ایمان علم اور تکبر۔(سبق نمبر۔15)

گوشہء نور کے سالکین۔

(سبق نمبر۔۔۔15)
ایمان علم اور تکبر۔
ہم حصول علم کے لئے سال ہا سال لگا دیتے ہیں. لیکن یہ نہیں جانتے کہ حقیقت کیا ہے؟؟
اگر ہم ہم حقیقت کو جان لیں تو ہماری سوچ کا انداز یکسر بدل جائے۔۔
انہوں نے کہا۔
ہاں کیا ہے حقیقت؟؟؟
میں نے سوال کیا ۔
شرعی علوم کا جاننا قرآن وحدیث کامطالعہ یہ کافی نہیں ہے۔۔
حقیقی علم نہیں ہے؟؟؟
میں اس عجیب جواب کو ہضم نہیں کر پا رہی تھی۔پوچھا اچھا یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اللہ کی کتاب کا علم حاصل کریں علوم شرعیہ سیکھیں اور حقیقت سے نابلد رہیں؟؟؟
اور حقیقت کو نہ پا سکیں ان کی بات سن کر میرا ذہن الجھ سا گیا۔
وہ لمحہ بھر کو کو چپ ہوئے۔
کمرے میں گہری خاموشی چھا گئی ۔گویا ہم یہاں موجود ہی نہیں ہیں ۔
جیسے کچھ بھی نہ ہو نہ ہم نہ ہمارا سوال اور اور نہ ہی ہمارا وجود۔
مجھے یوں محسوس ہوا جیسے ہم اچانک ہی کی کسی ان دیکھی ٹرین کے اندر دیکھے ڈبے میں سوار ہو گئے ہو ں جہاں کا سارا ماحول ہماری دنیا سے مختلف ہوں۔
وہاں کے لوگ بھی مختلف ہوں اور ان کے اطوار بھی۔
میرا ذہن ابھی اس صورتحال سے نبردآزما ہونے کی کوشش میں تھا کہ ان کی آواز مجھے لمحہ موجود میں لے آئی۔
دیکھو علم کا جاننا علم کا سیکھنا ہم سب کے لئے لازم قرار دے دیا گیا ۔
یہ کونسا علم ہے جسے لازم قرار دیا گیا؟
کسی چیز کے بارے میں جاننے سے پہلے اس کی اہمیت اور ضرورت کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔وہ سمجھانے والے انداز میں گویا ہوئے۔
ابلیس کا علم کے اعتبار سے تمام ملائکہ میں ایک بلند مقام تھا ۔۔
لیکن اس کا علم ا سے راندھاے درگاہ ہونے سے نا بچا سکا کا وہ بارگاہ الہی سے دھتکار دیا گیا ۔
کیوں؟
کیا اس کے پاس علم کی کمی تھی ؟
جب کے آدم علیہ السلام سے بھی لغزش ہوئی لیکن وہ رب العالمین کی بارگاہ میں مقبول ہوئے انہیں رب العالمین نے “خلیفہ الارض” کے منصب پر فائز کیا .
اب بتاؤ کہ اس بات سے آپ کیا سمجھتے ہو ؟
انہوں نے اپنی بات مکمل کر کے سوال گویا پلیٹ میں رکھ کر میری جانب سرکار دیا۔۔۔۔
آدم علیہ السلام نے اپنی لغزش پر توبہ کر لی تھی ۔ اور ان کی لغزش کی وجہ محبت الٰہی تھی۔وہ ہمیشہ رب کا قرب اور اسکی جنت چاہتے تھے۔
انہیں وہاں سے نکلنا گوارا نا تھا اور یہی بات ان کی لغزش کا سبب بنی۔ میں نے ان کی کی شخصیت کے کے رعب تلے دبے دبے الفاظ میں نے جواب دیا۔
بلکل درست۔انہوں نے جوش سے کہا۔
آ دم علیہ السلام نیت کی پاکیزگی اور ان کو عطا کی گئی معرفتِ الٰہی ان کی بخشش کا سبب بن گئی۔اور وہ کہہ اٹھے ۔
ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفر لناوترحمنا لنکونن من الخاسرین۔
اور پتہ ہے شیطان نے اس دم کیا کہ؟؟
انہوں نے سمجھانے والے انداز میں پوچھا
اس نے کہا اے اللہ مجھے مہلت دے میں تیرے بندوں کو گمراہ کروں گا۔
اس کے جواب میں جانتے ہو میرے رب العزت نے کیا فرمایا؟وہ پر جوش انداز میں بولے۔
کیا؟؟
میرے منہ سے بے اختیا نکلا
اللہ کریم نے فرمایا۔”جا میں نے تجھے مہلت دی لیکن جو میرے بندے ہوں گے وہ تیری پیروی نہیں کریں گے۔اورتو انہیں گمراہ نہیں کر سکتا”
اس نے خطا کی ۔
خطا کرنے پرر ب العالمین کی ناراضگی پا کر بھی وہ نادم نا ہوا ۔
شرمندہ نا ہوا۔
بلکہ پھر بھی اختیار مانگا۔
اس کا علم ۔
اسکی عبادت۔
اسے رب کی ناراضگی سے نا بچا سکی۔
مطلب کہ علم اور عبادت اگر رب کی “معرفت “سے عاری ہو تو بے سود ہے۔..
معرفت نہ ہو تو علم متکبر ہو جاتا ہے۔
اختیار مانگتاہے۔
دوسروں کو حقیر جانتا ہے۔
اور کبھی کبھی توخدای کا دعویدار بھی ہوجاتا ہے.
علم کا تکبر بہت خطرناک ہے بیٹا۔
یہ ایسی تبا ہی پھیلا دیتا ہے جسکی زد میں نہ صرف اس کا اپنا ایمان بلکہ اور بہت سے عقلمندوں کے ایمان بھی داؤ پر لگ جاتے ہیں ۔
یاد رکھو جہاں تکبر آ جائے ایمان وہاں سے چپکے سے رخصت ہو جاتا ہے۔۔۔۔(جاری ہے)
تحریر آ پ کے روحانی سفر میں معاون ثابت ہو تو اپنی رائے سے کمنٹ سیکشن میں ضرور آگاہ کیجئے۔شیر کریں تاکہ اس کارخیر میں ہمارا ساتھ دیں۔شکریہ۔۔۔۔گوشہءنور۔
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔

شکریہ۔

ایمان علم اور تکبر۔(سبق نمبر۔15)

Related Posts

Leave a Reply