خواتین اور سلوک ۔ (پارٹ6)

خواتین اور سلوک۔..(پارٹ 18)

گوشہِ ءنور کے سالکین۔۔۔۔سبق نمبر۔36
خواتین اور سلوک۔..(پارٹ 18)
عشق میں دوئی
وہ یقیناً اب بول کر تھک گئیں تھی ۔اپنے سارے دکھ اپنی ساری پریشانیاں انہوں نے ماں جی کے شفقت بھرے دامن میں ڈال دیں تھیں۔اب دکھنے میں وہ ہلکی پھلکی اور کسی بہار کی کسی خوشگوار شام کی طرح بھلی معلوم ہو رہیں تھیں۔اتنی خوبصورت خاتون کو میں نے اتنا دکھی اتنا لہولہان اور شکستہ میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
بھابھی اللہ تو بہت کریم ہے ۔وہ تو سمیع علیم ہے۔پھر میری دعائیں کیوں نہیں سنتا؟
میں تھک گئیں ہوں دعائیں کر کر کے لیکن اس میں ذرہ برابر بہتری نہیں آئی بلکہ الٹا پہلے سے زیادہ اذیت دیتا ہے مجھ کو۔۔
بھابھی آ پ شاید سمجھ نہیں سکتیں اولاد کی طرف سے ملنے والی اذیت کا درد بڑا شدید ہوتا ہے۔
بتائیں ناں بھابھی؟؟؟
کیا میں غلط کہ رہی ہوں ؟؟
اب وہ تھوڑی جھنجھناہٹ کا شکار لگ رہی تھیں۔
جتنی دعائیں جتنے وظائف میں کر سکتی تھی میں نے کئے ہیں۔۔۔
صرف اور صرف اس کے سدھار کے لیے میں نے حرمین شریفین میں حاضری بھی دی ہے۔
حاجت کے نوافل ۔۔۔
بزرگوں سے دعائیں۔۔
صدقہ خیرات۔۔
غرض جو جو کچھ میں کر سکتی تھی میں نے کیااپنی مراد بر آ نے کے لئے لیکن نتیجہ صفر۔۔
صفر بھی نہیں بھابھی ۔۔۔
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دعا کی۔۔
میرے ساتھ تو یہ معاملہ ہے۔اب تو صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ میں بلکل مایوس ہو چکی ہوں وہ کبھی سدھر سکے یہ تو ممکن نہیں میری بیقراری جب حد سے بڑھی تو میں نے اپنے رب سے دعا کرنی شروع کی کہ اے میرے رب اگر یہ سدھر نہیں سکتا تو مجھے اس سے بے نیاز کردے۔۔۔
پھر خدا نے میری یہ دعا سن لی میں اس سے کسی حد تک بے نیاز ہوگئی۔۔
وہ میری اکلوتی اولاد ہے۔۔
منتوں مرادوں کی اولاد۔۔
میں نے اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا ۔اس سے جس حد تک دور ہو سکتی تھی دوری اختیار کی۔۔۔
اس کی ہر برائی سے چشم پوشی اختیار کی۔۔
اس سے متعلق آ نے والے ہر خیال کو میں جھٹک دیتی۔۔
اپنے آ پ کو اللہ کی یا د میں اور اس کے کاموں میں مزید گم کر لیا ۔۔
,لیکن یہ سب کرنے کے باوجود بھی مجھے سکون نہیں ہے ۔
میری بے قراری ہر ہر لمحے برھتی جا رہی ہے۔
یوں لگتا ہے جیسے میرے دل میں میرے جگر میں بلکہ یوں کہو کہ میرے پورے وجود میں کوئی چاقو سے کٹ لگا رہا ہے ان سے ہر وقت خون رستا رہتا ہے اور جو نہی میری اولاد میرا دل میرا نور چشم میرے سامنے آتا ہے رستے ہوئے زخموں پر کوئی نمک کی چٹکی پھر کر پھینک دیتا ہے۔۔
اس جلن کو شاید کوئی بھی محسوس نہ کر سکے۔۔
اس بے بسی کی جنگ میں اس کرب میں اور میرے دکھوں میں ہر روز اضافہ ہی ہو رہا ہے۔۔۔
کمی نہیں۔۔۔
میں اب بے بس ہو گئی ہوں۔۔
بھابھی میں زندہ ہوں دنیا کی ہر نعمت میرے پاس ہے۔
رب کی عبادت بھی کرتی ہوں ۔۔
رب سے میرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کے دین سے میری محبت آ پ جانتی ہی ہیں۔۔
میں نے اپنی ساری زندگی اسی محبت میں گزاری۔۔
اسی رستے پر چلی ہوں۔۔
نہ صرف خود چلی ہوں بلکہ اس دین کی خدمت کے لیے خو د کو وقف کئے رکھا ساری جوانی اللہ کی محبت میں گزاری ہے میں نے بھابھی ۔۔
آ پ تو جانتی ہیں سب۔۔
پھر میرا ہی وجود میرے لیے ناسور بن گیا ہے بھابھی۔۔
اب میری ہمت دم توڑ گئی ہے۔
یہ ایسا دکھ ہے ایسا زخم ہے جو میں نہ کسی کو کہہ سکتی ہوں اور اور نہ ہی میرا رب میری یہ دعا سنتا ہے۔
میں لوگوں کے مسائل حل کرتی تھی انہیں مشورے دیتی تھی انہیں ہمت اور حوصلے کا صبر کا درس دیتی تھی۔۔
آج میں خالی ہاتھ تہی دامن ایک ہارے ہوئے شکست خوردہ حکمران کی طرح اپنے مد مقابل کے سامنے بے بس کھڑی ہوں جس کی بہادری عقلمندی اور بہترین حکمرانی کے چرچے ہر طرف ہو ں۔
جنگی امور کا بھی ماہر ہوں لیکن اپنی ہی اولاد کے چلائے ہوئے تیر سے زخمی ہوکر شکست کھا جائے۔
ہر آنے والا دن میری حالت میں ابتری پیدا کر رہا ہے۔۔
یہ ایسا دکھ ہے جو میں کسی کے سامنے بھی بیان نہیں کر سکتی اس دکھ کی کیفیت کو شاید اپنے آپ سے بھی نہیں کہہ پاتی ۔۔
لیکن اب میری بس ہوگئی ہے ۔
میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا ہے یہ کس جرم کی سزا ہے جو ختم ہونے کو نہیں آ رہی۔۔۔
کیا کوئی اپنے سے پیار کرنے والوں کو یوں بھی آزماتا ہے بھابھی ۔۔۔
میں نے تو ساری زندگی اپنی محبت اپنا پیار اور اپنے دل کی ہر چاہت صرف اللہ کے لیے وقف کر رکھی۔۔
بڑے پیار اور خلوص سے اس قادر مطلق کی عبادت میں نے اپنی ساری جوانی گزاری اس کے دین کے کام بھاگ بھاگ کر کیے ۔۔۔
پھر مجھے ہی اتنے سخت طریقے سے کیوں آزمایا گیا ہے۔
بلکہ ہر آنے والا دن اس اس کو بڑھا رہا ہے ۔۔
یہ کہتے ہوئے اس کی آواز آنسوؤں میں رندھ گئی۔۔
ماں جی نے بڑھ کر اسے گلے لگایا اس کے آنسو صاف کیے اور قریب کھڑا پانی کا گلاس اسے تھما دیا۔۔
سمیرا (ان خاتون کا نام ) میری بات دھیان سے سنو ۔چند لمحے بعد کمرے میں پھیلی ہوئی بوجھل خاموشی کو ماں جی کی آ واز نے توڑا۔
جب حالات آپ کے موافق ہو ں مال و دولت صحت اللہ کی دی ہوئی ساری نعمتیں آ پ کے پاس موجود ہوں تو تو رب کی عبادت کرنا بڑی بات ہے ۔۔
لیکن مشکل نہیں۔۔۔
آسان ہے ۔۔
جب کہ اللہ کو پانا اس کا وہ قرب جس کی ایک عشق کرنے والا تمنا کرتا ہے اس قرب کو پانا ممکن نہیں۔۔
جب کوئی اس راہ کا متلاشی کسی صوفی کے پاس جاتا ہے تو وہ اسے مختلف طریقوں سے زیر تربیت رکھتے ہیں ۔۔۔
اس کے من کو ہر محبت سے خالی کیا جاتا ہے۔
وہ انتہائی گہرے انداز میں بات کر رہی تھی۔
جب کوئی فاتح بادشاہ اپنی فتح کی ہوئی سلطنت میں داخل ہوتا ہے تو سب سے پہلے وہاں کے حکمران کے محل پر قبضہ کیا جاتا ہے ۔۔
محل کی تمام انتظامیہ بادشاہ کی وفادار ہونی بے حد ضروری ہوتی ہے ۔ اگر وہ کہیں اپنی وفاداری اور اطاعت میں شک دیکھتا ہے یا دوئی دیکھتا ہے تو اسے سزا دی جاتی ہے ۔۔
اسے تحس نحس کر دیا جاتا ہے۔
بالکل اسی طرح جب کوئی اللہ کی وفاداری کا دعوے دار ہوتا ہے اپنے آپ کو دل و جان سے اللہ اور اس کے رسول کا وفادار ہونے کا اعلان کر دیتا ہے تو پھر اس کے وجود میں کہیں بھی غیر اللہ کی گنجائش نہیں رہتی۔۔
محبت میں دوئی کا تصور قطعی طور پر قبول نہیں ہوتا .
مرد یہ تمام راستے مرشد کے زیر تربیت رہ کر طے کرتا ہے۔۔
اس کے برعکس عورت نے یہ ساری منازل اپنی ہی سلطنت میں اپنی تمام ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے طے کرنی ہوتی ہیں ۔۔
وہ عام طور پر ان قریبی رشتوں سے آزمائی جاتی ہے ۔
کبھی یہ آزمائش شو ہر کی طرف سے ہوتی ہے اور کبھی اس کے اپنے وجود کا ٹکڑا اس کی اپنی اولاد اس کے آگے آن کھڑی ہوتی ہے ۔۔۔
میرا خیال ہے سمیرا تمہیں میری بات سمجھ میں آ رہی ہوگی ۔ماں جی نے اپنا جملہ نرمی سے مکمل کیا۔۔
پھراس خاتون کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے نرمی سے بولیں۔۔
وہ مالک ہے جیسے چاہے آ زما لے۔
بھابھی میری تو سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ۔۔
شاید میری تربیت میں کوئی کمی رہ گئی ہے یا میں کسی کی نظر میں آ گئی ہو ں جو مجھ سے اولاد کی خوشیاں چھین لی گئیں ہیں ۔
اس خاتون کا لہجہ اب قدرے کھردرا ہو گیا تھا۔۔۔
ایک طرف تو تم اپنے رب سے محبت کی دعویدار ہو ۔
سارا دن اس کے دین کی خدمت کے لئے بھاگی بھاگی پھرتی ہوں۔۔
اپنے آپ کو اللہ کے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کاموں کے لئے وقف کئے ہوئے ہو ۔
لیکن خوشیاں ان کے علاوہ کہیں اور ڈھونڈتی ہو ؟؟
سمیرا عشق کے معاملے بڑے نازک ہوتے ہیں عشق میں میں زبان کا اظہار نہیں کیا جاتا بلکہ عشق میں آپ کا پورا وجود خود ہی اظہار ہوتا ہے۔۔۔۔
عاشق اپنے عشق کا کسی کو یقین دلاتا ہے اور نہ ہی ہیں اپنی ہستی کا ۔۔۔
جب آپ کی اپنی ہستی ہی مٹ جائے۔۔۔
وجود ہی نہ رہے ۔۔
تو پھر خوشی آپ کی کیسے ہو سکتی ہے ؟؟
پھر تو خوشی معشوق کی ہوتی ہے۔۔
ماں جی نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں اس خاتون کی روئی روئی خوبصورت آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔
کیا یہ عشق میں دوئی نہیں ہے ؟
اور عشق میں دوئی کا انجام کیا ہے ؟
عشق کا دعویٰ کرنے والا جب اپنے عشق میں یکتا نہیں ہوتا تو معلوم ہے انجام کیا ہوتا ہے؟
اب ماں جی مجھے بالکل بدلی بدلی لگ رہی تھیں۔ ہمیشہ کی طرح شفیق اور مسکراتے ہوئے چہرے پر آج ایک نیا نیا رنگ میں دیکھ رہی تھی۔۔
ایسا رنگ جس کا نام میں نہیں جانتی تھی۔
لیکن اس رنگ کے اثر سے ساری فضا بلکل بدل گئی تھی ۔۔۔۔۔
خواتین اور سلوک کے بقایا اسباق پڑھنے کے لئے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
https://www.facebook.com/104763384584903/posts/268507948210445/

Related Posts

Leave a Reply