خواتین اور سلوک ۔ (پارٹ ۔ 9)

گوشہءنور کے سالکین۔(سبق نمبر ۔۔26).
خواتین اور سلوک۔۔۔۔(پارٹ۔۔9).
رویوں کے بیج۔
آج موسم خوشگوار تھا .نماز عصر کے بعد کا وقت تھا . ہم ماں جی کے پاس بیٹھےگرم گرم چاۓ پی رہے تھے..
ماں جی کا چہرہ شام کی اس ملگجی روشنی میں بھی چودھویں کے چاند کی طرح چمکدار اور روشن تھا ۔ ان کی آنکھوں میں عمر کے اس حصے میں بھی بے حد چمک تھی ۔
عینک کے شیشوں کے پیچھے ان کی آنکھیں چمک دار اور ذہانت سے بھرپور دکھائی دے رہی تھی۔ چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا۔ ایسا سکون جو پاس بیٹھنے والے شخص کی بے قراری اور اضطراب کو دھو ڈالے۔۔
ان کا وجود اتنا لطیف محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ کوئی انسانی جسم ہی نہیں بلکہ فضا میں تیرتی ہوئی ایک لطیف روح ہے ۔ جس کو کسی نے دنیاوی لباس پہنا کر جنت سے انسانوں کے درمیان بھیج دیا ہو ۔۔
معاشرے میں پھیلی ہوئی ہے چینی ، بے قراری اور اضطراب کا کوئی بھی شائبہ ان کے وجود میں نہیں تھا۔ بلکہ وہ تو ایسی روح تھی کہ جو اس کے قرب میں پہنچ گیا وہ اپنے غم اس وجود کی ٹھنڈک میں فراموش کر بیٹھا۔۔۔
میں نے تو سنا تھا بڑھاپے میں انسان کے چہرے پر وہ سارے دکھ اور حالات نقش ہوتے ہیں۔ جن کو اس نے اپنی پوری زندگی میں جھیلا ہوتا ہے ۔
تو کیا مان جی نے زندگی میں کوئی غم نہیں اٹھایا ہوگا؟؟
جو ان کے چہرے پر اس قدر سکون نظر آ رہا تھا۔ مجھے یو ں سوچوں میں گم دیکھ کر ماں جی نے میرے ہاتھ سے چائے کا خالی کب پکڑا اور مسکراتے ہوئے بولی یے آپ کیا سوچ رہی ہو بیٹا؟
خیریت تو ہے ؟
وہ میرے چہرے پر نظریں جماتے ہوئے بولیں۔
جی جی سب ٹھیک ہے۔ میں نے جواب دیا ۔۔
ایک بات پوچھوں ؟
جی بیٹا پوچھیں انھوں نے کہا۔۔
کوئی زندگی امتحانات کے بغیر بھی ہوتی ہے؟؟میں نے پوچھا۔۔
نہیں بیٹا جب اللہ نے کہہ دیا۔۔
لیبلوکم ۔۔۔۔(آپ
سورت المک)
تاکہ وہ تمھیں آ زمائے۔۔۔
پھر آزمائش کے بغیر زندگی کیوں کر ہو سکتی ہے ؟
لیکن آپ کے چہرے کا سکون اور اطمینان دیکھ کر تولگتا ہے جیسے آپ نے کبھی کوئی امتحان دیا ہی نہ ہو۔
میں نے ہمت کر کےاپنے ذہن میں ابھرنے والا سوال ان کے آگے رکھ دیا ۔۔
میری بات سن کر وہ ایک دم سنجیدہ سی ہو گئی میرے ساتھ بیٹھی خواتین میرے اس عجیب سوال پر مجھے گھورنے لگیں۔۔
شاید یہ ایک انتہائی ذاتی نوعیت کا سوال تھا اور مجھے نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔
میں صورتحال سے نروس سی ہو گئی اور فوراً معذرت خواہانہ انداز میں کہا ۔
معافی چاہتی ہوں شاید میں کچھ غلط کہہ گئی ۔ مجھے یہ نہیں کہنا چاہیے تھا ۔۔۔
معذرت خواہ ہوں۔۔
میں فوراً حالات کو سنبھالتے ہوئے بات کا رخ بدلنا چاہتی تھی۔۔
نہیں بیٹا آپ پرسکون رہیں۔۔
میرے سوال کو پوری طرح سمجھ کر اب اس کا جواب دینے کے لیے وہ مکمل طور پر تیار ہو چکی تھی۔
انسانی زندگی میں مختلف مراحل آتے ہیں ۔
بچپن لڑکپن اور پھر جوانی ۔۔۔
یہ عمر انسان کے سیکھنے کی ہوتی ہے۔۔
تعلیم حاصل کرنا زندگی کو سمجھنا اور آنے والے حالات کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنا ۔۔
یہ ہر عورت اپنے والدین کے گھر ان کی شفقت اور محبت کے کے سائے تلے سیکھتی ہے ۔۔
اگلا مرحلہ شادی شدہ زندگی کا ہے۔
یہاں سے عملی زندگی کی ابتدا ہوتی ہے ۔۔
جو کچھ اس نے اپنے والدین کے گھر سیکھا اب اسے عملی میدان میں لانے کا وقت ہوتا ہے۔
اب اس کا عملی امتحان شروع ہو جاتا ہے۔۔
یہ ہر حال میں عورت کے لئے ایک کٹھن اور صبر آزما وقت ہوتا ہے ۔
شادی کے ابتدائی آیام بظاہر بے حد حسین اور دلفریب ہوتے ہیں ۔محبتوں سے بھر پور بڑے جاندار لمحات۔
جن میں اکثریت گم ہو کر بہت دنوں تک حقیقت سے کہیں دور نکل جاتے ہیں جس کا خمیازہ انہیں بعد میں بھگتنا پڑتا ہے۔۔
لیکن در حقیقت اس کی مثال ایسے ہے جیسے کسی مالی کو ایک باغ لگانے کا چارج دے دیا جائے۔۔
ایک بالکل خالی زمین اس کے حوالے کر کے اسے کہا جائے اب یہ تمہاری ہے۔۔۔
یہاں تم نے ایک باغ لگانا ہے ۔۔
یہ تمہاری مرضی پر منحصر ہے کہ باغ کی ہیئت اور وضع قطع کیسی ہو؟؟
اس میں جیسے پودے چاہو لگا لو ۔۔
یہ تمہاری اپنی ملکیت ہے۔۔۔۔
لیکن یاد رکھنا جب یہ باغ بن کر تیار ہو جائے گا تو پھر تم نے اسی باغ میں مرتے دم تک زندگی گزارنی ہے۔۔۔
یہی باغ تمہاری آخری زندگی کے لیے پناہ گاہ ہوگا۔۔۔
چاہو تو اس پناہ گاہ کو صبر شکر رواداری اور حسن اخلاق کے بیج بو کر حسین و جمیل اور خوشبودار اور پھل دار درختوں سے آراستہ کر لو۔۔۔
اور چاہو تو اس میں بدگمانی چغلی بدزبانی اور ناشکری کی جھاڑ جھنکار لگا کر اس کی زرخیزی کو برباد کر لو ۔۔۔
یاد رہے یہ بیج ہیں جو تمھارے بچوں۔۔۔
تم سے وابستہ رشتوں کے دلوں میں بوئے جاتے ہیں۔۔
۔
جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تناور درخت کی شکل اختیار کر لیتے ہیں ۔۔۔
یوں پچاس کی دہائی کے بعد جب تم مڑ کر دیکھتے ہو تو نادانی میں کی گئی چھوٹی چھوٹی غلطیاں یا منفی رویے۔۔۔۔
تم سے وابستہ افراد کے دلوں میں تمہارے لئے لیے منفی رجحان اور نفرت کے قد آور شجر اور خاردارجھاڑیاں بن کر تمہارے بچے بوڑھے ہوتے وجود کو لہولہان کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔
ندامت کے آنسو یا پچھتاوے کی آگ تم سے وابستہ افراد کے دلوں کو تمہارے لیے محبت کی چھاؤں مہیا کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔۔
وقت کا بے رحم دیوتا اب بے نیازی سے تمہیں روندتاہوا جا چکا ہوتا ہے۔۔۔
بے بسی ڈپریشن خوف ناک بیماریاں بڑھاپے کو قابل رحم حالت تک پہنچا دیتے ہیں۔۔۔
معاشرے کی ایک تلخ حقیقت کو بیان کرتے ہوئے مجھے ماں جی کی آواز کہیں بہت دور سے آتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔
یہ ایک حقیقت ہے۔
ایک شادی شدہ عورت جب بیاہ کر اپنے سسرال کے نئےماحول میں نئے رشتوں میں بندھتی ہے تو اس کے لئے اب یہ عمل کا میدان ہوتا ہے ۔۔۔۔
اسے اپنے کردار اور عمل سے اس زمین کو آباد کرنا ہوتا ہے۔۔ جو اس کے نام لکھ دی گئی۔۔
آپ میری بات سمجھ رہی ہیں؟
وہ لمحہ بھر کو رک کر ہم سے مخاطب ہوئیں۔۔
جی ہم نے نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔
لڑکی اپنے سسرال میں مختلف نئے رشتوں میں بندھتی ہے۔۔۔
نیا ماحول نئے رشتے اور فضا بھی اس کے لیے لئے نا موافق ہوتی ہے۔۔
ہر رشتہ اس سے بہت سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہوتا ہے۔۔
بہت کچھ چاہ رہا ہوتا ہے۔۔
لیکن بدلے میں کچھ دینے کو تیار نہیں ہوتا ۔۔۔
وہ ہر طرف سے پر کھی جا رہی ہوتی ہے ۔۔۔
یہاں پر اس کی اس تربیت کا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔۔۔
جو اس نے اپنے والدین کے گھر سے پائی ہوتی ہے ۔۔
اس کا ہر حال میں مثبت رویہ اس کی زندگی کے اس باغ میں ننھی ننھی میں خوشبو دار پھولوں کی پنیری ہوتا چلا جاتا ہے ۔۔۔
اور ایک سمجھدار لڑکی بڑی مہارت سے یہ بیج بونے میں مصروف ہو جاتی ہے ۔۔
بیٹا ابھی آپ عمر کے جس حصے سے گزر رہے ہو یہ باغ لگانے ۔۔۔
بیج بونے۔۔۔
زمین کو بیج بونے کے لئے تیار کرنے کا وقت ہے۔
بیچ بوئے جائیں گے ۔۔۔۔
ننھی ننھی کونپلیں اس میں سے پھوٹے گیں۔۔۔
اسی دوران وقتاً فوقتاً شیطان کے حملے بھی ہوں گے ۔
وہ کیسے؟میرے منہ سے بے اختیار نکلا۔۔
وہ اس طرح کہ انہیں کونپلوں کے درمیان کبھی کبھی تمہارے من میں بدگمانی اور نفرت کی خاردار جھاڑیاں بھی تمہارے باغ کی خوبصورتی اور زرخیزی کو نقصان پہنچانے کے لیے حملہ آور ہو گی۔۔
ایک مرتبہ نہیں بار بار ہوں گی۔۔۔
اور یہ وقت جو تم لوگوں کو مشکل لگ رہا ہے جب آپ اس کی حقیقت کو سمجھ لو گے اس کی اہمیت کا اندازہ لگا لو گے اور اس کے نتائج پر تمہاری نظر ہو گی پھر محنت اور مشقت کا یہ دورتمہارے لیے آسان ہو جائے گا۔..
25 سے50 سال کے درمیان کی عمر۔۔۔۔
یہ عمل کے کرنے کا وقت ہوتا ہے۔۔۔ اس وقت انسان کی توانائیاں اور صلاحیتیں اپنے عروج پر ہوتی ہیں ۔ اس کی جوانی زمانے کے سرد گرم کو سہہ لیتی ہے ۔۔
اس کی امیدوں کا باغ بہت سر سبز ہوتا ہے۔
ابھی آپ لوگوں کو یہ وقت مشکل لگ رہا ہے لیکن در حقیقت وقت مشکل وقت پچاس کی دہائی کو کراس کرنے کے بعد شروع ہوتا ہے جب بیجی ہوئی فصل کاٹنے کا وقت ہوتا ہے ۔۔۔
رو یوں کی پنیری اب تناور درخت بن جاتے ہیں ۔۔
پھر انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ممکن نہیں۔۔
عورت کو نہ صرف اپنے مثبت رویے سے یہ بیج بونا ہوتے ہیں بلکہ اس سرزمین میں ا گی ہوئی خود رو بد گمانی اور منفی سوچ کی چھوٹی چھوٹی جھاڑیوں کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوتا ہے۔۔
اپنے رویے اور اپنے کردار کے بل بوتے پر اسے سالہا سال اس باغ کی آبیاری دیکھ بھال محنت سے کرنا ہوتی ہے۔۔
یہ بیج بونے اور فصل کو تیار کرنے کا وقت ہوتا ہے۔ یہ عرصہ یہ تقریبا 20 سال پر محیط ہوتا ہے ۔۔۔
ان بیس سالوں میں اپنے رویے اپنے کردار نیت کا خلوص۔۔۔۔۔
دوسری طرف بدگمانی بد نیتی نا شکری اور بد اخلاقی۔۔۔
یہ سب انسانی رویے اپنی اپنی نوعیت کی فصل تیار کرتے ہیں ۔۔۔۔
ان سب حالات میں سے جب ایک عورت اللہ کے احکامات کو سمجھ کر اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھرانے سے رشتہ جوڑ کر ایکٹ کرتی ہے۔۔۔
عمل کرتی ہے ۔۔
زندگی بسر کرتی ہے ۔۔
صاف دل اور خلوص نیت کے ساتھ ساتھ ہر منفی رویے کو مثبت رویے سے ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔۔۔
جیسا کہ اللہ تعالی کا حکم ہے “
برائیوں کو اچھائیوں سے دفع کرو “۔
تو پھر اللہ تعالی بھی اس کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔۔
اس کے ایمان کی برکت ۔۔۔
اس کی سوچ اور نیت کی پاکیزگی کا ثمر اس کی اولاد کے کردار کو اعلی اور بلند شخصیت کے سانچے میں ڈھال دیتا ہے۔۔۔
وہ اپنا صبر اپنا ایمان اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھرانے سے اپنی محبت قطرہ قطرہ اپنے دودھ کے ساتھ اولاد کے وجود میں اتار دیتی ہے ۔۔۔
اور یوں غیر محسوس طریقے سےوہ خوبصورت کردار کے افراد تشکیل دے کر معاشرے کے حوالے کر تی ہے اوراپنے ر ب العزت سامنے سرخرو ہو جاتی ہے۔۔
حالات معاملات اور تعلقات۔۔۔۔۔
یہ سب گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ بے حد مضبوط اور تناور درخت کی شکل اختیار کر لیتے ہیں ۔۔۔
وہ منفی کردار دار اور منفی رویوں سے سینچا ہوا نفرتوں کا باغ۔۔۔
جس میں خاردار جھاڑیاں بڑھاپے میں اس کی قوت اور اختیارات چھن جانے کے بعد بڑی بے رحمی سے اسے لہولہان کرنے اور دبوچنے کے لئے تیار ہوتی ہیں ۔۔۔
دوسری طرف ۔۔۔۔
مرد۔ ایک دنیا دار مرد۔۔
ایک منفی کردار کا حامل مرد ۔۔
اپنی جوانی طاقت حضرت اور انا کے نشے میں دھت مرد۔۔۔
ضروری نہیں کہ وہ بھی ہمیشہ ایسا ہی رہے۔۔
بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ساتھ اس کی توانائیاں دم توڑنے لگتی ہیں۔۔
اس کی جوان ہوتی ہوئی اولاد اب اس کی جوانی کی لغزشوں کے آگے سوالیہ نشان بن کر کھڑی ہونے کے قابل ہو جاتی ہے۔۔۔
ایسے میں اپنے آپ سے نگاہیں چرا تا ہوا مرد اندر ہی اندر شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا شروع ہو جاتا ہے
اب اس میں بھی ایک تبدیلی کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔۔
عام طور پر یہ تبدیلیاں مثبت انداز میں اس کی شخصیت کو یکسر تبدیل کر دیتی ہیں۔۔ (جاری ہے)۔
ہاں آپ کو ہماری یہ تحریر کیسی لگی؟ اپنی رائے سے ہمیں کمنٹس سیکشن میں ضرور آگاہ کریں.. پسند آئے تو اسے شیئر کریں۔ کاپی پیسٹ کرنے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آپ اس سے اگاہ ہوسکے شکریہ ۔۔گوشہ نور۔
“خواتین اور سلوک” کے بقایا پارٹس پڑھنے کےلئے لنک پر کلک کریں۔۔
https://www.facebook.com/104763384584903/posts/207204361007471/
گوشہءنور کی تمام تحریریں پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں شکریہ۔

خواتین اور سلوک ۔ (پارٹ ۔ 9)

Related Posts

Leave a Reply