خواتین اور سلوک۔ پبھاں پہار باب (نمبر۔30)

خواتین اور سلوک۔
پبھاں پہار
باب (نمبر۔30)
میرا شوہر مجھے بہت اذیت دیتا بےمیں حد تکلیف
میں ہوں۔ پچاس کی دھائی کراس کر چکی ہوں ۔ابتدائی عمر تو بچے پالتے عملی ذندگی کی بنیاد یں استوار کرتےہی گزر گئی۔وہ اپنے معاشی مسائل حل کرنے میں لگا رہا۔
بچے یونیورسٹیز میں پہنچ چکے ہیں اب۔معاشی طور پر بھی اب زندگی سیٹ ہے۔لیکن میری جذباتی ذندگی اب بہت ڈسٹرب ہے۔ازدواجی ذندگی میں اتنے مسائل ہیں کہ میں لہو لہان ہو چکی ہوں۔میرا شوہر کون سا انداز ہے جس میں مجھے اذیت نہ دیتا ہو۔بات ختم کرتے ہوئے اس کی آ نکھوں سے دو موٹے موٹے آ نسو نرمی سے اس کی پلکوں سے ڈھلک چکے تھے۔
وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک نازک اندام سی عورت تھی۔ جس کے چہرے پر پھیلی نرمی کے پیچھے بہت سی تلخیاں صبر کی چادر اوڑھے خاموش چپ چاپ آنسوؤں کا گرم پانی اپنے اندر سموئے ہوئے دکھائی دے رہی تھیں۔موسم خوشگوار تھا رخصت ہوتی گرمی فضامیں پھیلی خنکی کو پاؤ ں پھیلا تا ہوئے دیکھ کر کوچ کی تیاری میں تھی۔ہم ماں جی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔یہ خاتون کچھ عرصے سے باقاعدگی سے آ تی جاتی دکھائی دیتی تھی۔دھیمی مسکرہٹ چہرے پر سجائے وہ ہمیشہ خاموش رہتیں ۔ان کی کم گو طبیعت انہیں ماحول میں نمایاں نہیں کرتی تھی ۔ دھیرے دھیرے وہ ماحول کو سمجھ چکی تھی اور اب اس کے لہجے میں اپنائیت تھی اور وہ یوں ماں جی کو اپنے دکھ سنا رہی تھی. گویا وہ ان کو برسوں سے جانتی ہے۔اللہ والوں کی یہی پہچان ہے کہ ان کی شخصیت میں اللہ تعالیٰ ایسی نرمی اور جاذبیت رکھ دیتا ہے انہیں دیکھ کر جی چاہتا ہے کہ اپنے سارے غم ان کے قدموں میں دفن کرکے ہلکے پھلکے ہوجائیں۔دکھوں پر یوں مداوا رکھ دینے والی نرم مسکراہٹ ان اللہ والوں کے چہرے کا خاصہ ہوتی ہے۔اور پھر یہ لوگ بھی خدمت خلق کی اپنی اس ڈیوٹی میں کوئی کسر نہیں اٹھا چھوڑتے۔
صرف الفاظ کا مرہم اور ان کے وجود کی شفقت ان کے لبوں سے نکلنے والے دعائیہ کلمات دکھیارے دلوں کے لئے آ ب حیات ہوتے ہیں۔
کیا وجہ ہے ؟کیوں اتنی پریشان ہو بیٹی آ پ ؟ماں جی کا بوڑھا وجود اس کے لئے شفقت بھری آ غوش بن چکا تھا۔ذندگی کا سفر بہت مشکل ہوگیا ہے ماں جی۔ والدین حیات نہیں ہیں بچے جوان ہیں سمجھ میں نہیں آ تا اپنے زخم دکھاؤ ں تو کس کو؟
مجھے شکوے شکایات کی عادت نہیں ہے ویسے بھی اس عمر میں میں واویلا مچاتی اچھی لگوں گی اس کے لہجے میں تلخی تھی۔میں تو سمجھتی تھی بچے پل جائیں گے معاشی مسائل حل ہو جائیں گے تو ذندگی میں سکون آ جائے گا۔پر میرا تو سکون ہی کہیں چلا گیا ہے ماں جی کیا کروں؟ ماں جی ابھی تک خاموش تھیں ۔شاید اس کو موقع دے رہی تھیں کہ وہ اپنا سارا غبار باہر نکال لے۔انکھوں میں شفقت اور تجسس سمیٹے انہوں نے پیار سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
ذرا سی شفقت پا کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو نے لگی۔میں “پبھاں پار کھڑی ہوں ماں جی پبھاں پار”۔
لمحے پھر کو بھی سانس نہیں آ تا مجھے ۔
بہت اذیت میں ہوں اس کی سسکیوں سے کمرے میں سوگوار ی چھا گئی۔معلوم نہیں اس کے کیا دکھ تھے جن کو زبان پر لانا اسے مشکل لگ رہا تھا ورنہ عام طور پر خواتین اتنی لمبی تمھید نہیں باندھتیں۔ماں جی کی شفقت دیکھ کر جھٹ سےاپنے دکھوں کی پوٹلی ماں جی کے سامنے کھول دیتی ہیں۔
آ نسووں کے رستے کچھ غبار نکلا تو اب وہ قدرے سنبھل چکی تھی۔پرس سے ٹشو پیپر نکال کر اس نے اپنی آ نکھوں کو صاف کیا پھر خاموش ہوگئ،پھر بولیں،ماں جی میں نے بہت ایمانداری اور محنت سے اپنی زندگی بسر کی ہے لیکن اب میں بہت ٹوٹ چکی ہوں۔اللہ کو پانا اس سے محبت اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے۔مذہب کو میں نے ہمیشہ اولین ترجیح دی غلط صحیح کا فیصلہ ہمیشہ اللہ کے احکامات کی روشنی میں کیا لیکن سچ کہوں تو اب میں مذہب کے بارے میں بھی الجھاؤ کا شکار ہو گئی ہوں اس کے لہجے میں تلخی تھی۔
ماں جی مسلسل اپنے وجود میں پیار سمیٹے ہمہ تن گوش تھیں۔کیا اسلام کے قوانین صرف عورت کے لیے ہیں اس نے اپنی بلند ہوتی آ واز کو دباتے ہوئے ماں جی کو مخاطب کیا۔وہ ماں جی کا جواب فوری سننا چاہ رہی تھی۔ماں جی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر پیار سے سہلا یا اور خاموش لبوں کے ساتھ اپنی بولتی ہوئی نگاہیں اس کے چہرے پر جمادیں۔جیسے کہ رہی ہوں پہلے اندر کا غبار نکال لو پھر جو سنو گی اسے اپنے اندر جذب کرنے میں آ سانی ہوگی۔وہ بھی نگاہوں کی زبان سمجھ کر بولیں۔ماں جی میں مڈل ایج کرائسس کا شکار ہوں۔میرا شوہر بے راہ روی کا شکار ہو رہا ہے۔وہ برے کردار کا آ دمی نہیں تھا ماں جی۔یا شاید میں اسے ساری زندگی سمجھ ہی نہیں سکی۔اس کے لہجہ سپاٹ ہوگیا۔
شاید میں بوڑھی ہو رہی ہو اب میں اسے ہر دن وہ سروسز نہیں دے سکتی جو ایک کم عمر عورت سے مرد کو مل سکتی ہیں۔جوان بچوں کی ماں یہ سب افورڈ نہیں کر سکتی ماں جی۔میں کیا کروںبتائیں ناں ماں کیا حل ہے میرے مسائل کا؟
کیا وہ شروع سے ہی ایسا تھا یا تمھارے رویے نے اسے ایسا کر دیا ہے ماں جی اس کی آ نکھوں میں جھانکتے ہوئے بولیں۔
ہماری زندگی اچھی گزری ہے ۔ہر وقت اسے ایک تازہ دم شوخ اور زندگی سے بھر پور عورت کی طلب تھی۔اس نے مجھے کبھی زندگی میں سانس نہیں لینے دیامیں نے ہمیشہ اپنی ذات کی نفی کی۔
شوہر کی خوشی ۔۔
بچوں کی ذمہ داری۔
زندگی کے شب روز تھکے بغیر مستقبل جدوجہد میں گذارے ہیں میں نے۔
تیس سالہ شادی شدہ ذندگی میں نے پبھاں پار گذاری ہے ماں جی۔۔
اس میں کہیں”حنا”تھی ہی نہیں۔۔
صرف بیوی تھی۔۔
ماں تھی۔۔
بہو تھی تھی۔۔۔
میری ذات۔۔
میرا وجود تو کہیں تھا ہی نہیں۔۔
میں نے کبھی سستانا چاہا۔۔
کبھی اپنے اندد کی عورت سے ملاقات کرنا چاہی تومیرے شوہر ۔ے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی ذات کے بھنور میں پھر سے قید کر لیااور میں میں اسی گھن چکرمیں گھومتی رہی۔اب میں بوڑھی ہو گئی ہوں ۔تھک گئی ہوں اب بچے بھی سنبھل گئے ہیں۔میں کچھ وقت اپنے ساتھ گذارنا چاہتی ہوں۔
اپنے من سے ملنا چاہتی ہوں۔۔
اپنی روح سے ملاقات کرنا چاہتی ہوں۔
اس روح سے جس کو اللہ کریم نے قرآن مجید میں مخاطب کرکے کہا ہے
یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىٕنَّةُۗۖ(۲۷)ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ(۲۸)
ترجمہ: کنزالعرفان
اے اطمینان والی جان۔اپنے رب کی طرف اس حال میں واپس آ کہ تو اس سے راضی ہووہ تجھ سے راضی ہو۔
(سورہ فجر۔۔ایت 27.28)
میں اس واپسی کے سفر کے بارے میں جاننا چاہتی ہوں ماں جی۔
میں اس سے ملنا چاہتی ہوں وہ کون تھا؟
جو میرے اندر تھا۔
ہمیشہ میرے ساتھ رہا۔
میں جب بھی تھک گئی اس نے مجھے سہارا دیا۔
میں جب بھی زندگی میں ٹوٹی،آزمائش میں مبتلا ہو ئی اس نے مجھے سمیٹا۔اس نے مجھے کبھی تنہا نہیں چھوڑا وہ میرے اندر تھا۔
وہ میرے ساتھ تھا۔
میں اس سے مانوس تھی ۔
اس کو ٹائم دینا چاہتی تھی اس کے قرب کے احساس میں تحلیل ہوجانا چاہتی تھی۔
تحلیل ہو کر اس کے نام کی تجلی کے لشکارے میں مست ہونا چاہتی تھی۔۔
میری روح ہر فرصت کے لمحات میں اپنے رب کے نام کی مالا جھپنا چاہتی تھی۔
زمان ومکان کی قید سے آ زاد ہو کر اپنی تنہائیوں کو سجانا چاہتی تھی۔
میں اپنے اندر کا شور ،من کی بیقرار ی کو تسلی دے کر
اتنے برس سلاتی رہی،بہلاتی رہی کہ بچے بڑے ہو جائیں گے زندگی سیٹ ہو جائے گی تو پھر فارغ ہو کر اپنے رب کو تلاش کروں گی۔
عالم ارواح کی اپنی ہمجولیاں تلاش کروں گی،پھر ان کی صحبت میں اپنے رب کی محفلیں سجاؤ ں گی۔
اس سوہنے کے نام کی مالاجھپیں گے۔مل کے اس کی حمد پڑھیں گے۔
اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعتیں پڑھیں گے۔۔
اپنی ہم مزاج ہمجولیاں۔۔
اس سوہنے کی یادوں میں آ نسووں کی برسات لگائیں گے۔۔
پھر اس برسات میں ہم مل کے بھیگیں گے۔۔
ایسے جیسے بچپن میں بھیگتے تھے موسلا دھار بارشوں میں سب سہیلیاں مل کر۔۔۔
اب ہم بھیگیں گے اپنے رب کی یادوں کے آ نسووں کی برسات میں۔۔
لیکن میرے سب خواب کب پورے ہوں گے ماں جی۔
میں تھک گئی ہوں پبھاں بھار کھڑے کھڑے۔۔
میں کیا کروں؟
میرا شوہر جس کی میں نے بڑی ایمانداری سے۔۔
وفاداری سے خدمت کی ہے۔۔۔
وہ کب مجھے آ زاد کرے گا۔۔
کب میں اپنی مرضی سے سانس لے سکوں گی ماں جی،اس کی حرکات اب میرے لئے ناقابل برداشت ہیں۔
اب مجھ میں دم نہیں ہے۔
میں بوڑھی ہو چکی ہوں
میرے اندر کی عورت اب آ زادی چاہتی ہےسب فکروں سے۔
اس نے جب میری رغبت ان کاموں میں دیکھی تو وہ اپنی خواہش نفس کے لئے اللہ کی حدوں کو توڑنے تک گیا ہے۔وہ ایسا نہیں تھا ساری زندگی اس نے مجھ سے وفا کی ہے لیکن اس عمر میں ںات کرتے اس کی آ نکھوں میں آنسو خاموشی سے بہنے لگے۔اس کی آ واز رندھ سی گئی۔
ماں جی خاموش تھیں وہ دھیمی آ واز میں اپنی بپتا سنا چکی تھی اب ماں جی اس کے آ نسووں کے غبار کے تھم جانے کی منتظر تھیں کہ وہ اپنی بات کا آغاز کر سکیں۔
اللہ کریم نے دین اسلام کے قوانین انسانی فطرت کے عین مطابق بنائے ہیں۔مرد کو دوسری شادی کی اجازت اسی لئے دی ہے کہ وہ خالق اپنی تخلیق کی ہر ہر رگ سے واقف ہے۔اسے معلوم ہے مرد کی فطرت ، اور اس کی ضرورت۔
ماں جی کی آ واز بات کرتے ہوئے کہیں دور سے آتی محسوس ہو رہی تھی۔
کیا مطلب ماں جی آ پ کہ رہی ہیں کہ میں اسے دوسری شادی کی اجازت دے دوں وہ تڑپ کر بولی۔
میں نے ساری زندگ تنکہ تنکہ اکٹھا کرکے آ شیانہ بنایا ہے ۔زندگی کی بنیاد ی ضرورتیں پوری کر کے ذرا سا سکھ کا سانس لیا ہے تواب آپ مجھے سوتن لانے کا کہ رہی ہیں۔اس کی آ واز شدت غم سے اب قدرے بلند ہو رہی تھی۔
مرد کو بنانے والا خدا اس کی فطرت سے بھی آ گاہ ہے۔اسی لئے اس نےمرد کے لئے دوسری شادی کو جائز قرار دیا ہے۔اگر آ پ اب سمجھتی ہیں کہ آ پ اب پبھاں پار کھڑے کھڑے تھک گئیں ہیں تو اس قید سے اپنے آپ کو آزاد کر لو ۔یہ آزادی آپ کو شانت کر دے گی بیٹا۔ اگر اسلام کے تناظر میں دیکھیں تو اسلام یہی تعلیم دیتا ہے۔
لیکن میں یہ سب بر داشت نہیں کر سکتی؟اب اس کی آواز کا غصہ غم اور بے بسی میں دب چکا تھا۔
پھر تمھارے خیال میں اس مسئلے کا حل کیا ہے بیٹی ؟ماں جی کی آ واز بھی شاید اس حقیقت کے بوجھ کو اٹھاتے ہوئے لرز رہی تھی۔
میں چاہتی ہوں وہ سدھر جائیں،اور اپنی آخرت کی تیاری کریں ۔اللہ سے لو لگائیں اس کی آواز میں امید کی خوشی تھی۔
اللہ کریم نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا تھا ۔
سورہ انعام۔ایت 66ترجمہ: کنزالعرفان
” تم فرماؤ، میں تم پر نگہبان نہیں ہوں”
ہدایت دینا،اپنی خواہش پر کسی کو نیکی پر راغب کرنا یہ ممکن نہیں ہے۔ہاں دعا کا اختیار اللہ نے دیا ہے کہ ہم دعا کریں کسی کی ھداہت کے لیے۔لیکن ہم اسے عبادات کے لئے مجبور نہیں کر سکتے۔
ہمیں تو اپنی ذات پر اختیار دیا گیا ہے۔ہم اپنی ھدایت کے لئے دعا کر سکتے ہیں اور وہ ہمیں کرنی بھی چاہے۔جس رب کو ہم پانا چاہتی ہیں ،جس کو تلاش کرنے ہم نکلتے ہیں اس کے لئے ہم اپنا کچھ بھی چھوڑنے کے لیئے تیار نہیں ہیں۔ناں اپنا مرتبہ نہ اپنا مقام نہ اپنی راجدھانی۔
تاریخ گواہ ہے رب کو پانے کے لیئے بادشاہوں نے اپنی بادشاہت چھوڑ دی۔عورت کی بادشاہت تو اس کا شوہر ہی ہوتا ہے ناں ۔وہ تو اس میں شراکت برداشت نہیں کر سکتی اسے تو اپنی ذات اس کی توجہ اور محبت کا محور چاہیے۔جہاں وہ اپنی پوجا میں کمی دیکھتی ہے تڑپ اتھتی ہے۔کیوں میں سچ کہ رہی ہوں ناں ؟ماں جی کی آ واز کہیں دور سے آ تی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
تحریر پسند آ ئے تو شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ س سے آگاہ ہو سکیں۔
اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں آ پ کی رائے ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔شکریہ۔۔گوشہءنور

Related Posts

Leave a Reply