سلوک اور میاں جی ۔(1)توبہ کیا ہے؟

سلوک اور میاں جی ۔(1)
توبہ کیا ہے؟
توبہ تو مومن کے درجات کی بلندی کیلئے ہوتی ہے۔ایک ولی بھی معصوم نہیں ہوسکتا کیونکہ معصومیت صفت صرف اور صرف اللہ کریم کے برگزیدہ انبیاء کرام کی ہے۔وہ ہمیں آ ج توبہ کے بارے میں بتا رہے تھے۔
میرے لئے توبہ کا یہ فلسفہ بلکل نیا تھا۔میں پوری توجہ سے ان کی بات سمجھنے کی کوشش میں تھی۔مجھے عجیب لگ رہا تھا کہ توبہ سے درجات کیسے بلند ہو سکتے ہیں۔
ہاں ولی محفوظ ہوتا ہے۔ اللہ کریم اس کو اس سے سرزد ہونے والے گناہ کے شر سے اسے محفوظ رکھتا ہے۔ان کی آ واز نے مجھے خیالات سے نکالا۔
محفوظ ایسے کہ جونہی اس سے کوئی گناہ کا کام سرزد ہوتا ہے یا خیال بھی گزر تا ہے وہ فوراً رجوع الی اللہ کرتا ہے۔
تائب ہوتا ہے۔
نادم ہوتا ہے .
اور اپنے رب کے حضور گڑگڑا کر توبہ کرتا ہے۔اور یہ توبہ اولیاء کرام کے درجات کی بلندی کیلئےہوتی ہے۔وہ دھیمے لہجے میں اپنی بات مکمل کرکے حاضرین کی جانب متوجہ تھے۔
یہ میاں حضور کی تربیتی نشست تھی ۔جس میں وہاں موجود طلباء کے علاوہ دنیا بھر سے آ ن لائن سلوک کے طالب ہمہ تن گوش تھے ۔
میاں حضور کو اللہ کریم نے جہاں روحانیت کے بلند مقام پر فائز کیا ہے وہاں علم روحانیت کے رموز کو سادہ زبان میں عوام تک پہنچانے کی ذمہ داری بھی سونپی ہے ۔وہ تمام گفتگو جو کبھی بند کمرو ں میں خانقاہوں میں یا پھر خاندانوں میں بزرگان کرام ایک خاص حد تک شرعی علوم کے حصول کے بعد طلب صادق رکھنے والوں سے نہایت رازداری سے کیا کرتے تھے آ ج میاں حضور وہ سب باتیں آ ن لائن طلب علم سلوک رکھنے والوں کو نہایت سادہ زبان میں سمجھا رہے ہیں۔
میاں حضور کی شخصیت میں ایک خاص قسم کی کشش اور روشن چہرے پر نور انیت کا ہالہ انہیں دیکھنے والوں کو پہلی نظر میں ہی اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے۔ان کا دھیما لہجہ اور شفقت بھرا انداز مخاطب کو یوں جکڑ لیتا ہے کہ وہ ان کی پوری بات سنے بنا اپنی نگاہیں ان سے ہٹا نہیں پاتا ۔
میاں حضور پیشے کے اعتبار سے شعبہ طب سے وابستہ ہیں۔اپنی ابتدائی زندگی میں ہی غیر معمولی واقعات نے انہیں راہ حق کی کھوج پر لگا دیا۔پھر کامل اساتذہ کرام کی خصوصی نگاہ کرم نے انہیں اپنے اساتذہ کرام کا منظور نظر بنا دیا اور ہوں ان کی تربیت میں ان کے کامل بزرگان دین نے نہایت جانفشانی سے سر انجام دی۔
انبیاء کرام معصوم ہوتے ہیں۔ان کی آ واز نے مجھے پھر اپنی جانب متوجہ کیا ۔
اگر ان سے کچھ سوء ہو تو بھی مصلحتاً ہوتی ہے۔
مثلا آ دم علیہ السلام۔۔
یونس علیہ السلام۔۔۔۔
یہ حکمت الٰہی ہے۔
آ دم نے ربنا ظلمنا۔۔۔سے توبہ کی جو اللہ جو کلمات انہیں اللہ کریم نے سکھائے۔۔
اللہ کی منشا کے مطابق سب عوامل ہوئے۔
دنیا میں اترنا سزا نہیں بلکہ منشاء الہی تھی۔
اگر گناہ نہ ہو تو انسان و فرشتہ میں کوئی فرق نہیں۔
اللہ کی بہت سی صفات کا ظہور نہ ہو مثلاً۔۔تواب،غفار،عفو غفور۔۔
اگر کافر نہ ہوتا تو مسلم کی صفات ظہور پذیرنہ ہو تیں۔
یہ سب گروہ کا مقصد ہی اللہ کی صفات کا ظہور ہے۔
ان سب گروہوں کی پیدائش کا مقصد ہی اللہ کی صفات کا اظہار ہے۔
ورنہ سب کو نیک ہنا سکتا تھا۔
کفر کانام ہی نہ ہوتا۔
تو پھر بہت سی صفات کا ظہور نہ ہو تا۔
دوزخ جنت پروگرام کا حصہ تھا۔
وہ اللہ کریم کی صفات اور کائنات کی تخلیق کے فلسفے کو نہایت سادہ زبان میں سمجھا رہے تھے ۔(جاری ہے)۔
آ پ کو ہماری یہ تحریر کیسی لگی۔اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں ۔اپ کی رائے ہمارے لئے مشعل راہ ہے ۔
تحریر پسند آ ئے تو شئیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں ۔تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہو سکیں۔شگریہ ۔گوشہءنور

Related Posts

Leave a Reply