گوشہءنور کی کرنیں۔۔۔۔
امین ڈار۔۔۔۔(پارٹ۔۔۔5)۔
مدینہ منورہ حاضری۔۔
” ٹھنڈی ٹھنڈی وگدی اے پورے دی ہوائے نی “
برسوں کی تپسیا رنگ لے آ ئی۔۔
قسمت ان لمحات میں مجھے لے پہنچی جہاں میں مدینہ منورہ کے سفر کی تیاری میں مصروف تھا۔
بن لادن کی گاڑی تھی ۔۔
مدینہ منورہ کی طرف جانے والی سڑک۔۔
طائف سے مدینہ منورہ کی مسافت تقریبا پانچ گھنٹے کی ہے ۔وہ ہمیں خوشگوار موڈ میں بتا رہے تھے۔
میں نے اپنے والد صاحب کی خواہش کے مطابق اپنے چہرے پر سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی سجا لی تھی۔۔
لبوں پر نعت پاک تھی اور آنکھوں میں اشتیاق محبت اور وصل کے سارے رنگ آنسو بن کر بار بار باہر ابل رہے تھے۔
اس زمانے میں 120روڈ پر سپیڈ لمٹ مقرر تھی۔
وہ سفر زندگی کا ایک یادگار سفر ہوتا ہے۔انہوں نے کہا۔
یقینا ہر مسلمان کے لئے لیے یہ لمحہ اس کے خوابوں کی تکمیل کا لمحہ ہوتا ہے۔وہ ہمیں بتا رہے تھے۔
میں سوچ رہی تھی اس سفر پر چودہ سو سال میں ہزاروں لاکھوں شمع رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پروانے ادب کے ساتھ ۔۔۔۔
احترام کے ساتھ۔۔۔
امید کے ساتھ ۔۔۔۔
اپنے گذشتہ اعمال کی ندامتوں کے آنسو لیے یقینا انہی راستوں سے گزرتے ہوئے مدینہ منورہ گئے ہوں گے۔
جو ازل سے آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے دیوانے ہیں اس شمع رسالت کے پروانے ہیں۔۔۔۔
ان کے لیے یہ لمحہ حسین لمحہ ہے ۔۔۔
اس سفر میں لوگوں نے بہت سے اشعار بھی لکھے۔۔
اپنی قلبی حالت کو خوبصورت الفاظ کا پیراہن پہنا کر آ ئیندہ آ نےوالو ں کو اپنی محبت کا رازدار بنایا۔۔۔
اس سلسلے میں اعلی حضرت کا کلام سرفہرست ہے ۔۔
آج بھی وہ کلام روز اول کی طرح تر و تازہ ہے ۔اس کلام کا ہر شعر ہر لفظ ہمیشہ اس سفر پر گزرنے والے مسافر کے دلی جذبات کا عکاس ہوتا ہے۔۔
آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی سے ۔
پیغام صبا لائی ہے گلزارِ نبی سے ۔
یقینا جب تک اس دربار سے منظوری نہ ہو جائے بلاوہ کیسے آ سکتا ہے۔میں ان کی باتیں سن کر سوچ رہی تھی۔
برسوں پہلے دیکھا ہوا میرا خواب آج سچ ہونے جا رہا تھا ان کی آ واز نے میری سوچوں کا تسلسل توڑا۔
وہ خواب جس کے بارے میں میرے استاد محترم نے فرمایا تھا یہ خواب جب تک مدینہ منورہ پہنچ نہ جاؤ کسی کو نہ بتانا۔۔
اپنے ماں باپ کو بھی نہیں۔۔۔
میں نے اس خواب کو برسوں سینے میں چھپائے رکھا۔۔
پلکوں پر تنہائی میں سجائے رکھا ۔۔
لیکن زبان پر نا لا نا ۔۔
آج ہماری گاڑی مدینہ منورہ کی حدود میں داخل ہو رہی تھی ۔ مدینہ کی پہاڑیاں یوں جیسے آنے والوں کو بڑی گرم جوشی سے خوش آمدید کہہ رہی تھیں۔
لمبے لمبے کھجوروں کے درخت گویا سینے پر ہاتھ باندھے ہوا کے جھو نکوں کے ساتھ ساتھ لہلاتے ہوئے مسکراتے ہوئے آنے والوں کو مرحبا مرحبا کی صدائیں بلند کر رہے تھے ۔
اور میرا دل چاہ رہا تھا آج میرے ہاتھ میں ایک لاؤڈسپیکر ہو اور میں اونچی آواز میں سب کو اپنا خواب سناؤ ں۔
اج میرا برسوں پہلے دیکھا ہوا خواب پورا ہو رہا تھا اس کی تعبیر سچ تھی یہ بتاتے ہوئے ان کی آ واز بھرا سی گئی۔
حق تھی لیکن میرے لب خاموش تھے۔۔
شاید وہ خاموشی احترام کی خاموشی تھی۔
وہ بلکل سچ کہ رہے تھے۔یقینا جب ایک مدینہ منورہ کی چاہت میں برسوں سے تڑپتا ہودل اس سر زمین پر پہنچتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ کاش میرا وجود خاک بن جائے۔ انہیں راہوں کی گرد میں مل جائے او ر طیبہ کی طرف جانے والے حاجیوں کے پاؤں سے چمٹ کر روضہ مبارک تک پہنچے ۔۔۔
میں اس شہر کی خاک میں خاک ہو جانا چاہتا تھا ۔۔
ایسی خاک جو انہی فضاؤں میں ٹھہر جائے۔۔۔
انہیں ہواؤں کی ہم جولی بن کر آنے جانے والے حاجیوں کی خدمت پر مامور نرم اور دبیز خاک۔
ایک مطیع و فرمابردار خاک مدینہ۔۔
رات دھیرے دھیرے گہری ہوتی جا رہی تھی۔ عشاء کی نماز ہم نے راستے میں ہی ادا کر لی تھی وہ کہ رہے تھے۔۔
تقریبا رات دو بجے کا ٹائم تھا ۔
ہم حرم شریف کے قریب ایک کمرہ لے کر سامان وغیرہ رکھنے میں مصروف تھے ۔ میں بہت عجلت میں تھا۔
جلدی سے سب سامان ادھر رکھ کر مسجد نبوی میں حاضری کے لیے نکل جاؤں۔
میرے ساتھیوں نے میری بے قراری کو محسوس کرتے ہوئے کہا ۔
دو بجے ہیں ۔حرم نبوی شریف اس وقت بند ہوگا تھوڑا آرام کر لیں ۔ فجر کا ٹائم ہوگا اس وقت اٹھ کر حرم شریف چلیں گے ۔۔
میں نے کہا تم لوگ آرام کر لو مجھے ابھی اس وقت حرم شریف جانا ہے ۔۔
لیکن تمہیں رستہ معلوم نہیں شہر میں نئےہو کہیں کھو جاؤ گے راستہ بھول جاؤ گے میرے دوست نے فکر مندی سے مجھے سرزش کی ۔
اگر میں کھو گیا واپس نہ آیا تو تم لوگ واپس چلے جانا میری فکر نہ کرنا میں نے انتہائی سکون سے انہیں جواب دیا ۔۔۔
یہ کیسے ممکن ہے گاڑی کی چابی تمہارے پاس ہے اور اور یہ گاڑی تمہاری ذمہ داری پر کمپنی نے دی ہے۔ہم کیسے لے جا سکتے ہیں۔۔۔
میرے دوست نے کہا۔
میری فکر نہ کرو میں کچھ کرتا ہوں میں ان کی پریشانی دیکھ کر مسکرایا ۔۔۔
پھر میں نیچے آیا ریسیپشن پر جو شخص موجود تھا اس سے حرم شریف کا رستہ پوچھا اس نے مجھے ہوٹل کا کارڈ تھما دیا اور کہا اگر کوئی مسئلہ ہو تو اس کارڈ کو سنبھال کر رکھنا اس پر ہمارے ہوٹل کا پتہ درج ہے۔۔
اس زمانے میں دس یا بیس ریال میں اچھا ہوٹل کا کمرہ مل جایا کرتا تھا۔
میں نے وہ کارڈ پکڑ کر اپنی جیب میں ڈالا دوستوں کو خدا حافظ کہا اور اور حرم شریف کی طرف چل پڑا ۔۔۔
میری التجا ہے دوستو۔
کبھی تم جو سوئے حرم چلو ۔
تو بنا کے سر کو قدم چلو ۔
کہ یہ راستہ کوئی اور ہے۔۔
میں مسجد نبوی کے سامنے کھڑا تھا لیکن دروازے کو تالا لگا ہوا تھا۔
ابھی فجر کی نماز میں بہت وقت باقی تھا ۔ اور یہ دروازہ اذان کے ساتھ ہی کھلنا تھا ۔
لیکن میرے لیے یہ لمحے بھی بڑے قیمتی تھے ۔۔
میرے وجود پر سفر کی تھکان کا کوئی شائبہ تک نہ تھا میں نے نگاہ اٹھا کر مسجد نبوی کی طرف دیکھا۔
اس کی پر شکو ہ پروقار عمارت ۔
جیسے اس زمین پر ہی نہیں تھی۔ یہ عمارت تو شاید
آ سمانوں پر کھڑی ہوئی تھی۔۔
اور یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے سارا جہاں اس عمارت کے قدموں تلے بچھا ہوا ہے۔۔
آسمان کے ستارے بھی اس کے قدموں میں بکھرے پڑے ہیں۔۔
میں گویا اس جہان میں ہی نہیں تھا۔ میرا وجود ہوا سے بھی ہلکا محسوس ہو رہا تھا۔ میں ایک جانب چلنا شروع ہو گیا ۔۔
چلتے چلتے میں نےحرم کے گرد ایک چکر کاٹا ۔۔
جنت البقیع کے سامنے جو رستا حرم شریف کے باب بقیع کی طرف جاتا تھا اس کا نام “بہشتی گلی” تھا وہاں سو نے کی دکانیں ہوا کرتی تھی. میں اس گلی میں داخل ہوا اور گنبد کے قریب پہنچ گیا۔
وہاں پاکستان ہاؤس ہوتا تھا۔ جہاں آج کل باب نساء ہے۔
میں اس کی گلی سے چلتا ہوا وہاں جا کر بیٹھ گیا اور حرم کھلنے کا انتظار کرنے لگا ۔
اس دن آنکھوں میں آنسو ؤں کی ایسی جھڑی لگی رہی کہ مجھے ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے مسلسل بارش کے بعد سارا سماں درخت پودے اور پھول دھل جاتے ہیں اسی طرح میری آنکھوں سے بہنے والے بے تحاشہ آنسوؤں نے شاید میرے من کو دھو کر اجلا کر دیا ہے تھا۔۔
کچھ ہی دیر کے بعد اکا دکا لوگوں کی آمد شروع ہوگی اللہ کے حضور قیام کرنے والے تہجد گزار اس امت کے افراد ہر دور میں امت کا ایک قیمتی اثاثہ رہے ہیں ۔۔
یہ لوگ رات کے پچھلے پہر اٹھ کر اپنی رب کے حضور خاموشی سے عبادت میں مشغول ہو جاتے ہیں ۔
ان کے روشن چہرے رات کے اندھیرے میں نور کی کرنیں بکھیرتےہوئے حرم کے رستوں پر جگنوؤں کی طرح ٹمٹما تے ہوئے چلے آرہے تھے ۔
حرم کے دروازے کھلے اور میں ان کی معیت میں مسجد نبوی شریف میں داخل ہوگیا ۔
مجھے کچھ خاص معلومات حاصل نہیں تھی میں ان لوگوں کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا ریاض الجنہ میں پہنچ گیا یا وہاں پر نوافل ادا کیے ۔
پھر دیکھا ایک ستون ہے جس کے پاس لوگ نماز پڑھنے کے لئے حریض ہو رہے ہیں۔
اور لائن میں لگے انتظار کر رہے ہیں ۔میں بھی ان کے پیچھے لائن میں لگ گیا ۔
میں نہیں جانتا تھا اس کے بارے میں ۔۔
مجھے پتہ چلا کے یہ ” استوانہ حضرت عائشہ صدیقہ” ہے۔ جس کے بارے میں آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایاتھا کہ اگر آپ لوگوں کو اس جگہ پر نفل پڑھنے کی اہمیت کا پتہ چل جائے تو آپ یہاں نفل پڑھنے کے لئے قرعہ ڈالو ۔۔
اور یوں پہلے ہی دن مجھے وہاں پر نفل پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی ۔۔
پہلے ہی دن محراب نبوی شریف میں بھی نوافل ادا کرنے کا موقع ملا۔۔
میں دیوانہ وار وہاں کی ہر جگہ پر سجدے کرنا چاہتا تھا ۔۔
ایک ایک جگہ کو۔۔۔
وہاں کے ایک ایک ایک ذرّے کو چومنا چاہتا تھا۔
اور مجھے معلوم ہی نہ ہوانماز جمعہ کا ٹائم ہو گیا میں نے وہی پر نماز جمعہ ادا کی …
نماز سے فارغ ہو کر ریاض الجنہ سے باہر آ یا تو مجھے اپنے ساتھی ملے۔ وہ مجھے ڈھونڈ رہے تھے ۔
ان کے ساتھ حرم شریف سے باہر نکلا تو احساس بھوک کا احساس ہوا۔۔۔۔۔
صبح کا بنا کچھ کھائے پئے میں ریاض الجنہ میں ہی مسلسل اپنی روحانی بھوک مٹا رہا تھا۔۔۔۔(جاری ہے)۔

امین ڈار ۔ (پارٹ ۔ 5)

Related Posts

Leave a Reply