گوشہءنور کے سالکین۔۔سبق نمبر ۔۔۔32
خواتین اور سلوک….( پارٹ۔۔15
زندگی کی حقیقت۔
کمرے میں پھیلی ہلکی ہلکی موتیا کی خوشبو اور شام کے ملگجے اندھیرے میں لیمن گراس قہوے کی مہک کی آ میزش بھلی معلوم ہو رہی تھی۔موسم کی تبدیلی کے باعث کمرے میں ہلکی ہلکی خنکی تھی۔ ماں جی آج موتیا رنگ کی گرم شال لپیٹے بیڈ پرتکیہ سے ٹیک لگائے آرام دہ موڈ میں بیٹھی ہوئی تھی ۔ہم بھی ان کے ساتھ بیٹھے قہوہ پی رہے تھے۔
آج ماں جی شاید ہمیں سننا چاہتی تھی۔ اب تک جو انہوں نے ہمیں سمجھایا ہم اسے کس حد تک اپنی سوچ میں اپنے اندر اتارنے میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں ۔ انہوں نےقہوے کا آخری گھونٹ بھر کر کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور اور ہماری طرف متوجہ ہوئیں۔
آج میں سنوں گی اور آپ لوگ بتائیں گے کہ زندگی کی حقیقت کیا ہے ؟
ہم اس حقیقت کو کیسے اپنی زندگی میں شامل کریں کہ ہم اللہ کے ہاں مقبول ہو جائیں ۔۔۔
سرخرو ہو جائیں۔۔۔۔
اور جب ہماری اپنےکریم آقا علیہ الصلاۃ والسلام سے ملاقات ہو تو وہ لمحے ندامت میں بھرے ہوئے نہ ہوں دکھ اور تاسف سے ہم منہ چھپائے ہوئے پچھتاوے کے انگاروں میں جھلس نہ رہے ہوں۔
بلکہ ہمارے کریم آ قا علیہ الصلاۃ والسلام مسکرا اٹھیں ہماری جانب دیکھ کر۔۔۔
ہماری آ نکھیں دیدار کے ان مبارک لمحوں میں خوشی اور مسرت کے جھرنے بہا رہی ہوں۔
اور ہم خوشی خوشی ان کا مبارک دیدار کریں ۔۔
ان لمحوں میں آقا ہمیں اپنی پیاری بیٹی خاتون جنت سیدہ فاطمۃ الزہراء کی معیت میں ہمیں دے دیں۔۔۔
ان کی جماعت میں ہماری شمولیت ہو جائے۔
وہ ہمیں قبول کر لیں۔۔
ہمیں دیکھ کر پہچان لیں۔۔۔۔۔
ان کے چہرہ انور پر اس لمحے ہمیں دیکھ کر خوشی ہو۔
ہم بھی مسرتوں میں ڈوبے شاداں و فرحاں سیدہ الکبریٰ کی جماعت میں شامل ہوں۔
بات کرتے کرتے ماں جی کے چہرے پر ایسی خوشی کی چمک نظر آرہی تھی کہ گویا وہ آخرت کے لمحات میں شہزادی کونین سیدہ فاطمۃ الزہراء کے سامنے ہاتھ باندھے باندھے کھڑی ہیں۔۔
احساس تفاخر اور منزل کو پا لینے کی خوشی کے احساس سے ماں جی کا بوڑھا چہرہ اس وقت جنت کی خوبرو حور کی طرح دمک رہا تھا ۔
اور ان کے چہرے سے نکلنے والی نور کی تمازت گویا ہمارے دلوں کے ایمان کو بھی جلا بخش رہی تھی۔
ہم کیا کریں ؟
کیسے تیاری کریں ؟
اپنے عمل میں کیا تبدیلی لائیں جو اس دن کی ندامت سے بچ سکیں۔۔
اللہ کریم اس دن کی کامیابی ہمیں عطاء فرمائے۔
آ پ سب تعلیم یافتہ خواتین ہیں۔ بہت کچھ جان چکی ہیں۔۔
سمجھ چکی ہیں۔۔۔
ماں جی نے اس دن کا ایسا نقشہ کھینچا کہ ہم ان کے الفاظ کے ساتھ بندھے زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو کر آخرت کے اس دور میں داخل ہوگئے۔۔۔
نہ یہ کمرہ رہا نہ ہمارے ہاتھوں میں پکڑے قہوے کے کپ۔
اب تک کی ہونے والی تمام نشستوں کی گفتگو سے میں تو یہ سمجھتی ہوں کہ کہ عورت کی اخروی کامیابی کا راز اطاعت فرمابرداری ایثار اور برداشت میں پنہاں ہے ۔ میرے ساتھ بیٹھی ایک خاتون نے نے کہا۔
برداشت اور صبر کی بھی کوئی تو حد ہوتی ہوگی ماں جی؟؟
شادی شدہ عورت کے دل کے تمام تار اس کے شوہر اور بچوں کے رویّوں سے بندھے ہوتے ہیں ۔اگر بد نصیبی سے اسے ان رشتوں میں الجھاؤ آ جائے تو اس کا کمزور وجود کس حد تک صبر کرے؟
آخر صبر کی بھی تو کوئی حد ہوتی ہو گی؟
خاص طور پر ایک ایسی عورت جو نوکری بھی کرتی ہے ۔ گھر کی ذمہ داریاں بھی نبھاتی ہے۔ اور پھر شوہر کے ناشائستہ رویے کو برداشت کرنا یقینا اس کے لئے زیادہ مشکل ہو جاتا ہے ۔
میرے ساتھ بیٹھی خاتون جو یقینا کسی اعلیٰ عہدے پر فائز تھی بولی ۔۔۔
ایک ورکنگ ویمن کی زندگی میں پہلے ہی زیادہ مشکلات ہوتی ہیں ایسے میں اگر شوہر اور باقی گھر والوں کا رویہ اس کے ساتھ اچھا نہ وہ بہت زیادہ تکلیف میں مبتلا ہو جاتی ہے ۔
جب آپ کے قدموں تلے انگارے ہو ں۔
تپتے سخت نوکیلے پتھروں پر آپ چل رہے ہو تو پھر آپ یقیناً عبادات بھی نہیں کر پاتے۔۔۔
ایسے میں اس عورت کے لیے رب کو پانا کیوں کر ممکن ہو سکتا ہے ۔بات مکمل کرتے کرتے اس کی آواز میں آنسوؤں کی نمی کو ہم سب نے محسوس کیا۔
بیٹا ہم بڑی تفصیل سے ڈسکس کر چکے ہیں کہ رب محض عبادات سے نہیں ملتا ۔۔
انسان ان کا صبر اپنے رب پر بھروسہ اس کی اپنے رب سے رحمت کی امید ہر لمحے اس کے خیال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قربت کی خواہش اسے سے عبادات سے بھی افضل مقام پر لے جاتی ہے۔۔۔
جب آپ کا ذہن اس بات کو سمجھ لے گا کہ مومن کا عمل اس کی ذمہ داریاں نیک نیتی سے ادا کرنا ہی اصل عبادت ہے تو پھر ایسی الجھنیں اور ایسے سوالات آپ کے ذہن کو پریشان نہیں کریں گے۔
ہاں نیت کی اسلام میں پکڑ ہے،گرفت ہے۔
نیت کی رکھ اس سارے سفر میں بہت اہم ہے۔
ماں جی نے نرم لہجے میں اپنی بات مکمل کی۔
میں تو یہ سمجھ سکی ہوں کہ اگر ہم اپنی زندگی کے ابتدائی ایام ان آیثار اور قربانی سے گزار لیں اپنے رویوں سے اچھے اچھے بیج لگا لیں تو یقینا ہماری مشکلات کا دور پچاس سال کی عمر تک پہنچ کر ختم ہو جائے گا اور یوں اس کے بعد اگلی زندگی ہم یقینا سکون کے ساتھ گزار سکیں گے ۔ہمارے درمیان بیٹھی دوسری خاتون امید سےبولی۔۔
اس کی بات سن کر ہم سب کے چہروں پر بھی ایک ایک امید کی کرن ابھری۔
ایسا بالکل نہیں ہے۔ ماں جی کی جذبات سے عاری آواز سن کر میں چونکی۔ میری سوالیہ نگاہیں ماں جی کے کے اگلے الفاظ کی منتظر تھی ۔
زندگی میں حقیقی سکون اور راحت صرف صرف یاد الہی میں ہے ۔
یہی نعمت ہے ۔
جسے سے مومنوں کے لئے اور جنت والوں کے لئے بھی نعمت اور انعام کہا گیا ہے ۔۔
رہی بات معاشرے میں ایک پرسکون زندگی گزارنے کی تو اگر آپ یہ سمجھتی ہیں کہ پچاس برس کی عمر میں پہنچنے کے بعد آپ کی زندگی کے سارے امتحانات ختم ہو جائیں گے تو ایسا یقینا نہیں ہے ۔امتحانات کسی عمر میں بھی ختم نہیں ہوتے ان کی نوعیت بدل جاتی ہے۔
ابتدائی عملی زندگی میں جو آپ نے سیکھا برداشت کیا اب اس تیار باغ کی لہلہاتی فصلیں آ پ سے اس کا مالک ہونے کے ناطے قربانی مانگتی ہے۔۔
آپ کی راجدھانی آ پ کا اقتدار آپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے ۔ اس عمر میں عورت بہت مضبوط پوزیشن میں میں آ جاتی ہے۔
جہاں اس کے جوان بیٹےنیک اولاد اس کے اندر احساس تفاخر پیدا کرتے ہیں۔
یہ بھی بڑا نازک وقت ہوتا ہے ۔
ابتدائی ایام کا صبر مصلحتاً حالات سے سمجھوتہ گھر بچانے کی کوشش بظاہر اس کی مجبور ی بھی ہوتی ہے۔
اب کے یہ حالات اس کے لئے ایک دوسری قسم کا صبر اور برداشت مانگتے ہیں ۔
اقتدار کے باوجود اپنے ماتحتوں کی غلطیاں معاف کرنا ان کے عیبوں پر چشم پوشی سزا کا اختیار ہونے کے باوجود معاف کر دینا اپنے بچوں کی غلطیاں ان کی جوانی کی نادانیاں ان کی عملی زندگی میں بدلتے رویے ان سب چیزوں کو بڑے تحمل سے برداشت کرنا ہوتا ہے۔۔۔
یہ سب کچھ صرف مذہب سکھاتا ہے۔
جوانی مذہب کے بغیر گزر جاتی ہے ۔لیکن بڑھاپا مذہب کے بغیر بہت مشکل ہے گزارنا۔۔۔
بے دین بوڑھا اپنی ذات اور معاشرے دونوں کے لیے بہت اذیت ناک ہوتا ہے۔۔
ایک بوڑھے شخص کے لیے مذہب پناہ گاہ ہوتی ہے۔۔۔
ایسا حسین لباس جسے زیب تن کر کے وہ پورے ماحول میں اپنا حسن بکھیرتا نظر آ تا ہے۔۔
بیماریاں مایوس انسان کو گھیرے ہوتی ہے۔
اس کی راجدھانی اس کے باغ میں اب نئے جانشین قدرت تیار کرکے اس کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔۔
اسے اب یہ اقتدار اگلی نسل میں منتقل کرنا ہوتا ہے ۔۔
اقتدار کی منتقلی ایک مشکل اور صبر آ زما مرحلہ ہوتی ہے۔۔
ایسے میں اگر شریک حیات داغ مفارقت دے جائے تو ذندگی مزید کٹھن ہو جاتی ہے۔
اس لیے یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ اصل تعلق اصل اور حقیقی رشتہ صرف رب اور بندے کا ہی ہے۔
اور زندگی ایک سفر۔۔
اس سفرمیں سہانی صبحیں بھی ہیں۔۔۔
تپتی دوپہریں بھی۔۔۔
حسین شامیں بھی۔۔
اور کالی سیاہ تنہا راتیں بھی۔۔
سب وقت آ نے ہیں اور مقرر ہ رفتار سے گزرجانے ہیں۔
ایک ہی ساتھ ہے جو نہ کبھی چھوٹنا ہے۔۔
نہ ہی پرانا ہونا ہے۔۔
نہ ہی آ پ نے اس سے سیر ہونا ہے۔۔
اس ذات نے ہرخوشی ہر غم میں اپکا ساتھ نبھانا ہے۔
اپکی ہر غلطی اور کوتاہی کو معاف کر کے آ پ کو ہمیشہ اپنی رحمت کے سینے میں چھپائے رکھنا ہے ۔۔
اور وہ ساتھ ہے تمھارے رب کا ساتھ۔۔۔
تمھارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ۔۔
ان سے محبت کرنے والوں کاساتھ۔۔
اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ تو سمجھ میں آ تا ہے لیکن ان سے محبت کرنے والوں کے ساتھ سے کیا مراد ہے ؟
میں جو پڑے دھیان سے ان کی باتیں سن رہی تھی بے ساختہ ان کی بات کاٹ کر اپنے ذہن میں آ نے والے سوال کو ان کے آ گے رکھ دیا۔۔…(جاری ہے).
جن قارئین نے خواتین اور سلوک کی تمام اقساط پڑھی ہیں ان کے ذہن میں بھی اس سے متعلق کوئی سوال ہو تو کمنٹ سیکشن میں ضرور پوچھیں۔۔۔
آ پ کے خیال میں ذندگی کی حیقیقت کیا ہے؟کمننٹ سیکشن میں ہمیں اپنا نقطہء نظر ضرور بتائیے۔اس ضمن میں آ پ کی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے۔
آ پ یقینا ہمارے ساتھ اس ڈسکشن میں شامل ہو سکتے ہیں۔ہمیں بہت خوشی ہوگی ۔شکریہ۔۔
تحریر پسند آئے تو شیئر کریں کاپی پیسٹ کرنے سے گریز کریں۔تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو اس سے آگاہ ہو سکیں شکریہ۔گوشہءنور۔
خواتین اور سلوک کی گزشتہ اقسام پڑھنے کے لئے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

خواتین اور سلوک .( پارٹ۔15 )

Related Posts

Leave a Reply