک مشکل مرحلہ تھا کیوں کہ مجھے خدشہ تھا کہ وہ کہیں میری نیت پر شک نہ کریں ۔
میں خاموش تھا اپنے دل و دماغ میں فکر و اندیشہ کی آندھیوں کو کو کنٹرول کرتے ہوئے میں حرم مدینہ کی طرف بوجھل قدموں سے چل پڑا۔
میرے سامنے آقا علیہ الصلاۃ والسلام تھے۔ آقا علیہ الصلاۃ والسلام کا دربار تھا اور میں ایک پریشان حال سوالی ۔ میرے پاس تو اپنا مدعا بیان کرنے کے لیے ۔ کچھ کہنے کے الفاظ بھی نہیں تھے ۔
جونہی گنبد کے کے سامنے پہنچایکایک آنسو کا بند لگا سمندر ٹوٹ گیا آنکھوں میں جل تھل ہو گئی۔میں خاموش تھا اور میرے آنسو میرا حال بیان کر رہے تھے۔یو ں شدت سے رویا بے بسی سے رویا مدد کی طلب میں رویا کہ میرے آنسو مجھے کسی اور دنیا میں لے گئے ۔
آقا آپ کے در پر کھڑا ہوں رسوائی سے بچالینا ۔میں اپنے آپ کو آپ آقا کے قدموں میں محسوس کر رہا تھا۔ اور مسلسل روءے جا رہاتھا۔
اچانک شلوار قمیض میں ملبوس ایک شخص میری طرف بڑھا میرے کندھے پر دست شفقت رکھا میں ہڑبڑا گیا۔
اور یکلخت تصوراتی دنیا سے لمحہ موجود میں آگیا۔ لیکن یہ خواب نہیں تھا ۔ جن کو میں بند آنکھوں سے دیکھ رہا تھا وہ تو حقیقت میں میرے سامنے کھڑے مسکرا رہے تھے۔
انہوں نے نے میرا مسئلہ حل کر دیا ۔میں حیران تھا اور پریشان بھی اتنی خطیر رقم مجھے دے رہے تھے اور اور جب کہ وہ مجھے جانتے بھی نہیں تھے ۔
میں نے استفسار کیا توبولے مجھے واپس کر دینا ادھار سمجھ کر رکھ لو پاکستان جا کر جب لوٹا سکوں لوٹا دینا۔
اتنی خطیر رقم ایک انجان شخص کو ایک دیارِغیر میں قرض دینا بھی کوئی معمولی بات نہ تھی۔ لیکن یہ تو دیار غیر نہیں تھا یہ تو میرے کریم آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی بستی تھی۔
جہاں کوئی تنہا نہیں ہے ہر آنے والا مہمان انفرادی طور پر جب ان کی توجہ میں ہوتا ہے۔ اس بستی کا ہر مکین خاص ہے ۔ ہمیں وہاں گھومنے والے بظاہر اپنے جیسے نظر آنے والے لوگوں کی اصلیت معلوم نہیں کون کیا ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہے اور کس کو آقا نے کون سا منصب عطاکیا ہوا ہے۔ یہ تو سارے بھید ہیں جنہیں کوئی نہیں سمجھ سکتا امین ڈار بھی ایک بھید ہے۔ بھائی جان یہ کہہ کر خاموش ہو گئے۔
عبدالقیوم بھائی جان انجینئر نگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد لاہور میں ایک انجینئرنگ کالج میں بطور لیکچرار خدمات سر انجام دے رہے تھے ۔
لیکن درحقیقت وہ ایک درویش تھے اللہ والے تھے۔رشتہ دار۔ اہل محلہ دوست احباب کسی کو بھی کوئی مسئلہ ہوتا وہ بھائی جان کے پاس دعا کے لئے جاتا وہ دعا فرماتے مسکرا تے چہرے کے ساتھ اس کے دکھ سنتے ان کو ورد اور وظائف تعلیم کرتے ۔اور سب سے بڑی بات آنے والے ہر سوالی کی خاطر تواضع میں کوئی کسر نہ چھوڑتے۔ ان کا دن مخلوق کی خدمت اور گھر آنے والے مہمانوں کی تواضع میں گزرتا تھا۔ اور رات اللہ کی عبادت میں۔
ہم لوگوں کا حج پر آنے کا پروگرام بنا تو ہم بھی بھائی جان کی خدمت میں سلام کرنے اور نصیحتوں کے انمول موتی چننے کے لئے لیے باادب حاضر تھے ۔
کوئی تو ایڈریس بتائیں بھائی جان سنا ہے حج پر بہت رش ہوتا ہے اگر ہم انہیں وہاں نہ پا سکے تو ہم کہاں ڈھونڈیں گے۔ میں نے دوبارہ اصرار کیا وہ بے نیازی سے بولے بیٹا وہ ڈھونڈ ی جانے والی شخصیت نہیں ہے ۔ اگر تم پرکوئی مسئلہ ان پڑا اور تم نے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی خدمت میں جا کر عرض کردی تو آمین ڈار تمہیں خود ڈھونڈ لے گا اور تمہاری مدد کو آن موجود ہو گا فکر نہ کرو۔ یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئے۔
اور میں نے امین ڈارکا نام اپنی یاداشت میں ایک پرچی پر لکھ کر بڑے اہتمام سے سنبھال کر رکھ لیا۔
ہم نےحج کے ارکان ادا کیے ۔ مدینہ منورہ میں بھی حاضری دی۔ لیکن ہم امین ڈار کو نہ ڈھونڈ سکے ۔شاید ابھی ان سے ملاقات کا وقت ہی نہیں آیا تھا۔ یا پھر شایدہم نے آسانیوں میں حج کیا کہ دل شدت کی اس کیفیت نہ پہنچ سکا جو آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں لے جاکر ہمیں سوالی کے درجے تک پہنچا دیتی۔
وقت اپنی اپنی رفتار سے گزرتا گیا یا تقریبا دس برس بیت گئے۔بھائی جان عبدالقیوم بھی اس عرصے میں میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔
اللہ کریم نے ہمیں سر زمین حجاز میں مکین بننے کی سعادت سے نواز ہم جدہ منتقل ہوگئے ۔مکہ اور مدینہ کی حاضری کا خواب اب حقیقت بن چکا تھا ۔
۔ الحمدللہ ۔
مدینہ منورہ حاضری کا ارادہ کیا تو ذہن میں انمٹ روشنائی سے لکھا ہوا امین دار کا نام پھر سے جگمگانے لگا ۔اب کے تو انشاءاللہ امین ڈار کو ڈھونڈ لوں گی میں نے دل میں مصمم ارادہ کیا۔
ہمارے ایک عزیز عمرہ پر تشریف لائے انہوں نے بھی امین دار کا تذکرہ بھائی جان عبدالقیوم سے سن رکھا تھا ۔ وہ نشانیاں انہیں یاد ہیں اور انہوں نے امین ڈار کو ڈھونڈ لیا۔
وقت بدل چکا تھا ترقی نے اپنی بہت سی منازل طے کرلی اور ہر شخص کے ہاتھوں میں سیل فون تھما دیے۔ اب امین دار کا فون نمبر اب میرے پاس آ چکا تھا ۔
میں نے انہیں فون کیا بھائی جان قیوم کے حوالے سے اپنا تعارف کروایا اورمدینہ منورہ حاضری پر ان سے ملاقات کی خواہش کا اظہار بھی کیاجس پر انہوں نے رضا مندی دے دی۔
ایک دن میں جدہ میں قرآن پاک پڑھتے پڑھتے سورہ نساء کی اس آیت پر پہنچی تو رک گئی۔
Surat No 4 : سورة النساء – Ayat No 64
وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ جَآءُوۡکَ فَاسۡتَغۡفَرُوا اللّٰہَ وَ اسۡتَغۡفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۶۴﴾
ہم نے رسول کو صرف اس لئے بھیجا کہ اللہ تعالٰی کے حکم سے اس کی فرمانبرداری کی جائے اور اگر یہ لوگ جب انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا تیرے پاس آ جاتے اور اللہ تعالٰی سے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے لئے استغفار کرتے ، تو یقیناً یہ لوگ اللہ تعالٰی کو معاف کرنے والا مہربان پاتے ۔
www.theislam360.com
قرآن تو رہتی دنیا تک کے لیے ہے ۔ تو یہ آیت بھی ہر دور اور ہر زمانے کے مسلمان کے لیے ہے ۔ ظلم تو اپنی جانوں پر ہم نے بھی بہت کیے ہیں اب ہم ایسا کیا کریں کہ آقا علیہ صلاۃ و سلام کی خدمت میں جا کر معافی کی درخواست کریں اور وہ ہمیں اللہ کریم سے معافی دلوا دیں یہ سوچ کر میں نے مدینہ منورہ جانے کا ارادہ کیا۔ اپنے شوہر سے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو وہ بولے ابھی تو ہمارے آقا مے بھی نہیں بنے ۔
اقامہ رہائشی کارڈ ہوتا ہے جو سعودی عرب میں ملازمت مل جانے کے بعد ملازم کو دیا جاتا ہے ۔ آپ آفیس سے کوئی اجازت نامہ سفر کے لیےحاصل کر لیں۔ اور اس ویکینڈمجھے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی خدمت میں لے جائیں میں اپنے دل کی بہت ساری باتیں آقا سے کرنا چاہتی تھی میری بے قراری بڑھتی جا رہی تھی میری حالت دیکھ کر میرے شوہر نے کوشش کرنے کا وعدہ کیا۔
سفر کا اجازت نامہ چکا تھا اور ہم مدینہ منورہ کی طرف رواں دواں تھے۔
دس برس کے بعد پھر سے مدینہ منورہ حاضری لیکن یہ حاضری کچھ مختلف تھی۔ سورہ نساء کی آیت
بھی دل کو اتھل پتھل کیے دی رہی تھی سب کچھ مختلف لگ رہا تھا حضوری کی یہ ایک نئی کیفیت اور نئی امید تھی جس سے میرا من آگاہ نہیں تھا ۔
رات کو عشاء کے بعد ہم ریاض الجنہ میں موجود تھے تھے اس سبز قالین پر کھڑے ے آنکھوں کے سامنے سنہری جالیاں تھی اور دل کی حالت بیان سے باہر ۔
میں سورہ نساء کی آیت کو پکڑے آقا کی خدمت میں حاضر تھی۔
صلوۃ توبہ ادا کی۔ تمام گناہوں کوتاہیوں لغزشوں جو کو بڑے اہتمام سے اکٹھا ان کو اپنے ندامت کے آنسو سے تر کیا ان کی بڑے دھیان سے ایک گٹھڑی باندھی اور اس گٹھڑی کو اپنے ہاتھوں میں اٹھائے دربار نبوی میں پہنچ گئی ۔
میرے جذبات کی شدت اس قدر بڑھ چکی تھی کہ چودہ صدیاں بھی اس کی تاب نا سکیں خاموشی سے سے ایک طرف ہوگی ۔
دل میں قرار آگیا میری درخواست شاید قبول کرلی گی۔ لیکن میں تو عین الیقین چاہتی تھی۔ دل نے کہا اگر میری التجا مقبولیت کو پہنچ چکی ہے تو گھر واپس جانے سے پہلے آقا کچھ عطا فرما دے ۔میرے ہاتھ میں کچھ ایسا دے جس کو دیکھ کر مجھے یقین آ جائے کہ میری دعامقبول ہو چکی ہے۔ یہ دعا مانگ کر میں پرسکون ہو گئی اور اپنی رہائش گاہ کی طرف چل پڑی ۔
فجر کی نماز حرم شریف میں ادا کرنے کے بعد ھم دوبارہ سو چکے تھے ۔ فون کی بیل مسلسل بجے جا رہی تھی۔
فون اٹھایا تو دوسری طرف ایک مردانہ آواز تھی انتہائی پر سکون اور اور شفقت میں ڈوبی ہوئی آواز اسلام و علیکم ۔امین ڈار مدینہ منورہ سے بات کر رہا ہوں۔ آپ اس وقت کہاں ہیں؟
انہوں نے سوال کیا ۔مدینہ منورہ میں ۔ میں نے جواب دیا آپ ناشتہ میرے ساتھ میرے گھر کریں گے دوسری طرف سے جواب آیا مجھے اپنا ایڈریس سمجھا دیں ۔میں آ پ کو لینے پہنچ رہا ہوں۔.,…
آمین ڈار سے ملاقات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امین ڈار سے ملاقات میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سفید رنگ کی کی ڈبل کیبن ہمارے سامنے آ کر رکی درمیانہ قدمضبوط جسم چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ سجائے ایک شخص نکل کر ہماری طرف آیا۔مسکراہٹ ایسی گویا کہ یہ اس چہرے کا ابدی حصہ ہو ہو بات کریں یا خاموش رہے مسکراہٹ اس کے چہرے پر موجود ہی رہتی ۔
برسوں کی تلاش آج پوری ہوگی امین ڈارہمارے سامنے موجود تھے۔
ہم ان کے گھر پہنچے گھر خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ ہمیں اپنے ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا۔ میں آپ لوگوں کے لئے ناشتہ لے آؤں ۔ میں نے گھر کی خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے سوال کیا آپ کے گھر والے سو رہے ہیں ؟بولے نہیں وہ سب تو پاکستان گئے ہوئے ہیں پھر آپ نے ہمیں ناشتے پر کیوں مدعو کیا آ پ کو زحمت ہوگی میں شرمندہ سی ہو گئی .
میرےشوہر بھی صورت حال کو سمجھ چکے تھے انہوں نے کہا بیگم جا کر ناشتہ بنائیں۔ ارے نہیں بھائی صاحب ناشتہ تو میں تقریبا تیار کرکے آپ کو لینے گیا تھا صرف چائے بنانی ہے۔ آپ انہیں کچن کا رستہ بتا دیں چائے یہ خود بنا کر لے آئیں گی میرے شوہر نے جواب دیا ۔
ناشتہ کرنے بعد وہ اٹھے کونے میں پڑی الماری کی طرف بڑھے ۔ آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے شہر سے وابستہ بہت سارے تبرکات نکال کر سامنے بچھی میز پر سجا دیے۔وہ ایک ایک چیزاٹھاتے اس کا تعارف کرواتے جاتے یہ سب کچھ میرے لیے بالکل نیا تھا میں ان کی باتیں سنتی جارہی تھی اور حیرت کے سمندر میں اترتی جا رہی تھی۔وہ ان تبرکات کی تفصیل ہمیں بتا رہے تھے۔
انہوں نے سفید کاغذ میرے سامنے میز پر بچھایا اور گنبد خضرہ سے اترنے والے سبز روغن کے چھوٹے چھوٹے ٹکرےاس پر ڈالےاس کی پڑیا بنائیں اور مجھے تھما دیں یہ آپ کا تحفہ ہے ۔ آقا نے میری ڈیوٹی اسی کام پر لگائی ہوئی ہے۔
آ قاکے حکم اور اجازت کے بغیرحدود حرم کی کوئی شے کسی کے پاس نہیں جا سکتی یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئے اور مجھے اپنے رات والے سوال کا جواب مل گیا۔(جاری ہے)

آمین ڈار۔

Related Posts

Leave a Reply