موتیا کی خوشبو

خواتین اور سلوک۔۔ (پارٹ17)

گوشہِ نور کے سالکین۔۔۔سبق نمبر 35
خواتین اور سلوک۔۔ پارٹ17
ماں اور خدا۔۔۔
مجھے اپنے بیٹے سے شدید نفرت ھے ہے ۔
بےحد نفرت۔۔
میں اس عجیب و غریب جنگ میں میں بری طرح لہو لہان ہو چکی ہوں۔۔
ایک طرف میری ممتا ہے ۔
اور دوسری طرف میرا دشمن۔
میری جان کا دشمن۔۔۔
میری خوشیوں کا قاتل۔۔۔۔
میری خواہشات کا قاتل۔۔۔
میرے من کی بستی کو اجاڑنے والا ایک خونخوار درندہ۔۔۔
ایک بے دین نفس پرست انسان۔۔۔
جسے اپنی ذات اور اپنی خواہشات کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا ۔۔۔
وہ بری طرح رو رہی تھی ۔
میرے سامنے ایک بڑی وضع دار اور دیندار خاتون بیٹھی ہوئی تھی۔ جو یقینا کسی اعلیٰ خاندانی پس منظر کی حامل تھی ۔
ان کی شخصیت کا رعب و دبدبہ دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ اتنی بے بس ہو سکتی ہیں۔
ان کی شخصیت میں مہر انیوں والا انداز اور ملکائوں جیسا تحکم موجود تھا۔
ان کے چہرے پر عبادت کا نور تھا ۔ان کے وجود میں ایسی شفقت تھی کے جی چاہے ہے ان کے پہلو تھوزی سی دیر ہمیں بھی بیٹھنے کی اجازت مل جائے۔۔
ان کی خدمت کرکے تھوڑی سی شفقت ہم بھی سمیٹ لیں ۔۔۔
وہ بڑی عمر کی خاتون تھیں۔ ماں جی کو بھابھی کہہ کر مخاطب کر رہی تھی شاید ماضی کی کوئی پرانی سہیلی تھی جا کوئی دور پار کی رشتہ دار۔۔۔
میں کمرے کے ایک کونے میں بیٹھے ے اپنی کاپی پر اپنے نوٹس لکھ رہی تھی ۔بظاہر میں کمرے کے ماحول سے پوری طرح بے نیاز تھی ۔ لیکن اس عورت کی موجودگی یقیناً پورے کمرے کا احاطہ کئے ہوئے تھی۔
قیمتی پرفیوم کی خوشبو اس کے مہنگے لباس سے اٹھ رہی تھی۔ جس نے ماں جی کے کمرے کی اپنی مخصوص خوشبو کو دبا دیا تھا ۔۔
وہ دراز قد خوبصورت شخصیت کی حامل ایک مضبوط عورت تھی۔۔
وہ یقیناً کسی بڑے خاندان کی بیٹی تھیں ۔جس کی کسی امیر زادے سے شادی ہوئی اور اس نے ساری زندگی وفادار شوہر کے ساتھ اپنی راجدھانی میں راج کرتے گزار ی ۔وہ خود بھی نیک فطرت اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت کرنے والی تھیں۔
وسیع پیمانے پر مذہبی تقریبات منعقد کرنا دینی محافل کا اہتمام اور صدقہ خیرات یقیناً اسے اپنے بزرگوں سے ورثے میں ملا تھا۔ مال ودولت کی فراوانی کے ساتھ ساتھ اگر مذہب کی بالا دستی بھی آ پ کی ذندگی میں ہو تو ذندگی کی نعمتو ں کی آ پ صحیح معنوں میں قدر کرنا سیکھ جاتے ہو۔
جہاں اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی شکر گذاری ہو وہاں نعمتوں کی فراوانی یقیناً بڑھتی چلی جاتی ہے۔۔
(ان کے خاندانی پس منظر کا اندازہ مجھے ان کی ماں جی سے ہونے والی گفتگو سے ہوا۔)
ایسی بارعب اور تمکنت والی عورت کو میں نے یو ں بلکتے ہوئے تڑپتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔
ہاں سنا ضرور تھا کہ جس عورت کو کوئی نہ پچھاڑ سکے اسے اس کی اولاد نیست و نابود کر سکتی ہے۔
میرا قلم چلتے چلتے رک سا گیا میں نگاہ اٹھائے بغیر پوری طرح اس عورت کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی حالت دیکھ کر ماں جی نے بڑی اپنائیت سے اسے اپنے گلے لگا لیا۔۔
وہ بڑی نرمی سے ان کی پشت پر دلاسے سے ہاتھ پھر رہی تھی۔وہ خاتون بہت جلد اپنے آپ پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئیں۔ انہوں نے اپنے مہنگےپرس سے ٹشو پیپر نکالا سلیقے سے اپنی کاجل لگی آنکھوں کا بہتا ہوا پانی صاف کیا ۔۔۔
گورے چٹے سفید چہرے پر ان کی چھوٹی سی سرخ ناک بڑی بھلی معلوم ہو رہی تھی۔ اب وہ قدرے سنبھل چکی تھیں۔
اپنے جذبات کو قابو میں لانے کے بعد انہوں نے قریب پڑا پانی کا گلاس اٹھایا اور بڑے ٹھہرے ہوئے انداز میں پانی پیا ۔
پھر گلاس کو واپس میز پر رکھ کر بولی ۔
بھابھی معذرت خواہ ہوں ہو کچھ آپے سے باہر ہوگئی تھی ۔شاید مجھے یہ سب زبان پر نہیں لانا چاہیے تھا ۔اس کے لہجے سے ہلکا سا تاسف چھلک رہا تھا۔
ماں جی اس کی بات سن کر خاموش پیار بھری نگاہیں اس کے چہرے پر جمائے یوں خاموشی ہمہ تن گوش تھیں جیسے وہ انہیں موقع دے رہی ہوں کہ بولے چلے جاؤ میں آ ج تمھارے سارے دکھ اپنی محبت کی آ غوش میں چھپا لوں گی ۔ماں جی میں یہ وصف مجھے بھی بہت پیارا لگتا تھا وہ دوسروں کو دکھی دیکھ کر یوں اپنا دامن وا کر دیتی تھیں اور اس اپنائیت سے اسےاپنا وقت دیتیں اور اتنے تحمل سے سنتیں کہ سامنے والا اپنا سارا غبار بے جھجھک نکال کر ہلکا پھلکا ہو جاتا ۔
میں نے سنا تھا خدا کو پانا ہے تو اس کی مخلوق سے پیار کرو۔۔
مخلوق کی خدمت کرو۔۔
لیکن اس سے اعلیٰ خدمت کیا ہو سکتی ہے کہ آ پ کسی کو سن لیں ۔۔
آ پ کے پاس آ کر کوئی آ پ کو اپنا غم سنانے میں جھجھک محسوس نہ کرے۔۔
میرے آ قا علیہ صلواۃ واسلام کا وہ واقعہ جب ایک دیوانی عورت آ پ کے پاس آ کر اپنا غم سناتی ہے اور آ پ سنتے جاتے ہیں مسلسل کھڑے گرمی میں اپنا قیمتی وقت اس دیوانی کی باتیں سننے میں صرف کر رہے ہوتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دیکھ کر پریشان ہوجاتے ہیں ۔
یہ وصف ماں جی میں بدرجہ اتم موجود تھا۔ وہ آ قا علیہ الصلوات واسلام کی ہر سنت کی پیروی میں سرگرداں نظر آ تیں تھیں ۔ کوئی اپنا غم انہیں سنانا چاہتا وہ اپنی تمام مصروفیات پس پشت ڈال کر آ نے والی حاجت مند کے دکھ اتنے غورسے سنتیں کہ سنانے والے کے تشفی ہو جاتی۔
ان کی میٹھی مسکراہٹ دکھی دلوں کے غموں پر یوں ابر رحمت بن کر برستی کہ مجھے یہ دیکھ کر آ قا علیہ الصلواۃ و السلام کی وہ حدیث یاد آ جاتی جس میں آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ۔۔۔
مسلمان کا اپنے بھائی کی طرف دیکھ کر مسکرا دینا بھی ایک صدقہ ہے۔
آج نفسا نفسی کا دور ہے ۔جس میں ہر چہرہ آ پ کو اپنے مسائل میں الجھا ہوا دکھائی دیتا ہے ۔رویوں کی اس کڑی دھوپ میں ایک نرم خو مسکراہٹ اور کسی کی شفقت آمیز نگاہیں گرم دوپہر میں ایک گہرے بادل کی سی ٹھنڈک کا سماں پیش کرتی ہیں۔
کیا اللہ تعالیٰ اتنا بے نیاز ہو سکتا ہے؟؟
وہ تو ہم سے ستر ماؤں سے بڑھ کر پیار کرتا ہے ۔
پھر وہ خدا جو اپنے اور بندے کے تعلق کو بیان کرنے کے لئے ماں اور اولاد کے تعلق کی مثال دے رہا ہے پھر وہ خدا ایک ماں سے ہی کیونکر بے نیاز ہو سکتا ہے۔
پھر کیوں نہیں سنتا ؟؟
وہ اب قدرے سنبھل چکی تھیں۔ اور بڑے ٹھہرے ہوئے انداز میں ماں جی سے مخاطب ہوئیں۔
ماں جی نے جواب دینے کی بجائے خاموشی سے اس کے ہاتھ کو پیار سے سہلایا اور یوں اس کے چہرے کی جانب تکنے لگیں جیسے اسے کہہ رہی ہو ں آج جو بولنا ہے جو کہنا ہے کہ ڈالو۔۔
اپنے من کا سارا غبار آ ج نکال باہر کرو ۔۔۔(جاری ہے)۔
آ پ کو ہمادی یہ تحریر کیسی لگی؟اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں ۔اپ کی رائےہمارے لیے بہت اہم ہے۔۔۔شکریہ…….گوشہء نور۔
خواتین اور سلوک کے بقایا اسباق پڑھنے کے لئے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔۔
https://www.facebook.com/104763384584903/posts/243069624087611/

Related Posts

Leave a Reply