خواتین اور سلوک ۔ (پارٹ ۔ 10)

گوشہءنور کے سالکین ۔ (سبق نمبر 27).
خواتین اور سلوک ۔ (پارٹ۔۔۔10)
تربیت اور مذہب
بیوی کی دینداری اور اولاد کے ماں کے ساتھ رویے اور دلوں میں ماں کی محبت اور ماں پر قربان ہو جانے کے والہانہ جذبات۔۔۔۔۔
یہ سب اس مرد کی سوچ کو تبدیل کرنے میں بے حد اہم کردار ادا کرتے ہیں ہیں۔۔۔
یاد رکھو فرد کو اندر کی مضبوطی اس کے کردارکا مثبت پہلو ۔۔۔
رشتوں کو عزت دینا۔۔۔
دوسرے کے لئے نیک نیتی کے جذبات ۔۔۔
اپنے سے وابستہ رشتوں پر اپنے ذاتی مفادات کو قربان کر دینا۔۔۔۔
یہ سب کچھ صرف اور صرف مذہب دیتا ہے۔۔۔
یہ مذہب ہی ہے جو محبت کرنے کا سلیقہ سکھاتا ہے ۔۔۔
اور رشتوں کے تقدس کی آبیاری کرنے کا فن بھی مذہبی تعلیمات میں پوشیدہ ہوتا ہے ۔۔۔
آج آزادی رائے کا زمانہ ہے ۔۔ اپنے جذبات کا اظہار ہمارا سوشل میڈیا ،
ہمارا نظام تعلیم بچپن ہی سے بچوں کو سکھا دیتا ہے ۔۔
اب وہ بچے جو کل تک باپ کی گرجدار آواز سن کر سہم جاتے تھے ۔۔
چھپ جاتے تھے ۔۔۔
اور ماں کا سہما ہوا خوف زدہ چہرہ۔۔۔
شوہر کے ہاتھوں اولاد اور باقی رشتہ داروں کے سامنے بے عزت ہونے کا خوف۔۔۔۔
وہ یہ سب خاموشی سے دیکھ کر جوان ہوتے ہیں۔۔
وہ شعور کی منازل طے کرتے ہیں تو فیصلہ اپنی عقل اور اپنے فہم کے مطابق کرنے سے انہیں کوئی قوت مانع نہیں ہوتی ۔۔۔
اب ان کی جوانی ان کی قوت منصف کی کرسی پر انہیں بٹھا دیتی ہے۔۔۔
بوڑھے ہوتے ہوئے ماں باپ کٹہرے میں آ جاتے ۔۔۔۔
بے بس لاچار۔۔۔
بیمار لاغر اور کمزور والدین۔۔۔
اب بے بسی کی تصویر بنے اولاد کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔۔۔
یہ بات کرتے کرتے ماں جی کی آ واز بھرا سی گئی۔۔۔
دو ننھے ننھے آنسو ان کی آنکھوں سے نکلنے کو بیتاب نظر آرہے تھے جنہیں بار بار پلکیں جھپکا کر ہم سے چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔
ان کا تجربہ ان کی بڑھتی ہوئی عمر یقینا آج ہمارے سامنے بہت سی تلخ حقیقتوں پر پڑے ہوئے پردے بڑی بے رحمی سے نوچ رہی تھی۔۔۔
ایسی حقیقتیں ۔۔
معاشرے کا وہ رخ جو شاید ہم نے آج دن تک دیکھا ہی نہیں تھا ۔۔۔
میری آنکھوں کے سامنے بہت سی ایسی خبریں ایسی ویڈیوز تیزی سے گھومنا شروع ہو گئیں جن میں جوان اولاد کے ہاتھوں بےعزت ہوتے ہوئے بوڑھے والدین۔۔۔۔۔
روتے بلکتے ہوئے بے بس بوڑھے۔۔۔
اولاد کی بے وفائی اور بے اعتنائی پر واویلا مچانے ہوئے غم واندوہ میں ڈوبے ہوئے بوڑھے والدین۔۔۔۔
میرا دماغ ماؤف ہونا شروع ہوگیا۔۔۔
اگر اولاد اس حد تک اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوتی ہے۔۔۔۔
ان کے والدین خبروں کی زینت بننے لگتے ہیں ۔۔۔
اور دنیا کے سامنے رو رو کر اولاد کے شکوے شکایات کر رہے ہوتے ہیں ۔۔۔
تو اس کا مطلب ہے اس کے پیچھے کہانی تو کچھ اور ہی ہوتی ہے۔۔۔
اس حقیقت کو قبول کرنا میرے دل و دماغ کے لیے بے حد مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔۔
ہم آج کی خواتین جن باتوں کے لیے پریشان ہیں ۔۔۔
ان پریشانیوں کی لسٹ میں ہماری یہ پریشانی ۔۔۔
اولاد کی تربیت کے لیے یہ درد تو شاید کہیں بھی نہیں ہے ۔۔
یا شاید ہمیں اس پہلو پر سوچنا سیکھا یا ہی نہیں گیا۔۔ ابھی تک ہم اس پہلو پر سوچتے ہی نہیں ہیں۔۔۔
اف یہ اس قدر اہم ہے۔۔۔
کہ اگر اس میں ہم کوتاہی کر جاتے ہیں ۔۔۔
لا پرواہی برتتے ہیں۔۔۔
تو اس کا خمیازہ بے حد خوفناک شکل میں ہمیں بھگتنا پڑتا ہے ۔۔۔
یہ حقیقت اتنی بھاری تھی اتنی کڑوی تھی کہ ماں جی کی آ واز بھی اسے بیان کرتے ہث چند لمحے کے لیے کہیں معدوم ہوتی محسوس ہوئی۔
ماں جی کی سانس یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے سینے کے اندر ہی گھٹ رہی ہو ں۔۔۔
ان کو دیکھ کر میں نے فورا قریب پڑے ہوئے میز سے گلاس اٹھایا اور اس میں جگ سے پانی انڈیل کر ان کے ہاتھ میں تھما دیا۔۔
دھیرے دھیرے چھوٹے چھوٹے گھونٹ سے پانی پیتی ہوئی ماں جی۔۔۔۔
اس وقت بہت تھکی تھکی دکھائی دے رہی تھی ۔
شاید عمر کے اس حصےمیں معاشرے کی یہ تلخ حقیقت انہیں برداشت کرنی مشکل لگ رہی تھی۔۔
خالی گلاس میرے ہاتھ میں تھما کر کر تشکر بھری نگاہوں سے مجھے دیکھا اور مسکرائیں۔۔۔۔۔
ان کی شفیق مسکراہٹ ماحول کے بوجھل پن کو دور کرنے میں معاون ثابت ہوئی ۔۔۔
اور ہم پھر سےان کی اگلی باتیں سننے کے لئے ہمہ تن گوش ہو گئے۔۔۔
زندگی کی حقیقت۔۔۔
اس کے مختلف ادوار کی حقیقت۔۔
کو اگر آپ جان جائیں گے تو پھر زندگی کو سمجھنا ۔
مشکل حالات کو فیس کرنا ۔۔۔
آنے والے وقت کی تیاری اور منصوبہ بندی کرنا ۔۔۔
تمہارے مستقبل کو محفوظ کر دے گا۔۔۔
زندگی اس عورت کے لیے جو ماں بن چکی ہوتی ہے یکسر مختلف ہو جاتی ہے۔۔۔
اس کی ذات اب محض ایک فرد کی ذات نہیں ہوتی۔۔۔
بلکہ وہ ایک معمار کی ذات بن جاتی ہے۔۔۔۔۔۔
ایسا فنکارجو چاہے تو اپنے فن سے خوبصورت فن پارہ تخلیق کر دے۔۔۔
اور چاہے تو اپنی ہاتھ سے مٹی گوندھ کر ایک بد شکل و بد ہیئت ستون کھڑا کردے۔۔۔
جو کبھی تو گزرنے والوں کے راہ کی رکاوٹ بنے اور کبھی کوئی گزرتا ہوا اسے ٹھنڈا مار کر گزر جائے..
اور آ خرمیں یہی اس کے ہاتھوں سے تشکیل کیا گیا فن پارہ اس کی بربادی کا سبب بن جائے۔۔۔
عورت اور مرد کا اٹھنا بیٹھنا ان کا عمل ان کا کردار ان کی سوچیں ان کے گود میں پلنے والے ننھے بچے کی شخصیت اور کردار پر نقش ہوتی جاتی ہیں۔ان کے آپس کے تعلقات انکی اخلاقیات اب محض ان کی ذات تک محدود نہیں ہوتی بلکہ ایک تعمیر ہوتی ہوئی شخصیت کے بننے اور بگڑنے میں اس کا اہم کردار ہوتا ہے۔
اگر ماں اور باپ بننے کے بعد دونوں اس ذمہ داری کو محسوس نہ کریں اور اپنی ذات کی انا خود پرستی اور اپنے نفس کی پرورش میں لگے رہیں تو اس کا خمیازہ انہیں ایک دن بہت خوف ناک انداز میں بھگتنا پڑ سکتا ہے ۔
والدین کے لئے یہ دور بہت اہم ہوتا ہے۔
یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لو شخصیت کا توازن۔۔
کردار کا حسن اور خوبصورتی صرف اور صرف مذہب دیتا ہے۔
اگر والدین مذہب سے بے بہرہ ہیں وہ اولاد کو ایک اندرونی طور پر مضبوط شخصیت بنانے میں معاون و مددگار نہیں ہو سکتے ۔۔
مذہب سے دوری انسان کو بہت سی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا کر دیتی ہے۔۔
یہ مذہب ہی ہے جو انسان کی کی شخصیت میں توازن پیدا کرتا ہے ہر قسم کی اخلاقی اور نفسیاتی بیماریوں سے بچاتا ہے۔
پیارے نبی سرور کونین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات سے پیار۔۔۔
ان کے گھرانے سے پیار ۔۔۔
اور اس گھرانے کے زندگی گزارنے کے طریقے اعلیٰ کردار کی تشکیل اور اعلیٰ اخلاقی مراتب پر فائز کر سکتے ہیں۔۔
دنیاوی تعلیمات مہنگے اسکول میں پڑھانا اچھی تعلیم اچھا رزلٹ اسے معاشرتی طور پر تو ایک اچھا انسان بنانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں ۔
لیکن حسن کردار کی وہ خوبصورتی وہ مہک جو والدین کو ان کے بڑھاپے میں سکون دے ۔۔۔
ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا رکھے۔۔
وہ صرف اورصرف اس گھرانے سے وابستگی اور محبت ہی انہیں دے سکتی ہے۔۔۔
ماں کا ایمان۔۔
ماں کی آقا علیہ الصلاۃ والسلام سے محب اور اس گھرانے سے پختہ تعلق ۔۔۔
یہی باتیں اس کی اولاد کے کردار کی تشکیل میں بہترین کردار ادا کریں گی۔
ماں کا ایمان اس کا کردار اور اس کی ذات میں موجود دینی اقدار وہ قیمتی اثاثہ ہیں جو اس نے قطرہ قطرہ گھونٹ گھونٹ بچے کو دھیرے دھیرے پھیلانا ہوتا ہے کردار سے یہ خوبیاں بچے کے اندر گوندھنی ہیں۔۔
یہ ایسا کام ہے جو اسے ہر حال میں کرنا ہے اگر وہ یہ چاہتی ہے کہ اس کا بچہ ایک اعلی کردار اور بلند شخصیت کا مالک بنے ۔۔
یہ سب خوبیاں بچے کے اندر سمونے کے لئے ماں کو بہت سی قربانیاں دینی پڑتی ہے ۔۔
اپنی زندگی کے ہر لمحے پر قدغن لگانےی پڑتی ہے ۔ پہرا دینا پڑتا ہے ۔۔۔
بالکل یہی معاملہ باپ کا بھی ہے ۔ ایک مرد کی زندگی کو توازن صرف اور صرف مذہب دے سکتا ہے ۔ ورنہ جو اختیارات ہمارے معاشرے میں یہ ایک مرد کو حاصل ہیں وہ ان کا بے جا استعمال کرکے اپنی انا اور اپنے نفس کی خوشنودی تو حاصل کرسکتا ہے لیکن اس کے اس عمل کے جو منفی اثرات اس کی اولاد پر مرتب ہو رہے ہوتے ہیں ان کا خمیازہ اسے سے پچاس کی دہائی پار کرنے کے بعد ہی بھگتنا ہوتا ہے۔۔
مبادا ان کے کردار اور شخصیت کا ٹیڑھا پن ان کی اولاد کی شخصیت کو مسخ نہ کر دیں۔
بچے ہمیشہ وہی سیکھتے ہیں جو وہ اپنے ماں باپ کو کرتا دیکھتے ہیں ۔نصیحت اور زبانی جمع خرچ بچوں کے لیے لیے قابل قبول نہیں ہوتا۔۔
شادی شدہ زندگی کے ابتدائی ایام میں شوہر کی بے اعتنائی سسرال والوں کا ناورا سلوک بلاشبہ ایک عورت کے لئے لیے سہنا بے حد مشکل ہوتا ہے۔۔۔
لیکن ماں بننے کے بعد اس کی زندگی مکمل تبدیل ہو جانی چاہیے۔۔۔
اسے اپنی ذات کی نفی کرکےاس کردار کی تشکیل کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگانی ہوتی ہے۔۔
ننھا وجود ،رب العزت کی یہ امانت ۔۔۔
اس کی گود میں ہے۔۔۔
جب یہ امانت اللہ کریم کسی عورت کے سپرد کرتا ہے تو اس کا مرتبہ اور مقام بہت بلند کر دیتا ہے۔۔
ایک مرتبہ ایک صحابیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائیں اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلممرد جہاد پر جاتے ہیں ۔۔ جنازے اٹھاتے ہیں ۔۔ اسلامی سرحدوں کا پہرا دیتے ہیں اور بے حد اجر ثواب کماتے ہیں۔۔
لیکن ہم اس سے محروم ہیں۔۔
میرے کملی والے مہربان آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے جواب دیا ۔۔
ایک مرد جو “لیلتہ القدر” میں ساری رات کھڑا حجر اسود کے سامنے نوافل پڑھے اس کو جو اجروثواب ملے۔۔ اس سے زیادہ ثواب اس شخص کو ملتا ہے جو ایک رات اسلامی سرحد کا پہرا دے۔۔
ایک عورت حمل کے ٹھہرنے کے دن سے لے کر دودھ چھڑوانے کی مدت تک اللہ سے اس قدر اجروثواب پاتی ہے جتنا اسلامی سرحد پر پہرا دینے والا مسلمان سپاہی۔۔۔۔
یہ کل ملا کر انتیس مہینے بنتے ہیں ۔۔
وہ عورت گھر میں رہ کر انتیس ماہ اس قدر اجروثواب کی مستحق ہو جاتی ہے۔۔۔
ماں بننے کے بعد اس کی اولاد چاہے ولایت کے اعلیٰ مرتبے تک پہنچ جائے۔۔
دن رات عبادت کرے مقبول نہیں اگر وہ ماں کو راضی نہیں رکھے گا۔۔۔۔
ماں کی رضا اس کے رب کی رضامندی ہے۔۔۔
اسقدر بلند مراتب سے اگر ایک عورت کو نوازا جاتا ہے تو پھر یقینا اس پر عائد کردہ ذمہ داری کا تقاضا بھی اتنا ہی اہم ہے۔۔
ان باتوں سے آپ لوگوں کو عورت کی اہمیت اور اس کو سونپی جانے والی ذمہ داریوں کا یقینا احساس ہوگیا ہوگا ۔۔انہوں نے اپنی بات مکمل کر کے ہماری جانب نگاہ اٹھا کر دیکھا اور کہا۔۔۔
ماں بننے کے بعد اس رشتے کا تقاضہ یہ ہوتا ہے کہ اسے اپنی ذات اپنی خواہشات کی نفی کرنا پڑتی ہے۔۔
یہاں ایک بات اور قابل غور ہے۔
بعض اوقات عورت ماں بننے کے بعد اپنی اہمیت اور اپنے اختیارات کا بیجا استعمال کرنا شروع کر دیتی ہے ہے۔۔
اور وہ چاہتی ہے کہ اس کی اولاد ہر حال میں اس کے حکم کی غلام اس کے اشاروں پر ناچنے والی ہو۔۔۔
ماں کے ذمے نیک نیتی سے اولاد کی تربیت کرنا اسے اچھائی اور برائی کی تمیز دینا اور اللہ کے احکامات بتانا ہے ۔۔
اس کی ہدایت کی ذمہ داری اور اختیار ماں کے پاس بھی نہیں ہوتا یہ صرف اور صرف خدا کے ہاتھ میں ہوتا ہے ۔۔
اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھا کر اب ماں اپنے رب العزت کے آگے سر بسجود ہو جاتی ہے اور دن رات اولاد کے لیے دعائیں مانگتی ہے۔۔
لیکن بدقسمتی سے بعض خواتین اس چیز کو فراموش کر بیٹھتی ہیں اور وہ خدا نخواستہ اپنے آپ کو ہی اولاد کا خدا سمجھنے لگتی ہیں یہ رویہ درست نہیں ہے ۔۔
اسلام نے ہر رشتے اور ہر فرد کی حدود مقرر کر دی ہے اسی طرح ماں کی ذمہ داریاں اس کے حقوق اور اس کی حدود بھی متعین ہے۔۔
ایک عورت جب یہ سب کچھ سمجھنے لگتی ہے۔ وقت کو دور تک دیکھتی ہے اور اپنے اوپر ڈالی گئی اللہ کی طرف سے ذمہ داریوں کو سمجھ لیتی ہے تو پھر اس کے سوچنے کا انداز یکسر بدل جاتا ہے۔۔۔
اس کی سوچ کی نہج کو یقینا تبدیل ہو جانا چاہیے۔۔
اگرآپ اپنے آپ کو بیس برس آگے کی زندگی میں دیکھیں تو اس وقت زندگی میں اہمیت صرف اور صرف نیک اولاد رہ جاتی ہے۔۔۔
پیسہ ۔
مال و دولت ۔
یہ سب کچھ ایک بد زبان نا فرمان اور بے راہ رو اولاد کے دکھ کے آگے ہیچ ہو جاتا ہے ۔۔۔۔
جوانی کے دکھ۔۔
جوانی کے غم۔۔۔
امید اور توانائی کے سہارے کٹ جاتے ہیں ۔لیکن پڑھاپے کا معاملہ یکسر مختلف ہے۔
اس میں نہ امید ہوتی ہے ۔
نہ ہی توانائی۔
اور نہ ہر سردی گرمی کو سہنے کے لیے صحت۔۔
اگر ہم انہیں وقت کے ترازو میں رکھ کر دیکھیں تو یہ آ ج کی باتیں آ ج کے مسائل اور آ ج کے دکھ بے حد ہلکے ہیں۔۔۔
تو کیاہمیں محشر سے پہلے ایک اور محشر بھگتنا ہے۔۔
اپنی جانے انجانے میں کی گئی اولاد کی تربیت کی کمیوں اور کوتاہیوں کا خمیازہ اس قدر خوفناک ہو سکتا ہے میرے لیے یہ سب کچھ بے حد تکلیف دی تھا۔۔۔
(جاری ہے۔)
تحریر آ پ کو کیسی لگی؟
اپنی رائے سے کمنٹ سیکشن میں ہمیں ضرور آگاہ کیجئے۔۔پسند آ ئے تو شیر کریں۔کاپی پیسٹ کرنے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آپ اس سے آگاہ ہو سکیں۔۔گوشہءنور۔۔
https://www.facebook.com/104763384584903/posts/213717720356135/
” خواتین اور سلوک”کے بقایا پارٹس پڑھنے کے لئے نیچے دئے گئے لنک پر کلک کریں۔
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں ۔۔نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔شکریہ۔
http://goshaenoor.com

خواتین اور سلوک ۔ (پارٹ ۔ 10)

Related Posts

Leave a Reply