طالب مدینہ۔ تبرک ہاؤس ۔19

طالب مدینہ۔

تبرک ہاؤس ۔19

آپریشن کے بعد کمپنی نے مجھے دوبار ہ نجران بھیجنا چاہا۔ لیکن اب میں مدینہ منورہ سے جانے کو تیار نہیں تھا۔کمپنی بھی ان دنوں ملکی حالات کے پیش نظر کچھ مشکل میں تھی۔ان کے پاس اب مدینہ منورہ میں کوئی پراجیکٹ ہی نہیں تھا۔سو حالات کے پیش نظر میں نے ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ کر لیا ۔

اب میں ریٹائرمنٹ کے بعد مدینہ منورہ میں ہی مقیم ہونا چاہتا تھا۔میرا پروگرام تھا جمع شدہ پونجی سے مدینہ منورہ میں ہی کوئی کاروبار کر لوں اور یہیں سکونت اختیار کر لوں۔

لیکن قدرت کو شاید کچھ اور منظور تھا۔

میرے پاس اکٹھے کئے گئے تبرکات کی تعداد بہت زیادہ ہو چکی تھی۔ان کی تعداد کا مجھے خود بھی اندازہ نہیں تھا ۔

میرے گھر میں ایک بڑا کمرہ تبرکات سےبھرا تھا۔جہاں یہ سب تبرکات ڈیوں میں بند پڑے تھے۔

جنہیں اگر کھول کر سجایا جاتا تو وہ کمرہ بہت کم پڑ جاتا۔اس کے لئے زیادہ جگہ درکار تھی۔جہاں پر یہ سارے تبرکات قرینے سے سجائے جاتے۔

میں مدینہ منورہ میں کسی کاروبار کی تلاش میں تھا۔کہ یہیں سیٹ ہو جاؤ ں ۔لیکن ملنے والے اشارے مجھے کنفیوژ کر رہے تھے۔

جناب محمد علی صاحب۔یہ پنڈی گھیپ کے رہائشی تھے۔سال میں متعدد بار عمرہ کے گروپ لے کر مدینہ منورہ آ تے تھے ۔رمضان المبارک بھی مدینہ منورہ میں گذارتے تھے۔

بہت محبت کرنے والے انسان ہیں۔ آ قاکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاص مہمانوں میں ان کا شمار ہوتا۔جب بھی مدینہ شریف آ تے قدمین کی طرف سمجھیں ان کا مستقل بستر لگا ہوتا۔اپنا سارا وقت وہیں گذارتے۔دنیا ما فیھا سے بے نیاز۔۔

یہ قدمین میں مراقب بیٹھے ہر وقت نظر آ تے۔

میرے ساتھ ان کا ایک مدنی محبت کا رشتہ استوار تھا۔

ہماری بہت دوستی بھی تھی اور دلی الفت بھی۔

ان پر سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بہت خاص کرم ہے۔اور بی بی پاک فاطمتہ الزہرا کی بھی خاص نظر عنایت ہے ان پر۔

وہ ان دنوں مدینہ منورہ میں قیام پذیر تھے۔میری ان سے ملاقات ہوئی میں نے بتایا کہ میں ریٹائرمنٹ لینے کے بعد اب مدینہ منورہ میں روزگار کا متلاشی ہوں۔

انہوں نے تھوڑی دیر خاموشی اختیار کی پھر بولے آ پ واپس چلے جائیں اور جاکر اپنی ڈیوٹی سر انجام دیں۔

لیکن میرا دل مدینہ منورہ کو چھوڑ کر جانے کے لئے تیار نہیں تھا۔

ایک روز میرے پاس آ ئے اور کہنے لگے ،”مجھے نہیں معلوم کہ آ پ کے پاس کتنے تبرکات محفوظ ہیں لیکن میں جانتا ہوں کہ بہت کثیر تعداد میں موجود ہیں۔اگر زندگی ختم ہو گئی تو یہ سب چیزیں ڈبوں میں بند ہی پڑی رہ جائیں گی ۔روز محشر آ قا علیہ الصلواۃ والسلام کو آ پ کیا منہ دکھائیں گے؟حدود حرم کی اشیاء یہاں سے لے گئے؟اور پھر ان کو ایسے ہی چھوڑ دیا۔ڈار صاحب آ پ کی واپسی ناگزیر ہے۔جائیں اور جاکر ان سب تبرکات کو عوام الناس کے لئے کھولیں۔میں بی بی پاک سلام اللہ علیہا سے آ پ کے کام کی منظور ی لے آ یا ہوں۔ہاں اس کام کے لئے آ پ کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔”

یہ بات بتاتے ہوئے ڈار صاحب کا لہجہ عجیب ہو گیا۔شاید وہ اس وقت کہیں اور جا چکے تھے۔چند لمحے کی خاموشی کے بعد فرمانے لگے۔اب میرے پاس کوئی جواز نہیں رہ گیا تھا مدینہ منورہ میں قیام کرنے کاسو میں نے واپسی کے لئے رخت سفر باندھ لیا۔

سیٹھ نثار صاحب یہ بھی پنڈی گھیب کے رہنے والے ہیں۔بہت نیک اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بے پناہ عقیدت و محبت رکھنے والے نرم خو روشن چہرے والے نہائت سخی انسان سیٹھ نثار احمد ۔۔

ان کے پنڈی گیپ میں بہت زمین اور مکانات ہیں۔ان کو جب صورتحال کا علم ہوا تو انہوں نے فوراً پیش کش کی کہ ڈار صاحب میرے جس مکان پر جس پلاٹ پر آ پ ہاتھ رکھیں وہ حاضر خدمت ہے آ پ وہاں مدینہ منورہ کے تبرکات سجا سکتے ہیں۔میں وہ پراپرٹی اس کام کے لئے آ پ کو ہدیہ کرتا ہوں۔اور اس کی تزئین وآرائش بھی میری ذمہ داری ہے۔

میرا دل نہ مانا۔اور میں نے ان کا شکریہ ادا کرنے کے بعد ان سے معذرت کر لی۔

23اگست 2018ء کو میں پاکستان مستقل طور پر آ گیا۔اقا کریم کی خدمت میں عرضی پیش کردی جس میں  التجاء کی کہ میرا کام مکمل ہو جائے تبرک ہاؤس بن جائے آ قاکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتیوں کے لیے اس کو کھول کر جب میں اپنا کام مکمل کر لوں تو مجھے واپس اپنے قدموں میں۔۔

اپنے مدینہ منورہ میں ۔۔۔

جنت البقیع میں جگہ دے دیں۔

                   ۔۔۔۔۔۔   ۔۔۔۔۔۔۔   ۔۔۔۔۔۔۔

بن لادن کا میرا ایک دوست خروج پر پاکستان منتقل ہو گیا تھا۔گوجرانوالہ میں اس نے پراپرٹی کا کام شروع کیا۔میں چھٹیوں میں گھر آ یا اس سے ملاقات ہوئی تو اس نے کہا کہ یہ دو کنال جگہ برائے فروخت ہے آ پ خرید لیں ایک دن آ پ کو بہت فائدہ دے گی۔اور آ پ مجھے دعا دیں گے۔

اس کے منہ سے نکلے الفاظ سچ ثابت ہوئے۔پھر وہی زمین میرے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوئی۔

           ۔۔۔۔۔   ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔     ۔۔۔۔۔۔

اب جب تبرک ہاؤس کے لیے جگہ کا مسئلہ درپیش تھا تو نظر انتخاب اسی دو کنال جگہ پر پڑی ۔یہ جگہ ہر لحاظ سے موزوں تھی۔گرچہ کچھ احباب نے مشورہ دیا کہ گوجرانولہ کے کسی پاش علاقے میں تبرک ہاؤس بنایا جائے لیکن اس کے لئے ہمارے وسائل کم پڑ جاتے ۔سو میں نے اسی جگہ بنانے کا فیصلہ کیا۔

اس دوکنال جگہ پر میرے برا بیٹا دو گودام بنا کر کرایہ پر دے چکا تھا۔اس کے اوپر میں نے تبرک ہاؤس کے لیے کمرے تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔اور ساتھ ہی اپنی رہائش کے لیے جگہ بھی بنائی۔اور واپڈا ٹاؤن سے اپنی رہائش ادھر ہی شفٹ کرلی۔

پہلے مرحلے میں 32,64,فٹ کا ایک ہال بنایا اور اس کے ساتھ چار کمرے بنائے۔دو واش روم اور وضو خانہ بنایا گیا۔

لیکن جب اس میں تبرکات کو کھول کر شو کیسوں میں سجایا گیا تو جگہ کم پڑ گئی اور بے شمار چیزیں آ قاکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتیوں کی آ نکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے سے محروم ہی رہ گئیں۔

پھر دوسرے کنال پر 50,50کا ایک اور ہال تعمیر کیا گیا۔اب یہ ہال بھی کم پڑ گیا ہے اور مزید چیزیں ہیں جو ابھی بھی ڈبوں میں بند پڑی ہیں۔

میرے وسائل نے اجازت دی تو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے مزید توسیع کاکام کروں گا۔ان شاءاللہ۔ڈار صاحب کی آ واز اپنے خوابوں کی تکمیل اور مستقبل کے شوق میں پر جوش تھی۔

                                                                 (جاری ہے)

تحریر پسند آ ئے تو شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہو سکیں۔اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں آ پ کی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے شکریہ۔                                                               گوشہء نور

Related Posts

Leave a Reply