گوشہء نور ء کی کرنیں۔
صوفی نذیر احمد..۔۔(پارٹ۔۔13)
حجرہ مبارک کی خاک کے امین.(حصہ دوم)
حاجی محمد رفیق زہد و تقوی اور دینداری میں اپنی مثال آپ تھے۔اپنی ذات کو اللہ کے دین کی خدمت کے لئے وقف کر دینے والی یہ ہستی نہ صرف اپنے خاندان بلکہ اپنے اردگرد والوں کے لیے بھی ایک خوشبو دار ہوا کا جھونکا تھی۔
اپنی پھر پور جوانی میں ہی اپنے نفس کو اطاعت خداوندی کی مضبوط زنجیروں میں جکڑے یہ شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔
بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے ماں کے بہت لاڈلے تھے۔
بیوہ ماں نے جب پڑھاپے میں حج بیت اللہ کرنے کا قصد کیا تو نظر انتخاب پانچ بیٹوں میں سے سب سے چھوٹے بیٹے پر پڑی۔
یوں انہوں نے بھی ماں کے انتخاب کی بھرپور لاج رکھ kiی۔۔۔
سفرِ حجاز میں ماں کی خدمت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔
اس نیک دل اور اطاعت گزار بیٹے کی سعادت مندی اور خدمت گزاری پر ماں بڑی خوش تھی۔اس کم عمری میں عبادت کا اس قدر ذوق و شوق اور ماں خدمت گزاری۔۔
ماں نے دل کی گہرائیوں سے دعا دی۔
” بیٹا تم نے مجھے ایک حج کروایا ہے میرا سوہنا رب تجھے سات حج کرائے” ۔
قبولیت کی گھڑی تھی اور دعا مقبول ہوگئی۔
یو ں انہوں نے زندگی میں سات سے بھی زیادہ حج کیے اور لا تعداد مرتبہ عمرہ کی ادائیگی کے لئے حرمین شریفین کےحاضری کی سعادت نصیب ہوئی۔۔
ماں کی دعاؤں سے اللہ کریم نے حاجی رفیق کو اپنے دین کے لئے قبول کر لیا اور یوں وہ تمام زندگی دین کی خدمت میں رہے۔
دنیا میں بہت سے ممالک میں اللہ کے دین کی محبت میں سفر کیے۔۔
دین سیکھنے کی لگن انہیں ذندگی میں کیے بہت سے بزرگوں تک لے گئی اور فیض یاب ہوئے ۔۔
خدمت خلق کے لئے بھی اللہ کریم نے ان کے دل میں ایک خوبصورت گوشہ رکھ دیا تھا۔۔
بے شمار صدقہ جاریہ کے کام اپنی حیات میں سر انجام دیے ۔ بہت سے بے گھروں کو چھت دی ۔ اور یوں وہ اپنی پوری زندگی تبلیغ دین, دین اور خدمت دین اطاعت خداوندی میں لگے رہے۔
ہر لمحے ہے مسکراتے چہرے والے ۔
ہمیشہ سفید شلوار کرتہ میں ملبوس سر پر سفید ٹوپی رکھے دبلے پتلے جسم والے پھرتیلے حاجی رفیق گوجرہ کے چھوٹے سے قصبے گوجرہ میں ہر شخص کی آنکھ کا تارا تھے۔۔
اپنے پانچ بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے اور یوں یہ خاندان کے سب بچوں کے چاچا تھے۔۔
چاچا رفیق جنہیں ہم نے ہوش سنبھالتے ہی پورے خاندان کے لیے دینداری کی ایک اعلی مثال کے طور پر دیکھا ۔۔۔
اللہ کریم نے انہیں ایک ہی اولاد نرینہ سے نوازا۔
لیکن وہ بھی ذہنی طور پر معذور۔۔۔
وہ 27برس تک اس ذہنی معذور بچے کو کم سن بچے کی طرح پالنے والے چچا رفیق۔۔۔
جنکے منہ سے تا حیات ہم نے کبھی اپنے رب کے لیے کوئی شکوہ نہ سنا۔
نہ ہی کوئی گلہ۔۔۔
اس نوجوانی میں منہ سے بہتی رالوں کے ساتھ جب اس بیٹے کی دیوانگی اپنی حدوں کو چھونے لگتی اور وہ کبھی کبھا ر والدین کو بھی زدوکوب کر جاتا ایسے اذیت ناک لمحات میں بھی ہم ان کے مسکراتے چہرے پر ان کی آ نکھوں میں اپنے رب سے شکوے کا شائبہ تک ڈھونڈ نے میں ناکام رہتے۔بس اپنی بےبسی اور آ نسو چھپاکر دھیمی سی مسکراہٹ کو چہرے پر آویزاں کرنے کے لیے کوشاں ہوتے۔۔
اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت نے ان کے دبلے پتلے وجود کو اس طرح اپنے حصار میں لیا ہوتاکہ دیکھنے والی آ نکھ فورا ہی ان کی محبت میں گرفتارہوجاتی۔۔۔
ہمارےبچپن کی سب یادیں چچا رفیق کا ایک دلکش عکس اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔۔۔
وہ ہر عید پر صبح صبح خاندان کے سب بچوں کو ایک لائن میں کھڑا کرتے۔۔
پھر باری باری سب کو عیدی کے نوٹ تھماتے جاتے۔۔
سب بچے ان سےعیدی وصول کرنے کے بعداسے خرچنے کےلئے بے قرار ہوتے۔۔۔
لیکن میرے ننھے سے دماغ میں اپنی ماں کے یہ الفاظ سرگوشی کر رہے ہوتے
” اللہ کے نیک بندوں،” کے ہاتھ سےدیے ہوئے پیسے میں بڑی برکت ہوتی ہے ۔ اگر اسے اپنے جمع شدہ پیسوں میں ملا کر رکھ لیا جائے تو اس کی برکت سے آپ کے پیسوں میں کبھی کمی نہیں آتی””
میں چپکے سے ان پیسوں پر پنسل سے نشان لگاتی اور اسے اپنے اپنے چھوٹے سے پرس کی سب سے محفوظ پاکٹ میں سنبھال کر رکھ کر مطمئن ہو جاتی۔۔
بچپن ہی سے ہمیں معلوم تھا کہ چاچا جی گھر میں داخل ہوں گے تو ہم نے فورا ٹی وی بند کر دینا ہے ۔
امی جان نے ہمیں سمجھا یا تھا کہ تمہارے چچا بہت “اللہ والے” ہیں .
اور اللہ والے یہ خرافات پسند نہیں کرتے ۔”اللہ والوں” کے سامنے ان کی پسند نہ پسند کا خیال نہ رکھا جائے تو اللہ ناراض ہو جاتا ہے .
یوں بچپن ہی سےانہیں گھر میں داخل ہوتے دیکھ کر بھاگ کر ٹی وی بند کرنا مجھے اپنی ذمہ داری محسوس ہوتی تھی۔
میں نے ایک دن امی جان سے پوچھا، چاچا جی
” اللہ والے “کیسے بنے؟
بولیں اپنی جوانی میں رفیق ایک شرارتی ہنس مکھ اور دنیا دار نوجوان تھا۔۔
اپنی ماں کے ساتھ حج کرنے گیے واپس آئے تو یکسر بدل چکے تھے ۔۔۔
اس کے بعد سے انہوں نے دنیاوی آلائشوں سے مکمل کنارہ کشی اختیار کر لی اور دین کو سیکھنے اور سکھانے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔۔
دنیاوی مال و متاع کی بے حد فراوانی کے باوجود وہ انکساری میں اپنی مثال آپ تھے۔۔
ان کے گھر میں چچی جان اور ذہنی معذور بیٹا عثمان تھے ۔۔
جوان اور خوبصورت عثمان، لیکن عقل و ہوش سے بیگانہ وہ دیوانہ عثمان۔
جسے دیکھنے والی ہر آنکھ اشکبار ہو جاتی ۔
ایک دن میں نے اپنی چچی سے پوچھا ۔
چچی جان چاچا جی کے اتنے بزرگوں سے سے میل ملاپ ہے۔
کیا آپ نے کبھی عثمان کی صحت یابی کے لئے ان سے دعا نہیں کروائی؟
یا چچا جان نے کبھی کسی بزرگ سے اس کے لئے دعا کروائی ہو یا کوئی دم وغیرہ ۔۔۔
وہ اپنی ممتا کے دکھ کواپنے صبر کی دبیز چادر تلے چھپاتے ہوئے بولیں۔۔
تمہارے چچا اللہ کی رضا پر راضی ہیں۔۔۔
میں نے ایک مرتبہ ایک بزرگ سے عثمان کے لیے دعا کا کہا تھا ۔۔
وہ بزرگ کچھ دیرمراقب ہوئے پھر فرمایا۔۔
جب یہ بچہ 18 سال کا ہو جائے گا تو یہ ٹھیک ہو جائے گا یا اس کے باپ کو بزرگی عطا ہو گی۔
جیسے میرا رب چاہے یہ رب اور اس کے بندے کا معاملہ ہے۔۔یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئیں ۔ان کے بوڈھے چہرے پر صبر کے رنگ میں رنگی ہوئی ایک عجیب سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
میں اس بات کو اپنی یاداشت کی مٹھی میں دبائے
ہوئے موسموں کے سارے بدلتے رنگ انگلیوں پر گن رہی تھی ۔۔
پھر ایک دن چاشت کی نماز ادا کرکے تمھارے چچا معمول کے مطابق قیلو لے کے لیے لیٹے ہوئے تھے۔میں روزمرہ کے کاموں میں مصروف تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی ۔
باہر کوئی سے ایک اجنبی آ واز تھی.
“یہاں جو بزرگ رہائش پذیر ہیں مجھے ان سے ملنا ہے”
بزرگ؟؟؟
یہاں تو کوئی بزرگ نہیں رہتے ہمارے ملازم کی آ واز میرے کانوں سے ٹکرائی۔وہ اجنبی کو کہ رہاتھا۔
یہ سنکر میری یادوں میں دبی برسوں پرانی ان بزرگوں کی اواز ابھر آ ئی۔۔۔۔۔(جاری ہے).
آ پ کو ہماری یہ کاوش کیسی لگی؟؟
اپنی رائے سے کمنٹ سیکشن میں ہمیں ضرور آگاہ کیجئے۔اپ کی رائے ہمارے لئے مشعل راہ ہے شکریہ۔تحریر کو شیر کریں کاپی پیسٹ کرنے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی ہو تو آ پ اس سے آ گاہ ہو سکیں۔
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔شکریہ۔
http://goshaenoor.com

صوفی نذیر احمد ۔ (پارٹ ۔13)

Related Posts

Leave a Reply