روح کی تخلیق – (سبق نمبر ۔12)

گوشہءنور کے سالکین۔۔
روح کی تخلیق۔(سبق نمبر۔12)
جب اللہ کریم نے ارواح کو تخلیق کیا انہیں اکٹھا کرکے کے پوچھا ۔
آلست بربکم ؟
کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟
کچھ ارواح نے پاؤ ں پٹخ کر کہا ۔بلی ۔ ہاں ۔
کچھ ارواح نے سر ہلا کر کہا بلی۔۔۔ہاں۔
اور کچھ ارواح خاموشی سے کہا۔۔۔۔بلی۔۔۔ہاں۔
کچھ نے جھوم کر نعرہ لگایا۔۔۔بلی۔۔۔ہاں۔
نے پاؤں پہ رکھ کر کہا ہاں کچھ ارواح خاموش رہی اور کچھ اس کلام سے مدہوش ہو گئے۔۔۔۔
اور یہی اس دنیا میں آ نے کے بعد عارف باللہ ہو گئے۔۔
جنہوں نے اس وقت حالت زار میں کہا تھا۔۔بلی۔۔ہاں۔
وہ سارے اس دنیا میں علماء ہوں گے۔
ان میں پھر درجے آ گئے۔
1۔۔۔انبیاء۔۔
2۔۔صحابہ۔
3۔۔۔صالحین۔
4۔۔۔صدیقین۔
5۔۔۔اولیاء اللہ۔
(علماء صالحین میں آ تے ہیں۔)
دوسرا درجہ۔
جنہوں نے زبان سے نہیں کہا لیکن دل سے اقرار کیا وہ سارے کے سارے ایمان والے ہوں گے۔
تیسرا درجہ
نہ دل سے اقرار کیا نہ زبان سے کہا وہ سارے مطلق کافر ہیں ۔
دنیا میں انسان کو اختیار دیا گیا اور ایک موقع اور دیا گیا۔تمام ارواح کو بھلا دیا گیا اگر اس نے اقرار کرلیا تو ثواب اگر اختیار ملنے پر انکار کیا تو گناہ۔
اپنی بات مکمل کر کے وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوگئے ۔۔
پھر دھیرے سے سر اٹھایا اور فرمانے لگے دیکھو یہ ارواح کا معاملہ ازلی ہے ۔۔۔
جن ارواح نےاس وقت اپنے رب کی تجلی کو محسوس کر لیا یا اس کی لذت سے آشنا ہوگی وہ ارواح اس جہان میں آنے کے بعد بھی بے قرار رہتی ہیں۔۔۔
نماز ۔روزہ۔ ذکر اذکار ان کی بے قراری کو کم نہیں کر سکتے ان کو قرار صرف اللہ والوں کی قربت میں ملتا ہے ۔۔
اور وہ اللہ والوں کی قربت کو جانتی ہیں پہچانتی ہیں ۔
ان ارواح کی آپس میں محبت زما ن و مکان کی قید سے آزاد ہوتی ہے ۔۔
اس کی مثالیں ہمیں اولیاء کرام کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کرنے کے بعد ملتی ہیں۔
جیسےحضرت اویس قرنی کی روح کا سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سے عشق و محبت۔۔ حضرت سلمان فارسی کا آ قاءدو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عشق و محبت ۔۔۔
دوست کی روح دنیا میں جہاں بھی ہو جس کیفیت میں بھی کا حال ایک ہی ہوتا ہے۔۔۔
پھر جب اس دنیا میں یہ ارواح ملتی ہیں تو ان کی آپس کی محبت ان کی گرد اتارتی ہے ۔۔
طریقت کے سلاسل اسی کی کڑی ہے ۔۔۔
شریعت ابتدا ہے ۔ لازم ہے اس پر عمل کرنا۔ لیکن جن ارواح نے اپنے رب کی تجلی کے نور کی لذت کو چکھ لیا ہے ۔۔
جو قرب الہی کے درجے پر فائز ہونے والی ہوتی ہے یا اس ر ستے کی مسافر ہوتی ہے۔۔۔
انہیں رب کے قرب کی لذت کے سوا کہیں چین نہیں ہے۔
وہ طریقت کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہیں۔۔۔
یہی طریقہ دراصل شریعت کا باطن ہے۔۔۔
ابتداء شریعت ہی ہے۔۔۔
نماز روزہ زکوۃ۔۔ذکر اذکار آپ کو جنت تک لے جاتے ہیں لیکن جن ارواح نے اپنے رب کی تجلی کو پا لیا ۔۔اس کو محسوس کر لیا جنت ان کی منزل نہیں۔۔۔
ان کی منزل صرف اور صرف قرب الہی ہے جس کی تلاش کی جدوجہد کا نام طریقت ہے ۔۔۔۔۔
اپنی بات مکمل کرکے وہ خاموش ہو گئے۔۔۔۔۔۔
چند لمحے توقف کیا پھر فرمانے لگے آپ لوگ تعلیم یافتہ ہو ۔۔ہر چیز کو جانچنے اور پرکھنے کا فہم رکھتے ہو ۔۔۔
اپنی طلب کا کشکول لیے مارے مارے نہ پھرو۔۔
اپنی ذات کو ٹائم دو اپنے اندر جھانکو اپنی کھوج آپ لگاؤ ؟
آپ کون ہو؟
کہاں سے آئے ہو؟
اور کہاں پر آپ سکون پاتے ہیں؟
اپنی منزل کا تعین کر لیتے ہو تو پھر آپ کے لئے لازم ہے اپنی منزل کی جانب رواں دواں کسی قافلے کو پکڑ لو ۔۔۔
دنیا میں ہر جگہ ہر کونے سے یہ قافلے ہر لمحہ نقارہ کوچ بجا رہے ہیں ۔
کسی قافلے کا مسافر بن جاؤ۔
منزل تک ضرور پہنچ جاؤ گے۔
کوئی قافلہ زمینی سفر کرے گا۔
کوئی قافلہ سمندر ی ۔
کوئی سڑکوں پر اعلی گاڑیوں میں اپنی منزل کی طرف رواں دواں نظر آئے گا۔
لیکن کچھ قافلے پیدل خستہ حال آ ہستہ آہستہ دھیرے دھیرے اپنے قدموں پر بھروسہ کرتے ہوئے آپ کو خندہ پیشانی سے خوش آمدید کہیں گے۔
اب فیصلہ آپ کا ہے ۔
سب رستے طریقت کے۔
اپنے اپنے سلاسل کے جھنڈے اٹھائے یہ سب منزل کی جانب رواں دواں ہیں۔
سب کی منزل ایک ہی ہے۔
میرے آقا سرور دو عالم شہنشاہ مدینہ کا دربار عالیہ ۔
وہاں پہنچ کر ہر امیر قافلہ اپنا پڑاؤ ڈالے گا۔
اور دست بستہ اپنے مسافروں کی معیت میں شہنشاہ دو جہاں رحمت اللعلمین سید القاسمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دربارہ عالیہ میں حاضر ہو گا۔
اس دربار میں ہر امیر قافلہ اپنے اپنے مسافر لئے با ادب کھڑا ہوتا ہے اور پھر اگلی منازل میرے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی معیت میں طےکروائی جاتی ہیں۔
ان حقیقتوں کا ثبوت آپ کے اندر اٹھنے والی بے قراری اور وہ بے چینی ہے جوآپ کو ایسے لوگوں کی کی تلاش میں رکھتی ہے جو آپ کے اندر کی بات سمجھ کر ۔ سن کر آپ کو دوائی کی پرچی لکھ دیں ۔
آپ کے مسئلے کا حل بتا دیں۔
آپ منزل کی جانب جانے والی ٹرین یا بس کا پتا بتا دیں –
بیٹا ہر کام آج واضح اور روز روشن کی طرح تمہارے سامنے ہے ۔
فیصلہ تمہارا ہے اور عمل بھی تم نے کرنا ہے ۔

گوشہءنور۔
تحریر پسند آئے اور آپ کے روحانی سفر میں معاون ثابت ہوں تو اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں۔آپ کی رائے ہمارے لئے مشعل راہ ہے ۔
اسے شیئر کریں تاکہ اس کار خیر میں آپ ہمارے معاون و مددگار بن سکیں۔

شکریہ۔

گوشہءنور۔
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔

شکریہ۔

روح کی تخلیق - (سبق نمبر ۔12)

Related Posts

Leave a Reply