سلوک اور میاں جی ۔(2)انبیاء کرام کی توبہ ۔

سلوک اور میاں جی ۔(2)
انبیاء کرام کی توبہ ۔
انبیاء کرام کی توبہ درجات کی بلندی کے لئے ہے۔
اور عوام کے لئے اس میں راہ ہوتی ہے۔یہ لوگوں کے لئے ہدایت کا راستہ ہے۔
ان کی سوء بھی لوگوں کے لئے ہدایت کا راستہ ہوتی ہے۔اور اس کے ذریعے اللہ کریم اپنے بندوں کی تربیت فرماتے ہیں ۔میاں حضور توبہ کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے لمحہ بھر کو رکے۔حاضرین پر ایک نظر ڈالی اور ہزاروں میل دور بیٹھے انٹر نیٹ پر ان کے طلبا اور طالبات کو بھی یوں محسوس ہوا جیسے میاں جی ان کو بھی دیکھ رہے ہیں۔
یہ انٹر نیٹ آ ن لان کلاسز بھی دور حاضر کی ایک عجیب ایجاد ہے۔اور اگر کلاس لینے والا مضبوط روحانی قوت کا مالک ہو تو پھر تو کمال ہو جاتا ہے ۔وہ اپنی باطنی آ نکھ اپنے ہر طالب علم کے قلب پر رکھے ہوئے ایک ہی وقت میں اس کی ذہنی اور قلبی اصلاح فرما رہا ہوتا ہے۔یہ قوت میاں حضور میں بدرجہ اتم موجود ہے ۔ان کا طالب علم ان کی محفل میں حاضر ہو یا آ ن لائن ان سے تعلیم حاصل کر رہا ہو ان کا فیضان یکساں بٹ رہا ہوتاہے۔علم معرفت کے دریا سے جس طرح طالبعلم کی پیاس بجھانے کے فن میں جو ملکہ انہیں حاصل ہے وہ دور حاضر میں شایدکسی اور کا خاصہ نہیں۔
اولیاء کرام کی توبہ۔
میاں حضور کی آ واز نے مجھے متوجہ کیا۔
اولیاء کرام کی سوء یا خطا ان کے درجات کی بلندی کے لئے ہوتی ہے۔
ولی معصوم نہیں ۔معصومیت صفت صرف انبیاء کرام کی ہے۔
ولی محفوظ ہو سکتا ہے۔
محفوظ اس طرح کہ جب وہ کوئی گناہ کرتا ہے تو فوراً اس کو اس کا احساس ہوجاتا ہے ۔
وہ تائب ہو جاتا ہے۔
اس کے درجات توبہ سے بلند ہوتے ہیں ۔
قرب الہٰی میں اضافہ ہوتا ہے۔
اور وہ اس گناہ کے شر سے محفوظ رہتا ہے۔
ولی کو معصیت کا فورا احساس ہوتا ہے اور وہ رجوع کر تاہے۔یہ خاص صفت اولیاء کرام میں ودیعت کی گئی ہوتی ہے۔جبکہ عام آ دمی کو اس کا ادراک نہیں ہوتا وہ گناہ کرکے اس پر اڑا رہتا ہے۔وہ اپنی بات مکمل کر کے سانس لینے کو رکے۔
پھر گویا ہوئے ۔توبہ ایک بہترین عبادت ہے۔
کیونکہ توبہ بندہ اللہ سے ڈرتے ہوئے کرتا ہے۔
اور اللہ کا خوف ہی تقویٰ ہے۔
اللہ کے نزدیک بندے کی بہترین حالت توبہ ہے۔وہ کہ رہے تھے اور میں سوچ رہی تھی توبہ کو اس انداز میں شاید اس سے پہلے میں نے نہیں جانا۔
کیا انسان سے سرزد ہونے والی خطاء اس کے درجات کو بلند بھی کر سکتی ہے۔ہم تو شاید کسی میں ہلکی سی لغزش دیکھ لیں تو اس پر کفر کے فتوے لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔لیکن شاید حقیقت کچھ اور ہوتی ہے ۔
وہ شخص جس کے گناہ کی لغزش کو دیکھ کر ہم دل سے اسے برا جاننے لگتے اس کے رات کی تنہائیوں میں بہنے والے آ نسو اسے رب العالمین کے کسقدر قریب کر دیتے ہیں۔
اللہ کوعابد کی عبادت اور زاہد کے زہد سے زیادہ عاصی کی توبہ پسند ہے۔ان کی آ واز نے مجھے متوجہ کیا ۔ نوجوان کی توبہ اللہ کو بہت پسند ہے۔
کیوںکہ جوانی کی قوت جوانی کا نشہ غافل کردینے والی چیز ہے۔ایسے میں عاجزہو کر خدا کے حضور گڑگڑا نے والا اللہ کو بہت پیارا لگتا ہے۔
توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
زاہد عابد متکبر ہو سکتے ہیں۔
لیکن توبہ کرنے والا متکبر نہیں ہوتا۔
اس لئے کہ اپنے تکبر کو پامال کر کے ہی وہ تائب ہوا۔
جھکا ۔
نادم ہوا اور سجدے میں گیا ہے۔
اولیاء کرام میں جب کسی کو حالت قبض ہوں، اللہ اس کو آ گے بڑھانا چاہے تو اس سے کوئی معصیت سر زد ہوجاتی ہے۔
وہ توبہ کرتا ہے۔
اللہ کے آ گے ندامت سے گڑگڑا تا ہے۔ اور اس کے درجات بلند ہوتے ہیں۔وہ اپنے مخصوص انداز میں بیان کر رہے تھے۔
اللہ دو کام رد نہیں کرتا۔وہ تھوڑا توقف کے بعد گویا ہوئے۔
ا۔۔۔توبہ۔۔۔درودپاک
توبہ۔
اس لئے رد نہیں کرتا کہ اس کے سوا کوئی تو بہ کو قبول کرنے والا ہے نہیں۔
اگر بندے کی توبہ قبول نہ کرے تو بندہ کہاں جائے۔
اس لئے مالک توبہ ضرور قبول کر تا ہے۔
توبہ در حقیقت غیر کو رد کرکے حق کو قبول کرنے کانام ہے۔
ہر وہ دعا قبول ہوئی جس میں اپنی عاجزی اور رب کی بڑائی بیان ہو۔
ادم کی دعا۔۔ربنا ظلمنا۔۔
حضرت یونس کی دعا۔۔۔۔لالہ الا انت۔۔
رب کی اتھارٹی کو نہ ماننا اپنے اوپر ظلم ہے۔
اللہ نے ہمارے لئے دو چیزیں رکھیں۔
توبہ۔۔
رسول خداکی بار گاہ میں حاضر ی ۔
اس حاضر ی کا وسیلہ درود شریف ہے
یہی طریقہ صوفیاء کرام کا رہا ہے۔
قرآن سورہ نساء کی64 نمبر آ یت میں یہی مضمون بیان فرماتا ہے ۔
” اور جب انہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا تھا تو تیرے پاس آتے پھر اللہ سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کی معافی کی درخواست کرتا تو یقیناً‌ یہ اللہ کو بخشنے والا رحم کرنے والا پاتے”۔(جاری ہے)
اس مضمون کا پارٹ ون پڑھنے کے لئے نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں ۔
اپ کو ہماری یہ تحریر کیسی لگی اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں ۔شئیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہو سکیں ۔
اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں آ پ کی رائے ہمارے لئے مشعل راہ ہے ۔شکریہ ( گوشہء نور)

Related Posts

Leave a Reply