گوشہءنور کے سالکین۔۔۔(سبق نمبر۔۔24)۔
خواتین اور سلوک۔۔۔۔پارٹ۔7۔
(برداشت اور صبر میں فرق)
یہ رشتہ بہت اہم ہے ۔اسی لئے ہمیں نظر آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس رشتے کی حدود وفرائض مقرر کئے ہیں۔ اور فریقین کی ذمہ داریاں بہت احسن طریقے سے بیان کی ہیں۔
اسلام کی یہ خوبی ہے کہ وہ فریقین میں دونوں کی الگ الگ تربیت کرتا ہے۔۔
جہاں یہ مردوں کے حقوق اور فرائض کے بارے میں احکامات کھول کھول کر بیان کرتا ہے ۔وہاں خواتین کے بارے میں بھی ہر حکم اس میں واضح طور پر موجود ہے۔۔
معاشرے میں عام طور پر مرد کی حاکمیت نظر آتی ہے ۔۔
جہاں اللہ کریم نے عورت کو شوہر کی اطاعت و فرماں برداری اور وفاداری کا درس دیا ہے وہاں مردکے لئے بھی واضح احکامات موجود ہیں ۔۔
مرد کے لئے رزق حلال کمانا اسے اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرنا عین عبادت قرار دیا ہے۔۔۔
میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ مردوں کی بہترین تربیت کرتے ہیں۔۔ آپ نے فرمایا تم میں سے سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے اچھا ہے۔۔
اہل خانہ کے ساتھ حسن سلوک مرد کے لیے باعث اجروثواب ہے اسی طرح ان کے ساتھ بے اعتنائی برا سلوک اور ظلم و زیادتی کی پکڑ اللہ کے ہاں بہت سخت ہے ۔۔
اگر کہیں یہ صورتحال پیدا ہوجائے ،
عورت اس رشتے میں آزمائیں جائیں ستائی جائیں۔۔
جو رشتہ انہوں نے اللہ کے نام پر قائم کیا ہے۔۔
تو اس عورت کے لئے اس رشتے کو بچانے کا۔۔۔
نبھانے کے لیے صبر کا اللہ کے ہاں بے حد اجر ہے۔۔
لیکن
بدقسمتی سے خواتین دین کا صحیح علم نہ ہونے کی وجہ سے اس کا اجر و ثواب سے محروم رہ جاتی ہیں۔۔
دنیا کی آزمائش سہنے کے باوجوداپنی آخرت بھی داؤ پر لگا دیتی ہیں۔۔
وہ کیسے؟؟
میں ان کی بات نہایت غور سے سن رہی تھی فورا پوچھا۔۔
ایک عورت جب اس آزمائش میں مبتلا ہوتی ہے تو وہ فورا واویلہ مچا کر کر اپنے اردگرد کے لوگوں سے ہمدردیاں حاصل کرنا شروع کر دیتی ہے۔۔
لوگوں کی ہمدردی کے چند بول ۔
اس کے شوہر کے لئے چند گالیاں اور کوسنے۔۔
اس کی ذات کو سکون دیتے ہیں۔۔۔
وہ اس سکون کی تلاش میں ہمہ وقت رہتی ہے ۔۔
سکون کے اس نشے کی لت تھت میں وہ بری طرح مبتلا ہو جاتی ہے۔۔
اور دل ہی دل میں اس آزمائش کو اپنے لئے وبال جان کر ہر وقت اللہ سے گلے شکوے کرتی رہتی ہے۔۔
اپنا موازنہ دوسری خواتین سے کرکے اللہ کے پاس شکوے اور ناشکری کے ڈھیر بلند کر لیتی ہے ۔۔
پھر ان ڈھیروں پر براجمان ہوکر وہ اپنے نفس کی پجاری بن بیٹھتی ہے۔۔۔
یوں اس کی تنہائیاں اپنے رب سے شکوے شکایات اور ناشکری کے کلمات منہ سے نکالتے گزرتی ہیں ۔۔
یہ زندگی کو دیکھنے کا ایک نیا زاویہ تھا ۔۔
لیکن جب لمحہ بھر کو میں نے غور کیا تو مجھے لگا کے ماں جی کے الفاظ معاشرے کی ایک تلخ حقیقت سے پردہ نوچ رہے ہیں ۔۔۔
اگر یہ سچ تھا۔۔
اگر یہ حقیقت تھی۔۔
جو ماں جی بیان کر رہی تھی تو بڑی دکھ دینے والی حقیقت تھی۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔
پھر اس کا حل کیا ہے ماں جی ؟؟
عورت اگر شکوہ بھی نہ کرے شکایت بھی نہ کرے تو پھر وہ کہاں جائے ؟؟
کیا یوں ہی گھٹ کر مر جائے؟ میں نے کہا۔
بیٹا کیا واویلا مچا کر ہمدردی کے چند بول سمیٹ کر عو رت کے مسائل حل ہو جاتے ہیں ؟؟
ٹھیک ہے مسائل تو حل نہیں ہوتے لیکن دل کا بوجھ تو ہلکا ہو جاتا ہے۔۔
میں نے جواب دیا۔۔
دل کا بوجھ ہلکا نہیں ہوتا بیٹا دل کا بوجھ تو یوں بڑھ جاتا ہے۔۔
اللہ کے حکم کی نافرمانی کبھی بھی دل کے لیے باعث راحت و اطمینان نہیں ہو سکتی۔۔
کیا واویلا مچانے والی عورت کو کبھی تم نے سکون میں دیکھا ہے۔۔
بلکہ لوگ تو اپنا سکون برقرار رکھنے کے لیے ایسی عوت سے پہلو تہی کرنے لگتے ہیں۔کیونکہ جہاں ایسی گفتگو ہو گی اللہ کی رحمت وہاں سے ہٹ جائے گی۔
اللہ کریم کی نافرمانی شیطان کی آمد کا رستہ کھول دیتی ہے ۔
دل کی بے قراری منفی گفتگو اس کی شخصیت اس کے ایمان اور اس کی گھریلو زندگی کے ساتھ ساتھ اس کے بچوں کی شخصیت کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہے۔۔
عورت کا کردار بے حد اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔
اس کی شخصیت پورے گھر کا مرکز و محور ہوتی ہے ۔
مرد کی منفی شخصیت عورت کی شخصیت کو متاثر کرتی ہے ۔
جبکہ عورت کی منفی شخصیت بہت پورے خاندان،گھر کے ماحول اور آنے والی نسل کو برباد کر دیتی ہے۔۔۔
ماں جی روانی سے پوری صورتحال حال کا نقشہ ہمارے سامنے یوں بیان کر رہی تھی کہ ہمیں اپنے اردگرد ایسی بہت سی مثالیں نظر آنا شروع ہو گئیں۔۔
اگر عورت اہسے مرد کا ساتھ نبھانے کا فیصلہ کر لے اور اور اس چیلنج کو اللہ کریم کی رحمت پر نظر رکھتے ہوئے قبول کرلے تو اللہ کی مدد اس کے ساتھ ہوتی ہے ۔۔
ہر مشکل لمحے میں اپنے رب کو اپنے ساتھ کھڑا ہوا پاتی ہے کیوں کہ قرآن حق ہے سچ ہے ۔
اللہ کریم فرماتا ہے۔۔
ان اللہ مع الصابرین۔
بدقسمتی سے ہم اپنی نیت کی درستگی نہ ہونے کی وجہ سے اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں ۔۔۔
وہ کیسے مان جی؟؟
ایک عورت سب کچھ برداشت کر رہی ہے پھر بھی وہ رب کی رضا پانے سے محروم رہ جائے؟؟
یہ بہت عجیب بات ہے ۔۔
میں نے ماں جی کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اپنا سوال ان کے آگے رکھ دیا ۔
میری بات سن کر وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوگئی گئیں۔۔
جیسے اپنی بات کی وضاحت کے لئے اپنے بوڑھے وجود سے توانائی اکٹھی کر رہی ہو ں۔۔
پھر بولی بر دا شت کرنا اور صبر کرنا دو الگ الگ چیزیں ہیں ۔۔
یہاں پر انسان بہت بڑی غلطی کر جاتا ہے اور اپنی دنیا کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت بھی داؤ پر لگا لیتا ہے ۔۔
اس فرق کو اگر سمجھ لیں تو پھر مومن کا دل قرار پکڑ جاتا ہے۔۔۔
برداشت آپ اپنے رویے سے کرتے ہو ۔۔۔
لیکن دل سے اس صورتحال کو برا جانتے ہو ۔۔۔
اپنے لیے وبال جان۔۔۔
اللہ کی طرف سے اپنے اوپر آ ئی ہوئی ایک معصیبت۔۔
دل میں اپنے” مخالف” کے لیے غصہ بغض اور کینہ تہہ در تہہ اکٹھا کرتے جاتے ہو ۔۔
یوں دل ان غلاظتوں سے بھرتا جاتا ہے لیکن رویہ مصلحتاً مثبت ہوتا ہے۔۔
ایسے میں تمہارا مثبت رویہ شاید تمہارے اردگرد کے چند لوگوں کی نظر میں تمہیں اچھا ثابت کر دے لیکن یہ اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوتا۔۔
چونکہ عمل کے پیچھے نیت درست نہیں ہوتی اس لیے بری نیت کا وبال ذندگی کو تلخ کر دیتا ہے۔
نیت آلودگی کی وجہ سے گھروں سے برکات اٹھ جاتی ہیں ۔اور بے برکتی ڈیرے جما لیتی ہے۔
لیکن صبر کا معاملہ مختلف ہے ۔۔۔
اس میں آپ سامنے والی فریق کے ہر ہر ظلم و زیادتی اللہ کو گواہ بنا کر سہہ لیتے ہو ۔
اور نیت یہ ہوتی ہے کہ یہ آزمائش اللہ کی طرف سے ہے۔
بے شک اللہ مجھے اس آزمائش سے سرخرو کرے گا اور میرا اللہ میری حالت سے بے خبر نہیں ہے ۔۔
حقیقت بھی یہی ہے۔۔
اللہ کریم قرآن مجید میں فرماتا ہے۔۔
لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا۔۔
ہم کسی جان پر اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔۔
اگر ماں اپنے سات سال کے بچے کو پچاس کلو وزنی بیگ اٹھانے پر مجبور نہیں کرسکتی تو وہ ستر ماؤں سے بڑھ کر پیار کرنے والا کیسے انسان پر اس کی وسعت سے زیادہ زیادہ بوجھ ڈال سکتا ہے۔۔۔
اور کوئی غم کوئی پریشانی کوئی دکھ جو ہم اپنی ذات پر سہتے ہیں وہ اللہ کی نظر سے پوشیدہ نہیں ہے ۔۔ کیا اس کی رحمت کو للکارنے کے لئے ہمارا یہی تصور کافی نہیں ہے۔۔
ایسی عورت پر اللہ کریم کے رحمتوں کے سائے ہمیشہ سایہ فگن رہتے ہیں۔وہ چلتی اس زمین پر ہے لیکن اس کے دکھی دل کی دھڑکن اور صبر والی مسکراہٹ دہکھ کر شاید آ سمان کے فرشتے بھی اس کے لیے دعا ئے خیر کرتے ہوں گے۔
اس کی بےبسی ،بے بسی کو اللہ کریم کی رضا جان کر اس پر صبر کرنا اپنے وجود پر ہونے والی ہر زیادتی کو اللہ کی مخلوق سے چھپا کر اپنے رب کے آ گے سر بسجود ہونا
اس کا مطلب یہ ہوا کہ عورت اپنے ظالم اور بدکردار شوہر کا ہر ظلم و ستم برداشت کرتی چلی جائے ۔صرف صبر کرے؟؟۔.۔۔(جاری ہے)۔گوشہءنور۔۔
تحریر پسند آئے آ پ کے روحانی سفر میں معاون ثابت ہو تو اپنی رائے سے کمنٹ سیکشن میں ضرور ہمیں آگاہ کریں آپ کی رائے ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔۔ شکریہ۔۔
شیرکریں کاپی پیسٹ کرنے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو اس سے آ گاہ ہو سکیں۔۔
(گوشہءنور ).
خواتین اور سلوک کے باقی اسباق پڑھنے کے لئے نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔۔

۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔

گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔شکریہ۔

خواتین اور سلوک ۔ (پارٹ7)

Related Posts

Leave a Reply