گؤشہ ءنور کی کرنیں۔۔29
امین ڈار۔۔۔۔۔۔(پارٹ۔2)۔۔
(ٹھنڈی ٹھنڈی وگدی اے پورے دی ہوائے نی۔۔۔)
میرے بچپن کی یادوں میں غربت ،مشقت ،میرے باپ کی عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آنسوؤں سے تر آنکھیں۔۔
میری ماں کا مسکراتا ہوا چہرہ۔۔۔
اور آقا علیہ الصلاۃ السلام کی مدح میں کہے گئے کلام کے خوبصورت اشعار بس یہی سرمایا ہے ۔۔۔
یہی وہ رنگ ہے جو میرے بچپن کی یادوں میں نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔۔۔
گھر میں غربت و افلاس اس قدر تھی کہ کئی مرتبہ رات کو کھانے کے لیے گھر میں کچھ بھی میسر نہیں ہوتا تھا ۔۔۔
جس دن گھر میں فاقہ ہوتا اس روز میں سر شام ہی گھر کی فضا میں عجیب سی تبدیلی محسوس کرتا۔۔۔
اس شام میرے ابا جی معمول سے سے تھوڑا پہلے ہی خاموشی سے اپنے بستر پر جا بیٹھتے اور یاد الہی میں مصروف ہوجاتے۔۔
یا آقا علیہ الصلاۃ و السلام کی مدح بیان کرتے ہوئے اپنے آنسوؤں سے اپنی بھوک کو سیراب کر رہے ہوتے۔۔۔
اس روز میری ماں مجھے سر شام سے ہی اپنے آپ سے آنکھیں چراتی ہوئی محسوس ہوتی ۔۔۔
مبادا اس کا اکلوتا لاڈلا بیٹا اس سے کھانے کو کچھ مانگ نہ لے ۔۔۔
اور اسے اپنے خالی برتنوں کی وجہ سے اسے اپنے بچے کے آگے شرمندگی نہ اٹھانی پڑے ۔۔۔۔
میرا ننھا سا دماغ اس ساری صورتحال کو بھانپ جاتا۔۔
اور جب پیٹ میں بھوک سے چوہے دوڑنے لگتے بے قراری بڑھنے لگتی تو میں خاموشی سے اٹھتا پانی کا پیالہ بھرتا اور بسم اللہ پڑھ کر خاموشی سے پی جاتا۔۔
وہ پیالا میری بھوک کو مٹا دیتا مجھے سیراب کر جاتا۔۔
میں ایک نظر اپنے باپ کو دیکھتا۔۔
پھر نگاہ چراتی ماں کو دیکھتا۔
جسکے چہرے پر بھوک کی شدت کی وجہ سے پیلاہٹ نمایاں ہوتی ۔۔۔
اس کی چمکدار آ نکھوں کی چمک اس لمحے بھوک اور لاڈلے بیٹے کی فاقہ کشی کی وجہ سے ماند پڑ رہی ہوتی۔۔۔
یہ سب دیکھتا اور خاموشی سے کچھ کہے بنااپنے بستر پر لیٹ کر کر اپنی آنکھوں میں مدینہ کے خواب سجانے میں مصروف ہو جاتا ۔۔۔
تصور میں مدینہ کی گلیوں میں پھرتے پھرتے وہاں کی درختوں سے لگی کھجوریں اتارتے اتارتے معلوم ہی نہ پڑتا کہ میں کب نیند کی وادیوں میں میں چلا جاتا ۔
یوں بھوک افلاس کی کٹھن راہوں میں ماں باپ کے صبر و شکر گذاری اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے نرم وگداز لمحے میرے بچپن کی یادوں کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔۔
پانچویں جماعت سے ہی گرمیوں کی چھٹیوں کے دن محنت مزدوری اور راتیں سکول کا کام کرتے گذرتی تھیں۔۔
تنہائیوں میں اکثر پنجابی نعت کا یہ شعر میرے لبوں پر میری محرومیوں کی اداسیوں کو امید دیتا اور میں اسے گنگناتا رہتا۔۔
ٹھنڈی ٹھنڈی وگدی اے پورے دی ہوائے نی
آ کھیں نبی ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تائیں روضے تے بلائے نیں
اے مدینہ کی طرف چلنے والی ٹھنڈی ہوا.
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہنا مجھے بھی اپنے روضے پر بلا لیں)۔۔
میرا گاؤں د ھاماں لالہ موسیٰ بہت اچھے لوگوں کا گاؤں تھا۔
گاؤ ں میں چند بیوہ خواتین تھی جن کے گھر کے چھوٹے موٹے کام کرنا میں اپنی ذمہ داری تصور کرتا تھا۔
گاؤں میں مردم شماری ہو یا کسی کی بیٹی کی شادی میں اپنی استاد سیدسعادت حسین شاہ صاحب کے ساتھ مل کر ہر کام میں پیش پیش ہوتا تھا
دن کا سورج اور رات کی چاندنی میرے ہم راز تھے۔ میرے دل کے محرم۔۔۔
میرے دل میں چھپی ہوئی خواہشات کے محرم ۔۔
میری مرادوں اور میری تمناؤں کے محرم۔۔
زندگی یوں ہی اپنی مخصوص رفتار سے گزر رہی تھی۔۔۔
میں آٹھویں جماعت میں پہنچ گیا۔میری تنہائیوں میں اب بھی پنجابی نعت کا یہ شعر میرے ساتھ ہوتا ۔۔۔
ٹھنڈی ٹھنڈی وگدی اے پورے دی ہوائے نی
میں دل ہی دل میں اپنے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کے شہر گھر سے آنے والی ہوا سے التجائیں کرتا رہتا اور سوچتا۔۔۔
یہ ہوا یقیناً کبھی نہ کبھی میرے دل میں چھپی ہوئی مکین مدینہ بننے کی خواہش کو ضرور اور پورا کرنے کی نوید ایک دن مجھ تک پہنچائی گی۔۔۔
آٹھویں جماعت میں تھا ایک خواب دیکھا کہ ایک چاردیواری ہے اور ہر طرف دودھ کی طرح سفیدی ہے ہر طرف سفیدی ہے چمک ہے ۔ میں بڑے گیٹ سے داخل ہوتا ہوں تو دیکھتا ہوں بہت سارے لوگ سفید لباس زیب تن کئے التحیات کی صورت بڑے ادب سے بیٹھے ہیں اور دائیں طرف ایک دروازہ ہے اس کی سامنے تین سیڑھیوں پر پانچ اشخاص کھڑے ہیں۔ جن کے دائیں رخسار مبارک نورانی سروں پر سیمفید پگڑیاں بالوں میں پٹے میں دیکھ کر بہت ہی خوش ہو رہا ہوں۔ میں اس محفل کے ایک آدمی جو کہ التحیات کی صورت بیٹھا ہے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہوں وہ بڑی شفقت سے اوپر دیکھتے ہیں میں پوچھتا ہوں کہ محفل پاک تھی وہ فرماتے ہیں پہلی سیڑھی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم تشریف فرما ہیں دوسری پر ابوبکر صدیق اور عثمان غنی تیسری سیڑھی پر عمر فاروق اور علی رضہ اللہ تعالیٰ عنہما ہیں حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم خطاب فرما رہے تھے ابھی تشریف لے جا رہے ہیں۔ میں کہتا کاش میں پہلے آتا اور آپ کا خطاب سنتا ۔ اور وہ ہستیاں چل گئیں۔ میری آنکھ کھل گئی۔ صبح ایک بزرگ سے اس خواب کی تعبیر پوچھی انہوں نے پوچھا تم نے یہ الفاظ کہے کہ کاش میں پہلے آتا اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا خطاب سنتا ۔ میں نے کہا کہ ایسا ہی کہا۔
انہوں نے پوچھا خواب کسی کو بتایا تو نہیں میں نے کہا نہیں انہوں نے فرمایا بیٹا تیرا مسکن مدینہ منورہ ہو گا جب تک مدینہ منورہ پہنچ نہ چلے جاؤ یہ خواب کسی کو نہیں بتانا۔..
بڑی جد وجہد کے بعد میٹرک کیا تو خواہش تھی کہ سروے کا ڈپلومہ کر لوں لیکن حالات نے اجازت نہ دی۔ میرے والد صاحب کے پیر صاحب کے پوتے سید فضل عباس مرحوم سروئیر تھے..
جب بھی چھٹی آتے میرے والد صاحب کے پاس آ کر اپنے دادا جی کی باتیں سنتے اور مجھے بھی پوچھتے کیا حال ہیں؟
میں ان دنوں نوکری کی تلاش میں تھا۔ انہوں نے والد صاحب سے کہا اگر آپ اجازت دیں تو امین کو اپنے ساتھ کے جاؤں۔۔۔
وہ گھر سے روانگی آج بھی یاد ہے۔ ( اپنے ننھیال جاتا تو آدھی رات اٹھ کر رونا شروع کر دیتا اپنی اماں جی کے پاس جانا ہے۔ )۔
شاہ صاحب کے ساتھ گیا تو ان کا کام مظفر گڑھ کے تھل ایریا میں تھا سخت گرمی اور تھل ( ریگستان ) شاہ صاحب نے فرمایا۔۔۔
امین مشین اٹھا لو کبھی یاد کرو گے تم کورس تو نہیں کر سکے شاید کبھی سرویر بن ہی جاؤ۔
جمعہ کی چھٹی ہوتی تھی شاہ صاحب کے کپڑے دھونے ان کے جوتے پالش کرنے کوئلے والی استری سے ان کے کپڑے پریس کرنے ۔ ( ساتھی لوگ سنا سنا کر باتیں کرتے۔۔۔
کوئی کمی لگدا اے۔
وہ دراصل استاد اور” سید زادے “کی عزت و احترام سے نابلد تھے۔
ٹھیک آٹھ ماہ بعد اسی گروپ کو سرویروں کی ضرورت تھی۔۔۔۔
شاہ صاحب نے مجھے ٹرینڈ کر دیا تھا۔ میری طرف سے درخواست دے دی۔۔۔
الحمدللہ ماہانہ تنخوا ہ ٹی اے ڈی اے اور گاڑی ڈرائیو مل گیا ۔ سرویر بن گیا دو سال ایک ماہ بعد نوکری ختم ہو گئی۔
روزگار کے لئے ایک مرتبہ پھر کمر بستہ ہو گیا ۔۔ اسی دوران 1971 کی جنگ شروع ہوگئی۔پاک فوج میں آ سامیا ں آ ئیں اور میں نے میپ ریڈنگ کلاس میں داخلہ لے۔۔۔
بہت کٹھن ڈیوٹی تھی ایک سال گیارہ ماہ میں سپاہی سے لاس نائیک بن گیا ۔۔
پھر ایجوکیشن انسٹرکٹر کورس کرنےکا موقع ملا اور میں آ رمی سکول ٹیچر کا ڈپلومہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔۔
پانچ سال میں نے بہت محنت اور لگن سے آرمی میں اپنی خدمات سرانجام دیں ۔ میری محنتی طبیعت اور جفاکشی کی وجہ افسران بہت خوش تھے ۔۔
میں محکمے کے کورسز میں ہمیشہ اعلی کامیابی حاصل کرتا ہوا تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتا جا رہا تھا۔۔
بظاہر زندگی بے حد پرسکون اور متوازن تھی۔اس دوران میری ماموں زاد میری شریکِ حیات بن کر میری زندگی میں ایک خوشگوار جھونکے کی طرح داخل ہو چکی تھی۔
لیکن میری تنہائیاں ایک لمحے کے لئے بھی مجھے یاد مدینہ سے غافل نہ ہونے دیتیں۔۔
میری دھن۔۔
میری لگن ۔۔۔
ہر لمحہ مجھے جکڑے ہوئے تھیں۔۔۔
ٹھنڈی ٹھنڈی وگدی اےپورے دی ہوائے نی۔۔۔۔۔۔
یہ شعر میری تنہائیوں کو کبھی بھی تنہا نہ چھوڑتا۔۔۔
دل اور دماغ میں مدینہ منورہ جانے کی لگن اور تڑپ ہر آنے والے دن میں شدت اختیار کرتی جا رہی تھی۔۔
لیکن حالات بظاہر میرے موافق نہ تھے ۔۔۔
بوڑھے والدین دین بیوی اور بچی یہ سب میری ذمہ داری تھے ۔۔
اور فوج کی نوکری سے استعفی دینا کوئی آسان کام نہیں تھا ۔۔۔
لیکن دل تھا کہ کسی صورت قرار نہیں پکڑتا تھا ۔۔
شاید ” ٹھنڈی ٹھنڈی مدینے کی ہوا” میرے پیغام کی منظوری پر مہر ثبت کروانے میں کامیاب ہو چکی تھی۔۔
اور وہی منظوری میری بے قراری کو رفتہ رفتہ دیوانگی میں بدل رہی تھیں۔۔
پنجابی نعت کا شعر ہر وقت مجھے پیغام دیتا کہ تمہاری منزل مدینہ منورہ ہے ۔۔۔
اور سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں تم کوئی اعلی خدمات سر انجام دو گے۔۔۔
تم چن لئے گئے ہو۔۔۔کوئی آ ہستہ سے میرے کان میں سرگوشی کرتا۔اور میری بیقراری نعتیہ کلام کی شکل میں فضا کو معطر کر نے لگتی۔
ٹھنڈی ٹھنڈی وگدی اے پورے دی ہوائے نی۔۔۔
سال کے بعد گاؤں چھٹی پر آتا ہے تومدینہ منورہ جانے کی خواہش پھر سے شدت اختیار کر جاتی۔
یہ خواہش ہر وقت میرے ساتھ چپکی رہتی۔۔۔
میں بھی موقع کی تلاش میں رہتا۔۔۔
میرا خواب میری لگن کا سبب تھا اور حالات ناموافق۔ بہر حال وقت گزرتا گیا:
ایک مرتبہ میں اپنے گاؤں میں چھٹی پر آیا ہوا تھا۔اس زمانے میں گاؤں میں ٹانگےچلا کرتے تھے۔۔
میں ٹانگے پر بیٹھا، اگلی سیٹ پر ہمارے گاؤں کے ایک بزرگ سوار تھے۔۔
میں نے ان سے پوچھا بابا جی آپ کہاں جا رہے ہیں ؟؟
بولے صدر پاکستان فضل الہی میرا بھتیجا ہے اس کا بھائی وفات پا گیا ہے میں تعزیت کے لئے جا رہا ہوں۔
پھر بولے بیٹا صدر پاکستان سے کوئی کام ہے تو بتاؤ۔
میں نے جھٹ سے ٹانگہ رکوایا اور سامنے سگریٹ پان کے کھوکھے سے پنسل کاغذ پکڑا اور اپنا عندیہ لکھ کر باباجی کےہاتھ میں پکڑا دیا اور لجاجت وامید بھرے لہجے میں کہا ،
باباجی میں فوج کی نوکری چھوڑ نا چاہتا ہوں ۔صدر صاحب سے کہ کر مجھے ملازمت سے دستبردار کروا دیں۔۔
انہیں وہ کاغذ کا ٹکڑا تھما کر میں میں گویا یا تصور ہی تصور میں مدینہ جانے والے قافلے کے پیچھے پیچھے چل پڑا ۔۔
ساری رات میں اپنے قافلے کے ساتھیوں کو نعت سنا سنا کر تصور میں ان ڈے داد وصول کرتا رہا ۔۔
اگے دن علی الصبح میں شہر سے آنے والے رستے پر جا کھڑا بابا جی کا بے قراری سے انتظار کر رہاتھا۔۔
اوریو ں بابا جی صدر پاکستان فضل الہی سے میری فوج سے دست برداری کی نوید لئے میرے سامنے کھڑے مسکرا رہے تھے۔۔۔
گویا رستے کی ایک بہت بڑی رکاوٹ میری نوکری اب میری مجبوری نہیں رہی تھی۔۔
قصہ مختصراً۔۔۔
بڑی جد و جہد اور بڑی محنت مشقت کے بعد سعودی عرب جانے کا پروگرام بن گیا۔ اس زمانے میں جہازوں کے جہاز سعودی عرب عمرہ پہ آتے اور یہیں رہ جاتے ۔
لیکن کچھ سختی ہوئی ہوئی تھی میں کراچی میں 25 لوگوں کے ساتھ انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔ تین ماہ ہو گئے تھے سخت پریشان تھا بوڑھے ماں باپ جوان بیوی اور بیٹی چھوڑ کر نکلا تھا ۔
اور راستے میں اٹکا ہوا تھا۔ پنجاب سے ایجنٹ کا والد آیا اور اسے کہا اگر بندے نہیں چڑھتے تے واپس بھیج دو۔۔۔
پھر سب لوگ اکٹھے ہوئے تو ایجنٹ نے کہا بلدیہ مکہ میں کون جانا چاہے گا ؟؟
میں نے ہاتھ کھڑا کر دیا گیا۔
اس نے پوچھا پتا ہے وہاں کیا کرنا پڑے گا؟؟
میں نے کہا جھاڑو دینا پڑے گا میں دو گا مجھے منظور ہے۔میرے لہجے کا استقلال دیکھ کر دور بیٹھا ہوا ہوا اس کا باپ میری جانب متوجہ ہوا۔
وہاں سے نکلا پوچھا یہ لڑکا کون تھا؟؟
اس نے بتایا دھاماں سے ڈار فیملی کا ہے اس نے کہا 25 بندے آج خیبر میل پر بٹھا دو واپس چلے جائیں۔۔
ایک بندہ سعودیہ مزرعہ فقیہ طائف سے چھٹی گیا اور کراچی اپنا ٹکٹ پاسپورٹ بیچ دیا۔۔
تو یوں اس نے مجھے محمد اسحاق بنا کر ائیرپورٹ پر میل ملاپ کر کے طائف بھیج دیا گیا۔ اس سارے عرصے میں مدینہ منورہ کی لگن میرے سینے میں تڑپتی رہی نعت پاک میرا اوڑھنا بچھونا رہی۔
ٹھنڈی ٹھنڈی وگدی اے پورے دی ہوائے نی۔۔۔
(۔جاری ہے).۔۔۔گوشہءنور

امین ڈار ۔ (پارٹ ۔ 2)

Related Posts

Leave a Reply