(part 2) سلوک اور خواتین

خواتین اور سلوک۔۔سبق نمبر۔23 (خلافت کا تاج۔1)

گوشہء نور کے سالکین۔
خواتین اور سلوک۔۔سبق نمبر۔23
(خلافت کا تاج۔۔1)
اس راہ پر چلنے والے ہر” بابے” کا اپنا الگ رنگ ہوتا ہے۔
اپنی اپنی ڈیوٹی یہ سب اپنے اپنے انداز میں سر انجام دے رہے ہوتے ہیں۔
رنگ جلالی ہو یا جمالی ۔
آ تش عشق میں سب جل کر خاکستر ہو چکے ہوتے ہیں ۔اب وہ سوہنا اس خاک کو اتشی ٹرے میں ڈال کر عوام کے سامنے پیش کرے برفوں کی ٹھنڈک میں چھپا کر یا پھولوں کی خوشبو میں لپیٹ کر ۔۔
یہ تو سوہنے کی مرضی پر منحصر ہے۔
ہاں پہچاننے والے کو یہ ہر رنگ میں اپنی پہچان کروا دیتے ہیں۔
وہ پہچان لیتا ہے ۔
جس کا من ایک مرتبہ اس “چنگاری کی لو “کو پکڑ لیتا ہے پھر وہ اس اپنے اندر سینت سینت رکھتا ہے۔
چاہے کتنے امتحان آ ئیں ۔۔۔
کتنے آ گ کے سمندر اسے کراس کرنے پڑیں اسے پرواہ نہیں ہوتی۔
باباجی میرا روحانی سفر بہت کٹھن ہو چکا ہے۔
یوں لگتا ہے جیسے کوئی سیلابی ریلا پوری شدت سے مجھے اپنے بہاؤ کے ساتھ بہا کر لے جارہا ہے اور میں اس کی مخالف سمت اپنی منزل کی جانب اپنی پوری قوت سے جانا چاہ رہی ہوں ۔
نہ تو پانی کا بہاؤ موافق ہے اور نہ تیز چلنے والی ہواؤں کا رخ ۔۔۔
کیا مجھ میں اتنی قوت ہے کہ میں یہ سب سہ لوں۔ وہ دبی دبی آواز میں بول رہی تھیں۔
عشق کو کتنی قربانی چاہیے بابا؟
آ خر کتنی؟
ہر رشتہ پھینٹ چڑھ گیا میرا۔۔
ہر تعلق سے لہو لہان ہوں بابا جی۔
بابا جی آ پ مرد ہیں ناں ۔
عورت کا دکھ نہیں جان سکتے ۔۔
محسوس نہیں کر سکتے اس کے کرب کو۔
وہ بیچاری تو ہر وقت چھاؤں کی محتاج ہوتی ہے۔
اس کا وجود تو ٹکروں میں بٹا ہوا ہوتا ہے۔
شادی سے پہلے والدین ۔
پھر شوہر۔
پھر بیٹے۔
والدین اللہ نے لے لئے ۔۔
شوہر اور بیٹے دئیے تو ان کی آ زمائشں۔۔
چلو شوہر کی بھی سہ لی پر بابا جی اولاد کی آ زمائش نہیں سہی جاتی ۔۔
اولاد تو بدن کے ٹوٹے ہیں باباجی۔
بدن سے جدا ہوا ہوا زندہ گوشت کا لوتھڑا۔۔۔
اس کی آ واز آ نسووں میں کہیں دب گئی تھی۔
کمرے میں بہت سارے لوگ تھے ۔
ایک جانب مرد ۔
دوسری جانب عورتیں۔
ایک انسو زدہ سی خاموشی ے کمرے کی فضا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہوا تھا۔
کچھ ہمدردی کی نگاہیں اس عورت پر جم چکی تھیں۔
۔جو یقیناً پچاس کی دھائی میں تھی پوری طرح پردے میں لپٹی ہوئی وہ کوئی خواب میں ابھرنے والا ہیولا دکھائی دے رہی تھی جو سمندر کی لہروں پر بنا کی سہارے کے دھیرے دھیرے چل کر آ تا دکھائی دے۔
دیکھنے والا اسے دیکھ کر چونک جائے اللہ یہ کون سی مخلوق ہے؟
جو اتنے سکون سے پانی پر چل رہی ہے۔
عشق میں جل کر خاک ہونا پڑتا ہے بیٹی۔
جب تک جل کر خاک نہیں بن جاؤ گے قبول نہیں کیے جاو ھے۔بابا کی بھاری آ واز نے سب کو اپنی جانب متوجہ کیا۔
جب اللہ کو پانے کا ۔
اس کو اپنانے کا دعویٰ کرتے ہو تو ہر چیز کو قربان کرنا پڑتا ہے۔
یہ قربانی بڑی عجیب ہوتی ہےبیٹی۔
مرد کے لئے یہ قربانی نسبتاً آ سان ہوتی ہے ۔کیونکہ مرد کو تخلیق ہی رب تعالیٰ نے اپنے لیے کیا تھا۔
مرد جونہی رب کی خوشبو پالیتا پورے رخ سے یکسو ہوجاتا ہے۔
اس کے لیے راہیں بھی کھلی ہوتی ہیں ۔
مسجد ہو یا کوئی خانقاہ۔۔
یہ وہاں جاکر یکسو ہوجاتا ہے جبکہ عورت کا معاملہ تھوڑا مختلف ہے۔
اس کی تخلیق مرد کے لئے کی گئی۔
اس کی فطرت میں توجہ حاصل کرنا۔۔
اپنے سے جڑے ہر رشتے کو سینت سینت کر رکھنا ہوتا ہے۔
اور جب اتنی ساری محبتیں یہ دل میں چھپائے اللہ کو پانے نکلتی ہے تو ہر محبت کی قربانی اسے نئے انداز میں توڑتی ہے۔
یہ ٹوٹنا یہ چٹخنا۔۔۔
اس کا واویلا ہر طرف شور مچانے لگتا ہے۔
جبکہ مرد سمندر کی طرح ہوتا ہے لاکھوں طلاطم سینے میں چھپائے ہوئے لیکن بظاہر خاموش۔
وہ تیز لہروں پر سنگلاخ چٹانوں پر بھی جب ایک مرتبہ اللہ اکبر کہ کر نماز نیت لر لیتا ہے تو پھر اس کے اور رب کے درمیان کچھ حائل نہیں رہتا۔
لیکن عورت کا معاملہ تھوڑا مختلف ہے یہ بند کمرے میں بھی نماز کی نیت باندھے گی تو اس کا دماغ گھر کے ہر کمرے میں گھوم پھر رہا ہوتا ہے ۔
شاید اس کو رب نے بنایا ہی ایسا ہے۔
اس کے ذمہ تربیت اور خاندانی نظام کو چلانے کی ذمہ داری جو ہوتی ہے۔
اس کے وجود میں تہ در تہ خانے بنے ہوتے ہیں جن میں مختلف محبتیں اپنی جڑوں سمیت موجود ہوتی ہیں۔
بظاہر ایک نارمل نظر آ نیوالی خاتون ان محبت کی ریشمی ڈوریوں میں بری طرح الجھی ہوتی ہے۔
اور پھر جب وہ خدا کی تلاش کے سفر پر نکلتی ہے تو اس سے ایک ہی جھٹکے میں اپنا آ پ نہیں چھڑا پاتی۔
اور ان میں سب سے مشکل اولاد کی آ زمائش ہوتی ہے۔
اس کا وجود چاہے مٹی ہو جائے لیکن وہ اپنے آ پ کو اولاد کا خدا دیکھنا چاہتی ہے۔
باباجی نرمی سے بول رہے تھے.
مرد اور عورت کو خدا پانے کی راہیں اتنی مختلف کیوں ہیں؟ایک دبی دبی آواز نے کمرے میں ابھری۔
راہیں مختلف نہیں ہیں بیٹا۔۔۔
رستہ ایک جیسا ہی ہے مسافر اور ان کا طریقہ کار مختلف ہے بابا جی نےایک گہری سانس بھری۔
مرد اللہ کی روز ازل سے تخلیق کی گئی وہ مخلوق ہے جسے رب العزت نے اپنے لیے بنایا۔
اپنا خلیفہ بنایا۔
ااپنی روح اس میں پھونکی اور اپنا امر اسے عطاء کیا ۔
اس کے اندر اپنی تلاش رکھ دی ۔
تلاش کا بیج بو دیا اس کے اندر
وہ بیج ہمیشہ سے زندہ ہے۔
ایکٹیو ہے۔
اب مرد کے سر پر اللہ کریم نے اپنی خلافت کا تاج بھی سجایا ہے۔بابا جی بات کرتے ہوئے ان کی آ واز کہیں اور سے آ نے لگی۔
یوں جیسے وہ یہاں نہیں ہیں کہیں اور چلے گئے ہیں۔
کسی اور جہاں میں۔
کسی اور دنیا میں۔
اسے ہہ سارا سفر اس تاج کے ساتھ طے کرنا ہوتا ہے بیٹا۔
اس تاج کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اس کے وجود میں ۔
یوں لگ رہا تھا جیسے بابا جی کی آ واز کہیں دب رہی ہے ۔
جسے سننے کے لیے جسے سمجھنے کے لیے ہمیں اپنے وجود پر ھی بار محسوس ہو رہا تھا۔
تحریر آ پ کو کیسی لگی؟اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں۔پسند آ ئے تو شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہوسکیں ۔شکریہ۔۔۔گوشہءنور۔۔
سبق نمبر۔ 22 پڑھنے کے لئے نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔
https://www.facebook.com/104763384584903/posts/375576784170227/
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں ۔۔نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔شکریہ۔
http://goshaenoor.com

Related Posts

Leave a Reply