راہ کاتعین ۔(سبق نمبر17)

گوشہء نور کے سالکین۔۔(سبق نمبر17)
راہ کاتعین ۔
وقت بہت قیمتی چیز ہے۔
جتنا ٹائم ان باتوں میں الجھنے سے ضائع کرو گے وہی اپنی کھوج لگاؤ۔
اپنے من میں اتر کر اپنی روح کی طلب کو جانچو ۔۔
پہچانو۔۔۔
اور اس کے مطابق اپنی راہ کا تعین کر لو….
راہ متعین ہو جاے ۔تو من کو بھی قرار آ جاتا ہے۔اور انسان اپنے سفر کی تیاری کے لے اپنے وسائل اور اسباب کو بروئے کار لاکر اگلے مراحل کی تیاری میں مصروف ہو جاتا ہے۔
یہ سب زندگی میں بے حدضرور ی ہے۔
راہ کا تعین ہو جائے تو منزل کی طرف سفر شروع ہو جاتا ہے۔
یہ سفر طویل ہے ۔۔
کبھی نا ختم ہونے والا۔۔
یہ سفر حسین ہے۔۔۔۔۔
اس میں انعامات کی بارش بھی ہوتی ہے ۔
اور سختیاں وجود کو تھکا بھی دیتی ہیں ۔
لیکن منزل کی طرف سے آ نے والے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آ پ کو تروتاز ہ رکھتےہیں۔
کچھ پا لینے کی لذت ۔۔
کچھ حاصل کر لینے کی جستجو ۔۔۔
آ پ کو مایوسی اور نا امیدی سے بچانے
رکھتی ہے۔۔۔
ایمان والوں کا ساتھ نصیب ہو جاتا ہے۔
اور سب سے بڑھ کر سب سے قیمتی
کملی والے سے سے تعلق ۔
کملی والے سے محبت کرنے والوں کی محبت نصیب ہو جاتی ہے۔
وہ اپنی بات کرتے کرتے لمحہ بھر کو سانس لینے کے لئے رکے ۔
ذرا توقف کے بعد دکھ سے بو لے اپنے ارد گرد نظر دوڑاو ۔آپ کو ہر طرف
بے قرار و جو د۔۔۔
اپنے مسائل مایوسی نا امیدی کے پھندے گلے میں لٹکاے اور رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ کا شکار لڑتے جھگڑتے لوگ نظر آئیں گے۔۔
کیا ایک مسلمان معاشرہ ایسا ہوتا ہے؟؟؟
اس نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن کا نام ہی دلوں کو سکون دیتا ہے ان کےامتی ان کے پیروکار بے سکون کیسے ہو سکتے ہیں؟؟؟؟
ہر کوئی اپنے انجام سے بے خبر اپنے احوال میں نڈھال نظر آرہا ہے۔۔۔
اس چیز سے اس سوچ سے بالاتر ہے کہ وہ سفر میں ہے۔۔
ایسا سفر جو دن بدن اسے اپنے انجام کے قریب لے جا رہا ہے ۔۔۔
پہلے بے بس کر دینے والا بڑھاپا۔
اولاد کی بے اعتنائی۔
بیماریوں کی بے رحمی۔
جوانی اور طاقت کے نشے میں کے گے غلط فیصلوں کا خمیازہ۔۔۔
اسے بے حد قابل رحم حالت میں لے جاتا ہے۔
اور آخر کار موت اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے ۔
زندگی کی جتنی مہلت اسے ملی اس نے اسے ضائع کیا ۔
نہ ہی پیچھے ہاتھ اٹھانے والے ساتھی چھوڑے اور نہ ہی صدقہ جاریہ کے کوئی اسباب۔۔۔۔
یاد رکھو آ ج کا ماڈرن نظام تعلیم تمھیں دنیا میں رہنے کے سارے گر تو سکھا رہا ہے ۔لیکن تمھیں اپنے ساتھ کیسے رہنا ہے یہ نہیں بتا رہا۔
من کے اندر وہ خوشبودار پھولوں اور پھل دار درختوں کے بیج کیسے بونے ہیں ؟
ایسے بیج جو کل تمھارے لے ایسے حسین باغات تیار کریں جنہیں دیکھنے ۔۔۔
جنکا فیض لینے لوگ دور دور سے تمھیں ڈھونڈ تے ہوئے آ ئیں ۔
تمھارا بڑھاپا تمھارے اردگرد والوں کے لے فخر بن جائے۔
تمھاری وراثت اور تمھارے مال پر قابض ہونے کے لیے تمھاری موت کا انتظار نا کریں بلکہ تمھاری دعاؤں اور تمھارے وجود کی ٹھنڈک میں رہنے کے لیے تمھاری لمبی حیات کی دعائیں مانگیں۔
وہ تھوڑے جذباتی ہو رہے تھے۔پھر وہ اپنے دکھ اور اپنی آ واز کے جوش کو دباتے ہوئے ہماری جانب متوجہ ہوئے ۔
اور بولے
اگر میری بات سے اختلاف ہے تو بتائیں؟
بظاہر ایک تعلیم یافتہ اپنی زندگی میں سیٹ انسان اندر سے بیقرار کیوں ہے؟؟
اس من کی بے قراری کو مذہب کی آ غوش میں جا کر ڈھونڈ تے کا نام ہی تصوف ہے۔
تصوف کی راہ آ پ کو معرفت تک لے جاتی ہے۔
اگر دین میں معرفت نا ہو تو”ریا” رہ جاتی ہے ۔
پھر ظاہری علوم حاصل کر نے کے بعد پھر روح دین حاصل کی جاتی ہے ۔
معرفت کے بغیر دین صرف رسم ہے۔
رسم ریا ہے۔
رہ گئی رسم اذاں روح بلا لی نا رہی۔
ہم دین سے گمراہ نہیں ہم معرفت دین سے گمراہ ہیں۔جو یہ حقیقت پا لیتے ہیں وہی کمال کو پہنچتے ہیں۔(جاری ہے)۔
تحریر آپ کو پسند آئے اور روحانی سفر میں آپ کے لیے معاون ثابت ہو تو اپنی رائے سے کمنٹ سیکشن میں ضرور آگاہ کریں۔ آپ کی راۓ ہمارے لئے مشعل راہ ہے ہے شکریہ ۔

(گوشہءنور)
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔

شکریہ۔

Related Posts

Leave a Reply