خواتین اور سلوک۔۔۔(پارٹ۔۔8)

گوشہءنور کے سالکین ۔ (سبق نمبر ۔ 25).
خواتین اور سلوک (پارٹ۔8)
فیصلہ۔
انہوں نے قریب بڑا پانی کا گلاس اٹھایا چند گھونٹ پانی کے پیے پھر تازہ دم ہو کر وہ بے حد نرم لہجے میں بولیں۔
شادی کے بعد عورت کو پتہ چل جاتا ہے کہ اس کا شوہر ایک منفی شخصیت کا حامل انسان ہے ۔۔ بہت ساری اخلاقی برائیوں میں مبتلا ہے ۔
یہ فیصلے کا وقت ہوتا ہے ۔ اسے چاہیے کہ وہ غور و فکر کرے۔
انتہائی سنجیدگی کے ساتھ اپنے معاملات کو سمجھیے۔
اپنے والدین کو اعتماد میں لے اور مسئلہ ان سے ڈسکس کرے۔
گھر کے بڑے بزرگ مل کر اس مسئلہ کو حل کرنے کی کی کوشش کریں ۔۔۔
حالات نامساعد ہوں. اگر فریقین کے مابین اس ازدواجی رشتے کو نبھانا ناگزیر ہو جائے تو عورت کو اسلام خلع کا حق دیتا ہے۔
لیکن اگر وہ سمجھتی ہے کہ حالات بہتر ہوجائیں گے وہ صورتحال کو اللہ کی آزمائش سمجھ کر قبول کر لیتی ہے تو پھر اسے اس آزمائش سے نبرد آزما ہونے کے لیے اسلام کے اصولوں کو فالو کرنا بے حد ضروری ہو جاتا ہے ۔۔
ماں جی کا انداز پھر سےایک ماہر استانی کا سا ہو گیا ۔۔
فیصلہ کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لے۔۔۔
حالات کو پرکھ لے ۔۔
لیکن جب فیصلہ کر لے۔۔
آزمائش کو قبول کر لینے کا۔۔
تو پھر اسے ایمانداری سے نبھانے کے لیے خلوص نیت سے سر دھڑ کی بازی لگا دے۔
اس نے اگر آزمائش کو قبول کر لیا ہے تو پھر لازم ہے کہ اس امتحان میں سرخرو ہونے کے لئے اپنے سر دھڑ کی بازی لگا دے۔۔
بلاشبہ شوہر کی آزمائش بہت بڑی آزمائش ہے لیکن یاد رکھو یہ دنیا “دارالامتحان “ہے۔
یہاں ہر کوئی کسی نہ کسی طرح آ زمایا جاتا ہے۔۔
انسانوں پر اور خاص طور پر خواتین پر اس سے بھی بڑی بڑی آزمائشیں آ تی رہی ہیں۔
اسلام کی سب سے پہلی شہید خاتون حضرت سمیہ کا واقعہ ہمارے سامنے ہے.. وہ اسلام قبول کرنے کے بعد کس طرح آزمائیں گئیں، ستائی گئیں۔۔۔
ان کی دونوں ٹانگیں دو گھوڑوں سے باندھ کر گھوڑوں کو مخالف سمت دوڑایا گیا۔۔۔
انسان کا جسم مبارک دو حصوں میں چیر گیا۔۔۔
انہوں نے محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دین قبول کر لینے کے بعد کفار کا ہر ستم قبول کیا ۔۔
ہر ظلم اپنے پاک وجود پر سہا۔۔۔
اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتی ہوئی جام شہادت نوش کیا اور یوں اسلام کی پہلی خاتون شہید حضرت سمیہ قرار پائیں۔۔۔
ہم تاریخ اسلام میں خواتین کا کردار پڑھیں تو اندازہ ہو تا ہے کہ ہمت جرات اور استقلال میں خواتین مردوں سے کم نہیں ۔۔۔۔
ہر امتحان جب انہوں نے اپنے کردار سے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ جب بھی انہیں اس” دارالامتحان ” میں مشکل پرچا تھما دیا گیا ان کا بھروسہ اپنے رب پر مزید پختہ ہو گیا۔۔۔۔
کیا انہوں نے ہر ظلم اور ہر آزمائش کے لمحے میں اپنے آ قا علیہ الصلواۃ والسلام کے گھرانے اور کربلا والی پاک خواتین کے صبر سے استقلال لیا۔۔
ماں جی حضرت سمیہ کا واقعہ شہادت بیان کرتے ہوئے ہوئے آزردہ ہوگی۔۔
اس ضمن میں ہم فرعون کی بیوی بی بی آسیہ کی طرف دیکھتے ہیں۔
حضرت آسیہ فرعون جیسے شوہر سے آزمائیں گی انہوں نے صبر کیا اپنے رب پر بھروسہ کیا اور جس وقت فرعون انہیں بے دردی سے شہید کر رہا تھا اس لمحے جو الفاظ ان کی زبان سے نکلے قرآن کا حصہ بنے ۔۔۔
رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ…
ترجمۂ … اے میرے ربّ میرے لئے اپنے پاس جنّت میں گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے کام سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات بخش۔(پ28، التحريم:11) ۔
بارگاہ الہی میں ان کی یہ دعا مقبول ہوگی ۔۔ان کے منہ سے نکلے گئے الفاظ قرآن کا حصہ بنے۔۔۔
مسئلہ اس وقت خراب ہوتا ہے جب وہ اس مرد کے ساتھ رہنے کا فیصلہ تو کر لیتی ہے۔۔۔
اسے آزمائش سمجھ کر قبول بھی کرلیتی ہے ۔۔
زندگی کو نبھانا بھی سیکھ جاتی ہے لیکن آ خرت کے لیے تہی دامن ہوجاتی ہے۔۔
نہ تو دنیا میں خوش و خرم ہوتی ہے اور بدقسمتی سے اپنی آخرت میں داؤ پر لگا دیتی ہے۔۔
پھر اسے کیا کرنا چاہیے؟؟
اپنے عمل کو اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کے تابع کرنا ہے ۔۔
محض نیت کو درست کرنے سے عورت کی روح اللہ کے تقرب کے اس درجے پا لیتی ہے جو سالوں کی ریاضت اور عبادت کےبادجود بھی مرد مہیں پا سکتا۔۔
وہ کیسے ؟؟
ان کی بات سن کر میری آنکھوں میں ایک امید کی چمک ملک پیدا ہوئی۔۔
بیٹا انسان کی اس دنیا میں زندگی۔۔
اس کی زندگی کی حقیقت ۔۔
اور یہاں سے واپسی۔۔۔
ان سب باتوں کو ہمیں سمجھ لینا چاہیے ۔۔۔
کہ اصل حقیقت کیا ہے؟؟؟
یہ دنیا دار الامتحان ہے ۔۔۔
اگر ہم اس زندگی کو اپنی جنت بنانا چاہیں گے تو ہم اظطراب کا شکار ہو جائیں گے۔۔۔
سورہ ملک میں اللہ کریم فرماتا ہے۔۔
الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ ( 2 ) ملک – الآية 2۔
اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے۔ اور وہ زبردست (اور) بخشنے والا ہے
اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ دنیاوی زندگی آزمائش کے بغیر ممکن نہیں۔۔۔
انسان کی حقیقی اور پر آسائش زندگی جس کی وہ تمنا کرتا ہے وہ اسے اس دنیا میں میسر نہیں ہو سکتی۔
حقیقی سکون اور راحت جس کا انسان اس دنیا میں طلبگار ہوتا ہے وہ تو جنت میں ملنا ہے۔
یہ دنیا “دار الامتحان “ہے ۔
امتحان میں ہر شخص خواہ مرد ہو یا عورت اس نے اپنا امتحانی پرچہ حل کرنا ہوتا ہے ۔۔۔
یہ اس کی قسمت پر ہے کہ اسے آسان پرچا تھما دیا جائے یا مشکل۔۔۔
یہ ٹوٹل اختیار اس کے رب العالمین کو ہے ۔۔
انہوں نے نرم لہجے میں کہ کر اپنی بات مکمل کی۔۔
تو کیا ایک عورت جو شوہر کی طرف سے آزمائش میں مبتلا ہے۔۔۔
اور شوہر اس سے زدوکوب بھی کرتا ہے۔۔۔
تذلیل کا نشانہ بھی بناتا ہے۔۔۔
کیا وہ بے حس و حرکت ایسے ہی اپنی زندگی بتا دے؟؟
کیا اس کے پاس مزاحمت کا انصاف لینے کا کوئی حق نہیں ہے ؟؟
وہ یوں ہی ساری زندگی ظلم سہتی رہے کیا اسلام کا یہی دستور ہے؟؟
میں نے معاشرے کی اس تلخ حقیقت کو اپنے سوال میں سمو کر ان کے آگے پیش کیا ۔۔
انہوں نے متانت سے کرسی پر بیٹھے ہوئے اپنا پہلو بدلا شاید ہماری آج کی نشست کچھ طویل ہو رہی تھی ۔۔ان کا بوڑھا وجود تھکاوٹ محسوس کر رہا تھا پھر آپ نے اپنے ہاتھ اپنی گود میں رکھ کر گویا یا وہ وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوئی شاید جواب کے لیے مناسب الفاظ کا چناؤ کر رہی تھی۔۔
اسلام صرف عمل کا مذہب نہیں ہے ۔ عمل کے ساتھ ساتھ نیت کی درستگی زندگی کے ہر عمل کو مقبول بناتی ہے ۔۔
اسی لئے اسلام کہتا ہے ۔۔
“مومن کی لئے اس کی نیت اس کےعمل سے افضل ہے “.
انہوں نے بے حد سنجیدہ لہجے میں میری جانب غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
ہاں جی میں نے سعادت مندی سے جواب دیا۔۔
ہم یہ حدیث فراموش کر بیٹھتے ہیں ۔۔۔
جب ہم پر آزمائش آتی ہے تو اس کا واویلا مچا دیتے ہیں ۔۔۔
اس طرح اردگرد کے لوگوں سے ہمدردی کے چند بول اور دوسری فریق کے لئے چند گالیاں یا اور بد دعائیں ہمارے من کو شانت کر دیتی ہے۔۔۔
حالانکہ درحقیقت یہ سب کچھ ہماری شخصیت اور ہمارے کردار کو انہی لوگوں کے سامنے ہلکا کر دینے کے لیے کافی ہوتا ہے
سننے والا اگر ہماری جھولی میں ہمدردی کے چند سکے اچھال بھی دے
لیکن تنہائی میں وہ یہ ضرور سوچے گا اگر یہ اپنے شوہر سے اتنی تنگ ہے یا اس کا شوہر اس اتنا برا انسان ہے تو پھر یہ اس کے ساتھ کیوں رہ رہی ہے؟؟؟
اور یوں ہمارا اپنا کردار دنیا والوں کے سامنے ایک سوالیہ نشان بن جائے گا۔۔
ہمیں اس تمام صورت حال کو اچھی طرح سمجھنا ضروری ہے۔۔۔
بیماری سمجھ میں آجائے تو اس کا مداوا کرنا ممکن ہے ۔۔۔
لیکن اگر یہی معلوم نہ ہو کے تکلیف کہاں ہے بیماری کے سوتے کہاں سے پھوٹ رہے ہیں تو دھیرے دھیرے پورا وجود لہولہان ہو جاتا ہے۔۔
پھر اس زخمی وجود کو لئے عورت آنے والی ایک پوری پوری نسل جو اس سے وابستہ ہوتی ہے ان کی شخصیت کو بھی داو پر لگانے کی ذمہ دار بن جاتی ہے۔۔۔
عورت کا معاشرے میں کردار بے حد اہم ہے۔۔
اگر میں کہوں کہ عورت کا کردار مرد سے بھی زیادہ گھریلو زندگی میں اہمیت کا حامل ہے تو یہ غلط نہ ہوگا۔
ایک منفی سوچ رکھنے والے مرد کی مومنہ اور ایمان کے اعلی کردار کی حامل بیوی معاشرے کو بے حد خوبصورت کردار تشکیل دے کر فرد مہیا کر سکتی ہے ۔۔۔
جب کے مرد کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔۔
(جاری ہے۔).
تحریر پسند آئے آ پ کے روحانی سفر میں معاون ثابت ہو تو اپنی رائے سے کمنٹ سیکشن میں ضرور آگاہ کیجئے شکریہ۔
شیر کریں کاپی پیسٹ کرنے سے گیز کریں۔اگر متن میں کوئی تبدیلی کی جائے تو آپ اس سے آگاہ ہو سکیں شکریہ۔

(گوشہءنور)۔

خواتین اور سلوک۔۔۔(پارٹ۔۔8)

Related Posts

Leave a Reply