درود شریف (سبق نمبر 4)

خواتین اور سلوک۔24 خلافت کا تاج 2

خواتین اور سلوک۔۔۔24
خلافت کا تاج 2
یہ خلافت کاتاج عجیب چیز ہوتی ہے بیٹا۔
اس کا بہت بھار ہوتا ہے اس کی شان بڑی گھیراؤ والی ہوتی ہےوہ اردگرد پھیلی ساری جھاڑ جھنکار ملیامیٹ کر دیتا ہے۔
بادشاہی اختیار ایسے ہی کسی کو تھوڑا دے دیا جاتا ہے وہ لمحے بھر کے توقف کے بعد گویا ہوئے۔
اور اختیار رکھنے والا مجبور نہیں ہوتا وہ لفظ مجبوری سے نابلد ہوتا ہے۔
اسے تو ہر حال میں اپنے آ قا کی طرف سے سونپی گئی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوتی ہیں ۔
جبکہ عورت تو اس خلیفہ کی سلطنت کی آ بیاری میں ایک اہم عہد ہ پر ہوتی ہے۔
اس کی ذمہ داریاں بہت نازک ہوتی ہیں۔ہاں جو عورت “طالب مولا “روح رکھتی ہو اس کی پرواز اور اٹھان شروع سے ہی الگ ہوتی ہے۔
یہ عورتیں تعداد میں کم ہوتی ہیں لیکن موجود ہیں۔
روحانیت میں اپنی منازل طے کرکے کسی نہ کسی ذمہ دار عہدے پر فائز ہوتی ہیں۔
کیا” روحانی عہدے “عورتوں کے پاس بھی ہوتے ہیں میرے پیچھے بیٹھی خاتون حیرت سے بولی۔
جی جی بلکل ہوتے ہیں ۔
جس طرح مرد اس” تکوینی نظام “کا حصہ ہیں اسی طرح خواتین بھی اس سسٹم کو چلانے میں اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن سر انجام دے رہی ہوتی ہیں۔
دیکھو اس بات کو ہم اس طرح سمجھتے ہیں کہ یہ ایک خاص سم ہے ۔
یا کہ لو ایک خاص سوفٹ ویئر ہے جو کسی بھی انسان کے اندر انسٹال ہوتا ہے جب یہ سوفٹ ویئر ایک خاص وقت میں ایک خاص فریکوئنسی سے میچ ہوجاتا ہے تو یہ جارج ہوجاتا ہے ۔
ایکٹیو ہو جاتا ہے۔
پھر اس سے متعلقہ ڈیٹا اس کے زریعے اس میں ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے۔اور یوں ایک نئی مشین ورکنگ میں آ جاتی ہے وہ روحانی نظام کی پوری سانئس ایک ہی سانس میں واضح کر کےبولے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ مرد ہویا عورت جس میں یہ سوفٹ ویئر پیدائشی طور پر فٹ ہے اس نے اس نظام کا حصہ بننا ہی ہے میں نے پوچھا۔
جی جی بلکل ایسا ہی ہے۔
پھر انسان کی تلاش۔۔
اس کی محنت اور مشقت ان سب کی کیا حیثیت ہے؟
میں نے وضاحت چاہی۔
جب انتخاب کر لیا جاتا ہے طالب اور مطلوب آ منے سامنے آ جاتے ہیں پھر ٹریننگ کا مرحلہ آ تا ہے..
۔یہ ٹریننگ ہی ہوتی ہے جس کے دوران آ زمائیش کی بھٹی سے گزار کر مطلوب کو صبر سیکھنا ہوتا ہے ۔
صبر بہت اہم چیز ہے وہ پھر سے گم ہوتے لہجے میں بولے ۔
یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی دھکتے ہوئے انگاروں پر ننگے پاؤں چل رہا ہو اور چہرے پر تکلیف کا شائیبہ تک نہ ہو.
۔اور شاید اس لمحے محفل میں موجود بہت سے جو ان منازل کو طے کر چکے تھے اور طے کر رہے تھے یہی کیفیات ان کے چہروں سے بخوبی پڑھی جا سکتیں تھیں۔
صبر والے چہرے۔۔۔
خاموش۔۔۔
عشق میں سر دینے والے جانباز۔۔۔۔
ان کی جانبازی کی مہک انہیں معاشرے میں سب سے الگ تھلگ کر دیتی ہے۔
میں محفل کی فسوں میں کھو گئی تھی کہ بابا جی آ واز نے مجھے لمحہ موجود میں واپس لے آ ئی۔
“حقیقی طالب مولا ارواح” اپنے مرشد کی زیر نگرانی یہ سفر” بند ہونٹوں” کے ساتھ طے کرتی ہیں۔
ان کا استقلال اور صبر وہ مقام حاصل کر لیتا ہے کہ کائنات کی ہر شے ان کے آ گے با ادب جھکی ہوئی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
ان کی ٹریننگ کا یہ وقت صبر کا ہوتا ہے ۔
صبر اور خاموشی بس۔۔
وقت گزر جاتا ہے ۔
لیکن لمحے بھر کی لغزش واویلا اور شکوے شکایت انسان کو دھڑام سے گرا بھی سکتی ہے۔
سب کچھ نیست ونابود بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس ٹریننگ کے پیریڈ میں صبر اور خاموشی کا درس دیا جاتا ہے اور خواتین چونکہ اپنے مزاج کی نازکی کی وجہ سے جلدی پریشان ہو جاتی ہیں وہ خواتین کی طرف متوجہ ہو کر گویا ہوئے۔اس لیے ان کی ٹریننگ کچھ طویل ہو سکتی ہے۔
دراصل اس راہ پر چلنے والے بھی دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔
ایک وہ جو سچی طالب” مولا ارواح “ہوتی ہیں ۔اپنی راہ کو پہچاننے جاننے والی۔۔
دوسری قسم ان کی ہوتی ہے جو” ان ارواح “کو دیکھ کر ان کی دلکشی اور چاشنی میں مسحور ہو جاتی ہیں اور ان کی پیروی میں چلنے کا فیصلہ کر لیتی ہیں انہیں روحانیت کی زبان میں کسبی کہا جاتا ہے۔
ولایت کی دو اقسام ہیں۔
1۔۔۔ولایت وہبی۔
2۔۔۔ولایت کسبی۔
” کسبی والے “لوگوں کو محنت ریاضت کے ذریعے مقام تک پہنچنا ہوتا ہے۔ اور اس رستے کی مسلسل ریاضت اپنے مرشد کی نگرانی میں انہیں کامیابی سے ہم کنار کر تی ہے۔
وہ اپنی بات مکمل کرکے خاموش ہو گئے۔

Related Posts

Leave a Reply