طالب مدینہ۔۔15۔کعبتہ اللہ کی تعمیر نو۔

گوشہء نور کی کرنیں۔۔
طالب مدینہ۔۔۔۔۔15۔
کعبتہ اللہ کی تعمیر نو۔
1996 میں کعبہ کی تعمیر نو ہوئی تھی۔اور اس کام کی ذمہ داری بھی بن لادن کمپنی کو دی گئی۔
بیت اللہ شریف کا فرش ملتزم کے برابر ہے ۔جس کے تقریباً تین میٹر نیچے جبل کعبہ ہے۔جس پر کعبتہ اللہ تعمیر کیا گیا ہے۔نیچے سے کھودائی کرکے اس پرانے میٹر یل کو نکال کر شاپرز بیگ میں پیک کرکے سمندر برد کیا گیا اور بہت فائن قسم کے میٹرل سے ان کی تعمیر نو ہوئی۔
بیت اللہ شریف کی دیواریں کھڑی رہیں مگر نیچے سے کھودائی کرکے بہت مہارت سے اس کو مضبوط اور اعلیٰ قسم کے میٹریل سے اس کی بھرائی کر دی گئی ۔
کھودائی کے دوران نیچے سے بہت سے قیمتی اور انمول پتھر نکلے جن کے بہت سے عجائبات دیکھنے والوں نے دیکھے۔
ان میں سے مجھے بھی بہت سے قیمتی پتھر عطاء ہوئے۔
قیمتی اور انمول پتھر ۔
یہ پتھر بڑی رازداری سے نکالے جاتے اور پھر انہیں سمندر برد کر دیا جاتا۔لیکن جو پتھر میرا رب کسی بندے کو پہچانا چاہتا اس بندے تک پہنچ جاتا۔
یوں میرے حصے میں بھی کچھ نادر پتھر آ ئے ۔
2015,میں مطاف کی توسیع کے لیے جب عثمانی برآمدوں کو شہید کیا گیا تو محرابوں کے کچھ پتھر بھی مجھے عطاء ہوئے ۔ان میں بہت بڑے سائز کے پتھر بھی تھے۔
33کلو،57،کلو وزن تک کے پتھر جو تقریباً ساڑھے چار سو برس کعبتہ اللہ کی زینت بنے وہاں کی تجلیات کو اپنے اندر سمیٹتے رہے جنہیں میں پاکستان اپنے تبرک ہاؤس کے لئے لے آ یا۔
انہیں پاکستان پہنچانا آ سان کام نہیں تھا۔لیکن اللہ کی مدد شامل حال تھی یہ کام بطریق احسن سر انجام پا گیا۔
یہاں لا کر کچھ پتھروں کو میں نے مشین سے چھوٹے چھوٹے ٹکروں میں بھی کٹوایا۔ایک پتھر کا سائز کافی بڑا تھا اور وزن بھی زیادہ اس لئے میں اسے مدینہ منورہ میں ایک پتھر کاٹنے والے پاکستانی کے پاس کٹوانے کے لئے لے کر گیا مگر اس۔ ے اسے کاٹنے سے انکار کر دیا۔
جب میں نے اسے پاکستان آ کر کٹوایا تو اس میں سے ایک خوشبو تھی جو مسلسل فضا کو معطر کر رہی تھی
ڈار صاحب اپنےکعبہ اللہ کے پتھروں کے حصول کی کہانی سنا رہے تھے۔
یہ سن کر مجھے یاد آ یامکہ مکرمہ میں حرمین آ فس میں ایک پاکستانی ہمارے عزیز ڈیوٹی پر مامور تھے۔انہیں بھی اس کھودائی کے درمیان وہاں جانے ما موقع ملا انہوں نے ہمیں بتایا کہ جب وہ وہاں تگئے تو ان کی نظر ایک پتھر پر پڑی سبز رنگ کا پتھر جس میں سے ننھی ننھی روشنی کی کرنیں پھوٹ رہی تھی۔وہاں پر موجود عملہ وہ پتھر انتہائی رازداری سے پیک کرکے سمندر برد کرتا تھا وہ کہتے ہیں جانے اس پتھر میں کیا تھا میں نے اسے اٹھا کر اپنی جیب میں ڈال لیا۔
رات کو گھر ایا تو اس پرھر کر نکال کر بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔
یو ں محسوس ہوا جیسے کمرے کی فضا ہی بدل گئی ہو۔کمرے میں ایک عجیب سی روشنی جو دل کو پکڑ رہی تھی پھیل گئی ۔میں گھر میں اکیلا تھا ۔بہت دیر تک رات کی تنہائی میں میں اس پتھر میں خدا کی قدر کو تلاش کرتا رہا پھر نیند نے مجھے آ گھیرا۔
اب وہ پتھر کہاں ہے؟
کیا ہم اسے دیکھ سکتے ہیں میں نے اشتیاق سے پوچھا ۔
نہیں جب میں صبح اٹھا تو وہ نیلگوں مائل سبز پتھر کمرے میں نہیں تھا انہوں نے تاسف سے جواب دیا۔(یقینا دنیا سے جب اللہ کریم کوئی چیز اٹھانے کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو پھر وہ کہیں بھی ہو وہاں نہیں ہوتی۔)
اسی دوران مجھے بیت اللہ شریف کے اندر جانے کا بھی تین مرتبہ موقع ملا ڈار صاحب خوشی سے بتا رہے ٹھے۔
بیت اللہ شریف کی چھت میں استعمال ہونے والی لکڑی کا کچھ حصے بھی نصیب ہوئے۔اور حضرت علی العریضی رضی اللہ عنہ جو ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔کے مزار مبارک کی کھڑکی میں استعمال ہونے والی لکڑی کو تھوڑا سا حصہ بھی عطاء ہوا۔جس سے میں نے ایک چھڑی بنوائی۔اور اس کا دستہ اس لکڑی سے بنوایا جو اب میرے تبرک ہاؤس کی زینت ہے ۔انہوں نے تفصیلاً بیان کیا۔
1999ء میں مجھے اپنی ذندگی کی سب سے بڑی خوشی ملی کہ حجرہ مبارک میں حاضر ی نصیب ہوئی۔
اللہ۔۔۔ اللہ ۔۔۔اللہ۔۔۔
مجھے ہر آ قا علیہ الصلواۃ والسلام کے غلام کی طرح مجھے بھی حجرہ مبارک کے اندر جاکر سلام عرض کرنے کی بے حد تمنا تھی۔
اکثر سوچتا رہتا یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟
وہاں تو بادشاہ وقت ہی جا سکتے ہیں ۔
میرا تو سیاسی شخصیات سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔
میری حاضری کیسے ممکن ہے؟
پھر خیال ہی خیال میں میں وہاں پہنچ جاتا۔
وہ میرے کریم آ قا تو دلوں کے بھید جانتے ہیں۔
دل میں اٹھنے والے حاضری کے سب سوال سنتے ہیں ان کریم آ قا نے ڈار صاحب کی التجا بھی سن لی۔
وہ بتارہے تھے کہ ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ میں بی بی فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے حجرہ مبارک کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوں اور آ قا علیہ الصلواۃ والسلام کی خدمت میں سلام عرض کر رہا ہوں ۔میرے ساتھ ایک ہستی کھڑی ہے ۔سفید چادر سفید کرتہ پہنے سر پر سفید امامہ باندھ رکھا ہے۔بہت اتنے میں دروازہ کھلتا ہے اندر سے ایک دربان باہر نکلتا ہے بہت شان وشوکت والا دربان آ واز لگاتا ہے شیخ عبد القادر جیلانی حاضر ہوں۔
میں دیکھتا ہوں میرے پاس جو ہستی کھڑی ہے ان کی جانب کہ یہی یقیناً شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔میری نظر اٹھتی ہے ان کا رخسار گردن اور کالے بال جو گردن کو چھو رہے ہوتے ہیں مجھے نظر آ تے ہیں ایسی روشنی پھوٹ رہی ہوتی ہے ان کے وجود سے کہ میں دیکھتاہی رہ جاتا ہوں وہ جلوے۔
وہ دربان کی آ واز سن کر اندر داخل ہو جاتے ہیں۔
اتنے میں میری آ نکھ کھلی میری کیفیت عجیب تھی پھر میں ساری رات اس سحر میں مبتلا رہا اور لمحہ بھر کو بھی سو نہ سکا۔
مدینہ شریف میں ایک سید زادے تھے۔وہ اب جنت البقیع شریف میں آ رام فرما رہے ہیں۔جب بھی میں کوئی ایسا خاص خواب دیکھتا صبح میری ان سے ضرور ملاقات ہو جاتی۔
حرم شریف فجر کی نماز کا وضو کر کے آ رہا تھاتو سامنے ہی وہ مل گئے۔
ہاں جی کیاموجیں لگی ہوئی ہیں؟
مجھے دیکھتے ہی وہ بولے۔
کرم ہوا ہے آ ج پھر؟
کرم تو ہوں گے آ پ خادم جو ٹھہرے سرکار دوعالم کے۔
میں نے انہیں اپنا خواب سنایا فرمانے لگے بہت خواہش ہے اندر جانے کی۔
جی میں نے آ ہستہ سے جواب دیا۔
بہت جلد آ پ کی یہ مراد پوری ہوگی ان شاءاللہ۔
شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ دروازے تک لے آ ئے ہیں آ پ کو اب بہت جلد اندر بھی حاضر ی ہو گی آ پ کی ۔انہوں نے باے مکمل کی۔
یہ 1999ء جولائی کا مہینہ تھا ۔پاکستان میں میاں نواز شریف وزیر اعظم تھے۔وہ عمرہ پر تشریف لائے ان کے ہمراہ محمد علی ظھور ی نعت خواں بھی تھے جو چلنے پھرنے سے قاصر تھے ۔ان کا مجھے فون آ یا کہ اوبرائے ہوٹل کے کمرہ نمبر 2020 میں آ پ کل دن دس بجے ویل چئیر لے کر پہنچ جائیں۔
وہ بیس اور اکیس جولائی کی درمیانی رات مجھے محمد علی ظھور ی صاحب کا مجھے فون آ یا میں مدینہ شریف میں ہوں اور میں سرکاری مہمان ہوں ۔مجھے میاں نواز شریف کے ساتھ سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت عالیہ میں حاضر ی دینے آ ج رات جانا ہے اور میرے ساتھ میری ویل چئیر پکڑے ہوئے تم اند ر جاؤ گے۔
تحریر پسند آ ئے تو اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں آ پ کی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے شکریہ۔

Related Posts

Leave a Reply