گؤشہ ءنور کی کرنیں۔۔30
امین ڈار۔۔۔۔(پارٹ 3.)
طائف۔
سرزمین حجاز کی طرف روانگی کا پروانہ میرے ہاتھ میں تھا ۔۔۔
بچپن سے سے آنکھوں نے جو اس دھرتی کے خواب بنے تھے آج ان خوابوں کی تعبیر کا وقت بے حد قریب تھا۔۔
میری ہر سانس شکرگزاری کا سجدہ ادا کرتی ہوئی آرہی تھی ۔۔۔
میری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا ۔میں یہ پروانہ تھامے خوشی خوشی اپنے گاؤں کی طرف روانہ ہوا ۔۔
میرے بوڑھے والدین مجھے اپنے خوابوں کے حصول کے اتنا قریب دیکھ کر خوش تھے ۔۔۔
میرے باپ کی آ واز اب نعتیہ کلام پڑھتے ہوئے مزید پرسوز ہو چکی تھی۔ اسے شاید یوں محسوس ہو رہا تھا کہ سرزمین حجاز جس کی مٹی نے میرے آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے قدم چومے ہیں ان کا بیٹا وہاں اس دھرتی کو اپنے لبوں سے بوسے دینے جا رہا ہے ۔۔
وہ خواب جو شاید میرے والدین نے شدید غربت اور بیماری میں اپنی آنکھوں میں چھپائے کہ ان کے حالات انہیں ان خوابوں کو زبان پر لانے کی اجازت بھی نہیں دیتے تھے
غربت اور بیماری کی زنجیروں میں جکڑے میرے بوڑھے والدین۔۔۔
اب وہ خواب ان کے بیٹے کی تڑپ بند کر بارگاہ الہی میں مقبول ہو چکے تھے ۔۔
عشق جو میرے باپ کی طرف سے میرے خون میں ٹرانسفر ہو چکا تھا اب اس کی آ تش کامدینہ منورہ کی فضا کے سوا اور اور کوئی کوئی مداوا نہیں تھا۔۔۔
میرا وجود چلتا پھرتا دنیا کی ہر ذمہ داری کو بطریق احسن نبھاتا ہوا نظر آ تا تھا لیکن وہ جانتے تھے۔۔۔
یہ وجود
یہ جوانی
اب اس آ تش میں پوری طرح جھلس چکی ہے۔یہ وجود زندہ تو ہے لیکن اب اس میں جان نہیں ہے۔
جان سسی وچ نظر نہ آ وندی
او تے لے گیا کیچ دا خان اے
۔میں اپنی ذات سے وابستہ ہر رشتہ سے الوداعی ملاقات کر رہا تھا۔۔
میری وفادار اور نیک بیوی اس کی گود میں میری ننھی سی بیٹی سعدیہ۔۔۔۔
سب مجھے بڑی امیدوں سے رخصت کر رہے تھے۔۔۔
کسی رشتے کی محبت نے میرے پاؤں کی زنجیر بننے کی کوشش نہ کی۔۔
شایدا نہیں بھی میری تڑپ کا اندازہ تھا۔ اور یہ رشتے اپنی محبت کو میری محبت پر قربان کر دینا ہی بہتر سمجھتے تھے ۔۔
یا شاید یہ سب رشتے میرے ساتھ میرے دل میں چھپ کر میرے ساتھ ہی مدینہ منورہ جانا چاہ رہے تھے۔۔
انہیں یقین تھا کہ ایک دن یہ مدینہ منورہ پہنچ کر ہمارے لیے بھی حاضری کا پروانہ لائے گا ۔۔
یہ یقین یہ امید انہیں مجھ سے بچھڑنے کے دکھ کو کہی۔ پیچھے چھوڑ کر جا چکی تھی۔۔
ٹکٹ کی خریداری اور سفر کے اخراجات کے لیے میرے پاس جمع پونجی کم تھی۔ ایسے میں میری وفادار بیوی نے اپنے زیورات لا کر میرے ہاتھ میں تھما دیے اور بولی انہیں بیچ کرٹکٹ خرید لیں ۔۔ لیکن ان کو بیچنے کے بعد بھی رقم پوری نہیں ہورہی تھی۔۔۔
اور اس بیچاری کے پاس تھے ہی کتنے۔۔۔
آ خر میں کسی سے قرض اٹھایااور رقم پوری کی۔۔۔
اور یوں میں اپنے بوڑھے والدین اور بیوی کی ڈھیروں دعائیں سمیٹے اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا۔۔
میں سعودی عرب کے شہر ریاض میں جانے والی پرواز میں بیٹھ چکا تھا۔ میرا خواب میری منزل اب بہت قریب تھی۔ مجھے ریاض پہنچ کر وہاں سے سے بذریعہ سڑک طائف پہنچنا تھا۔۔۔
میں تصور ہی تصور میں طائف کی وادی کی سیر پر نکل کھڑا ہوا۔۔
وہ وادی جہاں بنو سعد قبیلہ آباد تھا ۔ بنو سعد بی بی حلیمہ سعدیہ کا گاؤں۔۔
وہ خوش بخت خوش نصیب ماں حلیمہ سعدیہ ۔۔۔
جسے میرے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کو گود لینے کا اعزاز حاصل ہوا تھا ۔۔
طائف کی پر فضا وادی ،حلیمہ سعدیہ کا چھوٹا سا گاؤں۔۔۔
حلیمہ سعدیہ کا آنگن جہاں میرے آقا علیہ الصلاۃ والسلام نے جھولا جھولتے توچاند بھی ان کو دیکھنے میں ایسا محو ہوتا کہ کبھی کبھی قانون فطرت کو بھی فراموش کر بیٹھتا۔۔
جہاں سورج طلوع ہونے سے پہلے یقینا میرے آقا کے چہرے کی بلائیں اتارتا ہوگا۔۔
اور غروب ہونے سے پہلے اس کی آخری کرنیں بھی حلیمہ سعدیہ کی چوکھٹ کو چوم کر غروب ہوتی ہوں گی۔۔
میرے آقا علیہ الصلاۃ والسلام نے طائف کے اس گاؤں میں پہلی مرتبہ اپنے پاؤں پر چلنا سیکھا ہوگا۔۔۔
میری پہلی منزل طائف تھی۔۔۔
میں جہاز میں بیٹھا تصور میں مسلسل طائف میں بنو سعد میں گھوم پھر رہا تھا ۔۔۔
ایک ایک شخص کے چہرے پر اپنے آقا علیہ علیہ السلام کے لیے محبت اور الفت کے جذبات چھلک رہے تھے۔۔
بنو سعد کا ہر فرد شاداں وفرحاں تھا ۔۔۔
ایسے بختاور بچے کی آ مد پر جس کے آنے کی برکت سے ان کی زندگیوں میں ریل پیل ہو گئی۔۔۔
اور بنو سعد ایک عالی مقام قبیلہ بن گیا یا جس کا نام تا قیامت زندہ رہنا تھا ۔۔۔
میری ابھی طائف کی سیر مکمل بھی نہ ہونے پائی تھی جہاز نے اترنے کا اعلان کر دیا اور یوں میں حقیقت کی دنیا میں واپس آ کر اپنی حفاظتی بیلٹ باندھنے میں مصروف ہو گیا۔۔
المختصر۔
طائف پہنچا “مزرعہ فقیہ” میری پہلی منزل تھی۔ گیا ۔ وہاں رہائش مل گئی لیکن ملازمت نہیں ۔۔۔
کچھ دن وہاں رہا ان کا کھانا وغیرہ پکا دیتا ان کی خدمت کرتا ۔۔۔
ایک دن اللہ تعالیٰ کا نام لے کر روزگار کی تلاش میں نکل پڑا ۔۔۔
چلتے چلاتے شام تک وادی محرم پہنچ گیا۔وادی محرم میں ایک بندہ” شکر اللہ “نام تھا اس سے ملاقات ہوئی اس نے مزدور کی حیثیت سے اسفلٹ پلانٹ پر بھیج دیا اور کہا کہ وہاں اگر لگے رہے تو میں کوئی اچھی جگہ لگوا دوں گا۔
بڑا مشکل وقت تھا لیکن چار دن بعد رات کو اس کیمپ میں ایک بندہ آوازیں لگا رہا تھا …
کہ یہاں ایک لالہ موسیٰ کا بندہ ہے وہ باہر آئے۔ میں نے سنا تو باہر آ گیا اور اس سے ملا ۔ اس نے شکرللہ صاحب کا پیغام دیا اور مجھے ساتھ لے گیا اور اگلے دن صبح چھ بجے ایک جرمن سرویر کے ساتھ بھیج دیا اور وہ بن لادن کی کنسلٹنٹ کمپنی” رائین رور “کے ساتھ تھا اس کے ساتھ ڈیوٹی پر لگوا دیا۔۔۔
اور وہاں میرا پاکستان کا تجربہ اور لگن کام آئی اور بہت جلد کرم ہو گیا ۔۔۔۔
بارہ سو ریال ماہانہ پر شروع کیا ۔ تنخواہ بن لادن سے ملتی تھی کنسلٹنٹ والوں نے پچیس ریال یومیہ ساتھ لگا دیا ۔ وقت گزرتا گیا اور میں وہاں کی ٹیکنالوجی سے واقف ہوتا گیا اور ہم تین ہیلپر تھے ان کے ساتھ گاڑی مل گئی ڈرائیونگ سیکھ لی ۔۔
اس ساری جدوجہد د اور مشقت میں اپنی منزل اپنا حقیقی شوق لگن جس کے لیے میں سعودی عرب آیا تھا ایک لمحے کے لئے بھی فراموش نہ کر سکا ۔۔۔
پورا دن سخت مشقت اور محنت مزدوری کرتے گذرتا لیکن میرے اندر سر ہر وقت کوئی دھیرے دھیرے بولتا رہتا ۔۔۔
ٹھنڈی ٹھنڈی وگدی ای پورے دی ہوائے نی۔۔۔۔
یہ آواز رات کی تنہائی مزید تیز ہو جاتی اور مجھے لوریاں دینے لگتی۔۔۔
میں تصور مدینہ میں ایسا کھوتا کہ کہ مجھے اپنی تھکاوٹ اور دکھن کا احساس بھول جاتا۔۔۔
پھر خدا خدا کر کے وہ گھڑی آن پہنچی اور میرا پہلا سفر مکہ مکرمہ کا ہوا۔۔
اس وقت کوئی اقامہ نہیں پوچھتا تھا ۔اور نہ لائسنس۔۔۔
وہ اتنے شوق سے بتا رہے تھے کہ میں سوچنے لگی کہ مکہ جو میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیس تھا ۔جہاں آپ پیدا ہوئے ۔۔
جو آپ کے پرکھوں کا شہر تھا ۔۔
جہاں خانہ کعبہ تھا۔۔۔
جہاں مولا علی علی شیر خدا کا گھر تھا ۔
جہاں بلال رضی اللہ تعالی عنہ کی اذان کی گونج آج بھی فضا میں قائم ہے اور سر کار دو عالم کے عاشقوں کو مکہ مکرمہ میں قدم دھرتے ہی خوش آمدید کہتی ہے۔۔۔
وہ مکہ جہاں میرے آقا ستائے گئے ۔۔
جہاں میرے آقا کی زندگی کا مشکل ترین دور سے گزرا تھا ۔۔۔
جہاں شعب ابی طالب بھی تھی ۔۔
جہاں غار حرا بھی تھی۔۔
جس شہر کے پہاڑوں کی بلندیوں پر غار ثور آج بھی بھی سرور کونین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بدن کی خوشبو سمیٹے ے چپ چاپ بیٹھی ہے۔۔۔
جو پوری مشقت اٹھا کر زیارت کرنے آ نے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہتی ہوئی نظر آتی ہے۔۔۔
میں پہلی دفعہ آج اس شہر کی جانب رواں دواں تھا ڈار صاحب بتا رہے تھے۔ طائف کی میقات مسجدقربامناز ل سے عمرہ کی نیت کی سفید سفید احرام زیب تن کیا ۔۔۔
زبان پر لبیک لبیک اللہم لبیک کہتا ہوا مکہ کی جانب جب چل پڑا۔۔۔
لیکن دل مسلسل
یا رسول اللہ سلام علیک
یا ایہا النبی و سلام علیک۔۔
کہتاجا رہا تھا۔۔….(جاری ہے)۔

Related Posts

Leave a Reply