خواتین اور سلوک ۔ (پارٹ ۔ 12)

گوشہءنور کے سالکین۔۔سبق نمبر۔۔29
خواتین اور سلوک۔۔(پارٹ۔۔ 12)
حقیقی گھر۔
زندگی کی حقیقت یہی ہے ۔ یہ ایک سفر ہے جسے ہم سب نے ہر حال میں طے کرنا ہے ۔۔
اس سفر کے مختلف مراحل ہیں۔ اس سفر کے تمام قواعد و ضوابط اور منزل کے بارے میں تمام تفصیلات قرآن و حدیث میں موجود ہیں ۔جنہیں اپنی عملی زندگی میں آ قا علیہ الصلواۃ والسلام اور ان کے گھرانے نے اپنا کر ہمسرے لیے مثالیں چھوڑیں ہیں۔
اور جس نے اس حقیقت کو سمجھ لیا ۔۔
جان لیا۔۔
سیکھ لیا ۔۔
وہی کامیاب ہوا۔۔
ماں جی اپنی بات مکمل کر کے کے خاموش ہوگئیں۔۔
ہم سب جب ماں جی کی ان باتوں کو اپنے اندر جذب کرنے کی جدوجہد میں تھے ۔۔
شاید یہ حقیقت ہم سب سے جاننے کے باوجود قبول کرنی مشکل ہو رہی تھی۔۔
ہمارے اندر کے اس تلاطم کو ماں جی نے محسوس کیا اور نرم لہجے میں بولیں۔۔۔
عورت اور مرد کی سوچ میں ایک بنیادی فرق ہوتا ہے۔۔
ہمارے معاشرے میں ایک عورت کو جب ہوش سنبھالتے ہی یہ احساس دیا جاتا ہے کہ اس کی تمام خواہشات کی تکمیل ایک مرد سے وابستہ ہے ۔۔۔
شادی سے پہلے وہ مرد باپ اور بھائی کے روپ میں اس کے ناز اٹھاتا ہے ۔۔
اس پر جان چھڑکتا ہے ۔۔
اور اور حتی الامکان اس کی خوشیوں کا اور خواہشات کا خیال رکھا جاتا ہے۔۔۔
اس کے ساتھ ساتھ آج کی ماڈرن اور تعلیم یافتہ عورت جو زندگی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا چاہتی ہے ۔کسی نہ کسی شعبہ ہائے زندگی میں ملازمت اختیار کرتی ہے معاشی طور پر بھی مضبوط ہے ۔اس کو عملی زندگی میں درپیش مسائل اس سے بھی زیادہ گمبھیر ہیں۔
ہمارے ہاں ایک عورت کو اس کے ارد گرد کا ماحول شروع سے یہ باور کروتا رہتا ہے کہ تمہارا حقیقی گھر شوہر کا گھر ہے ۔
شادی کے بعد تمہاری تمام خواہشات اور خوشیاں تمہارے شوہر سے وابستہ ہیں ۔
کیوں ایسا ہی ہے نا ں؟
ماں جی نے روانی سے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے ہماری جانب ایک گہری نگاہ ڈالی ۔۔
جی یقینا ماں جی درست کہہ رہی تھیں۔ ہم نے سعادت مندی سے کہا۔
لڑکی کے دل میں وقت کے ساتھ یہ بات پختہ ہوجاتی ہے کہ شادی کے بعد کی زندگی اس کی اپنی زندگی ہے ۔
جہاں اس کا راج ہوگا۔۔۔
اسے ایک محبت کرنے والا شوہر ملے گا ۔ جو اس کے ناز نخرے اٹھائے گا۔۔
اس کی تمام خواہشات کو سر آنکھوں پر رکھتے ہوئے ہر حال میں پورا کرے گا۔۔
اور وہ چپکے چپکے دل ہی دل میں ایک تصوراتی زندگی کا خاکہ تیار کر لیتی ہے ۔
مستقبل کے اس خاکے میں کہیں بھی آنے والی عملی زندگی کی بھاری ذمہ داریاں جن کو جانے اور سمجھے بنا زندگی کا سفر طے کرنا بے حد مشکل ہو جاتا ہے ان کے بارے میں میں کوئی بھی معلومات درج نہیں ہوتی۔۔
یہی وجہ ہے کہ شادی کے بعد عورت کی ہر خواہش کی تان اس کے شوہر کی ذات پر ٹوٹتی ہے ۔۔
اور اس دنیا میں کوئی بھی انسان معیار کے اس اعلی مقام پر فائز نہیں ہو سکتا جسے بڑی محنت سے اس نے برسوں سے اپنے من میں سجایا ہوا ہوتا ہے۔
مرد کا معاملہ یہاں مختلف ہے۔معاشرہ اسے بچپن ہی سے باور کروا دیتا ہے کہ اس نے اپنی محنت اور جدوجہد کے بل بوتے پر زندگی گزارنی ہے۔اسے خود اپنے لیے ایک سلطنت تعمیر کرنی ہے۔ایسی سلطنت جہاں اس کی حکومت ہوگی۔۔
اسی کی پوجا ہوگی
وہ بلا خرکت غیر اس کا مالک ہوگا۔
اس کی زندگی میں روزگار کا حصول ایک بڑی کامیابی ہوتی ہے ۔۔
جس کے بعد اسے عملی زندگی میں داخل ہونا ہوتا ہے ۔
مرد کی فطرت میں اللہ تعالی نے میں نے عورت پر خرچ کرنا رکھا ہے ..
وہ محنت سے پیسے کماتا ہے ہے اپنے گھروالوں پر خرچ کرتا ہے۔
ان کی ضروریات پوری کرتا ہے ۔
انہیں سہولتیں دیتا ہے۔۔
اس کے بدلے میں وہ اپنی راجدھانی میں اپنی بادشاہت چاہتا ہے بلا شرکت غیر بادشاہت۔۔۔۔
اپنی اپنی تعریف سننا چاہتا ہے ۔۔
اپنی حاکمیت چاہتا ہے عورت کے وجود پر ۔۔۔
اس کے دل پر اس کے دماغ پر۔۔
وہ اپنی تمام ضروریات اور خوابوں کی تکمیل اپنے زور بازو پر کرنا چاہتا ہے ۔۔
اس کی دنیا وسیع ہوتی ہے.
مرد شادی کو حرف آخر نہیں سمجھتا ہے۔..
ا سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ایک جگہ نبھانا مشکل ہوابھی تو اس کے لئے اور بہت سارے رستے کھلے ہیں ہیں ۔۔
جب کہ عورت کی زندگی میں شادی عام طور پر حرف آ خر ہوتی ہے۔ ۔۔
اس کی تمناؤں کے سارے پھول۔۔
اس کی خوشیاں۔۔۔
اسے ہر حال میں یہیں سے حاصل کرنی ہیں۔۔
وہ اپنی تصوراتی دنیا میں اپنا ایک حقیقی گھر تعمیر کرتی ہے ۔
ایسا گھر جو صرف اس کا ہو ۔
جو اس کی سلطنت ہو۔
جہاں اس کا پیار کرنے والا شوہر ہو۔
جو اس پر پر جان چھڑکتا کے۔۔
اور اس کے تابع فرمانبردار بچے ۔۔۔
وہ اپنے اس حقیقی گھر میں میں خوشیوں بھری زندگی گزارنا چاہتی ہے ۔۔
ایسی زندگی جس میں کوئی نا ہمواری نہ ہو۔۔۔
یہ سب کچھ اسے سے لازماً چاہیے۔۔۔
ایک مذہبی ذہن رکھنے والی لڑکی کی یہ ساری سہولیات ساری محبتیں سمیٹ کر پھر اپنے فارغ اوقات میں اپنے رب کی عبادت بھی کرنا چاہتی ہے۔۔۔
عبادت کے ان اوقات میں کوئی مخل نہ ہو۔۔
نہ شوہر بچے نہ کوئی اور گھریلو ذمہ داری ۔۔۔
ایسی عبادت جس میں اسے سراہا جائے ۔۔۔
ایسی عبادت جس کے کرنے کے بعد ہر طرف سے ستائش بھری نگاہیں اس کا طواف کریں ۔۔۔
اس کی عبادت گزاری پر سب گھر والے اس کے شکر گزار ہوں کہ تم اس گھر میں عبادت کرتی ہو۔۔
اس لیے اس گھر میں اللہ کی بڑی رحمتیں برستی ہیں۔۔
گویا آسانیوں سہولتوں اور محبتوں کے جھرمٹ میں وہ ایک عبادت گزار اور نیک عورت کا ٹیکہ سجا کر اپنے اس خوابوں کے محل کے تخت پوش پر براجمان ہونا چاہتی ہے۔۔
یہی خواب لے کر عملی زندگی میں قدم رکھتی ہے ۔
عملی زندگی یقینا اس کے خوابوں سے مختلف ہوتی ہے۔
وہ سٹپٹا جاتی ہے۔
پھر اس کے اندر ایک اضطراب ایک جنگ شروع ہو جاتی ہے ۔۔۔
بیٹا زندگی تو ایک سفر ہے۔ کیا سفر میں بھی کوئی گھر بنا کر مستقل قیام کر سکتا ہے ؟؟
کیا یہ ممکن ہے ؟
وہ وہ گہری سانس لے کر بولی ایسے جیسے وہ یہاں ہے ہی نہیں ان کی آواز کہیں اور سے آ رہی ہے شاید کسی اور دنیا سے۔۔۔
سفر تو سفر ہوتا ہے ۔اس میں نہ تو قیام طویل ہو سکتا ہے اور نہ ہی سفر میں ماحول یکساں رہتا ہے ۔۔
اس میں تو مختلف منزلیں آ تی ہیں جن کو چلتے چلتے مسافر طے کرتا ہے ۔۔
اس چلنے کے دوران کبھی وہ تھک جاتا ہے۔۔۔
کبھی اس کے پاؤں پر آبلے پر جاتے ہیں ۔۔۔
کبھی وہ شکستہ پا مشکل گھاٹیوں میں اترتا ہے اور کبھی سرسبز و شاداب باغوں میں سے گزرتا ہے ۔۔۔
کبھی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اس کی ساری تھکان دور کردیتے ہیں۔۔۔
اور کبھی وہ کسی خوبصورت نظارے میں کسی سر سبز وادی میں کسی گہرے نیلے پانیوں کی جھیل کے کنارے چند لمحے بیٹھ کر سستا لیتا ہے۔۔۔۔
ماحول کی خوبصورتی اور دلکشی کو گہرے سانس لے کر اپنے من میں یوں سمونے کی کوشش کرتا ہے کہ آگے کہیں کسی تھکاوٹ کے مشکل لمحے میں یہ اندر ذخیرہ کی ہوئی آکسیجن اسے کچھ لمحوں کی شانتی دے سکے۔۔
مسافر یہ جانتا ہے کہ سفر میں آنے والی مشکلات بھی وقتی ہیں اور یہ سرسبز وادیاں خوبصورت نظاروں والی گزرگاہیں بھی لمحاتی ہیں۔۔
سب میں سے اسے سے گزر کر آگے جانا ہے ۔۔
اس میں کہیں بھی قیام نہیں ہے ۔۔
اور جو مسافر سفر میں قیام کرنا چاہتا ہے ۔نظاروں کی دلکشی میں گم ہو کر۔۔۔
وہیں مست ہو کر رہ جانا چاہتا ہے وہ بھی منزل نہیں پا سکتا ۔۔۔۔
وہ ایک سراب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔۔۔
اور جو سنگلاخ چٹانوں مشکل گزرگاہوں میں تھک کر واویلا مچاتا ہے۔۔۔
چیخنے چلانے لگتا ہے ۔۔
اور اسی چیخ و پکار میں سفر کی جدوجہد ترک کر کے اپنی مشکلات پر پر تھک ہار کر بیٹھ جاتا ہے وہ بھی ابھی منزل کو کھو دیتا ہے۔۔
منزل تو ان سب سے آگے ہے۔۔۔۔
منزل تو بے حد حسین ہے۔۔
دلکشی میں لذات میں یہ سب کچھ ہیچ ہے ۔
جو اس دنیا میں ہے۔۔۔
حقیقی دنیا تو آخرت کی دنیا ہے ۔۔
جہاں ہر وہ نعمت موجود ہے۔۔۔
ایسی نعمت جس کو زوال نہیں۔۔
ہر لذت ہر سکھ اور ہر خواہش کی تکمیل ۔۔۔
اس جہان میں میسر ہے۔۔
وہ سب کچھ جس کی تمنا انسان کے دل میں اس کے لاشعور میں ہمیشہ پنپتی رہتی ہے اسی جہان میں ملےگا۔۔
امتحان میں بیٹھا ہوا طالبعلم
اور تمام امتحانات پاس کرکے اعلیٰ مرتبے پر فائز ایک آ فیسر کیا برابر ہو سکتے ہیں؟؟؟……..(جاری ہے)
آ پ کو ہماری تحریر کیسی لگی۔؟اپنی رائے سے ہمیں کمنٹس سیکشن میں ضرور آگاہ کیجئے۔ آ پ کی رائے ہمارے لئے مشعل راہ ہے ..
۔پسند آ ئے تو شیر کریں کاپی پیسٹ کرنے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو اس آ پ اس سے آ گاہ ہو سکیں۔شکریہ۔۔گوشہءنور۔
خواتین اور سلوک کے باقی اسباق پڑھنے کے لئے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
https://www.facebook.com/104763384584903/posts/223392882721952/
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں ۔۔نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔شکریہ۔

خواتین اور سلوک ۔ (پارٹ ۔ 12)

Related Posts

Leave a Reply