خواتین اور سلوک باب نمبر۔۔28.

خواتین اور سلوک
باب نمبر۔۔28.
کیا عورت بھی سلوک کی راہ پر چل سکتی ہے ماں جی؟
ایک خاتون نے بڑے نپے تلے انداز میں سوال کیا۔وہ آ ج پہلی مرتبہ ہماری محفل میں آ ئیں تھیں۔درمیانی عمر کی تعلیم یافتہ اور سنجیدہ مزاج کی یہ خاتون اپنے اندر سوالات کا ایک طلاطم سمیٹے ہوئے تھیں۔
میں نے دین کو سیکھنے میں سمجھنے میں بہت وقت صرف کیا ہے۔قران کی تفسیر اور ترجمہ ،یہ سب میں نے بہت محنت سے سیکھا ہے۔ یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر اپنی خدمات سر انجام دے ریتی ہوں ۔
۔وہ اپنے بارے میں بتا رہیں تھیں۔
لیکن میرا سوال یہ ہے کہ عورت تصوف کی راہ کیسے اختیار کر سکتی ہے؟وہ نہ تو کوئی آ ستانہ کھول سکتی ہے نہ ہی اسے” پیرخانہ”چلانا ہے،نہ ہی اسے کوئی خانقاہ بنانی ہے۔پھر خواتین کے لئے تصوف اور سلوک کی کیا اہمیت وضرورت ہے؟اس نے ماں جی کی جانب غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
تصوف کے معنی کیا ہیں ؟ماں جی نے اس کی پوری بات دھیان سے سن کر جواب دیا۔
تصوف کی چند کتب تو میں نے بھی پڑھی ہیں ہر مولانا اپنے اپنے انداز میں اس کی تعریف بیان کرتے ہیں۔یہ کوئی قرآن وحدیث تو ہے نہیں جس کی ایک آ یت میں بیان کر دوں تو بات واضح ہو جائے ۔نہ ہی یہ کوئی ریاضی کا فارمولا ہے جس کی تعریف دنیا میں ہر جگہ ایک ہی ہے اس عورت نے ہم سب کی طرف دیکھ کر سپاٹ لہجے میں کہا۔اس کا لہجہ اور بات کرنے کا انداز اس کی علمیت اور اس کے اعتماد کا عکاس تھا۔ماں جی چہرے پر نرمی ،شفقت اور پیار سمیٹے اس کی جانب متوجہ تھیں۔اس کی بات ختم ہوئی تو بولیں۔بیٹا تصوف اور سلوک کے معنی ہیں” نور نبوت” سے اپنے من کو روشن کرنا،کہ اس نور کی تمازت سے سب آلائشیں دھل جائیں۔باطن جب روشن ہو جاتا ہے تو اس کی روشنی میں چودہ صدیاں سمٹ جاتی ہیں۔قلوب صحبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تزکیہ حاصل کر کےقرب ا لہی کے حصول کے سفر پر رواں دواں ہو جاتے ہیں۔تصوف اور سلوک کا حاصل اور خلاصہ یہی ہے۔
دنیا میں ہر جگہ ہر دور کے صوفیاء کرام کی تعلیمات کا خلاصہ یہی رہا ہے۔اس کو سمجھانے کے لیے ہر دور میں صوفیاء کرام نے مختلف الفاظ و انداز سے اسے بیان کیا ہے ۔اس کا مفہوم اپنے اندر بہت وسعت سمیٹے ہوئے ہے لیکن حاصل کلام خلاصہ یہی ہے۔یعنی اس نور نبوت کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کے لئے ہم کیا طریقہ اختیار کریں، کیسے کریں،یہ سب کچھ ایک سالک اپنے مرشد کے زیر تربیت رہ کر سیکھتا ہے۔
دوسرا سوال آ پ نے یہ کیا کہ خواتین نے کوئی” آ ستانہ” ” پیر خانہ”یا “خانقاہ” نہیں بنانی جو یہ تصوف کی راہ اختیار کریں۔ماں جی نے نرمی سے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا۔
جی اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
طالب المولا روح جب اپنے رب کی تلاش اور ملن کے لیے تڑپتی ہے تو کیا مرد کیا عورت؟
اس کی تڑپ کی شدت مرد سے کم نہیں ہوتی ۔ایسے میں اسے مناسب راہنمائی اور تربیت میسر نہ ہو تو اس کے لیے بہت سے مسائل پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔
محض علوم شرعیہ سیکھ کر وہ اپنی روح کی طلب نہیں پوری کر سکتی ۔یہ علوم تو عبادات،اور ذندگی اسلامی طریقے سے گذارنے کے طریقے بتاتے ہیں۔باطن کی اصلاح اور روحانی سفر کے لیے اپ کو ہر حال میں کسی ایسی ہستی کی ضرورت ہوتی ہے جس کا سینہ نور نبوت سے روشن ہو۔یہ نور سینہ بہ سینہ منتقل ہو تا ہے۔وہ ہستی پہلے آ پ کے باطن کی اصلاح کے طریقے آ پ کو سکھائے گی آ پ کے قلب کو اس نور کو جذب کرنے کے قابل بنائے گی پھر یہ نور نبوت جس کو عرف عام میں” فیض” بھی کہا جاتا ہے آ پ کے اندر منتقل کیا جائے گا۔ماں جی نے بات مکمل کرکے اس عورت کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔(جاری ہے)
تحریر پسند آ ئے تو کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں۔شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہو سکیں۔شکریہ۔اپ کی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے۔گوشہء نور

Related Posts

Leave a Reply