گوشہء نور کے سالکین۔

(سبق نمبر۔18)
زاد راہ۔


راہ متعین ہو جاے تو پھر کیا کرنا چاہیے؟؟میں نے سوال کیا۔
منزل کا پتہ چل جائے تو پھر منزل کی جانب چلنے کی تیاری کی جاتی ہے۔
سب سے پہلے زاد راہ کا بندوبست کیا جاتا ہے اور پھر اپنے وسائل میں رہتے ہوئے سفر کی تیاری شروع ہوتی ہے۔
کیوں ایسا ہی ہے ناں؟؟باباجی نے سوال کیا ۔
جی میں نےفرما برداری سے کہا۔
اس سفر کا زاد راہ کیا ہے؟
اور تیاری کیسے کرنی ہے؟
میں اپنے سارے سوالوں کی پٹاری اٹھائے پھر ان کی خدمت میں موجود تھی۔
جب اپنے آپ کو پہچان لیتے ہیں تو پھر زندگی گذارنے کا ڈھنگ مکمل طور پر تبدیل ہو جاتا ہے۔
وہ کیسے؟
میرےمنہ سے بے اختیار نکلا۔
مذہب کیا ہے؟
مذہب کے بارےمیں آ پ کیا جانتے ہو؟
ہم نے آ نکھ کھولتے ہی اپنے آپ کو مسلمان پایا۔۔۔
اسلام کیا ہے؟؟
کبھی سوچا؟
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کا مطلب ہے محض عبادت ۔
لیکن عبادت کے بغیر اسلام کیونکر مکمل ہو سکتا ہے؟
میں جھٹ سے بولی۔
ارے عبادات تو رب کی پہچان کے لیے ہیں ۔
عبادت تو وہ نور دیتی ہے جس کی روشنی میں ہم رب کو پانے کا سفر کرتے ہیں۔
جوں جوں وہ نور ہمارے اندر کو روشن کرتا جاتا ہے توں توں ہمیں اپنے من کا میل کچیل نظر آ نے لگتا ہے۔
کیا مطلب ؟
عبادت کا مقصد تو رب کی رضا کو پانا ہوتا ہے۔
ہم عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ ہما را رب ہم سے راضی ہو جاے۔
ان کی بات کو ہضم کرنا میرے لئے مشکل ہو گیا۔ سومیں نے اپنی معلومات کے مطابق انہیں اپنا نقطہ نظرسمجھانا چاہ رہی تھی۔
ارےپگلی وہ کریم رب تو تم سے راضی ہے۔
اگر وہ راضی نا ہوتا تو انسان کو خلیفہ الارض بنا کر دنیا میں بھیجتا۔
ہمیں اس سوہنے کملی والے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی امت میں شامل کرتا۔۔
اپنا محبوب ہم سے بانٹتا؟؟
وہ تو راضی ہے تم سے۔۔
اور اب وہ چاہتا ہے کہ تم اس سے راضی ہو جاو۔
آ ج بندہ اپنے رب سے راضی نہیں ہے۔
میرے چہرے پر الجھن کے اثرات دیکھ کر وہ بولے۔
اپنے من میں جھانک کر بتاو کیا تم اس سے راضی ہو؟
میں شاید اس اچانک سوال پر تیار نہیں تھی۔یکدم ہزاروں گلے شکوے مجھے میرے خیالات میں دھمال ڈالنے محسوس ہوےاور میں نادم سی ہوگئی۔
اس نے دنیا میں دو قسم کے لوگ پیدا کیےہیں۔
1۔۔امیر۔
2۔۔غریب۔
پھر اس نے امیرسے کہا ۔
میرا شکر کرو۔
غریب سے کہا ۔
صبر کرو۔
شکر کرنے والے سے پھر کہا
لان شکر تم لازیدنکم۔۔
اگر تم میرا شکر کرو گے تو تمہیں اور مزید دوں گا۔
صبر کرنے والوں سے کہا۔
ان اللہ مع الصابرین۔
بشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
امیر آ دمی نعمتوں کو پا کر ہوس میں مبتلا ہو گیا۔ امیر سے امیر تر بننے کی خواہش میں حرام حلال کی تمیز بھول گیا۔
ریا مال کا تکبر اور غرور سے معاشرے کو آ لودہ کرنے میں لگ گیا۔اور مال کے غرور میں اپنے رب کو فراموش کر گیا۔۔
وہ نعمت کو اپنا زور بازو سمجھنے لگ گیا۔اور مالی طاقت کے بل بوتے پر تکبر اسے اس مقام پر لے گیا جہاں وہ خدائی کادعویدار بن بیٹھا۔
اس نشے میں کبھی سسکتی انسانیت پر ظلم وستم کے کوڑے لگائے اور کبھی بھوک سے بلکتی انسانیت کے منہ میں امداد کے نام پر چند نوالے ڈال کر دنیا سے داد طلب کرنے میں لگ گیا۔
ادھر غریب آ دمی صبر کرنے کی بجائے نا شکری حسد گلے شکوے اور اپنی محرومیوں کا واویلا مچا کر معاشرے میں بے چینی پیدا کرنے کاباعث بنا۔اور اپنے اردگرد والوں کے لیے سوہان روح بن جاتا ہے۔
حالانکہ اس پیدا کرنے والے رب نے تو کہا ہے۔
اگر میری دی ہوئی نعمتوں کو پا کر میرا شکر کرو گے تو میں تمھیں اپنی مزید نعمتوں سے نوازوں گا۔۔
غریب سے کہا صبر کرو میں ساتھ تمھارا ہی دوں گا۔گویااگر میری دی ہوئی غربت پر صبر کرو گے شکوہ شکایت نہیں کروگے تو میں تمھارے ساتھ ہوں ۔
یعنی مجھ سے راضی رہو۔
اب بتاؤ غریب نے عبادات کر کے اللہ کوپایا؟؟
نا صرف اللہ کوپالیا بلکہ اس کی معیت کو پایا۔
وہ علی لاعلان قران میں کہ رہا ہے۔
میں ساتھ صبر والوں کا دوں گا۔۔
مصیبتوں پر صبر
غربت پر صبر
بیماری پر صبر
تمھارا رب تو تمھیں راضی کرنے پر لگا ہوا ہے۔
تم اپنے رب سے راضی ہو جاو۔۔۔
اپنے رب کی رضا کو سمجھنا۔۔
وہ مہرباں رب مصیبتوں تکلیفوں اور غربت پر صبر کرنیوالوں کے ساتھ کھڑا ہے۔
گویا کہ اسے جاننا۔۔۔
اس کی رضا کو سمجھنا۔
اسکی بڑائی پر سر تسلیم خم کر دینا
یہی زاد راہ ہے۔(جاری ہے)
تحریر پسند آئے اور روحانی سفر میں آپ کی معاون ہو تو اپنی رائے سے کمنٹ سیکشن میں ضرور آگاہ کیجئے۔اپکی راے ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ شکریہ۔۔۔گوشہء نور۔
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔

شکریہ۔

زاد راہ (سبق نمبر۔18)

Related Posts

Leave a Reply