خواتین اور سلوک ۔ (پارٹ ۔ 11)

خواتین اور سلوک۔۔۔( سبق نمبر ۔۔۔11)

عورت کی رزا
ایک عورت جو ابھی نئی زندگی میں اپنے آپ کو ایڈجسٹ ہی نہیں کر پا رہی ہوتی ۔۔۔
نئے رشتے نئے ماحول سے ہم آ ہنگ ہونا ۔۔۔۔
اس کے لئے ایک وقت درکار ہوتا ہے اوپر سے ماں جی نے اولاد کی ذمہ داری اور مستقبل کا خوف ناک نقشہ کھینچ کر میرے دل و دماغ کو عجیب طریقے سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔۔
کیا زندگی کا یہ پہلو اتنا ہی سنجیدہ اور کھردرا ہے۔۔۔
چٹیل میدان کی طرح بے آباد اور سپاٹ۔۔۔
پھر ازدواجی زندگی کی خوشیاں۔۔۔
یا زندگی کے خوشنما رنگ کہاں ہیں ؟؟؟
اولاد کی خوشیاں ؟؟؟
کیا یہ محض لفاظی کے دھوکے ہیں؟؟
ان سب میں عورت کا اپنا وجود کہاں ہے ؟؟
وہ کہاں کھڑی ہے ؟
اس کی خوشی کس چیز میں پنہان ہے؟؟
اس کے جینے کے سارے رنگ مجھے جھولی میں پڑے ہوئے رنگ برنگے موتیوں کی طرح نیچے گر کر بکھرتے ہوئے محسوس ہوئے۔۔۔۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھاحقیقت کیا ہے ؟
زندگی سراب ہے ؟
خواب ہے؟
یا چپ چاپ آ نکھیں بند کرے پی جانے والا کڑوے مشروب کا ایک گھونٹ؟؟
میرے اندر کلبلاتی ہوئی عورت کے سوالات کی گونج شاید ماں جی نے بھی سن لی ۔
وہ فوراً میری طرف متوجہ ہوئیں اور بولیں ۔۔
خیریت ہے ؟
شایدکسی خیال کی ریشمی ڈوریاں تمہیں الجھا رہی ہے ہیں بیٹا؟
جب تک ذہن من صاف اور خالی نہ ہو سیکھنے کا عمل رک جاتا ہے۔اپ کے ذہن میں اگر کوئی سوال پیدا ہو رہا ہے تو آ پ پوچھ سکتی ہیں۔۔
اور ان کی کی شہ پا کر میں نے اپنے دل میں اٹھنے والے سوالات جھٹ سے ان کے آگے رکھ دیئے۔۔
میرے سوالات میرے ارد گرد بیٹھی خواتین کے دل کی آواز بن گئے۔۔ اور انہوں نے بھی بھرپور انداز میں میری بات کی تائید کی۔۔
ماں جی ہماری باتیں غور سے سنتی رہی ہیں۔۔
اپنی بات مکمل کر کے میں خاموش ہو گئی ۔۔میرے سوالات سے ملتے جلتے سوالات کی گونج میرے ارد گرد بیٹھی ہوئی خواتین نے بھی اپنے اپنے الفاظ میں ماں جی کے سامنے پیش کر دیے۔۔
ہم خواتین کیا کریں؟
کہاں جائیں ؟
کیا عورت صرف قربانی اور مشقت کا ہی نام ہے ؟
کیا عورت کی مرضی اس کی خواہشات۔۔۔
عورت کی رضا ۔۔۔
اس کی سلطنت کہیں بھی نہیں ہے ؟
ہمارے سوال بڑی توجہ کے ساتھ ماں جی سن رہی تھی۔
ان کے چہرے کے جذبات دیکھ کرمیں کوئی اندازہ نہیں لگا پا رہی تھی کہ کیا وہ ہم سے اختلاف کر رہی ہیں ؟
یا ہمارے سوالات انہیں بالکل ٹھیک معلوم ہو رہے ہیں؟
ایک عام عورت کی آواز ایک شادی شدہ بچوں والی گھریلو عورت کی پکار ۔
اپنے اپنے دل کے غبار نکال کر ہم سب خاموش ہوگئیں۔
لیکن ماں جی کا جذبات سے عاری چہرہ مجھے اندر ہی اندر کشمکش میں مبتلا کر رہا تھا ۔۔۔
کیا میں نے بات اور اس کا رخ کہیں غلط سمت تو نہیں موڑ دیا ۔۔۔
میرے اندر کی مثبت سوچ نے مجھے سرزش کی۔۔
میں دل ہی دل میں اللہ سے سے دعا مانگنے لگی..
” یا اللہ دل میں اٹھنے والے خیالات اور سوالات تو انسان کے بس کی بات نہیں ہیں۔ اگر میں نے غلطی کی ہے تو مجھے معاف کر۔”
ابھی میرا اللہ سے دعا اور کلام کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ ماں جی آ واز کہیں دور سے آ تی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔۔
خوشی کیا چیز ہے ؟
نعمت کیا ہے ؟
آپ کے سوالوں کا جواب اس وقت تک آپ کی سمجھ میں نہیں آئیں گے جب تک ک آپ کا کونسیپٹ اس بارے میں کلیئر نہ ہو کہ خوشی کیا ہیں؟
اور نعمت کسے کہتے ہیں؟؟
وہ سکون اور وہ زندگی جس کی تکمیل ۔۔
جس کی خواہش انسان کو بے قرار رکھتی ہے وہ دراصل کیا ہے ؟
کہاں ہے؟
کیسے میسر ہو سکتا ہے؟
ان کا لہجہ اللہ بے حد سنجیدہ تھا ۔ان کی نرم خو طبیعیت اور مسکراتے ہوئے چہرے پر یہ سنجیدگی کچھ اجنبی سی محسوس ہو رہی تھی۔
شاید اس وقت وہ کوئی بہت اہم بات سمجھانے جا رہی تھی۔۔
بالکل ایک استانی کی طرح جو بچوں کو ان کا امتحانی پرچہ تھما دینے کے بعد کچھ ضروری ہدایات دے رہی ہوتی ہے۔۔۔
اسے کچھ اہم نکات سمجھانے کی جلدی ہوتی ہے تاکہ بچے وقت پر اپنا امتحانی پرچہ شروع کر سکیں۔۔
سوال کرنے کے بعد وہ ہمارے جواب کی منتظر تھیں۔۔
ان کی منتظر نگاہیں ہمارے چہروں پر جمی ہوئی تھیں۔۔
وہ بالکل سنجیدہ نظر آرہی تھیں۔
ان کا سوال سن کر میں نے اپنے من میں اپنی سوچوں کے گھوڑے تیزی سے دوڑ انے شروع کیے۔۔۔
یہ کیسا سوال ہے خوشی کیا ہے ؟
یہ صنف نازک ہے ۔جسمانی طور پر ناتواں اور کمزور ۔۔۔
پھر اس کی زندگی اتنی کٹھن کیونکر ہے؟
دیکھیں ناماں جی شادی کے بعد زندگی میں عورت کی ہر خوشی اس کے شوہر کی ذات میں پنہان ہوتی ہے۔۔
اگر وہی اس کا قدردان نہ ہو ۔۔
اس کا خیال نہ رکھیں اس کے جذبات کا قدر دان نا ہو نہ ہو تو پھر اس کی زندگی میں خوشی کہاں رہ جاتی ہے ؟
میں ابھی اپنی سوچوں کو سوال کے لئے الفاظ کا جامہ پہنا نہیں پائی تھی کہ میرے ساتھ بیٹھی ہوئی خاتون بول پڑی۔۔۔
ماں جی نے ایک نظر ہم سب کے چہروں پر ڈالی۔ جیسے اس کے سوال کے لئے ہماری رضامندی لے رہی ہوں۔ ہمیں خاموش دیکھ کر انہوں نے اندازہ لگا لیا کہ کہ کچھ ایسی ہی سوچیں ایسے ہی خیالات ہمارے بھی ہیں ۔۔
ذرا توقف کیا پھر بولی ۔۔
انسان مرد ہو یا عورت اس کا مسکن اس کا ٹھکانا درحقیقت یہ دنیا نہیں ہے ۔۔۔
انسان اس دنیا کا باسی نہیں ہے۔۔
اس کی روح جنت سے آ ئی ہےوہ جنت کا باسی ہے ۔۔۔
ازل سے جنت کے لیے بنایا گیا ہے ۔۔
اس دنیا میں اسے اللہ کریم نے مقررہ وقت کے لئے بھیجا ہے ۔
یہ دنیا دراصل اس کا ٹھکانہ نہیں ہے۔۔
اس کی روح اس جہاں کی باسی ہے ہی نہیں۔
نہ ہی یہ اس کا ازلی ٹھکانا ہے ۔۔
جہاں سے یہ آ ئی ہے۔ اور جہاں اسے ہمیشگی رہنا ہے یہ ہر وقت اسی کے لئے بے قرار رہتی ہے۔۔
اسی کی کھوج میں رہتی ہے ۔۔
وہیں کے اصول وہیں کے قوانین اور وہاں کی رنگینیاں اس “دار الامتحان “میں ڈھونڈ تی ہے۔اور پانا چاہتی ہے۔
دراصل یہی انسان کے اضطراب اوراس کی بے قراری کی بنیادی وجہ ہے۔۔
اگر ہم اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیں ہماری جملہ پریشانیاں ختم سکتی ہیں ۔۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احادیث میں اسی بات کو واضح کیا ہے کہ دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے ۔۔
آپ نے فرمایا دنیا میں اس طرح زندگی گزارو جیسے ایک مسافر گزارتا ہے ۔۔۔
قید خانے میں نہ تو انسان کو جملہ سہولیات مل سکتی ہیں اور نہ ہی مزے ۔۔۔
اور مسافر بھی زندگی میں آ نے والی مشکلات کو اتنی سنجیدگی سے نہیں لے رہا ہوتا۔۔
بلکہ اس کا مطمح نظر منزل پر بحفاظت پہنچنا ہوتا ہے۔
اس کو معلوم ہوتا ہے یہ سفر ہے ۔۔
گزر جانا ہے ۔سفر میں صعوبتیں برداشت کرنا ہی پڑتی ہیں۔ اصل راحت تو منزل پر پہنچ کر ہی میسر ہوتی ہے۔
مسافر کی پوری توجہ اپنی منزل پر ہوتی ہے ۔۔۔
وہ اپنے تمام وسائل اور اپنی سب توانائیاں اس بات پر صرف کرتا ہے کہ اس کا سفر بخیر گزرے ۔۔۔
وہ راہ سے بھٹک کر اپنا بینڈا کھوٹاکرنا نہیں چاہتا۔
اور نہ ہی سفر میں آرام و آسائش اور حقیقی راحت کا متلاشی ہوتا ہے ۔۔
اسے معلوم ہے۔ وہ جانتا ہےکہ اسے بہرحال یہاں سے گزر جانا ہے ۔ اور یہ حقیقی راحت و آسائش کی جگہ نہیں۔
اگر راستے میں کہیں حسین وادیاں دلکش نظارے بھی اسے میسر ہو ں تب بھی وہ رک کر وہاں جی نہیں لگاتا ۔۔
راستے کے حسین نظاروں میں مست ہو کر اپنا وقت ضائع نہیں کر تا۔۔
بلکہ اگر وہ دیکھے کہ کچھ لوگ راستے میں کہیں حسین نظارے دیکھ کر پڑاؤ ڈال رہے ہیں۔۔۔
اور اپنے سفر سے ان کی توجہ ہٹ گئی ہے اور وہ راستے کی دلکشی کو ہی اپنا سب کچھ سمجھ کر لھو لعب میں مشغول ہیں تو وہ انہیں دیکھ کر عبرت پکڑ تا ہے۔
دل ہی دل میں ان پر رحم۔کھاتا ہے۔۔
ایک سمجھدار اور عقلمند مسافر کی نظر ہر لمحہ اس بات پر ہوتی ہے کہ وہ اپنے راستے سے بھٹک نہ جائے۔اس کی نظر منزل پر ہوتی ہے ۔۔
یہی حقیقت ہے۔ اور یہی انسانی حیات کا فلسفہ ہمیں اسلام سکھاتا ہے۔۔
اسی طرح قید خانے میں پڑا ہواقیدی بھی جیل کو اپنا مقدر سمجھ کر وہاں جی نہیں لگاتا ۔۔
اس کی توانائیاں اس کی صلاحیتیں اور اس کی سوچوں کا مرکز اور محور رہائی ہوتی ہے ۔۔
وہ ہر وقت اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ اس سے کوئی ایسی غلطی سرزد نہ ہو جائے وہ کچھ ایسا نہ کر گزرے کہ اس کی رہائی مشکل ہو جائے جو اس اسیری میں اس کے لیے مزید صعوبتوں کا باعث بن جائے۔۔
وہ اچھی طرح جانتا ہے ہے یہ قید کا زمانہ محدود ہے اور بلآخر اسے رہائی ملنی ہے ۔۔
اور وہ رہائی ہی اس کی منزل ہے ۔ اس کی سوچوں کے عین مطابق۔۔
اس کے لئے باعث راحت و سکون۔۔
اللہ کریم نے انسان کو دنیا میں بھیجا ساتھ ایک ہدایت نامہ بھی بھیج دیا۔۔۔
تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اس کا دنیا میں آنے کا مقصد پسند اور طریقہ سمجھا جا سکے۔۔
انسان جنت سے آیا ہے ۔۔
اس لیے اس کی روح لاشعوری طور پر پر وہی سب آسائشیں اور سہولتیں ڈھونڈتی ہے جو صرف اور صرف جنت کا خاصہ ہیں ۔۔۔
مثلا انسان چاہتا ہے اس کی جوانی ہمیشہ برقرار رہے ۔۔
وہ وہ بے حد خوبصورت بہت دکھنا چاہتا ہے۔۔
ہر روز اپنے حسن میں نئی تازگی دیکھنا چاہتا ہے ۔۔
وہ ہمیشہ صحت مند رہنا چاہتا ہے ۔۔
بیماری اسے بالکل نہیں بھاتی۔۔۔
زندگی کو مشقت کے بغیر سکون سے گزارنا چاہتا ۔۔
اپنے سے وابستہ رشتوں کے ساتھ بے حد موج مستی والی زندگی گزارنا چاہتا ہے ۔۔
ایسی زندگی جس میں ذمہ داریوں کا کوئی بوجھ اس پر نہ ہو ۔۔
کیوں ایسا ہی ہے نا؟؟
انہوں نے اپنی بات مکمل کرکے سوالیہ نگاہوں سے ہماری جانب دیکھ کر کہا. ….(جاری ہے)۔

Related Posts

Leave a Reply