(2 - صوفی نذیر ملاقات ۔(پارٹ

گوشہء نور کے سالکین
روح کی انسیت۔۔۔۔(سبق نمبر ۔۔۔۔۔5)
کچھ عرصے کی پریکٹس کے بعد آپ کی روح اس پورے ماحول سے ایک خاص انسیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔
اب آ پ دھیرے دھیرے درود پاک کی تعداد بڑھاتے جائیں ۔
خیال رکھیں کہ اس عمل میں باقاعدگی بہت ضروری ہے۔
کچھ عرصے کی جدوجہد کے بعد آپ کی شخصیت میں نمایاں تبدیلیاں پیدا ہونا شروع ہو جائیں گی۔
1۔۔آپ کو ان لمحوں کا بے چینی سے انتظار رہنے لگے گا جب آپ مراقب ہوتے ہیں ۔
2۔۔۔دنیا کی رنگینیوں سے دھیرے دھیرے دل اٹھنے لگے گا۔
3۔۔۔ جب آپ کی روح اس ماحول سے مانوس ہو جائے گی تو آپ کے اوپر مختلف کیفیات وارد ہونا شروع ہو جائیں۔
بالکل ابتدا میں آپ کی روح اس ماحول کی نورانیت سے کلی طور پر مسحور ہو جائے گی۔
کچھ عرصہ اس پر ایک مدہوشی کی سی کیفیت طاری رہے گی ۔
لیکن کچھ عرصے کے بعد جب روح اس ماحول سے مانوس ہو جائے گی تو پھر اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں اس کو تنبیہ کرنے لگیں گی۔
یہ آپ کے اندر تبدیلی کا وقت ہے۔
اب یا تو آپ یہ جنگ جیت جائیں گے یا آپ واپس لوٹ جائیں گے ۔۔۔
یہ کہہ کر وہ تھوڑی دیر کے لئے چپ ہو گئے جیسے ان لفظوں کی تلاش میں نکل گئے ہو ں جن کی مدد سے وہ اپنا نقطہ نظر آسان کر کے ہمیں سمجھا سکیں۔۔
ایک گہری سانس لی اور گویا ہوئے۔
اس بات کو ہم اس مثال سے سمجھیں گے کہ ایک شخص کو اگر کسی بادشاہ کے دربار میں کسی طریقے سے رسائی حاصل ہو جائے(یاد رہے کہ بادشاہ کے دربار تک ایک عام آدمی کی رسائی ناممکن ہوتی ہے اس کے لیے اسے ایک طویل جدوجہد کرنی پڑتی ہے لیکن اس شخص کو اچانک کہیں سے یہ رسائی مل جاتی ہے.)
اور وہ بڑے ذوق شوق سےبالکل عام حلیے میں کسی طرح اس دربار میں پہنچنے میں کامیاب ہو جائے تو اس کے لیے یہ بالکل نئی دنیا ہوتی ہے ۔
وہ شخص لمحہ بھر کو اس دنیاکی چکاچوند سے مسحور ہو جائے گا ۔اور خوشی سے دیوانہ۔۔۔۔
پھر آہستہ آہستہ وہ دربار کے ماحول کو سمجھنے لگے گا۔
اپنے اردگرد کے لوگوں کو دیکھ کر ان کے طور طریقے اور ادب و آداب کا معیار دیکھ کر اس شخص کو اپنی کم مائیگی کا احساس ماردینے لگے گا ۔
اب وہ وہاں اس دربار میں جانے سے پہلے ہچکچانے لگے گا ۔۔۔اور پھر ڈرنے لگے گا۔۔۔ وہاں جانے کا سوچ کر اپنی حیثیت اوقات اپنے آ پ کی گندگی اپنے وجود کا تعفن اپنی کم مائیگی کا احساس اس کو اس قدر غالب آجائے گا کہ اس دربار میں جانے سے پہلے اس کی ٹانگیں لڑکھڑانے لگی۔۔۔۔
اس کے اندر کے ذوق وشوق کی جگہ ڈراور خوف لے لے گا ۔
اندر سے آواز آنے لگے گی میں تو بادشاہ کے دربار میں جا رہا ہوں نہ تو میرے پاس اس معیار کا لباس ہے اور نہ ہی میں وہاں کے ادب آداب سے آگاہ ہوں ۔اوپر سے میرے وجود سے اتنا تعفن اٹھ رہا ہے کہ اس دربار کے معطر فضائیں میری وجہ سے کہیں بدبودار نا ہو جائیں۔
اپنی کم مائیگی اور بے بسی کا احساس اسے پریشان کر دے گا یوں اب وہ رسائی کا پروانہ ہاتھ میں پکڑے کھڑا آنسو بہا رہا ہوگا ۔۔۔۔۔۔
تحریر آپ کے روحانی سفر میں معاون ثابت ہو تو اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں ۔۔۔ اللہ کریم اس سفر میں آپ کا حامی و ناصر ہو۔۔۔۔۔ آمین گوشہءنور۔
سبق نمبر 5پڑھنے کے لیے لنک کلک کریں۔
https://www.facebook.com/104763384584903/posts/372935814434324/
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں ۔۔نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔شکریہ۔
http://goshaenoor.com

آمین-

گوشہءنور-

روح کی انسیت۔(سبق نمبر ۔5)

Related Posts

Leave a Reply