خواتین اور سلوک۔(پارٹ۔20)عشرہ ذی الحجہ - "انعام کے ایام"

خواتین اور سلوک۔(پارٹ۔20)عشرہ ذی الحجہ – “انعام کے ایام”

گوشہء نور کے سالکین۔
خواتین اور سلوک۔۔۔۔(پارٹ۔۔۔20)
عشرہ ذی الحجہ
“انعام کے ایام”
عشرہ ذی الحجہ کے پہلے عشرے کی بے حد فضیلت بیان کی گئی ہے ۔
سورہ فجر میں جن دس راتوں کی قسم کھائی گئی ہے مفسرین بیان کرتے ہیں کہ وہ ذی الحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں۔
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھی ہمیں بتایا گیا ہے کہ” کسی دنوں میں عمل صالح اللہ کریم کو اتنا پسند نہیں جتنا ان دس دنوں میں”(رواہ البخاری)۔
اس لیے ہمیں ان ایام میں عبادات اور اعمال صالحہ کا خاص اہتمام کرنا چاہئے ۔
ماہ ذی الحجہ شروع ہونے والا تھا ہم ماں جی کی خدمت میں با ادب بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمیں بتا رہی تھیں کہ آ نے والے دنوں کی ہمیں تیاری کرنیسے کرنی چاہیے۔اور ان کی اہمیت کیا ہے۔
کیا ان دنوں میں بھی رمضان المبارک کی طرح اعمال کی نیکیاں اور اجر بڑھا دیے جاتے ہیں؟
میرے ساتھ بیٹھی ہوئی خاتون نے سوال کیا۔
ماں جی نے اپنی جھکی ہوئی نگاہیں اٹھا کر بغور ہم سب کی طرف دیکھا ان کا بوڑھا روئی کی طرح نرم اور شفیق چہرہ بالکل سنجیدہ تھا۔
پھر لمحہ بھر کو ایک گہری سانس لی اور بولیں میری پیاری بیٹیو بہت دن ہو گئے تمہیں میرے پاس آتے ۔
لیکن شاید میں تمہیں یہ سمجھانے میں ناکام رہی ہوں کہ عبادات کا مقصد نیکیوں کی بوریاں بھر نا نہیں اللہ کے ہاں عمال گنے نہیں جائیں گے بلکہ تو لے جائیں گے ۔
اعمال کی تعداد جتنی بھی ہواگر وہ وزن میں ہلکی ہوئے تو بے سود۔
خود نمائی اور تکبر ان نیکیوں کو ریت کے ذروں سے بھی ہلکا کر دیتے ہیں۔
اگر رب کو پانا مقصود تو ان چکروں سے آزاد ہونا پڑے گا۔
عبادات کا مقصد صرف اور صرف رب العالمین کا قرب پانا اس کی چاہت کا حصول اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت سیدہ کونین فاطمہ الزہرا کے لشکر میں شمولیت کی اجازت ہے ۔
بس یہی مقصد ہے ۔
ہماری اطاعت اور فرماں برداری کا ۔
اس بات کو سمجھنے کے لیے میں آ پ کو ایک چھوٹی سی کہانی سناتی ہوں۔
ایک بادشاہ کا پسندیدہ پیالہ گم ہو گیا جس میں وہ مشروب پیتا تھا۔
وہ پیالا بادشاہ کو بہت عزیز تھا ۔
اس نے اعلان کیا کہ محل کی جو کنیز غلام اس پیالے کو ڈھونڈ کر لائے گا بادشا سے منہ مانگا انعام پائے گا۔
اعلان سنتے ہی محل کی تمام کنیزیں غلام اس کی تلاش میں جت گئے ۔
بادشاہ صبح سے پیاسا تھا اور شرط یہ تھی کہ پیالا ملے گا تو اسی میں مشروب نوش کرے گا۔
بادشاہ اپنی مسند پر بے قراری سے منتظر تھا ۔
تھوڑی دیر کے بعد ایک ایک خوبرو کنیز تمتماتے چہرے کے ساتھ پیالہ ڈھونڈ کر لے آ ئی۔
محل میں شور بڑ گیا کہ پیالا مل گیا ہے ۔ تمام کنیزیں اور غلام جو بڑی محنت سے صبح سے پہلے کی تلاش میں ہلکان ہو رہی تھی سب یہ سن کر بادشاہ کی خدمت میں آن حاضر حاضر ہوئے۔
اب پیالا بادشاہ کے ہاتھ میں تھا۔
بادشاہ بہت خوش تھا اور انعام کی حقدار ایک کنیز تھی ۔
ہم سب صبح سے محل کا کونا کونا چھان رہے تھے ہر کسی نے بڑی تندہی سے اس پیالے کو ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن یہ تو نصیب کی بات ہے کہ پیالا اس کنیز کے ہاتھ لگ گیا ایک غلام کی مایوس آ واز نے وہاں چھائی خاموشی کو توڑا۔
اس کی آواز کے دکھ نے بادشاہ کی رحم دلی اور فیاضی کو جیسے للکار دیا۔
بادشاہ بولا آپ سب کو اجازت ہے جو جس شے پر ہاتھ رکھ دے وہ اس کی ۔
میں بہت خوش ہوں اس خوشی کے موقع پر میں آپ سب کو انعام سے نوازتا ہوں ۔
بادشاہ کی آواز سن کر وہاں ایک ہلچل مچ گئی۔
سب اردگرد پڑی قیمتی اور بیش قیمت اشیاء کی طرف متوجہ ہوئے۔
ہر کسی نے وہاں پڑی ہوئی من چاہی چیزیں اٹھانی شروع کر دیں۔
اتنے میں بادشاہ کی نظر اس کنیز پر پڑی جس نے پیالا ڈھونڈ ا تھا وہ بالکل خاموش کونے میں کھڑی تھی۔
بادشاہ نے اسے دیکھ کر پوچھا تمہیں کیا چاہیے ؟
آج” انعام کا دن ہے” جس شے پر ہاتھ رکھو گی وہی تمھاری۔
کنیز نے ایک نگاہ اٹھا کر بادشاہ کی جانب دیکھا پھر بڑے نپے تلے قدموں سے آگے بڑھی اور بادشاہ کی کلائی پر ہاتھ رکھ دیا۔
پورے محل میں یکدم سکوت چھا گیا ۔
ہر کوئی نگاہ سوال بن کر بادشاہ کی جانب تک رہی تھی۔
تم بے حد ذہین اور دانش مند ہو۔
یہ کہ کر بادشاہ نے اسے ملکہ بنانے کا اعلان کر دیا۔
مومن کی مثال بھی ایسے ہی ہے۔
جن ایام کی قرآن و حدیث نے فضیلت بیان کی ہے دراصل یہ انعام کے ایام ہوتے ہیں۔
ان ” انعام کے ایام ” میں اللہ کریم اپنے بندوں کو بے پناہ نوازتا ہے۔
ان دنوں اور ان راتوں میں
اللہ کریم کی رحیمیت
اس کی فیاضی
اس کی ستاری
اس کی کریمی
اس کی غفاری
اس کی کرم نوازی عروج پر ہوتی ہے۔
اور دانشمندی یہی ہوتی ہے کہ ان ” انعام کے ایام ” میں اس مالک المولا سے اس رب العالمین سے اسی کو مانگ لیا جائے۔
وہ علامہ اقبال نے کہا ہے نا
“خدا بنے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے”
ہمارا مطمح نظر اس رب العالمین کو پانا ہونا چاہیے یہ خاص” انعام کے ایام “تحفہ ہوتے ہیں ہمارے لئے۔وہ اپنی بات مکمل کرکے خاموش ہو گئیں۔۔(جاری ہے)
تحریر پسند آ ئے تو شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں اگر متن میں کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہو سکیں۔شکریہ۔
اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں آ پ کی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے۔شکریہ گوشہء نور۔
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں ۔۔نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔شکریہ

Related Posts

Leave a Reply