گوشہءنور کے سالکین۔۔سبق نمبر۔۔30
خواتین اور سلوک۔۔۔پارٹ 13
“حل”
پھر ان تمام باتوں کا کیا حل ہے ماں جی؟
حل بہت سیدھا اور آ سان ہے بیٹا۔ ماں جی نے حسب عادت ایک نرم مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔
ہم اپنی تخلیق کا مقصد سمجھ جائیں ۔بحثیت مسلمان اپنے مقام ومرتبے کو پہچان لیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھرانے سے اپنی نسبت مضبوط کر لیں تو سارے مراحل بے حد آ سان ہو جائیں گے۔
آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی اس حدیث کو ہم اپنی زندگی میں لازم کر لیں۔
تمھارا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو تا جب تک میں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ )تمھیں تمھارے والد ین بیوی بچوں سے پڑھ کر عزیز نہ ہو۔
جب مطمح نظر اور محبت کا انتہا آ قا علیہ الصلواۃ والسلام کی ذاتِ مبارکہ ہو جاتی ہے تو سارے دکھ سارے مسائل ہیچ ہو جاتے ہیں
یہ بات ذہن نشین کر لو کہ اگر آپ اللہ کریم کو پانا چاہتے ہو تو رب محض عبادات سے نہیں ملتا ۔۔
رب کے بتائے ہوئے قوانین کو فالو کرنا پڑتا ہے۔۔
رب کے بتائے ہوئے قوانین کے مطابق ہم عبادات کرتے ہیں۔۔
زندگی گزارتے ہیں پھر ماں جی کیا کہہ رہی تھی ؟ وہ کون سے قوانین ہیں جنہیں فالو کرنے میں ہم کوتاہی کر جاتے ہیں؟
ماں جی کی بات مجھے الجھا رہی تھی۔
میرے چہرے پر ابھرنے والے الجھن کے تاثرات کو شاید مان جی نے محسوس کرلیا ۔
میری طرف متوجہ ہوئی اور کہنے لگی رب کے قوانین کو فالو کرنے کا مطلب سمجھ رہی ہو ۔۔
میں نے نفی میں سر ہلا دیا۔
یقینا ہم میں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی کمی ضرور ہے میں جاننا چاہتی تھی۔۔
انسان رب کو پانا چاہتا ہے ۔
اس کی تلاش اس کی کھوج روز ازل سے اس کے اندر رکھ دی گئی ہے۔
اللہ کریم نے نے انسان کو اس دنیا میں بھیجا ۔ خلیفتہ الارض بنایا ۔۔
اختیارات دیئے ۔۔۔
پھر کہا ہاں مجھے ڈھونڈو مجھے پہچانو اور پھر خود اس کے من میں ہی چھپ گیا ۔۔۔
ماں جی اپنا فقرہ مکمل کرکے کے یوں مسکرائیں کہ جیسے سے ایک بچہ بہت مزے دار چاکلیٹ کھانے کے بعدبقایا ہاتھ میں چھپا لے اور دوستوں کو بتائے ۔۔
اس چاکلیٹ کی لذت اس کا ذائقہ اس کے ننھے چہرے پر جو خوشی اور مسرت دیتا ہے ایسی ہی خوشی ایسی ہی مسرت۔۔۔
اور آنکھوں میں کچھ پالینے کی ایسی ہی چمک اس لمحے ماں جی میں مجھے نظر آئی۔
میں نے خدا سے وصل کی لذت کو ماں جی کے چہرے پر بھی محسوس کیا۔
یقیناً وہ رب کو پا چکی تھیں۔۔
رب کو پانے کا یہ سفر شاید طویل بھی ہوگا کٹھن بھی ہوگا ۔۔۔۔
اس رستے میں یقینا انہوں نے بہت ساری مصیبتیں بھی جھیلی ہوں گی ۔
لیکن شاید وصل لذت نے ان کے وجود کو ایک عجیب سی سرشاری عطا کر دی تھی۔۔۔
جو لوگ وصل کی اس لذت کو چکھ لیتے ہیں پھر ان کے لئے یقینا دنیا کی سب خوشیاں بہت ہیچ ہو جاتی ہیں ۔۔
سفر میں ملنے والی تھکان ان صعوبتیں دکھ اور مصیبتیں اس وصل کے آگے بہت کم تر ہوتی ہیں۔
ماں جی کے نور میں لپٹے ہوئے ہوئے بوڑھے چہرے کا حسن دیکھ کر میں سوچ رہی تھی ان کے چہرے پر کسی تھکان کسی دکھ کا شائبہ تک نہیں تھا۔۔۔
رب سے وصل کی خوشی اور سکون انہیں یوں اپنی آغوش میں لیے ہوئے تھا جیسے ایک ننھا بچہ نہا دھو کر کر میٹھی مسکراہٹ لیے اپنی ماں کی آغوش میں دنیا و ما فیھا سے بے پرواہ مسکرا رہا ہوتا ہے۔
شاید آج کا آٹھ دس سالہ بچہ بھی اب سکون و اطمینان سے نابلد ہو چکا ہے ۔۔
چھوٹے چھوٹے بچوں کی خواہشات بے قراری اور ان کے مسائل انہیں مسلسل اضطراب میں مبتلا کئے ہوئے ہیں ۔۔
ہم شاید اس وقت ایک مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں ۔جہاں الیکٹرونکس ڈیوائسز جدید نظامِ تعلیم نے ہمارے چھوٹے چھوٹے بچوں کو ذہنی اضطراب کا شکار بنادیا ہے ۔۔
اپنے ننھے ہاتھوں میں ان چھوٹی چھوٹی سکرین میں مست بچے ۔۔۔۔
اور ان کے ذہن چھوٹی سی عمر میں دنیا کا اتنا ایکسپلورر دیکھ کر کنفیوژ ہیں۔
بے چین اور بے سکون ہیں۔
میں چھوٹے بچوں کے بارے میں سوچ رہی تھی ہمارے نوجوان اور درمیانی عمر کے لوگ بھی آج انٹرنیٹ کے غلط استعمال کی وجہ سے مختلف ذہنی اور دماغی مسائل کا شکار ہو چکے ہیں ۔۔۔
سکون کا احساس تو ہمیں اپنے ارد گرد کسی چہرے پر پر نظر ہی نہیں آتا ہم تو شاید و اطمینان کے معنی بھولتے جا رہے ہیں ۔۔۔
رب کو ڈھونڈنے کو ہم ایک مثال کے ذدیعے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان کی آ واز مجھے لمحہ موجود میں لے آ ئی۔اور میں ان کی طرف متوجہ ہوئی۔
ہرن کے نافہ میں جب کستوری بنتی ہے تو اس کی دلفریب خوشبو سے ہرن مست ہو جاتا ہے۔پھر یہ مستی اسے بے چین کرتی ہے ۔
وہ اس خوشبو کو پانا چاہتا ہے ۔حاصل کرنا چاہتا ہے۔
ہر حال میں یہ خوشبو اسے مطلوب ہوتی ہے۔
وہ اس خوشبو کی مستی میں مست چوکڑیاں بھرتا ہے۔ سارا سارا دن جنگل کے کونے کھدروں میں ڈھونڈ تا ہے ۔
صبح سے شام تک کی یہ بھاگ دوڑ اسے تھکا دیتی ہے وہ بدحالی میں اپنا تھکا ہوا وجود لے کر ایک درخت کےنیچے سستانے کو لیٹتا ہے۔
مایوسی اسکے تھکے ہوئے بدن کو نا امید ی کے کنوئیں میں دھکیلنے لگتی ہے۔وہ اس خوشبو سے جان چھڑانے کے لیے اپنے سر کو جھٹکتا ہے۔
اس سے جان چھڑوانا چاہتا ہے ۔
لیکن اس تھکان اور مایوسی کے اندھیرے لمحوں میں کستوری کی خوشبو پھر سے اسکے مردہ وجود میں جینے کی رمق پیدا کرتی ہے۔
اس خوشبو کے جھونکے اسکے وجود میں پھر سے توانائی پیدا کرتے ہیں ۔اور وہ اگلے دن پھر سے اپنے ہی وجود میں چھپی ہوئی کستوری کی خوشبو کو ڈھونڈنے چوکڑیاں بھرتا ہوا ادھر سے ادھر جنگل میں نکل جاتا ہے۔۔۔
بلکل یہی معاملہ انسان کے ساتھ ہے۔ر ب تو اس کے من میں چھپا ہوا ہے۔اور وہ رب کو باہر ڈھونڈنا چاہتا ہے۔
رب تاں تیرے اندر وسدا وچ قرآن اشارے۔
رب تو اندر ہی ہے بیٹا۔اور اسے ڈھونڈ نے کے اسے پانے کے سارے رستے میرے آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر سے ہو کر جاتے ہیں۔
مرد ہو یا عورت اس گھرانے سے تعلق پختہ ہو جائے تو رب ملنا بہت آ سان ہے۔۔
محض عبادات رب تک نہیں پہچاتیں۔اسوہ حسنہ اور پاک بی بی زھرا سلام اللہ علیہا کی اتباع رب تک لے جاتی ہے۔ان کی حیات مبارکہ من وعن ہمارے پاس موجود ہے۔ان ہستیوں نے رب کے بنائے ہوئے قوانین کو فالو کرکے دکھایا۔
جب ہم اپنے اعمال میں ان کی اتباع کرتے ہیں تو ان کا قرب ملتا ہے۔ یہی قرب ہمیں ذندگی کی ہر اونچ نیچ اور مشکلات میں ہمت اورحوصلہ دیتاہے۔۔۔
ہمارے سارے مسائل کا حل صرف اور صرف اس ایک جملے میں پنہان ہے۔
“ہم اپنا تعلق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پختہ کر لیں۔”
میں نے ان کی بات مکمل ہونے کے بعد کہا۔
بلکل صحیح سمجھیں ہیں آ پ انہوں نے اپنی چمکدار آ نکھیں میرے چہرے پر جماتے ہوئے جوش سے جواب دیا۔
اللہ کریم نے جب دین بھیجا تو اسکے احکامات کو انبیاء کرام اور ان کے صحابہ کرام نے پوری طرح اپنی ذندگی میں لاگو کر کے ہمیں دیکھایا۔اور پھر اس پوری تاریخ اورمعاشرے کی مجموعی صورتحال کو انے والے لوگوں کے لیے محفوظ کر لیا گیا۔۔۔
جب ہم ان قوانین کو فالو کرنے لگ جاتے ہیں تو ہماری سوچ کا انداز یکسر بدل جاتا ہے۔
سوچ بدل جائے تو عمل میں بھی تبدیلی آ جاتی ہے۔
اب اس کا ہر عمل اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ہوتا ہے۔
اس کی نگاہیں مخلوق سے ہٹ کر خالق پر لگ جاتی ہیں۔
وہ گناہ ثواب جنت دوزخ کے گھن چکر سے نکل کر اپنے رب کے روبرو آ جاتا ہے ۔
اب اسے ہر حال میں رب چاہے اس کی خوشنودی چاہے وہ مطلوب مولا بن جاتا ہے۔
یہی سچ ہے یہی حق ہے ۔۔انہوں نے نہایت متانت سے اپنی بات مکمل کی۔۔۔(جاری ہے۔)
آپ کو ہماری ہے تحریر کیسی لگی ؟ کمنٹ سیکشن میں ہمیں ضرور آگاہ کریں۔آپ کی رائے ہمارے لیے مشعل راہ ہے ۔۔
پسند آئے تو شیئر کریں کاپی پیسٹ کرنے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آپ اس سے آگاہ ہو سکیں۔شکریہ ۔

(گوشہءنور).

خواتین اور سلوک۔۔۔پارٹ 13

Related Posts

Leave a Reply