گوشہءنور کے سالکین۔۔سبق نمبر۔۔۔31
خواتین اور سلوک۔۔پارٹ ۔۔14۔
“عورت سلوک اور دنیا درای ۔”
اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم دنیا دار ی کو تیاگ دیں؟
بلکل سادھوؤں کی سی زندگی بسر کریں۔
خواہشات کو کچل کر مکمل طور پر معاشرے میں الگ تھلگ اپنی دنیا سجا لیں۔۔
کیا تارک الدنیا ہو نا ہی دین ہے؟
میرے ساتھ بیٹھی ایک خاتون جنہوں نےغالبا عملی زندگی میں نیا نیا قدم رکھا تھا اماں جی باتیں سن کر بولیں۔
بننا سنورنا اچھا لباس اچھا گھر اور آ سودہ زندگی کی خواہش مند عورت کیا اسلام کی روح کو نہیں پا سکتی۔؟
راہ سلوک پر قدم نہیں رکھ سکتی۔؟ جبکہ یہ سب اللہ کریم نے انسان اور خصوصاً عورت کی جبلت میں رکھا ہے۔
وہ شاید اپنے سارے سوالات کے جواب ایک ہی مرتبہ جاننا چاہتی تھی۔
اس نے اپنی بات مکمل کی ۔سب خاموشی سے اس کے سوال سن کر ماں جی کے جوابات کے منتظر تھے۔
واقعتاً ماحول اور معاشرے کی ضروریات کو دیکھا جائے تو اس کے سوال میں وزن تھا۔
میں بھی سوچ کے اس زاویے کی کھڑکی میں کھڑی حالات کا جائزہ لینے لگی۔
مچھلی کی ضرورت پانی ہے۔وہ پانی کے بغیر جی نہیں سکتی مر جاتی ہے.کیوں ایسا ہی ہے ناں؟
ماں جی نے کہا۔
جی جی۔۔۔ہم نے اثبات میں سر ہلایا۔
تو کیا وہ ہر وقت پانی ہی پیتی رہتی ہے ؟
انکی سوالیہ نگاہیں ہماری جانب اٹھیں۔۔
نہیں ہم نے کہا ۔۔۔
جس طرح مچھلی کو اپنی حیات برقرار رکھنے کے لئے پانی کی ضرورت ہوتی ہےلیکن بقدر ضرور ت بالکل اسی طرح انسان کے لیے دنیا ضروری ہے لیکن بقدر ضرورت ۔۔۔۔
ورنہ محض اللہ کی حمد و ثناء کے لیے ملائکہ موجود تھے۔
دنیا بقدر ضرورت ۔۔۔۔
جتنی دنیا کی ضرورت ہے اتنا اسے اختیار کرو ۔۔۔
مومن کی شان یہ ہے وہ دنیا میں رہتا ہے لیکن دنیا اس
میں نہیں رہتی ۔
وہ دنیا کو اپنے اندر داخل نہیں ہونے دینا۔۔
وہ مخلوق میں رہتا ہے لیکن اس کا دل خالق سے متصل ہوتا ہے۔
مخلوق کے دروازے اپنے لیے بند کر لے۔اور اپنے دروازے مخلوق پر کھول دے یہ مجاہدہ ہے۔
مچھلی کی حیات کے لئے پانی لازم ہے ۔ لیکن اسے معلوم ہے کہ وہ اسے غٹاغٹ اپنے حلق سے نہیں اتار ے گی۔۔۔
بلکل اسی طرح ایک مومن جانتا ہے کہ اس دنیا کی آ زمائش اور امتحانات ہی رب تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں۔ان میں سے گزر کر ہی اسے اپنے رب کو پانا ہے۔لیکن اس میں دل نہیں لگانا۔ اگر اس نے دنیا کو اپنے دل میں داخل ہونے دیا تو یہ اس کے ایمان کی موت ہے۔۔
اس کی روحانی بقاء اسی میں ہے کہ وہ دنیا کو بقدر ضرورت اختیار کر ے۔۔
وہ دنیا میں رہے لیکن دنیا اس کے اندر نہ رہے۔
مومن دنیا میں مقصد کے لیے آ یا ہے مطلب کے لیے نہیں آ یا۔
انسان اللہ کا خلیفہ ہے۔۔
اشرف المخلوقات۔۔۔
اسے رب نے اپنے لیے بنایا ہے۔۔
اور یہ ساری دنیا اس کے لیے ہے۔۔۔
رب سے تعلق بنا کر تو دیکھو۔۔۔
بات کرتے کرتے ان کا لہجہ بدل سا گیا یوں جیسے وہ ہمارے پاس ہوں ہی ناں کہیں اور ہوں تو شاید وہ اس لمحے واقعتاً کہیں اور ہی تھیں ۔۔
دنیا داری دنیا کی آسائشیں لباس سالک کی زندگی میں کیا اہمیت رکھتے ہیں؟ اس بات کو سمجھنے کے لیے ہم شیخ عبدالقادر جیلانی کی زندگی کی جانب دیکھتے ہیں ۔
ایک مرتبہ آپ جا رہے تھے آپ کے جسم پر بیش قیمت دستار تھی جس کی قیمت لگ بھگ 70 ہزار دینار تھی ۔۔
ایک شخص نے دیکھا اور سوچا یہ تو بہت اللہ والے ہیں پھر انہوں نے اتنا قیمتی لباس زیب تن کیا ہوا ہے۔۔ یہ خیال اس کے ذہن میں پیدا ہوا تو اتنے میں ایک شخص آیا اس نے نے شیخ عبدالقادر جیلانی سے مانگا اور ان کے آ گے ہاتھ پھیلایا ۔۔۔
آپ نے وہ قیمتی دستار اتاری اور ا سے ہدیہ کر دیتی۔۔ مطلب یہ ہے کہ نعمتیں بھلے کتنی ہی حاصل ہوں ۔۔
مال واسباب کا ہونا بری بات نہیں لیکن ان پر بھروسہ کرنا ایمان والے کی شان نہیں۔ ۔
مال ہو لیکن اس کی محبت دل میں نا ہو۔
یہی اسلام کی روح ہے۔اس کا تقاضہ ہے۔
اور سرور کونین آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو دعائیں اپنی امت کو مانگنی سکھائیں ان میں یہ دعا اس مضمون کو ہمیں بہتر طور پر سمجھا رہی ہے۔۔
: اللَّهمَّ اكْفِني بحلالِكَ عَن حَرَامِكَ، وَاغْنِني بِفَضلِكَ عَمَّن سِوَاكَ. رواهُ الترمذيُّ ۔
دعا کے پہلے حصے میں اللہ سے مانگا جا رہا ہے اور اس کے آخری حصے میں اللہ سے درخواست کی گئی ہے کہ اللہ مجھے یہ سب عطا فرما لیکن “واغننی بفضلک عمن سواک”
” اپنے فضل سے مجھے اپنے سوا سب سے بے نیاز رکھ۔”
مطلب یہ کہ دنیا کی نعمتیں حاصل ہوں ۔لیکن جب نعمت اللہ اور رب کے تعلق میں دیوار بننے لگے تو وہ نعمت نہیں رہتی۔۔
نعمت اس وقت تک نعمت ہے جب تک وہ اللہ اور بندے کے درمیان حائل نہیں ہے ۔ بلکہ اگر ہم اسے اسلام کے صحیح تناظر میں دیکھیں تو سب سے بڑی نعمت ہی اللہ اور اس کے بندے کا تعلق ہے۔
انسان دنیا میں رہے لیکن دنیا اس کے اندر نہ رہے ۔۔۔
یاد رکھو اللہ کریم نے انسان کو اپنے لئے بنایا ہے اور دنیا بلکہ جنت کو بھی انسان کے لئے ۔۔۔
اگر یہ نقطہ آپ سمجھ جائیں تو آپ کو دنیا داری کا وہ انداز سمجھ میں آجائے گا جس کی اسلام اس سے مطالبہ کرتا ہے۔
ماں جی اب پھر ایک استانی کی طرح ہمیں سمجھا رہی تھیں۔
دنیا کو تیاگ کر پوری طرح راہبانہ زندگی اختیار کرنے سے ہی انسان رب تک پہنچتا ہے یہ تصور اسلام کی عین روح نہیں ہے ۔
جس طرح ایک عورت اپنی زندگی میں ناپاکی اور نجاست کے مخصوص ایام سے گزرتی ہے ان ایام سے گزرنا اس کے لئے باعث کراہت ہے ۔۔
نا پسندیدہ ہے۔۔۔۔
اس کی روح کی لطافت پر گراں گزرتا ہے ۔۔۔
لیکن اسے معلوم ہے کہ یہی وہ رستہ ہے وہ راز ہے جس میں اس کے وجود کی بقا ہے ۔۔۔
ماں بننا ایک عورت کی زندگی میں اس کے وجود کی معراج ہے ۔۔
اس معراج کو پانے کے لئے اس کے اندر رب نے جو یہ نظام رکھا ہے اسے اس میں سے گزرنا ہے ۔۔
اسے برداشت کرنا ہے خوش اسلوبی اور رازداری سے گزارنا ہے ۔۔
اگر کسی عورت میں یہ نظام کسی وجہ سے متاثر ہو تو وہ کبھی ماں نہیں بن سکتی ۔۔۔
ماں کے رشتے کی معراج کو پانے کے لیے اپنے وجود کے کے اظہار کے لئے رستہ ہے ۔۔
اسے اس نجاست کو ہر حال میں برداشت کرنا ہے۔۔
بالکل یہی مثال ایک سلوک کے مسافر کی ہوتی ہے ۔
ایک صوفی کی ہوتی ہے۔۔
بلکہ اگر میں کہوں کہ ہر مومن ہی راہ سلوک کا مسافر ہے ۔کیوں کہ اسلام کا روح کے بغیر کوئی تصور نہیں ہے تو یہ بات غلط نہیں ہوگی۔۔۔
اسی طرح ایک مومن کے لئے دنیا داری کے سارے رنگ اس کے اطوار اس کے رسم و رواج ہیں۔
نجاست کے یہ ایام عورت کی بقا کے لیے ضروری ہیں۔ اور وہ انہیں کراہت سے گزارتی ہے ۔اتنی ہی دنیا ایک مومن کے لئے لیےاہم ہے۔
دنیا میں آزمائش نہ ہو۔۔
نفس نہ ہو۔۔
امتحانات نہ ہو ں۔۔۔
صرف اور صرف عبادات ہی ہوں تو پھر اللہ کو اپنی عبادت کے لیے ملائکہ کی کوئی کمی نہیں تھی۔۔۔
انسان کو اگر ملائکہ سے افضل رتبہ ملا ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ انسان کو اختیار دیا گیاہے۔۔۔
پھر اس کے لیے رنگینیاں دنیا کی چکا چوند اس کے سامنے ایک جادو نگری کی طرح پھیلا دی گئی۔۔ لیکن ایک انسان کو پتہ ہے کہ اس دنیا کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔۔۔
یہ سب فریب ہے ۔
حقیقت صرف اور صرف انسان اور اس کے رب کا تعلق ہے ۔ جب کوئی اس حقیقت کو پا لیتا ہے تو پھر وہ نفس مطمئنہ نہ حاصل کر لیتا ہے۔۔
اپنی بات مکمل کرکے ماں جی نے میں نے ہماری طرف دیکھا ۔۔۔
شاید وہ بولتے بولتے تھک گئی تھی ۔اور اب تھوڑا سانس لینا چاہتی تھیں۔
میں نے آگے بڑھ کر پانی کا گلاس اٹھایا اور انہیں پیش کیا ۔
انہوں نے مسکراتے ہوئے گلاس پکڑا اور ہماری جانب یوں دیکھا جیسے ہم سے ہمارے جواب کی منتظر ہیں۔ جو انہوں نے ہمیں بتایا جو سکھایا کیا ہم اپنے اندر اتارنے میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔یقینا جاننا چاہتی تھیں۔
(جاری ہے)۔
آ پ کو ہماری یہ تحریر کیسی لگی؟اپنی رائے سے ہمیں کمنٹ سیکشن میں ضرور آگاہ کیجئے شکریہ۔اپ کی رائے ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔
تحریر پسند آئے تو شیئر کریں کاپی پیسٹ کرنے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آپ اس سے آگاہ ہو سکیں۔۔۔ شکریہ۔۔.(گوشہ ءنور).
خواتین اور سلوک کے بقایا پارٹس پڑھنے کے لئے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

Related Posts

Leave a Reply