روح کا کنٹرول ۔ (سبق نمبر  7 )

خواتین اور سلوک۔ (سبق نمبر۔21) محبت ۔

خواتین اور سلوک۔۔…(سبق نمبر۔21)
محبت ۔
یہ محبت یہ تڑپ کیسے ملتی ہے ماں جی؟
رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیار کرنے ہیں ان پر ایمان بھی لائے ہیں لیکن ان کی یاد میں رونا؟
آ قا علیہ الصلواۃ والسلام کے لیے تڑپنا یہ کیسے ہوتا ہے؟ ماں جی۔
میرے پاس بیٹھی ایک درمیانی عمر کی خاتون نے محفل کے اختتام پر دھیمے لہجے سوال کیا۔وہ یقیناً دنیا وی علوم سے آراستہ ایک سمجھدار خاتون دکھائی دے رہی تھی۔
بہت خوبصورت محفل نعت تھی جس میں آ قا علیہ الصلواۃ والسلام علیک کی خدمت میں اس والہانہ انداز میں نذرانہ عقیدت پیش کیا گیا تھا کہ کچھ خواتین کی محبت اور چاہت میں مسلسل آ نکھیں بہ رہی تھیں کچھ پر رقت کا یہ عالم تھا کہ ان کا وجود حب رسول اللہ صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم میں بلکل ایک ہوا کے جھونکے کی مانند دکھائی دے رہا تھا جسے محسوس تو کیا جاسکتا تھا لیکن اگلے لمحے لگتا تھا وہ کسی اور جہاں میں جا چکا ہے اور ہماری دسترس میں ہی نہیں ہے۔
اور کچھ سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں کہے جانے والے اشعار نعت خواں کے ساتھ ساتھ منہ ہی منہ میں جھوم جھوم کر دمکتے چہرے کے ساتھ آ نکھیں موندے یوں ادا کر رہی تھیں گویا کہ وہ آ قا علیہ الصلواۃ والسلام علیک کی بارگاہ اقدس میں کھڑی ہوں اور سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ کے سامنے اپنے نذرانے پیش کررہی ہوں ۔
اور چند نئی آ نیوالی خواتین صرف محفل میں موجود صورت حال کا جائزہ لینے میں مصروف رہیں ۔شاید ان کے لیے یہ سب اچنبھا تھا۔
مجھے سمجھ نہیں آرہا یہ سب۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام اقدس پر آنکھوں کا بھیگ جانا۔۔۔۔
محبت کے اشعار میں یوں تڑپ تڑپ جانا ۔۔۔
مجھے اچھا لگ رہا ہے لیکن میں اگر سچ بولوں تو میرا دل ان جذبوں سے بالکل خالی ہے۔۔
یہ محبت کیسے مل سکتی ہے ؟
اس خاتون نے ماں جی کے شفیق چہرے کی طرف دیکھ کر یوں امید سے کہا جیسے محبت ماں جی کے پرس میں رکھی کوئی گولی ٹافی ہے جو اکثر ہم میں سے کسی کو کو گلے میں خراش محسوس ہوتی تو وہ وہ جھٹ سے نکال کر اسے تھما دیتی۔۔
یہ محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلمہ پڑھنے کے بعد ہر مسلمان کے دل میں ڈال دی جاتی ہے۔یہ بڑی قیمتی دولت ہوتی ہے۔
“نہ یہ کتابوں سے ملے گی نہ عبادات سے”۔
ہمارے اندر یہ موجود ہوتی ہے۔ ہماری لاپرواہی اور کوتاہ عملی کی وجہ سے کہیں حجاب میں چلی جاتی ہے۔
اس کو باور کروانے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے “محبت والوں کی صحبت”۔
یہ صحبت بڑی بابرکت ہوتی ہے ۔
یہ محبت کرنے والوں کے صدقے میں آ گے بانٹی جاتی ہے۔اللہ کریم کو اپنے محبوب سے پیار کرنے والے اتنے عزیز ہوتے ہیں کہ ان کی صحبت میں آ نے والوں کو بھی وہ کریم رب محروم نہیں رکھتا۔۔
ان اہل محبت کی صحبت میں اتنی قوت ہوتی ہے کہ یہ ہمہارے دل پر پڑے ہوئے حجابات کو نہایت نرمی اور غیر محسوس طریقے سے ہٹا دیتی ہے۔۔
آقا علیہ الصلوۃ والسلام پر باقاعدہ با ادب حضور ی کی کیفیت میں درودشریف بھجنا محبت والوں کی صحبت میں بیٹھنا۔۔
یہی ایک طریقہ ہے ۔جس مقام پر سالوں حاصل کیا ہوا علم نہیں پہنچا سکتا وہ لمحوں کی صحبت ہمیں عطا کر دیتی ۔ماں جی نے نرمی سے جواب دیا۔۔
تحریر پسند آ ئے تو شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہوسکیں۔
اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں آ پ کی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے۔شکریہ گوشہء نور۔
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں ۔۔نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔شکریہ۔

خواتین اور سلوک۔ (سبق نمبر۔21) محبت ۔

Related Posts

Leave a Reply