جنت کے مسافر۔(سبق نمبر 16 )

گوشہء نور کے سالکین۔(سبق نمبر 16 )
جنت کے مسافر۔
بیٹا یہ بات ذہن نشین کر لو کہ جہاں سے ایمان رخصت ہوجائے وہاں علم اور عقلی دلائل کا ایسا مسحورکن رقص شروع ہو جاتا ہے کہ علم کے متلاشی اس کے سحر میں گم ہو کر رہ جاتے ہیں ۔۔
دلائل دیتے ہیں
عقل کے بلند و بانگ اوردلفریب محلات میں بیٹھ کر علم کی مسحورکن شراب پیتے ہیں ۔
اپنی کامیابی پر فخر سے سر دھنتے ہیں ۔
علم و عقل کی موج مستی میں تلاش حق کا خیال ہی ان کے ذہنوں سے معدوم ہو جاتا ہے۔
یہ جو اللہ کے تقرب کا رستہ ہوتا ہے یہ بہت عجیب رستا ہے ۔
اس راستے کے مسافر عام لوگ نہیں ہوتے ۔
وہ اپنی بات کا اعادہ کر رہے تھے۔
پہلا مرحلہ ایمان والوں کی صف میں شمولیت ہے۔
پھرایمان والوں میں سے اللہ اپنے دوست چنتا ہے ۔پھر ایک غیر محسوس طریقے سے ان کی تربیت کا اہتمام شروع ہو جاتا ہے۔
اور جلد ہی ہو وہ میرا تیرا کے جھگڑوں سے نکل کر شانت ہونے لگ جاتے ہیں.
۔دنیاوی آلائشوں سے اپنے وجود کو پاک کرنے کی کوشش میں مگن رہتے ہیں۔
زندگی کی ضروریات کو ایک بڑے کینوس پر دیکھنے لگ جاتے ہیں۔
جلدی ان کی نگاہ میں مادی اشیاءاپنی اہمیت کھو دیتی ہیں۔ اور ساری توجہ تزکیہ نفس پر مرکوز ہو جاتی ہے۔
جنت کے یہ مسافر محنت وریاضت کے بعد کسی نہ کسی مقام ومرتبہ تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔۔
وہ اپنی بات سمجھاتے سمجھاتے لمحے بھر کو رکےگویا کہ ہمیں وقت دے رہےہوں کہ ہم ان کی کہی ہوئی بات کو اپنے اندرتک جذب کر سکیں۔۔
پھر گویا ہوئے۔
اب وہ چنے ہوئے دوستوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے ۔۔۔
ان کی شخصیت کے تبدیلی ان کی ٹرانسفارمیشن کی پہلی منزل ۔۔۔
یہی تصوف کی ابتدا ہے۔
یہیں سے طالب مولا کے روحانی سفر کا آغاز ہوتا ہے۔
اب وہ پوری یکسوئی کے ساتھ معرفت الہی کے ایسے راستے پر چل پڑتے ہیں جنکو صوفیا نے” سالک” کا نام دیا ہے۔
ان کے قلب بیدار ہوجاتے ہیں۔
اور رات کی تنہائیاں
آنکھوں سے امنڈتے آنسوؤں کے موتیوں سے
روشن ہو جاتی ہیں۔
یہ لوگ طالب الدنیا نہیں ہوتے ہیں۔
اور نہ ہی جنت کی حورو قصور ان کا مطمح نظر ۔۔
ان کے دلوں میں تو محبتوں کا ایسا سمندر موجزن ہوتا ہے جس کی لہریں اہل نظر کی آنکھوں کو سیراب کر دیتی ہیں۔
ان سالکین کی روح کا معاملہ تو یکسر مختلف ہے ۔رب کی طالب یہ ارواح اپنا ہر گزرتا لمحہ اپنے سانس کی ہر ہر ڈوری اپنے دل کی دھڑکنوں کے ایک ایک سٹیپ پر صرف اورصرف اللہ کو دیکھتی ہیں ۔
۔ اسی کو جانتی ہیں۔۔
اسی کو پہچانتی ہے۔۔۔
اسی کے نام کے موتیوں کی مالا جپھتی ہیں
“جس دم غافل اس دم کافر”
والا معاملہ ہوتا ہےان کا۔۔
پھر ایک دن ان کی یہ تڑپ مقبول ہو جاتی ہے۔
اور اللہ اپنا کوئی خاص بندہ ان تک بھیج دیتا ہے۔
کوی وسیلہ بنا دیتا ہے۔
جو ان کا ہاتھ تھا مے انہیں اللہ کے محبوب کی محفل تک لے جاتا ہے ۔۔۔
یہی سفر سلوک کا سفر ہے ۔۔۔
اللہ کا محبوب۔۔۔۔
رحمۃ للعالمین۔۔۔
میرا سوہنا مدینے والا۔۔۔
جس رب العالمین نے اپنا محبوب کتنے پردوں میں چھپا کر
کتنے حجابات میں لپیٹ کر
اپنی مخلوق میں بھیج دیا ۔
تاکہ اللہ کی طلب اور تڑپ میں جلنے والی ارواح کو شانت کر سکے۔۔۔
اور انہیں اپنی معیت میں رب کی بارگاہ میں لے جائے ۔
جسے ہم تصوف کی زبان میں” فنا فی رسول” اور “فنا فی اللہ” کہتے ہیں۔
ان باتوں کواچھی طرح سمجھ لو۔
اگر یہ باتیں آپ کو سمجھ میں آگئی تو پھر آپ کے ذہن میں چھپی ہوئی تمام الجھنیں دور ہو جائیں گی۔
پھر آپ کو صو فیا ءکرام کی حیات مبارکہ کے نشیب و فراز ۔
اور علمائے کرام کی اونچے اونچے ممبروں پر خوبصورت الفاظ میں لپٹی تقاریر۔
کسی طرح بھی ذہنی انتشار میں مبتلا نہیں کریگی۔
یہی حقیقت ہے اور یہی حقیقی دین ۔شاید علامہ اقبال نے کسی ایسی ہی کیفیت سے گزرتے ہوئے ہوئے یہ شعر کہا تھا۔
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی۔

(گوشہءنور)
تحریر آپ کو پسند آئے اور آپ کے روحانی سفر میں مددگار و معاون ثابت ہو تو اپنی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیں آپ کی رائے ہمارے لئے مشعل راہ ہے شکریہ۔۔
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔شکریہ۔
http://goshaenoor.com
۔
شیئر کریں تاکہ اس کار خیر میں آپ ہمارے معاون بن سکے۔۔جزاک اللہ ۔۔

گوشہءنور

جنت کے مسافر۔(سبق نمبر 16 )

Related Posts

Leave a Reply