طالب مدینہ۔..20  زوجہ محترمہ

طالب مدینہ۔..20

 زوجہ محترمہ

کسی بھی انسان کی زندگی میں کامیابی حاصل کر نے کے لئے اس سے جڑے رشتے بہت اہم ہوتے ہیں۔

ڈار صاحب کی زوجہ محترمہ ایک نفیس خاتون ہیں۔ان سے جب بھی ملاقات ہوئی انہیں خندہ پیشانی کے ساتھ مہمانوں کو خوش آمدید کہتے پایا۔

حالانکہ مکہ ہو ، مدینہ منورہ ہو یا جدہ وہاں کے مقیم اکثر مہمانوں سے نالاں نظر آ تے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وطن عزیز سے آ نے والا ہر زائر خواہشمند ہوتا ہے کہ اس کے سعودی عرب میں رہنے والے عزیز رشتہ دار خوب آ وبھگت کریں۔اور مہمان نوازی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔رشتہ قریب کا ہو یا دور کا محض محلے داری ہو یا شناسائی آ نے والے حجاج کرام مہمان نوازی میں کسی قسم کی کوتاہی پسند نہیں کرتے

اوروہاں مقیم لوگ پورا سال مہمان نوازی سے اکتاکر سرد مہری کا رویہ اپناتے نظر آ تے ہیں ۔

ہاں مگر آ قا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت رکھنے والے آ نے والے زائرین کو آ قاکریم کا مہمان سمجھ کر بے لوث خدمت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ڈار صاحب کے ںارے میں اتنا کچھ لکھنے کے بعد میرا جی چاہا کہ ان کی زوجہ محترمہ کو بھی قارئین سے متعارف کروایا جائے۔

جب ڈار صاحب سے بھابھی کے بارے میں پوچھا تو فرمانے لگےمیری زوجہ میرے بچوں کی ماں میرے لئے ایک نعمت خداوندی ہیں۔وہ میرے ماموں کی بیٹی تھیں۔اور انہوں نے زندگی کے نشیب و فراز میں میرا بہت ساتھ دیا۔خاص طور پر شادی کے ابتدائی ایام میں جب میں مکمل طور پر مالی مشکلات میں گھرا ہوا تھا وہ بھاگوان  اپنی زبان پر کبھی کوئی حرف شکایت نہیں لائی۔

تبرک ہاؤ س کی تعمیر میں بھی مجھے ان کا مکمل تعاون حاصل رہا۔

جب میں نے سعودی عرب کے لئے رخت سفر باندھا میرے پاس ٹکٹ خریدنے کے پیسے بھی پورے نہ تھے تو اس نے اپنا زیور بیچ کر خاموشی سے رقم میرے حوالے کر دی۔اگر اس کے پاس زیور بہت کم تھے رقم پوری نہ ہو سکی اور باقی پیسوں کے لئے قرضہ لینا پڑا۔

اس نےمیرے والدین کی بہت خدمت کی ۔والد صاحب کی وفات کے بعد میری ماں جی کی خدمت میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑی۔

قرآن مجید سے اس کو گویا عشق ہے۔اسکی تلاوت کرنے کا اس کو جنون کی حد تک شوق تھا۔

موئے مبارک جب سے ہمیں عطاء ہوا وہ اس کمرے میں بلا ناغہ تلاوت قرآن پاک کرتی۔

28برس تقریباً آ قا کریم نے اپنے شہر مدینہ پاک میں میری بیوی اور بچوں کو رکھا۔ الحمدللہ۔

ایک مرتبہ مدینہ منورہ شفٹ ہونے کے بعد انہیں مدینہ منورہ میں ہی رہنے کی ہی سعادت ملی رہی۔

میری ٹرانسفر جب جیزان میں ہوئی تو میں نے گھر مدینہ منورہ میں ہی رہنے دیا۔یوں میرے بیوی بچے مدینہ شریف میں ہی قیام پذیر رہے اور میں چھٹی پر مدینہ شریف آ جاتا۔

جیزان سے آ گے نجران ایک چھوٹا شہر ہے۔کچھ عرصہ کے بعد کمپنی  نےمیری ٹرانسفر نجران کر دی۔  میری صحت ان دنوں خراب تھی۔ نجران ایک چھوٹا شہر تھا جس کی  کیوجہ سے طبی  سہولیات بھی کمتر درجے کی تھیں۔

 اس بات پر میری بیوی بہت پریشان ہوئی۔ اس نے منت مانی اور چالیس دن روزانہ سورہ بقرہ پڑھی۔اس نے کچھ ایسے خشوع وخضوع سے اللہ کے حضور عرض ڈالی کہ اکتالیسویں دن میں مدینہ منورہ تھا۔

اپنی بات بتاتے ہوئےان کا انداز اپنی بیوی کی محبت میں تفاخرانہ تھا۔

یقیناً یہ ایک عورت کی خوش بختی ہے کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو۔

یہ رشتہ جس کی بنیاد ہی خوف خدا ہر ہے۔جسے صرف اللہ کے نام پر قائم کیا جاتا ہے اور پھر وہی اللہ کی ذات اس رشتے میں الفت ڈال دیتی ہے اور اس رشتے میں محبت کے لئے ہمیں قرآنی دعا بھی سکھلا ئی گئی ہے۔

25) سورۃ الفرقان (مکی — کل آیات 77)

 رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ اَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا (74)

اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمارے رب ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا دے۔

           ۔۔۔۔۔۔   ۔۔۔۔۔۔   ۔۔۔۔۔۔۔     ۔۔۔۔۔۔۔

میری بیوی اکٹر مجھ سے اپنی خواہش کا اظہار کرتی کہ میں چند دن مکہ مکرمہ میں گزار نا چاہتی ہوں۔لیکن میں اس کی بات پر کبھی کان نہ دھرتا۔

منی  96ء  جب منی میں آ گ لگی اس کے بعد تمام منی کے خیمے واٹر پروف کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔یہ کام کرنے کا ٹھیکہ بھی بن لادن کمپنی کو ملا۔

اپ کو مکہ مکرمہ بھیجا جا رہا ہے ۔میرا افیسر مجھ سےمخاطب تھا۔

نہیں سر مجھے مدینہ شریف ہی رہنے دیں میں نے اپنے باس کی منت کی۔

مجھے مکہ بھیجنے کی کوشش بہت دنوں سے ہو رہی تھی لیکن میں کسی نہ کسی طرح اپنے باس کی منت سماجت کرکے مدینہ شریف میں ہی ٹکا ہوا تھا لیکن اب میرے باس کا رویہ کچھ بدلا ہوا تھا ۔

اس معاملے میں افسران بالا  مداخلت کر رہے ہیں کہ کام وہاں بہت زیادہ ہے۔ حج قریب ہے اس لئے آ پ کے لئے اب انکار کی گنجائش نظر نہیں آ رہی۔بہتر یہی ہے کہ آ پ مکہ چلے جائیں۔کام پر توجہ دیں۔جب مکہ کا کام ختم ہوگیا آ پ کو واپس مدینہ شریف بلا لیا جائے گا۔

ہم مکہ کے لئے روانہ ہو گئے۔میں مدینہ شریف چھوڑتے ہوئے بہت رویا۔

اور مکہ پہنچ کر بھی مدینہ منورہ کی جدائی مجھے تکلیف دے رہی تھی۔رات کو میں یاد مدینہ منورہ بہتی آ نکھوں کے ساتھ  اشعار پڑھتے پڑھے سو گیا۔

صبح سویرے میری بیوی کا فون آ یا اور بولی۔

“کیا رات آ پ بہت روئے تھے” ؟

کیوں؟

آ پ کیوں پوچھ رہی ہیں؟میں حیران سا ہوگیا اس کے سوال پر۔

ڈار صاحب دھیمے لہجے میں بتا رہے تھے۔ اور ہم دلچسپی سے سن رہے تھے۔

میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ میں آ پ اور سعد(میرا بیٹا) جنت البقیع والی سائیڈ پر گنبد خضریٰ کے سامنے کھڑے ہیں۔آپ زاروقطار رو رہے ہیں۔اتنے میں گنبد خضریٰ ہمارے سامنے شق ہوتا ہے۔اور اندر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑی شان سے جلوہ افروز ہوتے ہیں ہم مبہوت کھڑے یہ منظر دیکھ رہے ہیں۔آقا علیہ الصلواۃ والسلام ہمارے قریب آ تے ہیں پھر آ پ سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں۔(آپ بہت زیادہ رو رہے ہوتے ہیں) پریشان نہ ہوں میں خود آ پ کو الوداع کرنے آ یا ہوں۔

مکہ میں اللہ تعالیٰ نے حرم شریف کے بکل قریب رہائش کا بندوبست کردیا۔کبوتر چوک کے قریب مجھے کمپنی کی طرف سے فیملی رہائش اور اے کلاس میس کا کھانا سب سہولیات میسر تھیں۔پورے چالیس دن میری فیملی مکہ میں رہی اور میری بیوی کی دلی خواہش بھی پوری ہوگئی مکہ مکرمہ میں رہنے کی۔

اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔میری بیوی کی دیرینہ خواہش اللہ نے پوری کرنے کے لئے مجھے مکہ ڈیوٹی پر بھیجا۔

بے شک وہ مالک سب کے دلوں کی سنتا ہے۔ 

 اور اسے دو چار نہیں بلکہ پورے چالیس دن مکمل سہولت کے ساتھ مکہ مکرمہ میں رہنے کا موقع ملا۔ الحمدللہ۔

تحریر پسند آ ئے تو شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہو سکیں۔

تحریر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں۔شکریہ۔گوشہء نور

Related Posts

Leave a Reply