خواتین اور سلوک۔ صبر باب نمبر۔۔31

خواتین اور سلوک۔
صبر
باب نمبر۔۔31
میں نے ساری زندگی بہت تکلیف میں گذاری ہے جی۔
ہر غلط کو صحیح کہا ہے میں نے صرف اپنے شوہر کی خاطر۔
بلکہ اگر سچ کہوں تو اپنی خاطر۔۔
اپنا گھر بچانے کی خاطر۔۔
اپنے بچوں کی خاطر کہ ان سے ان جنت نہ چھن جانے۔
میں مجرم ہوں اپنی۔
اپنے ضمیر کی۔
اپنے ایمان کی۔
اپنے رب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی۔۔
وہ ایک دراز قد سانولی رنگت والی تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔پچاس کی دھائی یقیناً کراس کر چکی تھیں ۔نانی اور دادی کا رشتہ بھی ان کی شخصیت میں ممتا کی مزید شیرنی گھولے ہوئے محسوس ہورہا تھا۔
یقیناً جب عورت ان رشتوں میں بندھ جاتی ہے تو اس کے وجود کی محبت، شفقت اور نرمی اس کی ڈھلتی عمر کو ایک نیا حسن بخشتی ہے۔
دنیا کو سمجھنے والی ایک مضبوط اعصاب عورت جو دیکھنے میں انتہائی خوش مزاج اور ہنس مکھ تھیں۔میری ان سے بہت پرانی جان پہچان تھی ۔لیکن آ ج ان کا یہ روپ میرے لئے بلکل نیا تھا۔
وہ “گوشہء نور”باقاعدگی سے پڑھتی تھیں ۔اکثر خواتین ان مضامین کو پڑھنے کے بعد اپنے ذاتی مسائل مجھ سے ڈسکس کرتی رہتی ہیں۔خاص طور پر “خواتین اور سلوک”میں اکثر خواتین کو اپنے کسی نہ کسی مسئلے کی جھلک نظر آ تی ہے تو وہ مجھ سے رابطہ کرتی ہیں۔
یہ بھی ایک ایسی ہی خاتون تھیں ۔جو بظاہر اپنی زندگی میں پوری طرح سیٹ تھیں۔کم عمری میں شادی کی وجہ سے پچاس برس میں پہنچنے تک یہ دادی نانی کے رشتوں کا مقدس تاج سر پر سجائے بظاہر بہت مطمئن نظر آ تیں۔
اسلام آباد میں دسمبر کی سردی اپنے عروج پر تھی۔ ان کے سینے میں اٹھنے والے دکھوں کا طلاطم انہیں کسی یخ بستہ شام کی ٹھنڈی ہوا کی طرح جذبے کی نرمی سے بے نیاز کر رہا تھا۔ان کا لہجہ تلخ اور کھردرا ہو رہا تھا جو یقیناً ان کے مزاج کے خلاف تھا۔ہر دم ہنستی مسکراتی عورت اندر سے کسقدر ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی مجھے یہ سب عجیب لگ رہا تھا۔
آ پ لکھتی ہیں ناں تو یہ بھی ضرور لکھیں وہ جذبات سے عاری لہجے میں مجھ سے مخاطب تھیں۔
جی آ پ کہیں میں سن رہی ہوں میں نے فرمابرداری سے جواب دیا۔
میں شاید اندر سے خوفزدہ ہو رہی تھی کہ وہ کون سا تلخ سچ مجھ سے لکھوانا چاہ رہی ہیں جس کے لئے آ ج انہیں اپنے وجود کے گرد لپٹے حجابات دور کرنے پڑ رہے ہیں ۔میں ان کا یہ نیا روپ دیکھ رہی تھی۔
میری شادی اٹھارہ برس کی عمر میں مجھ سے پندرہ برس بڑے ایک اعلیٰ گورنمنٹ آفیسر سے ہوئی تھی۔
جو عہدہ کے لحاظ سے تو ایک اعلیٰ عہدے پر فائز تھا لیکن اخلاقیات میں انتہائی گھٹیا انسان تھا۔شکل وصورت میں وہ مجھ سے زیادہ خوبصورت تھا ۔لیکن اس کا من اس کے گورے چٹے چہرے کے پیچھے چھپا ایک کالا سیاہ ناگ تھا۔جو جب چاہے جہاں چاہے ڈنک مارنے کو تیار ہو۔
جلد ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ اس شخص کے ساتھ زندگی بسر کر نا آسان کام نہیں ہے۔بات بے بات پر غصہ کرنا ،گالیاں نکالنا،گھر سے نکال دینے کی دھمکیاں دینا اس کی عادت تھی ۔مہمان ہوں یا گھر کے ملازمین ان کے سامنے گالی گلوچ اور طلاق کی دھمکیاں دینا اس کی عادت تھی۔
ہر دن میں میری عزت نفس متعدد بار کچلی جاتی ۔مجھے اس سے کوئی سوال کرنے کی اجازت نہیں تھی۔میں ایک ایسے غلام کی سی زندگی بسر کر رہی تھی جس کی تلاش میں بادشاہ وقت کے کارندے لگے ہوں ۔جو اس کو جہاں پائیں گے مار دیں گے اس کے لئے زندہ رہنے کی ایک ہی صورت ہو اور وہ اس کا آقا۔۔
ایسا آقا جو اس کو روٹی اور تحفظ تو دے رہا ہے لیکن اب اسے اس کی پوری طرح غلامی کرنی ہے۔
اس کے لئے حق سچ،گناہ ثواب سب بے معنی ہیں جو اس آقا نے کہ دیا اس نے کرنا ہے ۔
اب میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو زندگی پر بہت غصہ آ تا ہے ۔
میں نے یہ سب کیوں کیا؟
کیوں میں نے اتنی مجبور اور لاچار زندگی گزاری ان کے لہجے میں تلخی تھی۔
آپ کے والدین حیات تھے ؟وہ لمحہ بھر کو رکیں تو میں نے سوال کیا۔
جی بلکل تھے نہیں اب بھی حیات ہیں۔لیکن ہمارے معاشرے میں شادی کے وقت بیٹی کو یہی نصیحت کی جاتی ہے کہ جیسے بھی گزارہ کر و یہ تمھارا مسئلہ ہے لیکن لوٹ کر واپس نہ آنا۔طلاق کا لفظ ہی ممنوع ہوتا ہے ۔اس لئے میں ہر دکھ ،غم ،زیادتی صرف ایک لفظ کے خوف سے برداشت کی۔
میرے اس خوف سے میرے شوہر نے بھر پور فائدہ اٹھایا۔
گویا یہ طلاق لفظ ایک ریموٹ کنٹرول تھا جو اس کے ہاتھ میں تھا۔اسے وہ جب جیسے چاہتا استعمال کرتا۔
شادی شدہ زندگی کے تقریباً پچیس برس یوں گزرے کہ ایک تلوار میرے سر پر مسلسل لٹک رہی ہوتی ۔دل میں ہر وقت ایک خوف ہوتا ،مہمان ہوں یا گھر کے ملازمین میں ہر وقت اپنے شوہر کی چیخ وپکار ،ناراضگی اور گھر سے نکال دیئے جانے کے خوف میں مبتلا رہتی۔ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے وہ معمولی سی بات پر ناراض ہو جاتا اور کئی کئی دن مجھ سے سیدھے منہ بات تک نہ کرتا۔
میرے بچے جوان ہوگئے بیٹا بھی برسر روزگار ہو گیا ۔اب بیٹی بھی شادی کی عمر میں پہنچ گئی تھی ۔ایک دن کسی بات پر مشتعل ہو کر میرا شوہر معمول کے مطابق چیخ نے رہا تھا۔اور حسب عادت مجھے طلاق کی دھمکی دی۔میں نے اپنے جوان بیٹے کا متغیر چہرہ دیکھا اور اس روز مجھ میں نجانے کہاں سے ہمت آگئی اور میں نے بے ساختہ کہ دیا ٹھیک ہے دے دیں مجھے طلاق۔
میرے اس غیر متوقع جواب پر میرے شوہر ٹھٹھک گئے۔ان کا غصہ یکدم رفو چکر ہوگیا ۔ایک نظر جوان بیٹے کو دیکھا ۔پھر بیٹی کے چہرے پر نظر ڈالی اور چپ ہو گئے۔
وہ دن اور آج کا دن پھر کبھی مجھے طلاق کی دھمکی نہیں دی انہوں نے۔
اب ان کا رویہ بدل گیا۔
آ پ لکھتی ہیں ناں آپ میری کہانی بھی لکھیں وہ مجھے سوچوں میں ڈوبا دیکھ کر پھر سے مجھ سے مخاطب تھی۔
میرا خیال ہے کہ آ پ میں یہ جرآت صرف اپنے جوان برسرِ روزگار بیٹے کی وجہ سے آ ئی۔آپ کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اب آپ کے پاس پناہ گاہ ہے۔اس سے پہلے آپ یقیناً ایسا نہیں کر سکتی تھیں۔چلیں اچھا ہے آپ نے صبر کرکے زندگی گزاری میں نے ان کی بات سن کر کہا۔
صبر؟
وہ تلخ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولی ۔
میں تو اس وقت صبر کے مفہوم سے بھی نا آشنا تھی بلکہ سچ پو چھو تو مذہب سے بھی کوسوں دور۔
کاش میں اس وقت اللہ کریم کے احکامات جانتی ہوتی ،سمجھتی ہوتی تو شاید میں اتنے کرب اور ذہنی اذیت کا شکار نہ ہوتی ۔اگر صبر اللہ کے لئے کیا جائے تو اس کا یقیناً بہت اجر ہے اور وہ قرب خداوندی کا باعث ہے۔میں تو سب کچھ مصلحتاً برداشت کر رہی تھی۔اور شاید میری یہی برداشت آ ہ بن کر میرے شوہر کو لگ گئی وہ اب ویل چئیر پر ہیں۔اپاہج اور بے بس۔
حرکت کرنے کے لئے بھی میرے محتاج۔
میں دل کو ٹٹولوں تو ان کے لئے کہیں بھی محبت نہیں ہے۔میں نے اپنے آرام کی غرض سے ان سے اپنا بیڈ روم الگ کر لیا ہے۔اب وہ چیختا چنگھاڑتا شخص اپنی ضرورت کی بات بھی صحیح طور پر بول کر ادا نہیں کر سکتا۔
ظلم کرنے والا اپنے انجام کو ضرور پہنچتا ہے۔وہ جذبات سے عاری آواز میں بولیں۔
آپ کے خیال میں آپ سے غلطی کہاں ہوئی؟میں نے پوچھا۔
میرے خیال میں ایک شادی شدہ عورت کو صبر اور برداشت کا فوق ضرور معلوم ہونا چاہیے۔اسے یہ یقین ہونا چاہیے کہ رازق صرف اللہ کی ذات ہے ۔اس نے پیدا کیا،اسی نے رزق دینا ہے اور وہی سب کا سہارا ہے۔کیا مرد کیا عورت سب اس کے محتاج ہیں۔اگر اللہ پر یقین کامل ہو جائے تو کوئی عورت بھی بلیک میل نہ ہو۔
ظلم کرنے والا مظلوم کو بے سہارا اور مظلوم جان کر ظلم میں مزید سر کش ہو جاتا ہے۔
اگر ابتدائی زندگی میں ہی عورت بے جا ظلم وزیادتی برداشت نہ کرے تو شوہر بھی یقیناً اپنا رویہ بدل لے۔بس میرا یہی پیغام ہے کہ رازق صرف اللہ کی ذات ہے ۔اس بات پر ہمارا کامل یقین ہونا چاہیے۔۔
میں نے دنیا کے ڈر سے ساری زندگی اپنے شوہر کی ہر ناجائز بات پر سر تسلیم خم کیا۔آپ سوچ نہیں سکتی میرے ضمیر پر کتنا بوجھ ہے ہے اس بات کا کہ میں نے صرف طلاق کے ڈر سے ساری زندگی نائز کو جائز کہا میرے اندر اب میرا ضمیر کچوکے لگاتا ہے کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟
اگر ایک بار میں نے یہ ڈر سےارا تو اس کے بعد سے میری زندگی سے ہر خوف ہی نکل گیا۔زندگی میں سچ جھوٹ صیحیح غلط کا فیصلہ اب میں اپنے ضمیر پر کرتی ہوں ۔
میں سوچتی ہوں اس وقت اگر میں مذہب سے آشنا ہوتی اور اپنے تو اپنے اوپر ہونے والے ظلم وزیادتی پر صبر کرتی تو یقیناً اللہ کا قرب پاتی۔اور اللہ میرے صبر پر میرا ساتھ دیتا مجھے سکون قلب میسر ہوتا۔میں نے دنیا کے ڈر سے سب سہا برداشت کیا اور ساری زندگی کانٹوں پر گذاری۔
بے چین۔۔
بے قرار۔
ہاں صبر بہت اعلیٰ چیز ہے۔صبر صرف اللہ کے لیے ہو، اور اللہ بھی صبر والوں کے ساتھ ہے۔وہ اپنی بات مکمل کرکے خاموش ہو گئیں۔
تحریرپسند آ ئے تو شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آگاہ ہو سکیں۔
اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں۔آپ کی رائے ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔شکریہ۔(گوشہءنور)

Related Posts

Leave a Reply