خواتین اور سلوک۔ – باب نمبر۔29۔ پارٹ2

خواتین اور سلوک۔۔۔پارٹ2
باب نمبر۔29۔
عورت کی روح اگر “طالب المولا” ہے اسے اپنے رب کو پانا ہے تو وہ” راہ سلوک “اختیار کر سکتی ہے۔لیکن میرا مطالعہ اس بارے میں بتا تا ہے کہ راہ سلوک مرشد کی تربیت اور” صحبت شیخ “کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔جبکہ دوسری جانب دین اسلام مخلوط محافل اور آ زادانہ میل وجول کی ممانعت کرتا پے۔مرد ، عورت تنہائی میں اکٹھے نہیں بیٹھ سکتے, اکیلی عورت سفر نہیں کر سکتی ۔محرم اور نامحرم کے قوانین میں جکڑی ہوئی ایک مسلمان عورت کیسے یہ” راہ سلوک” اختیار کر سکتی ہے؟
وہ عورت نے ماں جی کی بات بڑے غور سے سننے کے بعد سنجیدہ لہجے گویا ہوئی۔ہم سب خاموش تھے اور ماں جی کے جواب کے دم سادھے منتظر۔۔۔
یقیناً یہ ایک اہم مسئلہ تھا۔ایک ایسی عورت کے لیے جو تعلیم یافتہ بھی ہے ، دینی امور پر اس کی گہری نظر ہے اور وہ اپنے رب کو پانا بھی چاہتی ہے،آسانی سے، اور رازداری سے، اللہ کی ولیہ بننے کا خواب اس کی آ نکھوں میں کہیں چھپا ہوتا ہے۔
مرد کے لئے دینی تعلیم حاصل کرنا پھر تربیت کے لیے خانقاہ کا رخ ، مرشد کے زیر تربیت رہ کر روحانی منازل طے کرنا، یہ صوفیاء کرام کے ہاں رائج ہے۔اور ایک عورت یہ سب افورڈ نہیں کر سکتی ۔یہی آ پ کا سوال ہے ناں ماں جی نے اس کے سوال کا خلاصہ آ سان الفاظ میں بیان کیا۔
جی اس نے سعادت مندی سے سر ہلایا.
مرشد کا کام باطن کی اصلاح ہے۔نفس کشی دنیا سے بے رغبتی ایک مرید مرشد کے زیر تربیت سیکھتا ہے ۔
عورت کو اسلام نے بھاری ذمہ داریوں کا بوجھ سونپا ہے۔وہ شادی کے بعد مکمل طور پر شوہر کی سپردگی میں دے دی جاتی ہے اس کے اختیارات محدود ہوتے ہیں۔اس بات کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے۔
: ”بیویوں کے متعلق اللہ تعالی کا خوف کرو کیونکہ وہ تمہارے پاس ماتحت و قیدی (کی طرح بے کس) ہیں ۔“ (سنن الترمذی : 1163)
ایک “قیدی” کے پاس اختیار ات کا کیا کام؟
“ماتحت”کی خواہشات پسند نا پسند مالک کے زیر حکم ہوتی ہیں۔اس کے موڈ اور مزاج پرمنحصر ہےجب چاہے، جہاں چاہے، اپنا اختیار استعمال کر سکتا ہے۔
ایک دیندار ،شوہر اور بچوں والی عورت تو پہلے ہی صبح سے شام تک نجانے کتنی خواہشات کی قربانیاں دیتی ہے۔اس کی خواہشات رب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اپنے شوہر اور بچوں سے پسند اور نا پسند سے جڑی ہوتی ہیں۔ایسے میں وہ اگر صرف اپنا قلبی تعلق اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے استوار کرلے وہ اس کی منازل بہت تیزی سے طے ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
تو اس کا مطلب ہے صرف “نفس کشی “ہی روحانیت کی معراج ہے وہ ماں جی کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی بولی۔
ہم “نفس کشی” کو روحانیت کی” پہلی سیڑھی” کہ سکتے ہیں۔کہا جاتا ہے “جنت دو قدم پر ہے۔پہلا قدم نفس پر رکھو دوسرا جنت میں ہوگا “
نفس کی نفی رب اور اس کی رضا کے لیے کی جائے تو روح پاکیزگی حاصل کر لیتی ہے ۔اور” نور الہی” اس میں اترنا شروع ہو جاتا ہےماں جی نے کہا۔
گویا پھر عورت کو کسی مرشد یا مربی کی ضرورت نہیں رہتی وہ جھٹ سے بولی۔
“مرشد” یا” مربی “کی ضرورت عورت کو بھی ہوتی ہے، ہمیشہ اور ہر قدم پر،فرق صرف یہ ہے کہ مرد کی نفس کشی مرشد کے زیر تربیت رہ کر ہوتی ہے اور عورت کی اپنے گھر کے اندر ۔
عورت کو مربی ، مرشد یا روحانی استاد اس کی راہنمائی، ذہنی تربیت اور روحانیت کے اسرار و رموز سکھانے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ابتدائی مراحل اسے خود ہی طے کرنے ہوتے ہیں ۔پھر ایک خاص وقت اور خاص کیفیات میں اسے اس کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ قادر مطلق اس کی اس ضرورت سے آ گاہ ہوتا ہے۔اس کے لئے اس کا انتظام کر دیا جاتا ہے۔ابتداء میں اس کاکام صرف اپنی “نیت “کو درست رکھنا اور “طلب “کو خالص رکھنا ہوتا ہے۔ماں نے سمجھانے والے انداز میں اپنی بات مکمل کی۔
نیت کی درستگی کی بھی وضاحت فرما دیں۔میں نے کہا۔
گھر کے اندر اپنے سے متعلقہ رشتوں میں جب آ زمائش آ جائے تو گلہ شکوہ اور کسی کو اس کا مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے “تسلیم و رضا” اور رجوع الی اللہ کا طریقہ اپنایا جائے۔ماں جی نے جواب دیا۔
اس کا پچھلا حصہ پڑھنے کے لئے نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔
https://www.facebook.com/104763384584903/posts/467909944936910/

Related Posts

Leave a Reply