(part 1) سلوک اور خواتین۔

خواتین اور سلوک۔(سبق نمبر . 22)اتار چڑھاؤ۔

\گوشہء نور کے سالکین۔…..
خواتین اور سلوک۔۔سبق نمبر..22
اتار چڑھاؤ۔
آ ج کل میری نمازیں اکثر قضا ہوجاتی ہے گھر کے کاموں میں الجھ جاتی ہوں عبادات کے لیے بھی جیسا میں چاہتی ہوں وقت نہیں نکال پاتی ۔حالانکہ اس سے پہلے میری عبادات کی روٹین بہت اچھی جا رہی تھی۔میرے ساتھ بیٹھی ایک خاتون ماں جی کو دھیمے لہجے میں بتارہی تھیں ۔
ایمان کی حالت کبھی ایک جیسی نہیں رہتی یا گھٹتی ہے یا بڑھتی ہے ۔یہ اتار چڑھاؤ تاحیات ایمان کے ساتھ ہی رہتا ہے۔
اس کو ثبات نہیں۔
اگر تمہارا ایمان تمھارے گذشتہ کل سے بہتر ہے تو جان لو کہ تم گھاٹے میں نہیں ہوں۔
اطاعت میں سستی آ رہی ہے فرائضِ چھوٹ رہے ہیں اور گناہ میں دل لگنا شروع ہوگیا ہے تو سمجھ لو تمھارا ایمان گھاٹے میں جا رہا ہے ۔
گناہ کے بعد ندامت اور پریشانی دل کو بیقرار کرے تو سمجھ لو واپسی کا راستہ ابھی کھلا ہے اور تمھیں پکار رہا ہے۔یہ بیقراری تمھیں رب کی طرف بلانے کی وعید ہوتی ہے۔
۔ماں جی کی چمکدار آ نکھیں بات کرتے ہوئے رب کی رحمت کی امید اپنے اندر سموئے ہوئے ہوئے تھیں۔
یہ بات بالکل درست ہے کہ کچھ عرصہ ہم اپنی ایمانی کیفیات کو بڑی محنت سے ڈویلپٹ کرتے ہیں تمام عبادات اور رجوع قلب کے معاملات روٹین میں آتے ہیں لیکن پھر اچانک ہی سب کچھ گڈمڈ ہو جاتا ہے ہم محسوس کرتے ہیں کہ جیسے بھرے بازار میں پھر سے تہی دامن ہو گئے ہیں۔
نہ کیفیات رہتی ہیں اور نہ ہی سکون۔۔
ایسی صورتحال میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
دوسری جانب بیٹھیں ایک پکی عمر کی خاتون یہ گفتگو بہت غور سے سن رہی تھی بول اٹھیں۔
ایسے میں سب سے پہلا کرنے کا کام یہ ہے کہ ہم وہ وجہ تلاش کریں جس کی بنا پر یہ ہوا ۔
یا اکثر ہمارے ساتھ یہ ہوتا ہے
۔تھوڑے سے غوروفکر کے بعد ہم اس “چور” کو پکڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے گے جو یہ سب کرنے کا ذمہ دار ہے ۔۔
اس “چور “کی نشاندہی کے بعد اب ہمارا کرنے کا کام یہ ہے کہ ہم اس جور کو اچھی طرح پہچان لیں۔
یہ چور ہر وقت ہماری گھات میں ہوتا ہے ۔
اس کا کام ہمیں نقصان پہنچانا اور ڈاکہ ڈالنا ہوتا ہے ۔
یہ چور ہر شخصیت کا اپنا اپنا ہے۔
جیسے ایک انسان کو اپنی تعریف سننا بہت اچھا لگتا ہے تو اس کا چور اس کے خوشامدی دوست ہیں۔
اسی طرح یہ چور انسان کی نفسیات سے مکمل آگاہ ہے ہر انسان کے پاس اس کی شخصیت کے کمزور پہلوؤں کے مطابق ق اپنا گیٹ اپ بنا کر حملہ آور ہوتا ہے جس سے سے اس بچارے کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملتا اور وہ اپنا بہت زیادہ نقصان بھی کر بیٹھتا ہے۔
جھوٹ چغلی فون پر لغو باتیں کرنا یہ سب “چور” ہی ہیں چپکے سے تمہارے ایمان کی حلاوت لوٹ لے جاتے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ
” جو شخص اپنی آنکھوں کو فحش دیکھنے سے نہیں روکتا اللہ کریم اس کی عبادت سے حلاوت اٹھا لیتا ہے”
یہ پہلا مرحلہ ہوتا ہے کہ عبادت بے لذت ہوتی ہے ۔۔
جب عبادت میں لذت ختم ہو جائے تو سمجھ لو کہ دشمن کی زد میں آ گئے ہو۔۔
بالکل ایسے ہی جیسے گاڑی کا پٹرول ختم ہونے والا ہو تو وہ لائٹ جلا کر آپ کو اشارہ دے دیتی ہے کہ اس میں مزید فیول ڈلوا لیں کسی وقت بھی گاڑی بند ہو سکتی ہے۔۔
بالکل اسی طرح پہلے ہماری عبادات سے روح ختم ہو جاتی ہے اور اس کے بعد پھر اس بے روح عبادت کی توفیق بھی چھین لی جاتی ہے۔
ماں جی کتنا درست فرما رہی تھیں ان کی بات میرے دل میں اتر رہی تھیں۔۔۔
یہ حقیقت ہے دس منٹ کی دنیا داری کی گفتگو یا ایک گھنٹے سکرین دیکھنے کے بعد جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو یقینا وہ نماز روح سے خالی ہوتی ہے ۔
پھر ہم کیا کریں؟
کہاں چلے جائیں کہ ہمارا ایمان سلا مت رہے میں نے میں نے دل ہی دل میں سوچا۔
ہمیں اپنے ایمان کی اور ایمانی کیفیات کی اس طرح حفاظت کرنی ہے جیسے ہم اپنے مال کی کرتے ہیں ۔
چھوٹا بچہ اگر کوئی مضر صحت شے زمین سے اٹھا کر منہ میں ڈال لیتا ہے تو ماں آ رام سے بیٹھی یہ کہتی نہیں دکھائی دیتی ہائے کیا کریں بچہ زمین سے گند مند اٹھا کر کھا رہا ہے بلکہ اسے پتہ ہے یہ منہ سے کہنے کی بات نہیں ہے بلکہ وہ جھٹ سے اٹھ کر بھاگتی ہے اس کا منہ صاف کرتی ہے پھر سائے کی طرح اس بچے کی حفاظت کرتی ہے مبادا دوبار ہ نہ کوئی ایسی حرکت کرلے۔
بلکل اسی طرح اگر ہماری ایمانی کیفیات بدل رہی ہیں تو ہمیں فوراً اس کا تدارک کرنا ہے ۔
اپنے ایمان کی یوں حفاظت کرنی ہے جیسے ہم اپنے بچوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
اپنی جان کی کرتے ہیں ۔
ایمان ان سب سے قیمتی چیز ہے کیونکہ اس پر ہماری ہمیشہ کی زندگی کا دارومدار ہے۔
ماں کی کی آ واز نے اردگرد پھیلی خاموشی کو توڑا اور میں لمحہ موجود میں آ ن پلٹی۔
اس ضمن میں سب سے پہلا کرنے کا کام یہ ہے کہ اپنا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پختہ کیا جائے۔
اور پھر ان لوگوں کی صحبت اختیار کی جائے جو اس تعلق میں شدید ہیں۔جب بھی آ پ محسوس کرو کہ ایمانی کیفیات کا گراف نیچے جا رہا ہے عبادات بے لذت ہو رہی ہیں فوراً اپنا محاسبہ کریں ۔ماں جی اپنی بات مکمل کرکے خاموش ہو گئیں۔
تحریر پسند آ ئے تو شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہو سکیں۔
اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں آ پ کی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے۔گوشہء نور۔
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں ۔۔نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔شکریہ۔
http://goshaenoor.com

Related Posts

Leave a Reply