سیدالقاسمین(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)۔(سبق نمبر ۔ 8)

خواتین اور سلوک ۔ سبق نمبر 20

خواتین اور سلوک۔۔۔سبق نمبر 20..
خواتین اور مرشد۔
مرد اور عورت کے لئے راہ سلوک میں رستے اتنے الگ کیوں ہیں ماں جی ؟
عورت کے لئے مرشد سے اظہار عقیدت و محبت صحبت شیخ یہ سب کیونکر ممکن ہو سکتا ہے وہ بیچاری معاشرے شوہر اور اولاد کے سامنے قانون اظہار کی پابند ہوتی ہے۔
۔اس کی فطرت کی حیا ہر رشتے کی محبت کے اظہار کے لئے اس کے لبوں کو سیئے ہوئے ہوتی ہے ۔
ہمارے ہاں یہ ایک عورت اپنی زبان سے اپنے عمل سے اگر کسی محبت میں شرابور ہوجائے پورے وجود میں بھیگ بھی جائے تو بھی اظہار کا وہ اختیار جو مرد کو حاصل ہے عورت کے لئے ممکن نہیں۔۔۔
اسے اپنی یاد الہی میں بھیگی ہوئی آنکھیں چھپانی پڑتی ہیں ۔
وہ ہر رشتے کے آ گے جواب دہ ہوتی ہے۔۔
جبکہ مرد تو کھلم کھلا داڑھی رکھ کر ٹوپی سر پر جمائے سلوک کے سفر میں سینہ تان کر چلتا ہو نظر آ تا ہے ۔۔
مرشد کی خدمت اسکی عقیدت اور اس سے ملاقاتیں مرد کے لئے ہمیشہ سے ایک آ سان عمل رہا ہے ماں جی۔
عورت کے ذہن و دماغ میں اٹھنے والے لا متناہی سوالات اس کی سوچیں ۔۔۔۔
اس کے لبوں پر آنے سے پہلے ایک چیک پوائنٹ پر رکنی ہوتی ہیں۔۔۔۔
وہ “چیک پوائنٹ “جو ننھی بیٹی گود میں آ نے کے بعد ہرماں اس بیٹی کے من میں بڑی محنت سے قائم کرتی ہے۔۔
پھر اس چیک پوائنٹ کے سارے قوانین اس بیٹی کو سمجھاتی ہےاور بیٹی تا حیات ہر صبح ہر شام اس چیک پوائنٹ میں اپنے لفظوں کی کلیئرنس کروانے لائن میں کھڑی ہوتی ہے۔
چاہے وہ عمر کے کسی حصے میں بھی۔۔۔
اسے اپنا ہر خیال دل میں اٹھنے والی ہر بات کو زبان سے نکالنے سے پہلے اس چیک پوائنٹ پر اپنی معاشرتی اقدار کی کسوٹی پر پرکھنا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔
بیٹا اپنے ذہن میں اٹھنے والاہر سوال کھلے عام آ کر سکتا ہے لیکن بیٹی کا معاملہ مختلف ہوتا ہے۔
لفظوں کوزبان پر لانے سے پہلے وضع داری اور اقدار کی ساری کسوٹی پر پورا اترنا وہ ماں کی گود سے ہی سیکھ کر نکلتی ہے کیوں میں ٹھیک ہے رہی ہوں نہ ماں جی؟؟؟
میری آواز میں بہت سارے سوالات میرے وجودکے کونوں کھدروں سے نکل نکل کر چمٹ گئے تھے آج مجھے اپنی ہی آواز آواز کچھ اجنبی سے لگ رہی تھی ۔
میں نے ماں جی کے گود میں رکھے ہوئے بوڑھے شفیق ہاتھوں کو تھام کر کہا ۔۔
عورت پیغمبر نہیں ہوتی لیکن پیغمبر کی ماں ہوتی ہے ۔
یہ بات ہمیں ہمیشہ یاد رکھنی ہے۔ماں جی پھر کسی ماہر استانی کی طرح واضح کر رہی تھیں۔
عورت کی ذمہ داری مرد سے مختلف اور کٹھن ہوتی ہے۔
بڑے بڑے اولیاء کرام مہان اور پوتر گودوں کی پلے بڑھے سوچو جب اللہ کریم اپنے کسی خاص بندے کو دنیا میں بھیجتا ہے تو اس کے لیے کوکھ اور گود منتخب کی جاتی ہے۔
اللہ کی نظر انتخاب جس عورت پر پڑ جائے وہ اس رب الرحیم کی منظور نظر ہوجاتی ہے پھر وہ رب العالمین جود اس کی تربیت کا اہتمام کرتا ہے۔
قصص اولیاء میں ہمیں ایسی ماؤ ں کے قصے ملتے ہیں ۔
عورت جب اپنے رب کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دامن صدق دل سے تھام لیتی ہے اپنی خواہشات اور اپنی ذات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پاک بیبیوں کی سیرت میں ڈھالنے کی سعی کرتی ہے تو پھر اسے بی بی فاطمہ الزہرا ء کی کنیزوں کے لشکر میں شامل کر لیا جاتا ہے۔اور جب وہ اس لشکر میں شامل ہو جاتی ہے پھر وقت کے اولیاء کرام بھی اس کے ادب میں اٹھ کر نگاہیں جھکائے کھڑے ہوتے ہیں۔
اسے کسی کے پیچھے جانے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔
اللہ کریم نے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی بیبیوں کا بڑا رتبہ رکھا ہے بیٹی۔۔
ضرور ت اس امر کی ہے کہ ہم اس رتبے کو پہچانیں۔۔۔
وہ بول رہی تھی اور ان کی آ نکھوں میں عجیب چمک اور لہجے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کی چاشنی میرے دل کی بہت سی گرہیں بڑی نرمی سے کھول رہی تھی۔
ان کی باتیں مجھے ایک نئے جہاں سے متعارف کروا رہی تھیں۔
لیکن ماں ہم اس لشکر میں شامل کیسے ہو سکتی ہیں؟
میں نے فوراً پوچھا۔
اللہ کریم نے تمھیں وقت دیا ہے؟صلاحیت دی ہے اور تمھاری ذات پر تمھیں مکمل اختیار دیا ہے۔
ضرور ت صرف محنت کی ہے ۔
محنت تم نے خود کرنی ہے اپنی ذات پر۔۔
اگر خلوص نیت کے ساتھ محنت کرو گے تو کامیابی حاصل کر نے میں کچھ بھی مانع نہیں ہو سکتا۔۔

Related Posts

Leave a Reply