خواتین اور سلوک ۔ (پارٹ ۔ 10)

خواتین اور سلوک۔ پارٹ17 (ماں اور خدا ) کا دوسرا پارٹ

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔
“ماں اور خدا “کا دوسرا پارٹ پوسٹ کرنے میں کافی تاخیر ہو گئی تھی۔ گوشہء نور کے ساتھیوں کی خواہش پر یہ دونوں پارٹ اکٹھے پوسٹ کئے جا رہے ہیں ۔تاکہ وہ تشنگی جو ایک قاری کو بات مکمل نہ ہونے کی وجہ سے اٹھانی پڑتی ہے اس سے بچا جا سکے۔۔
آ پ کی رائے اور خواہش کا احترام ہمارے لئے باعث مسرت ہے۔
گوشہ ءنور کے تمام پڑھنے والوں کےلئے دل کی گہرائیوں سے بہت سی دعائیں۔۔۔شکریہ۔۔
گوشہِ نور کے سالکین۔۔۔سبق نمبر 35
خواتین اور سلوک۔۔ پارٹ17
ماں اور خدا۔۔۔
مجھے اپنے بیٹے سے شدید نفرت ھے ہے ۔
بےحد نفرت۔۔
میں اس عجیب و غریب جنگ میں میں بری طرح لہو لہان ہو چکی ہوں۔۔
ایک طرف میری ممتا ہے ۔
اور دوسری طرف میرا دشمن۔
میری جان کا دشمن۔۔۔
میری خوشیوں کا قاتل۔۔۔۔
میری خواہشات کا قاتل۔۔۔
میرے من کی بستی کو اجاڑنے والا ایک خونخوار درندہ۔۔۔
ایک بے دین نفس پرست انسان۔۔۔
جسے اپنی ذات اور اپنی خواہشات کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا ۔۔۔
وہ بری طرح رو رہی تھی ۔
میرے سامنے ایک بڑی وضع دار اور دیندار خاتون بیٹھی ہوئی تھی۔ جو یقینا کسی اعلیٰ خاندانی پس منظر کی حامل تھی ۔
ان کی شخصیت کا رعب و دبدبہ دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ اتنی بے بس ہو سکتی ہیں۔
ان کی شخصیت میں مہر انیوں والا انداز اور ملکائوں جیسا تحکم موجود تھا۔۔۔
ان کے چہرے پر عبادت کا نور تھا ۔ان کے وجود میں ایسی شفقت تھی کے جی چاہے ہے ان کے پہلو تھوزی سی دیر ہمیں بھی بیٹھنے کی اجازت مل جائے۔۔
ان کی خدمت کرکے تھوڑی سی شفقت ہم بھی سمیٹ لیں ۔۔۔
وہ بڑی عمر کی خاتون تھیں۔ ماں جی کو بھابھی کہہ کر مخاطب کر رہی تھی شاید ماضی کی کوئی پرانی سہیلی تھی جا کوئی دور پار کی رشتہ دار۔۔۔
میں کمرے کے ایک کونے میں بیٹھے ے اپنی کاپی پر اپنے نوٹس لکھ رہی تھی ۔بظاہر میں کمرے کے ماحول سے پوری طرح بے نیاز تھی ۔ لیکن اس عورت کی موجودگی یقیناً پورے کمرے کا احاطہ کئے ہوئے تھی۔
قیمتی پرفیوم کی خوشبو اس کے مہنگے لباس سے اٹھ رہی تھی۔ جس نے ماں جی کے کمرے کی اپنی مخصوص خوشبو کو دبا دیا تھا ۔۔
وہ دراز قد خوبصورت شخصیت کی حامل ایک مضبوط عورت تھی۔۔
وہ یقیناً کسی بڑے خاندان کی بیٹی تھیں ۔جس کی کسی امیر زادے سے شادی ہوئی اور اس نے ساری زندگی وفادار شوہر کے ساتھ اپنی راجدھانی میں راج کرتے گزار ی ۔وہ خود بھی نیک فطرت اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت کرنے والی تھیں۔
وسیع پیمانے پر مذہبی تقریبات منعقد کرنا دینی محافل کا اہتمام اور صدقہ خیرات یقیناً اسے اپنے بزرگوں سے ورثے میں ملا تھا۔ مال ودولت کی فراوانی کے ساتھ ساتھ اگر مذہب کی بالا دستی بھی آ پ کی ذندگی میں ہو تو ذندگی کی نعمتو ں کی آ پ صحیح معنوں میں قدر کرنا سیکھ جاتے ہو۔
جہاں اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی شکر گذاری ہو وہاں نعمتوں کی فراوانی یقیناً بڑھتی چلی جاتی ہے۔۔
(ان کے خاندانی پس منظر کا اندازہ مجھے ان کی ماں جی سے ہونے والی گفتگو سے ہوا۔)
ایسی بارعب اور تمکنت والی عورت کو میں نے یو ں بلکتے ہوئے تڑپتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔
ہاں سنا ضرور تھا کہ جس عورت کو کوئی نہ پچھاڑ سکے اسے اس کی اولاد نیست و نابود کر سکتی ہے۔
میرا قلم چلتے چلتے رک سا گیا میں نگاہ اٹھائے بغیر پوری طرح اس عورت کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی حالت دیکھ کر ماں جی نے بڑی اپنائیت سے اسے اپنے گلے لگا لیا۔۔
وہ بڑی نرمی سے ان کی پشت پر دلاسے سے ہاتھ پھر رہی تھی۔وہ خاتون بہت جلد اپنے آپ پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئیں۔ انہوں نے اپنے مہنگےپرس سے ٹشو پیپر نکالا سلیقے سے اپنی کاجل لگی آنکھوں کا بہتا ہوا پانی صاف کیا ۔۔۔
گورے چٹے سفید چہرے پر ان کی چھوٹی سی سرخ ناک بڑی بھلی معلوم ہو رہی تھی۔ اب وہ قدرے سنبھل چکی تھیں۔
اپنے جذبات کو قابو میں لانے کے بعد انہوں نے قریب پڑا پانی کا گلاس اٹھایا اور بڑے ٹھہرے ہوئے انداز میں پانی پیا ۔
پھر گلاس کو واپس میز پر رکھ کر بولی ۔
بھابھی معذرت خواہ ہوں ہو کچھ آپے سے باہر ہوگئی تھی ۔شاید مجھے یہ سب زبان پر نہیں لانا چاہیے تھا ۔اس کے لہجے سے ہلکا سا تاسف چھلک رہا تھا۔
ماں جی اس کی بات سن کر خاموش پیار بھری نگاہیں اس کے چہرے پر جمائے یوں خاموشی ہمہ تن گوش تھیں جیسے وہ انہیں موقع دے رہی ہوں کہ بولے چلے جاؤ میں آ ج تمھارے سارے دکھ اپنی محبت کی آ غوش میں چھپا لوں گی ۔ماں جی میں یہ وصف مجھے بھی بہت پیارا لگتا تھا وہ دوسروں کو دکھی دیکھ کر یوں اپنا دامن وا کر دیتی تھیں اور اس اپنائیت سے اسےاپنا وقت دیتیں اور اتنے تحمل سے سنتیں کہ سامنے والا اپنا سارا غبار بے جھجھک نکال کر ہلکا پھلکا ہو جاتا ۔
میں نے سنا تھا خدا کو پانا ہے تو اس کی مخلوق سے پیار کرو۔۔
مخلوق کی خدمت کرو۔۔
لیکن اس سے اعلیٰ خدمت کیا ہو سکتی ہے کہ آ پ کسی کو سن لیں ۔۔
آ پ کے پاس آ کر کوئی آ پ کو اپنا غم سنانے میں جھجھک محسوس نہ کرے۔۔
میرے آ قا علیہ صلواۃ واسلام کا وہ واقعہ جب ایک دیوانی عورت آ پ کے پاس آ کر اپنا غم سناتی ہے اور آ پ سنتے جاتے ہیں مسلسل کھڑے گرمی میں اپنا قیمتی وقت اس دیوانی کی باتیں سننے میں صرف کر رہے ہوتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دیکھ کر پریشان ہوجاتے ہیں ۔
یہ وصف ماں جی میں بدرجہ اتم موجود تھا۔ وہ آ قا علیہ الصلوات واسلام کی ہر سنت کی پیروی میں سرگرداں نظر آ تیں تھیں ۔ کوئی اپنا غم انہیں سنانا چاہتا وہ اپنی تمام مصروفیات پس پشت ڈال کر آ نے والی حاجت مند کے دکھ اتنے غورسے سنتیں کہ سنانے والے کے تشفی ہو جاتی۔
ان کی میٹھی مسکراہٹ دکھی دلوں کے غموں پر یوں ابر رحمت بن کر برستی کہ مجھے یہ دیکھ کر آ قا علیہ الصلواۃ و السلام کی وہ حدیث یاد آ جاتی جس میں آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ۔۔۔
مسلمان کا اپنے بھائی کی طرف دیکھ کر مسکرا دینا بھی ایک صدقہ ہے۔
آج نفسا نفسی کا دور ہے ۔جس میں ہر چہرہ آ پ کو اپنے مسائل میں الجھا ہوا دکھائی دیتا ہے ۔رویوں کی اس کڑی دھوپ میں ایک نرم خو مسکراہٹ اور کسی کی شفقت آمیز نگاہیں گرم دوپہر میں ایک گہرے بادل کی سی ٹھنڈک کا سماں پیش کرتی ہیں۔
کیا اللہ تعالیٰ اتنا بے نیاز ہو سکتا ہے؟؟
وہ تو ہم سے ستر ماؤں سے بڑھ کر پیار کرتا ہے ۔
پھر وہ خدا جو اپنے اور بندے کے تعلق کو بیان کرنے کے لئے ماں اور اولاد کے تعلق کی مثال دے رہا ہے پھر وہ خدا ایک ماں سے ہی کیونکر بے نیاز ہو سکتا ہے۔
پھر کیوں نہیں سنتا ؟؟
وہ اب قدرے سنبھل چکی تھیں۔ اور بڑے ٹھہرے ہوئے انداز میں ماں جی سے مخاطب ہوئیں۔
ماں جی نے جواب دینے کی بجائے خاموشی سے اس کے ہاتھ کو پیار سے سہلایا اور یوں اس کے چہرے کی جانب تکنے لگیں جیسے اسے کہہ رہی ہو ں آج جو بولنا ہے جو کہنا ہے کہ ڈالو۔۔
اپنے من کا سارا غبار آ ج نکال باہر کرو ۔۔۔(جاری ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
(حصہ دوم)
خواتین اور سلوک۔
عشق میں دوئی
وہ یقیناً اب بول کر تھک گئیں تھی ۔اپنے سارے دکھ اپنی ساری پریشانیاں انہوں نے ماں جی کے شفقت بھرے دامن میں ڈال دیں تھیں۔اب دکھنے میں وہ ہلکی پھلکی اور کسی بہار کی کسی خوشگوار شام کی طرح بھلی معلوم ہو رہیں تھیں۔اتنی خوبصورت خاتون کو میں نے اتنا دکھی اتنا لہولہان اور شکستہ میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
بھابھی اللہ تو بہت کریم ہے ۔وہ تو سمیع علیم ہے۔پھر میری دعائیں کیوں نہیں سنتا؟
میں تھک گئیں ہوں دعائیں کر کر کے لیکن اس میں ذرہ برابر بہتری نہیں آئی بلکہ الٹا پہلے سے زیادہ اذیت دیتا ہے مجھ کو۔۔
بھابھی آ پ شاید سمجھ نہیں سکتیں اولاد کی طرف سے ملنے والی اذیت کا درد بڑا شدید ہوتا ہے۔
بتائیں ناں بھابھی؟؟؟
کیا میں غلط کہ رہی ہوں ؟؟
اب وہ تھوڑی جھنجھناہٹ کا شکار لگ رہی تھیں۔
جتنی دعائیں جتنے وظائف میں کر سکتی تھی میں نے کئے ہیں۔۔۔
صرف اور صرف اس کے سدھار کے لیے میں نے حرمین شریفین میں حاضری بھی دی ہے۔
حاجت کے نوافل ۔۔۔
بزرگوں سے دعائیں۔۔
صدقہ خیرات۔۔
غرض جو جو کچھ میں کر سکتی تھی میں نے کیااپنی مراد بر آ نے کے لئے لیکن نتیجہ صفر۔۔
صفر بھی نہیں بھابھی ۔۔۔
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دعا کی۔۔
میرے ساتھ تو یہ معاملہ ہے۔اب تو صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ میں بلکل مایوس ہو چکی ہوں وہ کبھی سدھر سکے یہ تو ممکن نہیں میری بیقراری جب حد سے بڑھی تو میں نے اپنے رب سے دعا کرنی شروع کی کہ اے میرے رب اگر یہ سدھر نہیں سکتا تو مجھے اس سے بے نیاز کردے۔۔۔
پھر خدا نے میری یہ دعا سن لی میں اس سے کسی حد تک بے نیاز ہوگئی۔۔
وہ میری اکلوتی اولاد ہے۔۔
منتوں مرادوں کی اولاد۔۔
میں نے اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا ۔اس سے جس حد تک دور ہو سکتی تھی دوری اختیار کی۔۔۔
اس کی ہر برائی سے چشم پوشی اختیار کی۔۔
اس سے متعلق آ نے والے ہر خیال کو میں جھٹک دیتی۔۔
اپنے آ پ کو اللہ کی یا د میں اور اس کے کاموں میں مزید گم کر لیا ۔۔
,لیکن یہ سب کرنے کے باوجود بھی مجھے سکون نہیں ہے ۔
میری بے قراری ہر ہر لمحے برھتی جا رہی ہے۔
یوں لگتا ہے جیسے میرے دل میں میرے جگر میں بلکہ یوں کہو کہ میرے پورے وجود میں کوئی چاقو سے کٹ لگا رہا ہے ان سے ہر وقت خون رستا رہتا ہے اور جو نہی میری اولاد میرا دل میرا نور چشم میرے سامنے آتا ہے رستے ہوئے زخموں پر کوئی نمک کی چٹکی پھر کر پھینک دیتا ہے۔۔
اس جلن کو شاید کوئی بھی محسوس نہ کر سکے۔۔
اس بے بسی کی جنگ میں اس کرب میں اور میرے دکھوں میں ہر روز اضافہ ہی ہو رہا ہے۔۔۔
کمی نہیں۔۔۔
میں اب بے بس ہو گئی ہوں۔۔
بھابھی میں زندہ ہوں دنیا کی ہر نعمت میرے پاس ہے۔
رب کی عبادت بھی کرتی ہوں ۔۔
رب سے میرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کے دین سے میری محبت آ پ جانتی ہی ہیں۔۔
میں نے اپنی ساری زندگی اسی محبت میں گزاری۔۔
اسی رستے پر چلی ہوں۔۔
نہ صرف خود چلی ہوں بلکہ اس دین کی خدمت کے لیے خو د کو وقف کئے رکھا ساری جوانی اللہ کی محبت میں گزاری ہے میں نے بھابھی ۔۔
آ پ تو جانتی ہیں سب۔۔
پھر میرا ہی وجود میرے لیے ناسور بن گیا ہے بھابھی۔۔
اب میری ہمت دم توڑ گئی ہے۔
یہ ایسا دکھ ہے ایسا زخم ہے جو میں نہ کسی کو کہہ سکتی ہوں اور اور نہ ہی میرا رب میری یہ دعا سنتا ہے۔
میں لوگوں کے مسائل حل کرتی تھی انہیں مشورے دیتی تھی انہیں ہمت اور حوصلے کا صبر کا درس دیتی تھی۔۔
آج میں خالی ہاتھ تہی دامن ایک ہارے ہوئے شکست خوردہ حکمران کی طرح اپنے مد مقابل کے سامنے بے بس کھڑی ہوں جس کی بہادری عقلمندی اور بہترین حکمرانی کے چرچے ہر طرف ہو ں
جنگی امور کا بھی ماہر ہوں لیکن اپنی ہی اولاد کے چلائے ہوئے تیر سے زخمی ہوکر شکست کھا جائے۔
ہر آنے والا دن میری حالت میں ابتری پیدا کر رہا ہے۔۔
یہ ایسا دکھ ہے جو میں کسی کے سامنے بھی بیان نہیں کر سکتی اس دکھ کی کیفیت کو شاید اپنے آپ سے بھی نہیں کہہ پاتی ۔۔
لیکن اب میری بس ہوگئی ہے ۔
میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا ہے یہ کس جرم کی سزا ہے جو ختم ہونے کو نہیں آ رہی۔۔۔
کیا یا کوئی کوئی اپنے سے پیار کرنے والوں کو یوں بھی آزماتا ہے بھابھی ۔۔۔
میں نے تو ساری زندگی اپنی محبت اپنا پیار اور اپنے دل کی ہر چاہت صرف اللہ کے لیے وقف کر رکھی۔۔
بڑے پیار اور خلوص سے اس قادر مطلق کی عبادت میں نے اپنی ساری جوانی گزاری اس کے دین کے کام بھاگ بھاگ کر کیے ۔۔۔
پھر مجھے ہی اتنے سخت طریقے سے کیوں آزمایا گیا ہے۔
بلکہ ہر آنے والا دن اس اس کو بڑھا رہا ہے ۔۔
یہ کہتے ہوئے اس کی آواز آنسوؤں میں رندھ گئی۔۔
ماں جی نے بڑھ کر اسے گلے لگایا اس کے آنسو صاف کیے اور قریب کھڑا پانی کا گلاس اسے تھما دیا۔۔
سمیرا (ان خاتون کا نام ) میری بات دھیان سے سنو ۔چند لمحے بعد کمرے میں پھیلی ہوئی بوجھل خاموشی کو ماں جی کی آ واز نے توڑا۔
جب حالات آپ کے موافق ہو ں مال و دولت صحت اللہ کی دی ہوئی ساری نعمتیں آ پ کے پاس موجود ہوں تو تو رب کی عبادت کرنا بڑی بات ہے ۔۔
لیکن مشکل نہیں۔۔۔
آسان ہے ۔۔
جب کہ اللہ کو پانا اس کا وہ قرب جس کی ایک عشق کرنے والا تمنا کرتا ہے اس قرب کو پانا ممکن نہیں۔۔
جب کوئی اس راہ کا متلاشی کسی صوفی کے پاس جاتا ہے تو وہ اسے مختلف طریقوں سے زیر تربیت رکھتے ہیں ۔۔۔
اس کے من کو ہر محبت سے خالی کیا جاتا ہے۔
وہ انتہائی گہرے انداز میں بات کر رہی تھی۔
جب کوئی فاتح بادشاہ اپنی فتح کی ہوئی سلطنت میں داخل ہوتا ہے تو سب سے پہلے وہاں کے حکمران کے محل پر قبضہ کیا جاتا ہے ۔۔
محل کی تمام انتظامیہ بادشاہ کی وفادار ہونی بے حد ضروری ہوتی ہے ۔ اگر وہ کہیں اپنی وفاداری اور اطاعت میں شک دیکھتا ہے یا دوئی دیکھتا ہے تو اسے سزا دی جاتی ہے ۔۔
اسے تحس نحس کر دیا جاتا ہے۔
بالکل اسی طرح جب کوئی اللہ کی وفاداری کا دعوے دار ہوتا ہے اپنے آپ کو دل و جان سے اللہ اور اس کے رسول کا وفادار ہونے کا اعلان کر دیتا ہے تو پھر اس کے وجود میں کہیں بھی غیر اللہ کی گنجائش نہیں رہتی۔۔
محبت میں دوئی کا تصور قطعی طور پر قبول نہیں ہوتا .
مرد یہ تمام راستے مرشد کے زیر تربیت رہ کر طے کرتا ہے۔۔
اس کے برعکس عورت نے یہ ساری منازل اپنی ہی سلطنت میں اپنی تمام ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے طے کرنی ہوتی ہیں ۔۔
وہ عام طور پر ان قریبی رشتوں سے آزمائی جاتی ہے ۔
کبھی یہ آزمائش شو ہر کی طرف سے ہوتی ہے اور کبھی اس کے اپنے وجود کا ٹکڑا اس کی اپنی اولاد اس کے آگے آن کھڑی ہوتی ہے ۔۔۔
میرا خیال ہے سمیرا تمہیں میری بات سمجھ میں آ رہی ہوگی ۔ماں جی نے اپنا جملہ نرمی سے مکمل کیا۔۔
بھر کو اس خاتون کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے نرمی سے بولیں۔۔
وہ مالک ہے جیسے چاہے آ زما لے۔
بھابھی میری تو سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ۔۔
شاید میری تربیت میں کوئی کمی رہ گئی ہے یا میں کسی کی نظر میں آ گئی ہو ں جو مجھ سے اولاد کی خوشیاں چھین لی گئیں ہیں ۔
اس خاتون کا لہجہ اب قدرے کھردرا ہو گیا تھا۔۔۔
ایک طرف تو تم اپنے رب سے محبت کی دعویدار ہو ۔
سارا دن اس کے دین کی خدمت کے لئے بھاگی بھاگی پھرتی ہوں۔۔
اپنے آپ کو اللہ کے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کاموں کے لئے وقف کئے ہوئے ہو ۔
لیکن خوشیاں ان کے علاوہ کہیں اور ڈھونڈتی ہو ؟؟
سمیرا عشق کے معاملے بڑے نازک ہوتے ہیں عشق میں میں زبان کا اظہار نہیں کیا جاتا بلکہ عشق میں آپ کا پورا وجود خود ہی اظہار ہوتا ہے۔۔۔۔
عاشق اپنے عشق کا کسی کو یقین دلاتا ہے اور نہ ہی ہیں اپنی ہستی کا ۔۔۔
جب آپ کی اپنی ہستی ہی مٹ جائے۔۔۔
وجود ہی نہ رہے ۔۔
تو پھر خوشی آپ کی کیسے ہو سکتی ہے ؟؟
پھر تو خوشی معشوق کی ہوتی ہے۔۔
ماں جی نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں اس خاتون کی روئی روئی خوبصورت آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔
کیا یہ عشق میں دوئی نہیں ہے ؟
اور عشق میں دوئی کا انجام کیا ہے ؟
عشق کا دعویٰ کرنے والا جب اپنے عشق میں یکتا نہیں ہوتا تو معلوم ہے انجام کیا ہوتا ہے؟
اب ماں جی مجھے بالکل بدلی بدلی لگ رہی تھیں۔ ہمیشہ کی طرح شفیق اور مسکراتے ہوئے چہرے پر آج آج ایک نیا نیا رنگ میں دیکھ رہی تھی۔۔
ایسا رنگ جس کا نام میں نہیں جانتی تھی۔
لیکن اس رنگ کے اثر سے ساری فضا بلکل بدل گئی تھی

Related Posts

Leave a Reply