روح کا کنٹرول ۔ (سبق نمبر  7 )

روح کا کنٹرول ۔ (سبق نمبر 7 )

گوشہ ء نور کے سالکین۔
روح کا کنٹرول۔(۔سبق نمبر 7 )
پریکٹس کرتے ہوئے کافی دن گزر چکے تھے۔
میں نےمحسوس کیا توجہ کو راسخ کرنا ایک مشکل کام تھا ۔
جس لمحے میں پورے اہتمام کے ساتھ بیٹھتی درود پاک پڑھنا شروع کرتی چند لمحوں میں ہی ذہن کے تمام اطراف کھڑکیاں سی کھل جاتی جہاں سے مختلف خیالات میری توجہ کو خراب کرنے کے لیے جوق در جوق اچھلنے کودتے داخل ہونے لگتے۔
ابتدا میں ایک مشکل کام تھا ۔لیکن پھر رفتہ رفتہ اس میں بہتری آنے لگ گئی ۔لیکن توجہ کے ساتھ چند بار ہی پڑھ پاتی۔ شاید پانچ یا چھ بار سے زیادہ یکسوئی کا معیار قائم نہ رہ پاتا ۔
ہم اپنے دن کا زیادہ حصہ جن سرگرمیوں میں گزارتے ہیں روح اسی سے مانوس ہو جاتی ہے۔۔
جب میں نے اس بارے میں بابا جی سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا۔
لیکن ہم نے سارا دن گھر کے کام کاج بھی کرنے ہوتے ہیں۔ بچوں اور گھر کی ذمہ داریاں نبھاتے نبھاتے عبادات کے لیے ںہت زیادہ وقت نکالنا محال ہوتا ہے میں نے اپنے لہجے کی بے بسی چھپاتے ہوئے کہا۔
یہ سب ذمہ داریاں ایمانداری سے ادا کرنا بھی عین عبادت ہے۔
جس طرح مرد کے لئے رزق حلال کمانا عبادت ہے اسی طرح عورت کے لئے اپ ی گھریلو ذمہ داریاں نبھانا عبادت ہے ۔
اس بات کو سمجھ لو انسان دو چیزوں کا مجموعہ ہے۔
روح اور جسم ۔
روح ایک لطیف چیز ہے اس کی خوراک یاد الٰہی ہے۔
جب اس کو اس کی مناسب خوراک ملتی رہے تو یہ تنومند رہتی ہے۔اور ایک تن ومند روح ہمیشہ تنہائی میں بیٹھ کر اپنے رب کے حضور یکسو ہوناچاہتی ہے۔
قرب کے ان لمحات کی وہ ہر لمحہ متلاشی ہوتی ہے۔
اسے یہ لمحات شاداں و فرحان کرتے ہیں۔وہ یوں ہوتی ہے جیسے پیاسے کو اس کا من پسند مشروب مل جائے۔
یا ایک تھکا ماندہ مسافر اپنی آ رام دی رہائش گاہ پر پہنچ جائے۔
اگر روح ان لمحات میں یکسو ہوکر نہیں بیٹھ رہی اور اس لذت کی سرشاری میں نہیں ڈوب رہی تو سمجھ لو اس کی خوراک مناسب نہیں ہے ۔
روح بیمار ہے۔
کیا مطلب؟
میں نے مزید وضاحت چاہی۔
روح نے اپنے رب کو عالم بال میں بے حجاب دیکھا۔
اس نے عالم بالا میں وقت گذارا ۔
پھر اسپر حجابات ڈال کر اس دنیا میں بھیج دیا گیا۔
رزق حلال احکام شریعت کی پابندی سے رفتہ رفتہ یہ حجابات اس پر سے اٹھنے لگتے ہیں ۔
ایک عام انسان جب اپنے خیالات کو پاکیزہ رکھتا ہے نظر کی حفاظت کرتا ہے دل کو کینہ بغض سے پاک رکھتا ہے مخلوق کے عیبوں کی پردہ پوشی میں رہتا ہے بلکہ اگر کہا جائے کہ اخلاقی برائیوں سے پاک رہتا ہے تو اس کی روح بھی صحتمند رہتی ہے۔
انسانی دماغ ایسی چیز ہے کہ اس میں ہر وقت خیالات آ تے رہتے ہیں ۔دماغ کا آ نگن کبھی خاموش اور سونا نہیں رہتا
جس طرح ایک زرخیز میدان کو اگر بے آ باد چھوڑدیا جائے تو اس میں جھاڑ جھنکار اور کانٹے دار خود رو پودے اگنے لگتے ہیں ۔
دماغ کی مثال بھی بلکل یہی ہےیہ بات سمجھ لو گے تو سب سمجھنا آ سان ہو جائے گا۔
دماغ کے ان خیالات کو ہم کیسے کنٹرول کریں ؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
اس کی ٹریفک کو کنٹرول کرنا ہے وہ مسکرائے۔یعنی اس میں صرف وہ ٹریفک گذرے گی جس کی ہم اجازت دیں گے۔
میں دلچسپی سے ہمہ تن گوش تھی۔
خیالات ہماری سوچوں سے متعلق ہو تے ہیں ہم اپنی سوچ کو تبدیل کریں گے ۔
ہم ایمان لانے کے بعد اس کملی والے آ قا علیہ الصلواۃ والسلام کے قافلے کے ممبر بن جاتے ہیں ۔
اور ہر قافلے کے ممبر کی ایک ہی منزل ہوتی ہے ایک ہی سوچ۔۔
ہم نے ان سے جڑنا ہے۔
اگر ہم اپنے خیالات میں اپنےکملی والے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کو بسا لیں ان کے خیال کو دل میں راسخ کر دیں۔تو اس خیال کی خوشبو ہماری روح کو وہ پاکیزگی اور قوت مہیا کر دیتی ہے کہ پھرہم یہ توجہ اور یکسوئی آسانی سے حاصل کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں
ہماری یہ کاوش اپ کو پسند آئے آپ کے روحانی سفر میں معاون ثابت ہو تو اپنی رائے سے کمنٹ سیکشن میں ضرور آگاہ کیجیے۔۔۔آپ کی رائے ہمارے لئے مشعل راہ ہے ہے۔۔
اگر آپ چاہیں تو اسے شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہو سکیں۔ ۔۔شکریہ۔۔۔ گوشہ ءنور
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں ۔۔نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔شکریہ۔
http://goshaenoor.com
“سبق نمبر 6” پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
https://www.facebook.com/104763384584903/posts/374280954299810/

روح کا کنٹرول ۔ (سبق نمبر  7 )

Related Posts

Leave a Reply