(4 -صوفی نذیر احمد۔ (پارٹ

سرزمین حجاز یادیں۔۔8 پڑھاپے کا حج۔

سرزمین حجاز یادیں۔۔8

پڑھاپے کا حج۔

پوپلے منہ والی روئی کی طرح نرم نرم کسی نوزائیدہ بچے کی طرح گناہوں سے پاک معصوم چہرے والی بوڑھی اماں بے حد فکر مند دکھائی دے رہی تھی۔

۔اضطراب سے وہ بار بار کبھی خیمے سے باہر گردن نکل کر دیکھتی اور کبھی منہ میں آ سمان کی طرف دیکھ کر بڑبڑانے لگتی۔

میرے ہاتھ میں میں کچھ کھانے کی چیزیں  اور لبن کے پیکٹ تھے دن کا ابتدائی حصہ تھا سورج پوری طرح اپنی تمازت بکھیر دہا تھا۔

یہ یوم عرفہ تھا۔حاجی تقریباً میدان عرفات میں پہنچ چکے تھے۔اپنے خیمے میں مجھے چھوڑ کر میرے شوہر اور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ باہر کہیں چلے گئے تھے۔

ابھی بیسویں صدی نے اپنی تیز رفتاری  اور انٹر نیٹ   سے دنیا کو ایک دوسرے کی دسترس میں  نہیں کیا تھا۔

لوگ آ زاد تھے ۔

ایک دوسرے سے ہر لمحہ رابطہ ممکن نہ تھا صبر و تحمل اور توکل کا شخصیت پر ایک غلبہ ہوتا تھا۔

ایک دوسرے سے جدا ہوتے  وقت پیار کرنے والے یہ نہیں کہتے تھے کے اپنا فون آ ن رکھنا بلکہ اللہ کے سپرد  کر کے خدا حافظ کہا جاتا تھا ۔

رابطہ نہ ہونے کی صورت میں بار بار سیل فون کو  بے قراری سے ٹٹولا نہیں جاتا تھا بلکہ لوگ زیر لب کلام الہی اور مختلف دعائیں پڑھ کر ہر آنے والے کی خریت کی دعائیں مانگا کرتے تھے ۔

وہ لمحے دیکھنے والے کو بھی پیارے لگتے  جب اپنے پیاروں کے لیے بے قراری سے کوئی دعائیں کر رہا ہوتا کبھی آسمان کی طرف نگاہیں اٹھا کر اور کبھی باہر جھانک جھانک کر جانے والے کی بخیر واپسی کی دعا

کی جاتی۔

ایسی ہی بے قراری کی تصویر بنی یہ بوڑھی اماں  میری توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی ۔

میں اپنی تسبیحات اوراوراد پر پر فوکس نہیں کر پا رہی تھی کیونکہ خیمے کی خاموشی کو اس اماں کی  قراری  بوجھل اور اداس کیے ہوئے تھی۔

ماں جی آپ کچھ کھالیں میں نے بسکٹ کھانے کی دیگر اشیاء اور جوس وغیرہ ماں جی کے آگے کرتے ہوئے کہا۔ میرا جی نہیں چاہ رہا انہوں نے اپنے اپنے بوڑھے اور کمزور ہاتھوں سے وہ چیزیں پیچھے کرتے ہوئے کہا۔

وہ بہت ضعیف تھی منہ دانت نہ ہونے کی وجہ سے بہت پوپلا سا لگ رہا تھا چہرے پر بے شمار جھریاں تھی۔

  آنکھوں پر موٹے موٹے گول شیشوں والی عینک پہنے ہوئے وہ وہ بچپن میں سنی ہوئی کہانیوں کا کوئی کردار دکھائی دے رہی تھی۔

ان کی فکر مندی اور مضطرب کیفیت مجھے بھی پریشان کر رہی تھی۔ گردن میں ابھری ہوئی سانس کی نالیاں فکر مندی کے گہرے سانس لیتے ہوئے اور بھی نمایاں ہو رہی تھی ۔

ان کے چہرے کی حالت بہت اور پریشانی دیکھ کر مجھے  فکر لاحق ہو رہی تھی کہ کہیں ان کو کچھ ہو ہی نہ جائے۔
اماں یہ دودھ کا پیکٹ ہے تھوڑا سا پی لیں آ پ کی طبیعت سنبھل جائے گی میں نے ان کی منت کی۔

دعا کر پتر تیرا بابا واپس آ جائے خیر سے۔

وہ بہت بوڑھا ہے نظر بھی کم آتا ہے رستہ بھول گیا یا کہیں گر  گرا گیا تو میں کیا کروں گی؟؟

ہائے میں نے اسے کیوں جانے دیا میرا تو دم نکل رہا ہے اب وہ باقاعدہ رو رہی تھیں۔
پھر وہ میرے سے بیگانہ سی ہو گئیں ان کا بوڑھا اور ناتواں وجود یو ں میرے سامنے اللہ سے گریہ زاری کرنے لگا کہ ان کا شوہر واپس آ خیریت سے آ جائے۔

اتنے میں میرے شوہر خیمے میں داخل ہونے میں اٹھ کر ان کی طرف بڑھی اور فوراً اس بڑھیا کی کہانی ان کے گوش گزار کر دی۔
پلیز آ پ جائیں اور اس کے شوہر کو کہیں سے ڈھونڈ لائیں۔

معلوم نہیں اس کا شوہر کہا ں رہ گیا ہے ؟

باہر تو بہت رش ہے ہم اسے کیسے ڈھونڈ سکتے ہیں؟
اس کی شکل سے بھی ہم اسے مہیں پہچانتے  میرے شوہر نے مجھے جواب دیا۔

آ پ قریب قریب جاکر ڈھونڈ یں تو کہیں کوئی بوڑھا ضعیف نظر آ گیا تو سمجھ لینا یہی اس کا شوہر ہے بیچاری نے صبح سے کچھ کھایا پیا بھی نہیں ہے اب بہت دیر ہوچکی ہے میں اس بڑھیا کے لیے اپنےساتھ   دل میں بہت درد محسوس کر رہی تھی ۔
ساتھ ہی سااتھ مجھے اس بڈھے پر بھی بہت غصہ آ رہا تھا اور اس کے گھر والوں پر بھی کہ اس بڑھاپے میں ان دونوں کو حج پر بھیج دیا ۔
تھوڑی دیر کے بعد میرے شوہر اور ہمارے حج کے ساتھی جو بابا کو ڈھونڈنے ان کی مدد کر رہے تھے  منہ لٹکائے واپس خیمے میں داخل ہوئے ۔
اماں جی نے موٹے موٹے شیشوں کے پیچھے سے اپنی ننھی ننھی خوفزدہ  آ نکھیں میرے شوہر کے چہرے پر جما دیں اور نحیف آ واز میں بولیں بابا نہیں ملا؟
ہائے پترا اسکو ڈھونڈ لاؤ اللہ تمھارا بھلا کرے ورنہ میں واپس نہیں جاؤں گی۔
پھر اپنی آ واز میں چھپی سسکیاں دبانے کے لیے انہوں نے اپنے انچل کو منہ کے آ گے رکھ لیا۔
خیمے میں ہر طرف ایک ادس  سی خاموشی چھا گئی ۔

اندر سے اٹھنے والی منفی سوچوں کو دبانے کے لیئے  بابا جی کی سلامتی کے لیے دل ہی دل میں اللہ میاں کی ترلے منتیں کر رہی تھی اپنی ڈھیر ساری دعائیں اور دوستوں رشتے داروں کی دعاؤں کی ایک فہرست جو خاص میدان عرفات میں مانگنے کے لیے میں نے تیار کر رکھی تھی وہ بھی بار بار میرے ذہن کو ڈسٹرکٹ کر رہی تھی اپنی دعاؤں کو پس پشت ڈالکر باباجی کی سلامتی کے لیے میں سراپا دعا بنی ہوئی تھی کہ میرے شوہر کی آ واز میرے کانوں سے ٹکرائی۔

مبارک ہو اماں جی آ پ کا بابا آ گیا وہ ایک قد آ ور بوڑھے کو دیکھ کراماں جی سے مخاطب تھے جو ٹیک لگائے آ نکھیں موندیں منہ منہ میں کچھ پڑھنے میں مصروف تھیں۔

میں بھی اپنی جگہ سے اٹھ کر ان لوگوں کے قریب آ گئی۔
میں بہت غصے میں تھی جی جا رہا تھا بابا جی کو خوب سناؤں ان کی وجہ سے اتنی دیر سے یہ بوڑھی عورت کس تکلیف سے گزر رہی تھی ۔

ہم سب بھی اس بڑھیا کی وجہ سے پریشان تھے  آپ نے ساری عمر کیا کیا بابا ؟

کیا کرتے رہے آپ جوانی  میں اپنی بیوی کو حج نہیں کروا سکتے تھے جو اس عمر میں انہیں لے کر حج پر لے کر  آگئے ہیں ۔
میں اپنے غصے کو دباتے ہوئے ہوئے نرم آواز میں بابا جی سے کہا۔
بابا جی ایک لمبے  قد اور مضبوط جسم کے بوڑھے تھے تھے یقینا ان کی عمر سو کے لگ بھگ تھی لیکن انتہائی چست اور صحت مند خوش مزاج بوڑھے ہنستے ہوئے بولے پتر اس کو میں نے بھری جوانی میں حج کروایا تھا جب ہماری نئی نئی شادی ہوئی تھی۔

میں ایک  فوجی تھا اور دوسری جنگ عظیم  میں بھی میں نے شرکت کی تھی۔

ہماری نئی نئی شادی ہوئی تو ہم حج کرنے آئے  یہ ادھر میدان عرفات میں بہت خوش تھی اور میرا ہاتھ پکڑ کر اس نے دعا کی اے اللہ مجھے اپنے شوہر کے ساتھ مرنے سے پہلے ایک اور حج ضرور کروانا ۔

اور اب میں مرنے سے پہلے اس بڑھاپے میں اس دعا کا خمیازہ بھگت رہا ہوں بابا جی خوش دلی سے بولے اور ان کی بات پر سب ہنسنے لگے ۔

میرے شوہر نے میرے قریب آ کر کہا بیگم آپ کو بھی دوسرا حج کرنے کا بہت شوق ہے پلیز مجھے بڑھاپے میں مت اس آ زمائش میں ڈالنا۔  اور اگر دوسرے حج کے لیے لیے دعا کرنی ہیں تو اللہ کریم سے دعا کرو وہ دوسرا حج بھی ہمیں میں جلد ہی  کروا دے۔
اور اس عرفات کے میدان میں اٹھے ہوئے ہاتھ خالی کب لوٹانے جاتے ہیں۔۔الحمدللہ۔۔۔

تحریر پسند آ ئے تو شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ متنمیں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو اس سے آ گاہ ہو سکیں۔۔
اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں آ پ کی رائے ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ شکریہ۔۔۔گوشہ ءنور۔

Related Posts

Leave a Reply