(part 3) سلوک اور خواتین

گوشہء نور کے سالکین۔سبق نمبر۔۔34
خواتین اور سلوک پارٹ.16
اللہ سے محبت کرنے والوں کا ساتھ۔
اللہ سے اور اس کے رسول سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔ لیکن ان سے محبت کرنے والوں کا ساتھ ہماری زندگی میں کیا اہمیت رکھتا ہے ؟
کتنا ضروری ہے ؟
یہ بات سمجھنے کے لیے ہم اس چیز کو سمجھیں گے کہ اللہ والے کون ہوتے ہیں؟
ماں جی نے میرا سوال سن کر جواب دیا۔
جو اپنی زندگی اللہ کے لئے وقف کر دے وہی اللہ والا ہے۔میں نے آ ہستہ سے کہا۔
لیکن ہم اس کو کیسے پہچانیں گے؟ماں جی نے میری بات سن کر ترچھی نگاہوں سے میری طرف دیکھ کر پوچھا۔
اب میرے سے جواب نہیں بن پا رہا تھا۔یہ بات درست ہے کہ مجھے اس پہچان کا قطعی جواب سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔
میری خاموشی دیکھ کر ماں جی نے ایک لمبی سانس کھینچی جو وہ عام طور کوئی بات تفصیل سے بیان کرنے سے پہلے کھیچا کرتی تھیں۔
ہمارے ہاں عام طور پر تارک دنیا درویش صفت انسان لمبا سا چغہ زیب تن کئے ہاتھ میں لاٹھی اٹھائے کسی بے آب ان ویران جگہ پر جھونپڑی غار میں جو شخص ملے گا وہی اللہ والا ہوتا ہے۔۔۔
بیوی بچوں اور گھریلو ذمہ داریوں سے مبرا ہے ۔۔۔
معاشرے سے کٹا ہوا باریش بوڑھا ۔۔۔۔
ماورائی قوتوں کا مالک ۔۔۔۔
ہر وقت عبادت میں مشغول۔۔۔۔
ایک حسین سا کومل سا چہرہ۔۔۔۔
یہ ہمارے لاشعور میں ایک” اللہ والے “کی یہ تصویر نمودار ہوتی ہے ۔
تو کیا ایسے لوگ اللہ والے نہیں ہوتے۔؟میرے منہ سے بے ساختہ نکلا۔۔
بلکل ہوتے ہیں ۔لیکن یاد رکھو ۔
“صرف یہی اللہ والے نہیں ہوتے۔”
ہمارے ساتھ معاشرے میں گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ ایمانداری سے اٹھائے رزق حلال کماتے کے مختلف شعبہء ہائے زندگی سے وابستہ بہت سے” اللہ والے “ہمارے اردگرد بھی ہوتے ہیں۔
جو اپنے نفس کی خواہشات پر ہمیشہ اللہ کے احکامات کو فوقیت دیتے ہیں۔
معاشرے میں کسی فرد کو کسی رشتے کو ان سے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا۔
وہ شخص جو لوگوں کے عیب چننے والا نہ ہو۔۔
بلکہ اس سے وابستہ ہر رشتہ ہر تعلق دار اپنے اوپر کوئی بھی مشکل آ ن پڑنے پر اس کی جانب دیکھتا ہو ۔۔
ان کو حال دل سنا کر۔۔
ان سے دعا کروا کر ہر کوئی شانتی محسوس کرے۔۔
ہر وقت عبادت اور نیکی کرنے کا احساس ان کے اندر تکبر ان کی نگاہوں میں گنہ گاروں کے لیے نخوت اور نفرت پیدا کرنے کا باعث نہ بنے۔۔
بلکہ ان باتوں کا اگر میں خلاصہ بیان کروں تو وہ یہ ہے کہ
،” اللہ والے کی پہلی پہچان یہ ہے کہ وہ مخلوق کو بے عیب دیکھے”۔۔
آ پ کو اس کی موجودگی میں اپنا آ پ حقیر اور گنہ گار نہ لگے بلکہ اس کے قرب میں بیٹھ کر آ پ کو اپنے مسلمان ہونے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتی ہونے پر فخر ہونے لگے۔۔۔
ان کی صحبت آ پ کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے استوار کرنے کا سبب بنے۔
اس سے ملاقات کے بعد اپنے عیب بڑے لگنے لگیں اور مخلوق کے عیبوں سے نظر ہٹ جائے۔۔
ایسے لوگوں کا ساتھ ایسے لوگوں سے میل ملاقات ایمان کی بقا کے لیے بہت ضروری ہے انہوں نے اپنا فقرہ مکمل کیا اور سانس لینے کو رکیں۔
ان کی زبان سے “اللہ والے ” کی کچھ نشانیاں مجھ ے سمجھ نہیں آ رہی تھیں۔۔
ماں جی کیا “اللہ والے” مخلوق کو بے عیب دیکھتے ہیں ؟
یہ کیسے ممکن ہے؟میں نے تو سنا ہے اللہ والے تو انسان کا باطن تک جان لیتے ہیں ۔گناہوں کا تعفن اور بدبو انہیں دور سے محسوس ہو جاتی ہے ۔
پھر مخلوق کو بے عیب دیکھنا کیسا؟؟؟میں نے دل میں ابھرنے والا سوال کر ڈالا۔
“اللہ نے کہا ہے تمام مخلوق میرا کنبہ ہے۔”
یہ تو نہیں کہا کہ صرف نیک اور ایمان والے ہی میرا کنبہ ہیں۔کیوں میں ٹھیک کہ رہی ہوں انہوں نے بغور ہماری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
اللہ کیا نافرمانوں اور کافروں اور برے لوگوں سے اپنا رزق اور نعمتیں روک لیتا ہے؟
اچھا ،برا،نیک اور بد یہ میرے اللہ کا معاملہ ہے۔
ہمیں جو تعلیمات دی گئی ان تعلیمات کو اپنی ذات پر لاگو کرنا اپنی اصلاح کرنا ہم پر لازم ہے ۔
آج معاشرتی مسائل کی ایک بڑی وجہ ہماری اپنی ایمانی کیفیات کی کمزوری ہے ۔۔ اس بات کو ہم اس مثال کے ذریعے بہت اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ جیسے کمزور جسم والا شخص کمزور قوت مدافعت والا انسان ہر آنے والی وبا اور وائرس کا بہت جلدی شکار ہو جاتا ہے ۔۔
اپنی ہی ٹھیک طریقے سے دیکھ بھال نہ کرنے کی وجہ سے نہ صرف وہ خود بیماری میں مبتلا ہوتا ہے بلکہ اس بیماری کو آگے پھیلانے کا سبب بھی بن جاتا ہے ۔۔
یہی معاملہ انسان کی ایمانی کیفیات کا ہے ۔جب آ پ کے اپنے ایمان کا لیول کم ہوتا ہے یعنی ایمانی کیفیات کمزور ہوتی ہیں پھر آ پ اپنے احباب میں موجود روحانی بیماریاں فوراً کیچ کر لیتے ہو۔
مثلاً ناشکرے انسان کی صحبت آپ میں بھی غیر محسوس طریقے سے نا شکری اور آپ کو عطا کی ہوئی نعمتوں کی بے قدری پیدا کر دیتی ہے۔
مثبت سوچ کا حامل شکر گزار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت رکھنے والے انسان کے یہ تمام وصف صرف اور صرف صحبت سے ہیں آپ کے اندر منتقل ہوناشروع ہوجاتے ہیں۔
بزرگوں کا قول ہے کہ۔۔
“صحبت ولی عارف بناتی ہے”۔
مولانا روم نے فرمایا ہے۔۔۔
یک زمانہ صحبت با اولیا
بہتر صد سالہ عبادت بے ریا
اولیاء کرام کی صحبت سو سا لہ بے ریا عبادت سے بہتر ہے۔۔
دین دار لوگوں کا ساتھ انسان کو غیرمحسوس طریقے سے بدل دیتا ہے کہ اس کے لیے دین کے احکامات پر عمل پیرا ہونابے حد آ سان ہو جاتا ہے۔
احادیث میں بھی ہمیں یہی درس ملتا ہے کہ ایمان والوں کی صحبت اختیار کرنا ہی ایمان کی بقا ہے۔
اللہ والوں کی نسبت اللہ والوں کے دل کے تار ہر لمحہ اللہ کریم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے در اقدس سے جڑے رہتے ہیں ۔
ان کے قلب اور سینے اسی نور سے ہر لمحہ منور ہوتے ہیں ۔ ان کی صحبت میں بیٹھنے والا کوئی شخص بھی نور کی ان کرنوں سے محروم نہیں رہتا۔
ان کی محفل پر ہر لمحہ اللہ کریم کی تجلیات اترتی ہیں۔
ماں جی نے اپنی بات مکمل کی۔۔
آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں ماں جی ۔
میری ایک ممانی بھی بہت اللہ والی ہیں۔ تہجد گزار ہر وقت عبادت میں مشغول رہنے والی۔۔۔
بہت کٹھن حالات میں زندگی گزار نے کے باوجود ہم نے کبھی ان کواپنے حالات پر واویلا مچاتے ہوئے نہیں دیکھا ۔۔
میں جب بھی اپنے گھریلو معاملات کی الجھنوں میں میں الجھ کر زیادہ پریشان ہوتی ہو ں تو وقت نکال کر ان کے ہاں چلی جاتی ہو ں۔۔
چند گھنٹے ان کے پاس گزار کر آنے کے بعد گویا میں اتنی ہلکی پھلکی اور تازہ دم ہو جاتی ہوں اور میں اپنے اندر ایسی توانائی محسوس کرتی ہوں وہ میرا فوکس باتوں ہی باتوں میں کہیں اور جوڑ دیتی ہیں۔۔
اور میں اپنے اور اپنے رب کے تعلق میں اتنی مست ہو جاتی ہو ں۔۔
اپنے رب کی بندی ہو نے پر اتنی نازاں۔
آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امتی ہونے پر اتنی شادان و فرحان ہو جاتی ہوں کہ میرے تمام مسائل کے ہی پیچھے رہ جاتے ہیں ۔
میرے ساتھ بیٹھی خاتون نے ماں جی کی باتیں سن کر ایک ہی سانس میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔۔
وہ بہت پرجوش لگ رہی تھی کہنے لگی ماں جی آپ کی بات بلکل درست ہے ۔ یہ اللہ والوں کی صحبت ہی ہے جو آپ کو یہ باور کروا دیتی ہے کہ آپ اشرف المخلوقات ہیں۔۔
اشرف المخلوقات کے عہدے پر براجمان انسان کی سوچیں بلند ہوتی ہیں۔ان کے پاس سے جب میں اٹھ کر واپس آ تی ہوں تو میری سوچ اقبال کے اس شعر کی عکاسی بن چکی ہوتی ہے
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے ، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
اور یہی وہ احساس ہے جو آپ کو ذندگی میں دیمک کی طرح چاٹ جانے والی چھوٹی چھوٹی الجھنوں ذہنی انتشار اور ڈپریشن سے نجات دے کر بالکل ششانت کر دیتا ہےا۔وہ بولے چلی جا رہی تھی۔۔۔(جاری ہے).
آ پ کو ہماری تحریر کیسی لگی اپنی رائے سے آگاہ کیجئے آ پ کی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے۔شکریہ ۔۔گوشہ نور۔
پسند آ ئے تو شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ اگر متن میں کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہو سکیں ۔شکریہ۔۔گوشہ نور۔۔
اس کے بقایا اسباق پڑھنے کے لئے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
https://www.facebook.com/104763384584903/posts/243069624087611/

Related Posts

Leave a Reply