گوشہء نور کے سالکین۔۔(سبق نمبر۔21)

خواتین اور سلوک۔محنت۔ سبق نمبر 26

خواتین اور سلوک۔
محنت۔۔سبق نمبر 26
یہ محنت کیسے کی جائے ماں جی؟ میں نے جھٹ سے پوچھا۔
ماں جی ہمیں اپنی ذات پر محنت کرنے کا کہ رہی تھیں۔
اس دنیا میں آ پ کی اپنی ذات واحد ایسی چیز ہے جس پر اللہ کریم نے آ پ کو من وعن اختیار دیا ہے
یعنی آ پ کو اپنی ذات پر کلی اختیار حاصل ہے وہ بات کرتے ہوئے بلکل سنجیدہ نظر آ رہی تھی۔
لیکن عورت تو کبھی بھی کلی طور خود مختار نہیں ہوتی میرے ساتھ بیٹھی خاتون نے فوراً ماں کا جملہ مکمل ہوتے ہی کہا ۔عورت کی ذمہ داریاں اس کے فرائض ایسے ہیں کہ وہ ہر وقت چاہے دن ہو یا رات آ ن ڈیوٹی ہوتی ہے ذمہ داریوں میں جکڑا اس کا وجود کسی لمحے بھی “آ ف لائین” نہیں ہوتا ۔لیکن اس کا دل اس کا دماغ اور کی حسیات بہت اعلی درجے کے ورکرز ہوتے ہیں اس میں ایک ہی وقت میں بہت سے امور سر انجام دینے کی اعلیٰ صلاحیت ازلی طور پر ودیت کردی گئی ہے۔اس خالق نےعورت کی تخلیق اس پر عائد کر دہ ذمہ داریوں کے عین مطابق کی ہے ۔
اللہ کے دوست اس کے پیغمبر اور رسول جس کوکھ میں پلنے تھےان کی تخلیق، اس کی اس کی صلاحیتیں، غیر معمولی نہ ہوتیں یہ کیونکر ممکن تھا ماں جی اس وضاحت سے ہمیں بتا رہیں تھیں کہ ہمیں لگنے لگا شاید ہمارا آ ج تک اپنے آ پ سے ہی تعارف نہیں ہوا۔
وہ خالق کائنات ضرورت پیدا ہونے سے پہلے ہی ضرورت پوری کرنے کے انتظامات کر دیتا ہے۔اس بات کو ہم اس مثال سے سمجھیں گے۔
ایک شخص نے نیا نیا اس راہ سلوک پر قدم رکھا اور تارک دنیا ہوکر اللہ کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا ۔
گھر بار مال پیسہ سب سے دست بردار ہو کر اللہ اللہ کرنے ویرانے میں چلا گیا۔جب کچھ وقت گزرا تو بھوک نے اسے بہت ستایا۔کھانے پینے کا کوئی انتظام نہ تھا لہذا بھوکے پیٹ ایک دن گزار ہ کر لیا لیکن رفتہ رفتہ بھوک کی شدت بڑھی اور طبیعت بے قرارہوگئی ۔پیٹ کے ہاتھوں مجبور ہوکر آ بادی کی طرف چل پڑا ۔ایک گھر کے دروازے پر پہنچ کر دستک دی کہ بھوکا ہوں کھانا کھلا دیں۔اس کی اواز سننکر اندر سے کھانے کی پلیٹ پکڑے کوئی باہر آ یا اور کھانے کی پلیٹ اس کی جانب بڑھا دی۔اس شخص نے نگاہ اٹھا کر اس اپنے محسن کی جانب دیکھا وہ دس گیارہ برس کی ایک کمسن لڑکی تھی معصوم چہرہ لئے زمانے کے سرد گرم سے بے نیاز فقیر کی نگاہ اس کے سینے پر پڑی تو جوانی کے ننھے ننھے اثرات نمایاں ہو رہے تھے۔فقیر کے دل میں خیال آیا یہ ابھی بچی ہے جوان ہوگی اور کب شادی کے بعد ماں بنے گی جس بچے نے ابھی بہت سالوں کے بعد دنیا میں آ نا ہے اللہ کریم ابھی سے اس کی خوراک کا بندوبست کر رہا ہے۔وہ مسبب الاسباب ذات باری الہ اپنی اس مخلوق سے غافل نہیں ہے جو ابھی اس دنیا میں آ ئی ہی نہیں تو پھر میں کہا ں ہوں؟
میں اس کا ںندہ اگر بھوکا ہوں اور اس کی تلاش میں ہی تارک الدنیا ہو ا ہوں تو وہ ذات مجھ سے غافل کیسے ہو سکتی ہے۔فقیر نے رخ موڑا اور خالی ہاتھ واپس جنگل کی طرف نکل گیا۔
سور ملک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
“کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا”گویا وہ پیدا کرنے والا دلوں کے بھید جانتا ہے۔عورت کی تخلیق کرنے والا جانتا ہے کہ اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔اس لئے اس نے اس کو صلاحیت بھی اس کے عین مطابق عطاء کی ہے۔اسی لئے میری بیٹیو یہ مت سمجھو جس رب نے پیدا کیا ہے وہی تمھاری صلاحیتوں سے غافل ہے۔ اس نے ہر انسان کی ذمہ داریوں اور حقوق فرائض کے مطابق اسے صلاحیتوں سے نوازا ہے۔اس میں مرد عورت کی تفریق نہیں ہے۔وہ سب کا خالق ہے۔اس لئے ہم ان باتوں کو ایکسکیوز بنا کر جان نہیں چھڑا سکتے۔اس نے ہر دور کے انسان کو اس کےحا لات کے مطابق خوبیوں سے نوازا ہے۔ماں جی نے اپنی بات مکمل کرکے ایک گہری نگاہ ہم سب پر ڈالی۔یوں جیسے کنسٹرکشن کمپنی کا سپروائزر سب مزدوروں کو کام سمجھا کر انہیں اپنے اپنے حصے کا کام شروع کرنے کا کہ رہا ہو اور آ خری نگاہ ان پر ڈالے کہ کچھ سمجھ میں نہیں آ یا تو ابھی پوچھ لو ۔
پسند آ ئے تو شئیر کریں کاپی پیسٹ کرنے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہو سکیں۔
اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں آ پ کی رائے ہمارے لئیے مشعلِ راہ ہے۔شکریہ ۔گوشہءنور۔

Related Posts

Leave a Reply