گوشہءنور کی کرنیں۔۔31
امین ڈار۔۔۔۔(پارٹ۔۔۔4)
عمرہ کی ادائیگی۔
طائف کے بلند و بالا پہاڑ وں میں بل کھاتی سڑک پر ہماری گاڑی مکہ مکرمہ کی جانب رواں دواں تھی۔۔
طائف بلند و بالا پہاڑ وں کی چوٹیوں پر واقع بنو سعد قبیلہ کا مسکن ہونے کا اعزا اپنے سینے پر سجائے تکبر کی ایک بے نیاز ی اپنے اندر سمیٹے آنے والے سیاحوں کی توجہ اپنی طرف کھینچتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔یہ ایک پر فضا مقام ہے۔
پہاڑوں پر کھڑے ہو کر دیکھا جائے تو مکہ شہر پہاڑوں کے بالکل نیچے دامن میں بچھا ہوا نظر آتا ہے ۔ لیکن سڑک پہاڑوں پر گھومتے گھومتے جب نیچے جاتی ہے تو تقریبا ایک ڈیڑھ گھنٹے کا وقت لگ جاتا ہے ۔طائف کی پہاڑیوں پر کھڑے ہوکر دیکھو تو مکہ مکرمہ بہت قریب دکھائی دیتا ہے۔
پہلی مرتبہ مکہ مکرمہ کا سفر وہ ہمیں بڑے شوق سے بتا رہے تھے۔
کہنے لگے اور یہ وقت میرے جیسے دیوانے ۔۔
مجنوں ۔۔۔۔
اور سالوں جدائی کی آگ میں جلنے والے کے لئے بہت طویل ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔
میرے لبوں پر مسلسل نعت کے اشعار تھے اور آنکھوں میں ندامت کے آنسو۔۔۔
بیت اللہ شریف کی حاضری۔۔۔۔
وہ بلکل درست کہ رہے تھے ۔یقینا پہلی مرتبہ یہ حاضری بھی اپنے اندر ایک خاص لذت رکھتی ہے میں نے سوچا۔
جب اس کے بلکل سامنے ان خوابوں کی تعبیر ہوتی ہے جنہیں اس نے سالہاسال بڑی محنت سے اپنے ایمان کی چھاؤں میں بیٹھ کر بنا ہوتا ہے۔۔۔
پہلی مرتبہ بیت اللہ کا سامنا کرنے کا وقت آتا ہے تو اس کے اندر ایک شور مچ جاتا ہے۔۔۔
ایک بھاگ دوڑ لگ جاتی ہے۔۔۔
ساری زندگی میں کئے گئے گناہ۔۔۔
غلطیاں۔۔۔
لغزشیں۔۔۔۔
ندامتیں ںن کر ادھر ادھر منہ چھپاتے ہوئے نظر آ تی ہیں ۔۔
اور کبھی چپ چاپ اک آنسو بن کر آنکھوں کے رستے بھاگنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔
کبھی خواہشات سج دھج کر ان میں آ ن موجود ہوتی ہیں۔۔۔۔
کہ پہلی نظر جب کعبہ پر پڑے گی تو پہلی دعا کیا ہوگی ؟؟
ہر خواہش دعا بن کر لبو ں تک پہنچنے میں بڑی جلدی میں ہوتی ہے ..
لیکن آ قا علیہ صلاۃ و سلام کے غلاموں کا معاملہ اس دن بھی تھوڑا مختلف ہوتا ہے ۔
وہ ان لمحوں میں بھی ہر طرف صرف اپنے آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی خوشبو تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔۔
ہیں ۔
وہ چشمِ تصوّر میں اپنے آقا علیہ السلام کو کبھی بچپن میں مکہ کی گلیوں میں میں آ تے جاتے ہوئے ہیں ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں ۔۔
کبھی اونٹنی پر سوار پیارے آقا کو بیت اللہ کا طواف کرتے۔۔۔۔
کبھی ان کی نگاہیں اپنے آقا کو بیت اللہ شریف میں احرام میں ملبوس دیکھتی ہیں۔۔۔
اور کبھی صحابہ کرام کے جھرمٹ میں آقا علیہ الصلوۃ والسلام حجر اسود کا بوسہ لے رہے ہوتے ہیں ۔۔
انہیں فکر ہوتی ہے تو صرف اس بات کی وہ اپنی ندامتوں کے ساتھ۔۔۔
اپنی لغزشوں کے ساتھ ۔۔۔
اپنی سیاہ کاریوں کے اندر لتھڑے ہوئے گناہ گار وجود کے ساتھ اللہ کے گھر میں اگر آقا علیہ الصلاۃ والسلام سے ملاقات ہوگی تو کیا کریں گے ؟
یہ احساس ان کی آنکھوں کو نمکین پانی کی جھڑیاں تھمادیتا ہے۔۔
ان کی حالت کی ترجمانی یہ شعر بہت خوبصورتی سے کرتا ہے۔۔۔
مکے کی ہواؤں میں طیبہ کی فضاؤں میں۔
ہم نے تو جِدھر دیکھا سرکار نظر آئے۔
وہ تو مکہ میں بھی سرکاردو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشبو کو ڈھونڈنے جاتے ہیں جو آج بھی مکہ کی فضاؤں میں رچی بسی ہوئی ہے۔۔۔
پہلی مرتبہ اللہ کے گھر کو دیکھنے کی خوشی ۔۔۔
دو سفید چادروں میں لپٹا ہوا انسانی وجود ۔۔۔
ہر طرف لبیک کی صدائیں۔۔۔
ہر انسان کی زندگی کا ایک بہت خاص لمحہ ہوتا ہے ۔۔
جہاں دعائیں التجائیں لبوں پر آنے کے لیے بے قرار ہوتی ہیں ۔۔۔۔
انسان رب العالمین چوکھٹ کو پکڑ کر بہت کچھ منوانے کے ارادے سے اس گھر کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے وہاں جانے انجانے میں سرزذ ہوئے گناہ لفظ ایک پتھریلی چٹان کی طرح اس کے سامنے آ ن کھڑے ہوتے ہیں۔۔۔
ایسے میں انسان ندامت کے آنسو جو اور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت اورسفارش کی امید پر اس گھر کی جانب رواں دواں ہوتا ہے ہر حاجی انہیں ملی جلی کیفیات میں گم آنکھوں سے سے نیر بہاتے ۔۔۔
لبوں پر ذکر کرتے اس بل کھاتی مکہ مکرمہ کی جانب جانے والی سڑک پر رواں دواں تھا۔
اور مکہ مکرمہ پہنچ کر۔
کچے صحن میں کھڑے ے کالے سیاہ غلاف میں لپٹے بیت اللہ شریف کے عین سامنے۔۔۔۔
” کعبہ پر پڑی جب پہلی نظر۔
کیا چیز ہے دنیا بھول گیا۔”
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرنے والوں کا انداز ان کی سوچیں اپنے آ قا علیہ الصلواۃ والسلام کی یادوں کے حصار سے نکل ہی نہیں پاتیں۔
انہیں یوں لگتا ہے کہ چودہ صدیاں تو کبھی گزری ہی نہیں تھی یہی بیت اللہ تھا ۔۔۔
یہی جبل عمر ۔۔۔
یہی حطیم۔۔۔
اور یہی کچا پتھریلا حرم کا صحن۔
ان کا دل سر گوشی کرتا ہے کہ یہی پتھریلی زمین ہوگی۔ یہی سلور کڑے میں جڑا ہوا حجرے اسود۔۔
میرے آقا کس دروازے سے حرم کے اندر داخل ہوتے ہوں گے ۔۔۔
اور پھر کہا ں ہاتھ رکھ کر اپنا چہرہ مبارک آگے بڑھاتے ہوں گے ھجرے اسود کو بوسہ دینے کے لیے۔۔۔
میں اپنی سوچوں میں بیت اللہ شریف کا یہ منظر سجائے کہاں سے کہاں پہنچ چکی تھی۔
بیت اللہ شریف میں خانہ کعبہ میرے سامنے تھا اور میں بے تابانہ اس کی جانب لپکا۔۔۔
الحمدللہ ۔۔۔۔
اللہ لبیک اللھم لبیک لا شریک لک لبیک۔۔
ڈار صاحب اپنی پہلی مرتبہ حرم شریف کی حاضری کی روداد ماضی میں ڈوبے سنا رہے تھے۔
پہلا عمرہ مکمل کیااور پھر حرم کا صحن کچا ہوتا تھا۔چھوٹے چھوٹے پتھر پاؤ ں میں چبھتے تھے۔لیکن وہ چبھن بھی اچھی لگتی تھی اسی صحن میں کھڑے ہو کر تصویر بنوائی انہوں نے تفصیلاً ہمیں بتایا۔
اس زمانے میں بلیک اینڈ وائٹ تصویریں بنتی تھی ۔۔
وہ تصویر بڑی احتیاط سے خط میں ڈال کر گاؤں اپنے والدین کو کو پوسٹ کر دی۔۔
ان دنوں میں پاکستان ڈاک 15 دنوں میں پہنچ جایا کرتی تھی۔۔
زندگی اپنی ڈگر پر چل رہی تھی تقریبا ایک ماہ گزر چکا تھا تھا میں ایک دن اپنے دوست کے ہمراہ طائف کے بازار کچھ خریداری کرنے گیا۔۔
اس زمانے میں شیونگ کے سامان میں جیلٹ کا بڑا نام تھا۔ میں نے بڑا ڈھونڈ کر جیلٹ کی ایک مہنگی شیونگ کٹ پسند کی ۔ وہ اس زمانے میں ذرا قیمتی سمجھی جاتی تھی ۔۔
میں نے اسے بڑے شوق سے خریدا۔۔
واپس اپنے کمرے میں آگیا . جب کمرے میں داخل ہوا تو سامنے میرا خط پڑا ہوا تھا جو والد صاحب نے لکھا تھا .میں نے خریدا ہوا سامان ایک طرف رکھا اور جھٹ سے خط کھول کر پڑھنے لگا .
والد صاحب نے میری عمرہ والی تصویر پر بہت خوشی کا اظہار کیا تھا اور لکھا تھا .
اب میں اپنے بیٹے کا چہرہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق دیکھنا چاہتا ہو ں۔ یہ پڑھ کر میرے آنسو نکل آئے ۔میں نے خط کو تہہ کر کے اپنے تکیے کے نیچے رکھا اور خاموشی سے سامان میں سے وہ شیونگ کٹ نکال کر اپنے دوست کے ہاتھ میں تھما دی۔
یہ میری طرف سے آپ کے لئے تحفہ ۔
وہ حیران ہوا کہ اس شیونگ کیٹ کو پسند کرنے میں تم نے طائف کا بازار چھان مارا ۔ اب مجھے کیوں دے رہے ہو ۔۔وہ سراپا حسن سوال بن گیااور بولا یار اگر پیسوں کا مسئلہ ہے تو مجھ سے لے لو یہ آ پ نے شوق سے خرید ی ہے اسے ستعمال کرو۔۔۔
لیکن میں اسے کیا بتاتا کہ اصل معاملہ کیا ہے۔۔
اور یوں میں نے اسی وقت چہرے پر سرکاردو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سجانے کا ارادہ کر لیا۔۔
شاید یہ بھی مدینہ منورہ جانے سے پہلے ضروری تھا۔۔۔
اب مکہ مکرّمہ حاضر ی کے بعد مدینہ منورہ کی تانگ مزید شدت اختیار کرتی جا رہی تھی۔۔
” ٹھنڈی ٹھنڈی وگدی اے پورے دی ہوائے نی”
یہ شعر تنہائی کے لمحات میں میرے ساتھ ساتھ ہی ہوتا۔۔
چھٹی کا دن تھا ہمارا ایک ساتھی اس کے پاس کمپنی کی ڈبل کیبن گاڑی ہوتی تھی۔۔
چھٹی کا دن تھا۔ وہ ہمیں کہنے لگا میں مدینہ منورہ جا رہا ہوں جس نے میرے ساتھ جانا ہے آجائیں ۔۔
اس کی بات سن کر جیسے میرے دل کی کلی کھل گئی گی۔میں جھٹ سے اپنے کمرے میں گیا چند ضرورت کی اشیاء ایک شاپر میں ڈال لیں اور شاپر بغل میں دبائے آکر ایک ہی جست میں گاڑی میں آ ن بیٹھا ۔۔
چند لڑکے اور بھی ابھی وہاں موجود تھے ۔
کچھ دیر بعد وہ آیا گاڑی سٹارٹ کی پھر پیچھے منہ کرکے ایک نظر مدینہ منورہ جانے والے تمام زائرین پر ڈالی ۔جو اس کی ایک ہی ندا پر اس سے پہلے گاڑی میں آ ن موجود تھے۔
پھر جیسے ہی اس کی نظر میرے اوپر پڑی وہ ٹھہرگئی۔ شاید اسے شک ہوا کہ میرے پاس اقامہ نہیں ہے ۔ ابھی تک میرا اقامہ نہیں بنا تھا اس نے پوچھا کس کس کے پاس اقامہ نہیں ہے وہ گاڑی سے اتر جائے گا۔ میں اسے ساتھ لے کر نہیں جاؤں گا ۔
اس کی آ واز سن کر مجھے ایسے لگا جیسے مجھے کسی نے گاڑی سے اترنے کو نہیں کہا بلکہ طائف کے بلند و بالا پہاڑوں سے اتار کر نیچے پھینک دیا ہو ۔۔۔
میں جان قدموں سے چپ چاپ گاڑی سے اتر آیا ۔
میں جانتا تھا کہ اس زمانے میں بن لادن کمپنی کا بڑا نام تھا۔ہو تو گاڑی پر بن لادن کا سٹکر تو کسی چوکی پر بھی بن لادن کمپنی کی گاڑی کی کوئی چیکنگ نہیں ہوتی تھی۔۔۔
لیکن شاید ابھی منظوری نہیں تھی۔۔۔
تڑپ میں شائد ابھی کچھ کمی تھی۔۔
وہ اقا ہیں ۔
بادشاہ ہیں۔
جیسے ان کی مرضی ۔۔
شاید ابھی ان کی رضا اسی میں تھی کہ میں کچھ اور اور انتظار کروں۔۔۔
پھر شکوہ کیسا ؟؟
اندر ہی اندر میں یہ باتیں سوچتا دل کو سمجھا تا چپ چاپ سڑک کے کنارے کھڑا اس ڈبل کیبن میں سوار مدینہ منورہ کے مسافروں کو اپنی منزل کی طرف جانب جاتے ہوئے ڈبڈبائی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اور میرے اندر کوئی پھر سے بولنے لگا ہوا سے پھر سے التجائیں کرنے لگا۔۔۔
ٹھنڈی ٹھنڈی وگدی اے پورے دی ہوائے نی۔۔
(جاری ہے).

امین ڈار ۔ (پارٹ ۔ 4)

Related Posts

Leave a Reply