صوفی نذیر احمد ۔(پارٹ ۔ 14)

گوشہءنور کی کرنیں۔
صوفی نذیر احمد۔۔(پارٹ۔۔۔14)۔
حجرہ مبارک کی خاک کے امین۔ …(حصہ سوم)
بلا آخر حاجی صاحب کی 18برس کاصبر اورتسلیم و رضا مقبول ہوگئ ۔
میرے اندر سے آواز ابھری ۔۔۔
میں نے سر اٹھا کر ہمیشہ کی طرح نہ اپنے ساتھ ہمہ تنگوش آسمان کی جانب دیکھا ۔
میرے دکھ ،
میری تنہائی میرے غموں کے سارے لمحے جب جب آسمان کو اپنی طرف متوجہ پاتےتو چپکے سے حال دل کہہ دیتے آج بھی میں نے اپنے دل کی بات آسمان سے کہہ ڈالی۔۔
چچی جان نے ایک سرد آہ بھر کر اپنی بات مکمل کی۔
پھر وقت نے دیکھا ،
رشتہ داروں اور احباب نے دیکھا۔
اس قدر جوان بیٹا جو کبھی کبھار بوڑھے ہوتے ہوئے والدین کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے سے بھی گریز نہ کرتا ۔۔۔
اس کی دیوانگی کے سارے دکھ دونوں میاں بیوی اپنے صبر کے آنچل تلے چھپائے سب کو ہنستے مسکراتے نظر آتے تھے۔
۔۔۔۔
یہ ایک خوشگواردن تھا۔
ہم چچا جان کے پاس اس بیٹھے ہوئے تھے۔
مجھے جب بھی موقع ملتا میں ان سے کہتی چچا جی کوئی خاص واقعہ یا کوئی خاص آ پ بیتی بتائیں۔۔۔
وہ ذرا رکے اپنی یادوں کی پٹاری کھولی اور پھر ماضی میں کھو گئے۔
ایک مرتبہ صبح ایک شخص مجھے ملنے آیا ۔۔
اس نے یہ قصہ مجھے سنایا۔۔۔
مجھے کسی بزرگ نے آپ کے بارے میں بتایا ۔۔
دل میں خواہش پیدا ہوئی جا کر آپ کی زیارت کر کے آؤں گا اور اپنے لئے دعا کرواؤ ں۔
جب میں آپ کا پتہ پوچھتے پوچھتے آپ کے شہر میں آیاتو میں ایک بہت بڑے” کلاتھ اسٹور “کے سامنے کھڑا تھا۔
سٹور کے ماتھے پر آویزاں” رفیق سینٹر ” کار بورڈ پڑھا پھر سٹور کے اندر جھانکا۔
اس بڑے شاپنگ سینٹر میں دنیا کے سارے رنگ موجود تھے۔
تو دل نے کہا ایک انسان جو اس سٹور کا مالک ہے وہ “اللہ والا “یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔
بزرگی اسی شخص کو ملتی ہے جو تارک دنیا ہو،
لیکن مجھے تو و ہانِ دنیا ہی دنیا نظر آ رہی تھی۔۔۔
میں چند لمحے شاپنگ سینٹر کے سامنے تذبذب کے عالم میں کھڑا رہا اور پھر واپس لوٹ گیا۔۔۔
رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بہت بڑا طاقتور جانور ہے جس کو زنجیروں سے مضبوطی سے کسی نے جکڑا ہوا ہے۔ جانور پوری طرح اس قوت لگا رہا ۔
چھٹکارا پانے کے لیے ۔
اور اسے قابو کرنے والا بے حد تگ ودو میں پوری جان سے کوشاں ہے۔۔
خواب میں یہ منظر دیکھ رہا ہوں تو ایک غیبی آواز آتی ہے یہ حاجی رفیق کا نفس ہے جس کو اس میں پوری قوت سے سے قابو کیا ہوا ہے ۔ جاؤ اس کے پاس اور اپنے حق میں دعا کراؤ۔۔۔
میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا ،گزشتہ روز اپنے دل میں آنے والے خیالات پر شرمندہ سا ہو گیا۔۔۔
یہ میرے رب کے بھید ہیں ۔
وہ کس کو کہا ں ملتا ہے؟
کیسے ملتا ہے ؟
یہ وہ وہی بہتر جانتا ہے ۔۔
جسے وہ اپنا دوست بنا لیتا ہے اپنے بندوں کے دل میں بھی اس کی محبت ڈال دیتا ہے ۔۔۔
ایک مرتبہ ہم انہیں ملنے گئے ۔
ہم گاڑی سے اترےانہوں نے خوش دلی سے ہمارا استقبال کیا ۔اوربے ساختہ بولے ، حج کی تیاری کر لو اس سال تم لوگ حج پر جا رہے ہو۔۔
میں نے اپنی گود میں اٹھائے چند ماہ کے بچے کی طرف دیکھا اور اور اپنے پاس کھڑے دو سال کے بیٹے کو ۔حالات میرے لیے موافق نہیں تھے کہ میں اس سال حج بیت اللہ کی ادائیگی کا سوچ بھی سکتی۔۔۔
سب انتظامات ہو جائیں گے ان شاءاللہ تم بس تیاری کرو اس سال تمہیں حج کے لئے جانا ہے۔حسب معمول اور جلدی جلدی مجھے بتا رہے تھے ۔۔۔
پھر وقت نے ان کی بات سچ کر دکھائی ۔
یقینامیرا اللہ اپنے دوستوں کی زبان سے نکلی ہوئی ہر بات کی لاج رکھتا ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
ہم بیرون ملک جانے کےلیے رخت سفر باندھ چکے تھے ۔
چچا جان ہمارےگھر تشریف لائے ۔
کچھ مستقبل کے حالات کے بارے میں باتیں کیں۔
فرمانے لگے آپ دیار کفر جا رہے ہیں ۔ یاد رکھو دیار کفر کفر میں ایمان بچانا حد مشکل ہے ۔
انہوں نے اپنے دبلے پتلے چہرے پر سجی اپنی داڑھی کو کھجاتے ہوئے کہا۔
صرف ایک ہی طریقہ ہے “دیار کفر” میں ایمان بچانے کا کا .
کیا ؟
میں نے بے ساختہ کہا۔
فرمانے لگے اللہ کے دین کی خدمت کرو ۔۔۔
جب تک اس کے دین کاکام کرتے رہو گے وہ خود تمہارے ایمان کی حفاظت بھی کرے گا اور اسے بڑھوتری بھی دے گا۔۔
خاندان میں کوئی بھی وفات پا جاتا خود اس کی نماز جنازہ پڑھاتے۔
اتنی خوبصورتی اور دل لگا کر دعا کرتے کہ ہر شخص ان کی دعا پر آمین اپنے دل کی گہرائیوں سے نکلتی ہوئی محسوس کرتا۔۔
ان کی باتیں رب سے جوڑ دیتی ۔ ان کی چند لمحے کی قربت گویا کسی بھی شخص کو رب سے آشنا کروانے کے لیے کافی تھی۔۔
ہم ان دنوں سعودی عرب میں تھے۔
چچا جان کافون آیا بیٹا میں حج کے لئے مکہ مکرمہ پہنچ چکا ہوں ۔
غالبا ان کی زندگی کا یہ نواں یا دسواں حج تھا ۔ بہت بوڑھے اور کمزور ہو چکے تھے۔
ہم ان سے ملنے ان کی رہائش گاہ پر پہنچے ۔
سفر کی تھکاوٹ اور بڑھاپے کی کمزوری ان کے وجود سے عیان تھی۔۔
تھکاوٹ کیوجہ سے بخار تھا ۔لیکن عبادت اور حج کے لئے بہت پرجوش تھے۔
حج کے بعد ہم دوبارہ انہیں ملنے گئے ۔۔
ان کے وجود میں بیماری نقاہت اور بڑھاپے کا شائبہ تک نہ تھا تھا حج کر کے گویا وہ تروتازہ اور بالکل جوان محسوس ہو رہے تھے خوشی خوشی ہمیں بتایا کہ ہم کل مدینہ منورہ روانہ ہو رہے ہیں..
وہ بہت پرجوش دیکھائی دے رہے تھے۔
ان کی عبادت میں لگن خوشی اور اعلیٰ درجے کی محبت دیکھ کر میرے دل میں خیال آیا اور میں سوچنے لگی ابھی اس بڑھاپے اور کمزوری میں ان کا شوق اور جذبہ اس قدر ہے جب یہ مدینہ منورہ جائیں گے میرے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی خدمت میں سلام عرض کریں گے۔
تو میرے آقا انہیں کیسے ملیں گے ؟؟
مدینہ منورہ میں ان کا استقبال کیسے ہو گا؟؟
نجانے کیوں یہ سوال میرے دل و دماغ میں اٹک سا گیا۔
یہ حقیقت ہے کہ اگر انسان دل کی گہرائیوں سے اپنے رب العالمین سے کچھ سوال کرے تو وہ رحیم رب اس کا جواب ضرور دیتے ہیں ۔
میرا سوال بھی شاید مقبول ہو گیا ۔
میں نے خواب میں دیکھا کہ ہم روزہ اطہر کے قریب کھڑے ہیں ۔حجرہ مبارک کا دروازکھلتا ہے۔
اندر سے چچا جان باہر نکلتے ہیں۔ مجھے دیکھ کر مسکراتے ہیں اور کہتے ہیں پتہ ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کیسے ملے ؟
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا “رفیق آؤ آؤ گلے لگ کر ملو”…
۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
سعودی عرب واپسی کے لئے تیاریوں میں تھے ہماری چھٹی ختم ہونے میں چند دن باقی تھے ۔
چچا جان کا فون آیا،واپی کب ہے؟
انہوں نے پوچھا ۔
چند دنوں میں ہماری واپسی ہے میں نے بتایا ۔۔
کمال ہے اس مرتبہ چھٹیوں میں آپ مجھے ملنے گوجرہ نہیں آ ے ۔آپ کو معلوم ہے میری صحت ٹھیک نہیں ہے میں بیمار ہوں ۔ان کی آواز سے نقاہت نمایاں تھی۔
آپ آج ہی آ جائیں ۔ مجھے مل کر کل واپس چلے جانا میری صحت ٹھیک نہیں ہے۔
اور وقت کا کیا بھروسہ۔۔۔
۔ وہ اپناحتمی فیصلہ سناکر خاموش ہو گئے۔۔۔
ہم اسلام آباد سے سفر کرکے گوجرہ چچا جان کی خدمت میں حاضر تھے۔۔
وہ بستر پر لیٹے ہوئے نہایت کمزور لگ رہے تھے۔ ہمیں کمرے میں داخل ہوتا دیکھ کر ان کے دبلے پتلے چہرے پر شفیق مسکراہٹ ابھری۔۔
ان کے وجودسے ایسی نور کی کرنیں پھوٹ رہی تھی کہ کہ سفر کی تھکان ان کا شفیق چہرہ دیکھتے ہیں رفوچکر ہو گی۔۔
کھانے کھا کر ہم چائے پی رہے تھے کہ انہوں نے کہا جلدی سے چائے ختم کرو اور دروازے کی کنڈی اندر سے لگا دو۔۔۔
ہم نے حکم کی تعمیل کی۔
پھر وہ بستر سے اٹھنے کی کوشش کرنے لگے۔۔
میرے شوہر نے آگے بڑھ کر انہیں سہارا دیا ۔۔
میرے ساتھ آؤ ۔۔
نقاہت کے باوجود اور تیز انداز میں چلتے ہوئے اپنے بیڈ روم سے ملحق سٹور کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہونے۔۔۔
داہنے ہاتھ والی دیوار کے ساتھ ایک تجوری تھی ۔ جس پر ڈیجیٹل لاک تھا۔
انہوں نے نمبر بولا اور کہنے لگے یہ بٹن دباؤ کھل جائے گی۔۔
جونہی تجوری کا دروازہ کھلا سامنے کچھ نوٹ پڑے ہوئے تھے ۔
انہیں سائیڈ پر کیا ،
پیچھے چند عربی عطر کی چھوٹی چھوٹی شیشیاں پڑی ہوئی تھی۔۔
ان شیشوں کے پیچھے قدرے بڑی ایک نہایت پرانے زمانے کی شیشی تھی۔۔
انہوں نے میں نے وہ شیشی نکالی اور مجھے تھما دی۔
میں نے اس قدیم طرز کی شیشی کو دیکھا اس میں کچھ مٹی اور ایک چھوٹاسا پرندے کاٹوٹا ایک پر پڑا ہوا تھا۔۔
میری سوالیہ نظریں انہیں پوچھ رہی تھی کھول لوں؟؟
انہوں نے اثبات میں سر ہلایا جونہی میں نے اس کو کھولا اندر سے ایک دلفریب اور مسحور کن خوشبو کا جھونکا دل و دماغ کو معطر کر گیا ۔۔
میں نے ڈر کر فورا ڈھکن دوبارہ کس کے بند کر دیا ۔
گویا یہ کوئی ماورائی چیز ہے عجیب خوشبو دار۔۔۔
یا شاید میں اس دلفریب خوشبو اور اس سے نکلنے والے انوارات کی تاب ہی نا لا سکی۔۔
یا شاید اس ڈر سے کہ کہیں یہ مسحورکن خوشبو ہوا میں تحلیل ہی نہ ہو جائے۔
انہوں نے تجوڑی بندکی سٹور سے باہر نکلے۔۔۔
بیڈ پر آ گئے ۔۔
تکیے سے ٹیک لگاکر بیٹھ گئے ۔۔
پھر گویا ہوئے۔۔۔
میں 1958 میں حج کرنے گیا۔ ہم مدینہ منورہ میں موجود تھے ۔ ایک دن میں ریاض الجنہ میں میں آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی خدمت عالیہ میں سلام عرض کرنے کے بعد میں چودہ صدیاں پرانے مدینے کے خد و خال اپنے تصور میں ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا تھا کہ ایک شخص میرے پاس آیا ۔۔
مجھے ایک بڑھیا تھما ئی میں نے اس کی طرف دیکھا خاموش اور بے نیاز دیکھائی دے رہا تھا ۔
میں نے دھیانی میں وہ پڑیا پکڑ کر اپنی جیب میں رکھ لی۔۔
واپس اپنے احباب میں آیا تو انہیں اس کے بارے میں بتایا۔۔
وہ سب بہت خوش ہوئے اور بولے رفیق تمہاری قسمت بہت اچھی ہے۔۔
یہ تو کسی قسمت والے کو ملتی ہے ۔ لیکن اس میں ہے کیا؟
میں نے سوال کیا۔
اور اپنی جیب ٹٹولے لگا تاکہ باہر نکال کر اسے کھول کر دیکھو ں۔۔۔
اس میں حجرہ مبارک کی خاک ہوتی ہے جو کسی خاص بندے کو ہی عطا ہوتی ہے ۔۔۔
اور وہ مجھے مبارک دینے لگے۔۔
میں نے اپنے رب سب کے آگے تصور میں شکر گزاری کا کا سجدہ کیا ۔۔
یہ وہی خاک ہے جو میں نے واپس آ کر اس شیشی میں ڈال کر سنبھال کر رکھ لی تھی..
سبحان میرے اللہ کیسے میری التجا سنی آ پ نے؟
کیسے اس حجرہ مبارک کی خاک کے” امین “سے ملوایا مجھے؟؟
ایسا شخص جس کی ساری ذندگی میرے سامنے تھی۔
لیکن یہ راز آ ج برسوں بعد کھلا میرے سامنے۔
میں اللہ کریم کی اس قدرت پر اس دلوں کے بھید جاننے کی صفت پر حیران تھی۔
سبحان تیری قدرت میرے کریم اللہ۔
میں نے اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے اپنے پرس سے موبائل نکالا اور صوفی نذیر احمد کی تصویر ان کے سامنے کردی چچاجان پہچانئے کیا یہ وہی شخص ہے جس نے آپ کو مٹی دی تھی؟؟
میرا موبائل پکڑ کر وہ تصویر زوم کرنے لگے..
کچھ دیر اسے بغور دیکھتے رہے پھر پرجوش انداز میں بولے ہاں یہ وہی شخص ہے یہ تھوڑا موٹا ہو گیا ہے اس وقت یہ دبلے جسم کا تھا ۔۔
پھر حیرت سے سکرین پر جمی نگاہیں اٹھا کر میری جانب دیکھا اور بولے تم اسے کیسے جانتی ہوں ان کے انداز میں حیرت عیاں تھی۔۔۔۔(گوشہء نور)
تحریر پسند آئے تو اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں۔شیر کریں کاپی پیسٹ کرنے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آپ اس سے آگاہ ہو سکیں ۔شکریہ۔۔گوشہءنور۔۔
اس کا پچھلا پارٹ آ پ اس لنک کو کلک کرکے پڑھ سکتے ہیں.
پارٹ 1۔
https://www.facebook.com/104763384584903/posts/184748016586439/
پارٹ۔2
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=187483119646262&id=104763384584903
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں۔ نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔شکریہ۔
http://goshaenoor.com

صوفی نذیر احمد ۔(پارٹ ۔ 14)

Related Posts

One thought on “صوفی نذیر احمد ۔(پارٹ ۔ 14)

Leave a Reply