سر زمین حجاز ۔ یادیں ۔ 5

دوسرا روزہ ۔ اباجی کا ہم سے جدا ہونے کا دن

دوسرا روزہ۔
اباجی کا ہم سے جدا ہونے کا دن۔
پہلے روزے کی نماز تراویح پڑھنے کے بعد ہم سب گہری نیند سو رہے تھے۔
رات کے اس پہر گھمبیر خاموشی میں امی جان کی آ واز آ ئی ۔
دیکھو آ پ کے ابا جی کو کیا ہو گیا ہے؟
آ واز میں کچھ ایسا تھا کہ ہم سب یک دم آ دھی رات کے وقت اپنے اپنے کمروں سے ایک ہی جست میں امی جان کے کمرے میں آ ن موجود تھے۔
ابا جی ہمیں ہمیشہ کیلئے چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔۔
وہ اب ہم میں نہیں تھے۔۔۔
انہیں ہارٹ اٹیک ہوا تھا جو جان لیوا ثابت ہوا ۔
دوسرے روزے کی سحری کا وقت ہو چکا تھا۔اباجان کا جسد خاکی کی ہمارے میرے سامنے موجود تھا۔۔۔
میری امی جان نے پینے کے لئے پانی مانگا۔ ایک گھونٹ پانی کا بھرا ہے اور گلاس واپس رکھ دیا۔۔۔
یہ سحری کی سنت کی تھی اور میری ماں کوئی سنت چھوڑنا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔
ہم سب کے دلوں پر کیا گزر رہی تھی ؟
ہم رو رہے تھے لیکن میری ماں کے آنسو جو پتا نہیں کہاں گر رہے تھے۔۔۔
وہ صبر و استقامت کی تصویر بنی اباجی کے سرہانے سر جھکائےخاموشی سے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔
برسوں بیت گئے اس” دوسرے روزے” کو..
ہر سال رمضان المبارک میں ہم اباجی کی برسی مناتے ہیں۔۔
لیکن یہ کتنی عجیب بات ہے کہ اس دن بھی ہم امی جان کو یاد کر رہے ہوتے ہیں۔۔
وہ گوشہ نشین سیدھی سادھی شخصیت کی حامل عورت اپنے سب بچوں کی یادوں میں چمک رہی ہوتی ہیں۔
اس دن کی یادوں میں امی جان کا صبر ان کا اپنے رب سے تعلق اور اس تعلق میں پناہ گزیں ہونا میری یادوں میں ہمیشہ رہتا ہے۔۔
انہوں نے اس دن بھی اپنی کوئی نماز قضا نہیں ہونے دی۔۔
ایک دن مجھے کہنے لگیں دیکھو موت تو برحق ہے ہم سب نےایک دن جانا ہے لیکن ایسا نہ ہو کہ میں مر جاؤں اور تم رونے پیٹنے میں لگی رہو اور اپنی نماز یں قضا کرنا۔۔
اور میرے کفن کے انتظامات غیروں پر چھوڑ دو
اس وقت مجھے ان کی بات اچھی نہیں لگ رہی تھی۔
پھر وہ دن بھی آ گیا۔۔
جب وہ ہم سے جدا ہوئیں۔۔۔
میں ان کے سرہانے بیٹھی رو رہی تھی۔
نماز کا وقت ہوگیا۔۔
میموری کارڈ سے اس کی آواز میرے دماغ میں گونجی وقت پر نماز ادا کرنامیرے سرہانے بیٹھ کر روتی نہ رہنااور میں ایک روبوٹ کی طرح اٹھ کر چل دی۔۔۔
اور کفنانے کے ٹائم بھی اللہ کریم نے ہمت دی ان کے الفاظ نے مجھے یہ حوصلہ دیا میں نے اپنے ہاتھوں سے ان کے آخری لباس کو درست کیا ۔۔
ابا جی کے جانے کے بعد انہوں نے اپنی عبادات کے اوقات مزید بڑھا دیے۔۔
ان کے بعد تقریبا 15 برس زندہ رہیں اور کبھی بھی رمضان المبارک کا اعتکاف مس نہیں کیا ۔۔
دس دن کا اعتکاف کرتیں۔۔
حافظ قرآن ہونے کی وجہ سے سے قرآن شریف کی تلاوت بھی کثرت سے کرتی۔
اگر میں پوچھتی امی جان آج کتنے سپارے پڑھنے ہیں؟
تو تاسف سے کہتیں کیا کروں زیادہ پڑھا نہیں جاتا بڑی کوشش کرتی ہوں کہ روزانہ ایک قرآن پاک ختم کر لوں لیکن تھک جاتی ہوں۔
21 ،22 سپارے پڑھنا ان کا معمول تھا ۔ ایک وقت انہوں نے درود پاک پڑھنے کے لیے مخصوص کیا ہوا تھا تھا اور روزانہ تقریبا دس ہزار درود پاک کا نذرانہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں ہدیہ کر تی تھی ۔۔
درود پاک تو خوشبو ہے اور خوشبو کو گندگی کے ڈھیر پر نہیں لگایا جاتا۔اس لیے ہمیشہ درود پاک پڑھنے سے پہلے اپنا دل صاف کرو اور اللہ سے استغفار پڑھو اس کے بعد درود پاک پڑھو پھر دیکھو جس طرح صاف ستھرے کپڑے پر خوشبو لگانے سے کپڑا معطر ہو کر مہک اٹھتا ہے اسی طرح صاف قلوب پر بھی درود پاک کیسا اثر جماتا ہے۔وہ ایک دن بیٹھی مجھے سمجھا رہی تھیں۔۔
اللہ کا رنگ جس وجود پر چڑھ جائے پھر زمانے کی اونچ نیچ دکھ تکلیف اس رنگ کی چمک دمک کو ماند نہیں کر سکتی ہے۔۔
وہ ہر دن ہر صبح نئی آب و تاب کے ساتھ دمکتا ہے۔۔
اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اہل محبت پر ہمیشہ غالب رہتی ہے …
امی جان اپنی عبادات میں اوقات کی پابندی کا بہت خیال رکھتی تھیں۔
ان پر اللہ کا کوئی خاص کرم تھا ۔۔
کہ اللہ کی محبت کا رنگ ان کے وجود پر ہمیشہ سایہ فگن رہتا۔۔۔
وہ گھر میں چلتا پھرتا نور کا ایک ایسا ہیولا تھیں جس کی روشنی میں زندگی کی کوئی بھی مشکل مشکل نہیں لگتی تھی۔۔۔
آپنے کسی بھی مسئلہ کے بارے میں جب انہیں بتاتے وہ ہمارا ہاتھ تھا مے ہمیں حضور نے علیہ صلاۃ واسلام کے گھر لے جاتیں۔۔۔
ان کے احکامات اور ان کی احادیث یوں بیان کرتی کہ ہم اپنا مسئلہ بھول کر اس گھرانے اس پاک ہستی کی محبت کی کلیاں چننے لگتے اور ان کی خوشبو کے سحر میں گرفتار ہو جاتے۔۔۔
دامن مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گھنی اور ٹھنڈی چھاؤں امت کے ہر فرد کے لیے ایک پناہ گاہ ہے۔
جو ایک مرتبہ دامن مصطفی ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی ٹھنڈی چھاؤں کی لذت سے شناسائی پا لیتا ہے وہ پھر کبھی بھی اس کی لذت کے سحر سے نکل نہیں سکتا ۔۔۔
اور اگر دامن مصطفی اسے متعارف کروانے والی ہستی ما ں ہو تو پھر بات ہی کچھ اور ہو جاتی ہے ۔۔
ماں جو آنکھ کھلتے ہی بچے کی پہلی محبت ہوتی ہے ۔۔
اس کی محبت کی خوشبو میں مہک جب پیدا ہوتی ہے جب محبت کے سوتے آ قا علیہ الصلواۃ والسلام کی محبت سے اٹھے ہوں۔۔۔
اس محبت کی خوشبودار کلیوں کے پودے ایک ماں جو اپنی اولاد کے اندر بودیتی ہے اس اولاد کے لئے اس سے بہترین بے شک قیمت تحفہ اور کچھ نہیں ہو سکتا۔
اباجی دنیا وی تعلیم سے آ راستہ ایک دنیادار انسان تھے۔
جب میں بیاہ کر تمھارے ابا کے گھر آ ئی تو یہ جدید ماحول سے متاثر ایک دنیادار نوجوان تھے۔میوزک سننا سگرٹ پینا ان کا معمول تھا ۔نماز کی پابندی بھی مجھے ان میں نظر نہیں آ ئی۔
جبکہ ہمارے ہاں یہ سب نہیں تھا میرے والد صاحب فرماتے تھے بے نمازی کے ساتھ بند کمرے میں ایک ہی فضا میں سانس لینے سے نماز کی توفیق اٹھ جاتی ہے ۔ایک دن امی جان مجھے اپنی کہانی سنا رہی تھیں۔
تو پھر آ پ کیا کرتی تھیں جب اباجی جب کمرے میں آ تے تھے میں نے دلچسپی سے پوچھا۔۔
شادی کے ابتدائی ایام تھے۔ سخت سردی کا موسم تھا باہر تیز ہوائیں چل رہی تھی ہلکی پھلکی بوندا باندی ہو رہی تھی آ پ کے اباجی گھر آ ئے ۔
اندر کمرے میں داخل ہوتے ہی ٹھنڈی ہوا سے بچنے کے لیے دروازہ بند کیا ۔میں نے چپکے سے کھڑکی کو تھوڑا سا وا کر دیا۔میرے ذہن میں اپنے والد محترم کی آ واز کہیں سرگوشی کر رہی تھی۔
مجھے اپنی صبح کی نماز کی فکر لاحق ہوئی۔
ہلکی سی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے کمرے کی فضا کو خنکی کا بوسہ دیا اور تمھارے ابا نے حیرانی سے مجھے دیکھا ۔اپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ؟
ٹھنڈ لگ جائے گی وہ میری اس حرکت پر حیرت سے مجھے تک رہے تھے۔۔
میں خاموش تھی نئی نئی شادی تھی اور میں ان کے مزاج سے ابھی نا بلد تھی۔
وہ چند لمحے خاموش رہے پھر ہاتھ میں پکڑی سگرٹ کو بجھا دیا ۔۔
کہا جاتا ہے جس پر اللہ کا رنگ چڑھ جائے تو اس کی مثال پارس پتھر کی سی ہوتی ہے۔۔۔جو اس پارس کو چھو لے وہ سونا بن جاتا ہے۔۔
پھر میری امی جان کا شریک حیات کیسے اس سے محروم رہ سکتا تھا۔
اللہ والے اپنے رنگ کو فضاؤں میں بکھیرتے رہتے ہیں ۔یہ ان کی صفت ہوتی ہے۔ان کی صحبت میں بیٹھنے والا اس رنگ و بو سے محروم نہیں رہ سکتا۔
میری ماں پر بھی اللہ کا یہ رنگ بہت پختہ تھا ۔
رفتہ رفتہ اباجی پر بھی یہ رنگ چڑھتا چلا گیا۔
امی جان بتاتی ہیں کہ اباجی انگریزی تعلیم و تہذیب اور لباس کے اس قدر دلدادہ تھے جس دن شلوار قمیض زیب تن کرتے تھے ہم ڈر جاتے تھے کہ آج یہ کسی کے جنازے پر جا رہے ہیں ۔۔
لیکن جب اس رنگ میں رنگے تو ایسا پکا رنگ چڑھا کہ
جب وہ دنیا سے گئے تو باریش تھے ، پکے نمازی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سنتوں پر بھاگ بھاگ کر عمل کرتے دکھائی دیتے تھے ۔۔۔۔
حافظ قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیار کرنے والی عورت نے ان کی زندگی کو یکسر بدل دیا تھا ۔۔۔
ان کے وارڈروب میں رنگ برنگی ٹائیاں ایک سائیڈ پر برسوں لٹکتی ان کے مزاج کی شوخی کی سرگوشیاں ہمیں سناتی رہیں۔
میری ماں ایک شوہر پرست عورت تھی ۔ بے حد فرمابردار اطاعت گزار بیوی جسے ہم نے کبھی کوئی فرمائش کرتے یا خواہشات کا اظہار کرتے نہیں دیکھا تھا۔۔
امی جان کی تمام خریداری اباجی کرتے تھے۔
کپڑےزیورات گویا خواتین کے ہر شعبے میں خریداری کرنے کا انہیں فن بھی آ تا تھا اور ان کا ذوق بھی عمدہ تھا۔۔
میں نے امی جان کو بازار شاپنگ کرتے بہت کم دیکھا۔۔ ا نہیں بازار جانا بالکل بھی نہیں بھاتا تھا۔۔
اباجی ان کا بہت خیال رکھتے۔۔
مغرب سے عشاء کے درمیان میری امی جان جان اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے عبادت میں مشغول رہتی تھی۔۔۔اس دوران میرے والد صاحب لاؤنج میں رہتے تھے۔۔
وہ کمرے کے اندر نہیں جاتے تھے ۔ ان کے دنیا سے جانے کے بعد میری امی جان نے دنیا سے بالکل کنارہ کشی اختیار کر لی تھی ۔۔۔
روزانہ چاشت کی نماز کے ساتھ صلاۃ التسبیح پڑھنا ان کا معمول تھا۔ا باجی کے جانے کے بعد ایک دن میں نے دیکھا کہ وہ صلاۃ التسبیح پڑھنے کے بعد دوبارہ صلوۃالتسبیح پڑھنے لگیں۔۔۔
آپ تو صلاۃ التسبیح پڑھ چکیں تھیں۔ پھر آپ کیا بھول گئی تھی جو دوبارہ پڑھیں میں نے ان کے فارغ ہونے پر پوچھا۔
وہ مسکرائی اور کہنے لگیں ایک اپنے لئے پڑھی ہے اور دوسری جب سے تمہارے ابا جی دنیا سے گئے ہیں ان کے لیے پڑھتی ہوں۔۔
ان کی شوہر سے محبت کا یہ انوکھا انداز دیکھ کر میں حیران رہ گئی۔۔۔
کہ عمر کے اس حصے میں یہ طویل نماز انسان کو تھکا دیتی ہے لیکن یہاں تو بات ہی اور تھی۔۔۔
اباجی کے کپڑے دھوبی سے دھل کر آ تے تو امی جان انہیں ان کی الماری میں رکھ کر اوپر سے رومال ڈال کر بڑے سلیقے سے ڈھک دیتیں تاکہ اباجی کا سفید سوٹ گرد سے محفوظ رہیں۔
ان کے دنیا سے جانے کے بعد امی جان نے ان کی کپڑوں کی الماری کو جوں کا توں رہنے دیا۔
براؤ ن رومال الماری کے اندر اباجی کے کپڑوں کے اوپر پڑا امی جان کے غم میں شریک نظر آ تا تھا۔
رفتہ رفتہ اندر سے ابا جی کے کپڑے نکال کر امی نے خیرات کر دیئے لیکن الماری خالی کرنے کا شاید امی جان میں حوصلہ نہیں تھا۔ اس لئے جب تک وہ رہیں اس جگہ ایک دو سوٹ براؤ ن رومال میں چھپے اباجی کی اس کمرے میں موجود گی کا ہمیں احساس دلاتے رہے۔۔۔
اباجی کو باغبانی کا بہت شوق تھا ۔امی کی پسند کا خیال رکھتے ہوئے انہوں نے گھر میں بہت سے خوشبو دار موتیا کے پودے امی کی موتیا سے الفت کی وجہ سے لگوائے تھے۔
ان کے دنیا سےجانے کے بعد امی جب بھی موتیا کی کلیاں توڑ کر اپنے کانوں میں ڈالتیں ابا جی کا تذکرہ کسی نہ کسی بہانے ضرورکرتیں۔۔
تمھارے اباجی کو دنیا سے مجھ سے پہلے جانے کی بہت شدید خواہش تھی۔اکثر آ خری عمر میں میرا ہاتھ پکڑ کر کہتے
وعدہ کرو مجھے چھوڑ کر دنیا سے مجھ سے پہلے نہیں جاؤ گی۔
میں یہاں تمھارے بنا نہیں رہنا چاہتا ۔۔
دعا کرتا ہوں تمھارے جیتے جی میں چلا جاؤ ں۔
ایک دن ان کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد امی مجھے بتا رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔
آ دھی رات کو آ پ کے اباجی نے بیڈ کی سائیڈ لیمپ جلائی میری آ نکھ کھل گئی میں نے پوچھا ۔۔۔
کیا بات ہے ؟
بولے کچھ طبیعت ٹھیک نہیں ہے دوا کھانا چاہتا ہوں ۔میں نے پریشان ہو کر اٹھنا چاہا تو بولے ابھی سحری کا وقت ہونے والا ہے آ پ تھوڑا ریسٹ کرلیں انہوں نے دوائی نگل کر لیمپ بند کرتے ہوئے پرسکون لہجے میں مجھے کہا۔
امی جان ایک دن مجھے ان کے دنیا سے رخصتی کے لمحات کی بابت بتا رہی تھیں۔
اچھا پھر میں نے پوچھا۔
پھر کیا بیٹا ایک ہلکا سا نیند کا جھونکا اندھیرے میں میری آ نکھوں میں لہرایا ہوگا اگلے ہی لمحے دل میں ہول سا اٹھا اور میں نے ہاتھ بڑھا کر تمھارے اباجی کے تکیے پر لگایا۔۔۔
یہ کیا ؟؟
تکیہ خالی تھا۔۔
میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔۔۔لائیٹ جلائی۔۔
دیکھا تو آ پ کے اباجی آ ڑے رخ بستر پر لیٹے ہوئے تھے۔
لیکن ۔
یہ تو صرف ان کا جسد خاکی تھا۔۔۔۔
وہ تو تیسرے روزے کی سحری سے پہلے ہی ہمیں چھوڑ کر خاموشی سے رخصت ہو چکے تھے۔
آ پ کو ہماری یہ تحریر کیسی لگی اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجئے آ پ کی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے۔۔
اپ کو پسند آ ئے شیر کریں۔
۔شکریہ۔۔گوشہءنور

Related Posts

Leave a Reply