طالب مدینہ۔16.”محمد علی ظہوری اور روضہ اقدس کے اندر حاضر ی”۔

گوشہء نور کی کرنیں۔
طالب مدینہ۔۔16.
“محمد علی ظہوری اور روضہ اقدس کے اندر حاضر ی”۔
جب سے میں نے روضہ مبارک میں حاضری کا خواب دیکھا تھا میں ہر وقت سوچتا رہتا یہ کیسے ممکن ہو گا؟کیا میرا خواب کبھی سچ بھی ہو سکتا ہے۔
میں تو ایک عام آدمی ہوں ۔کسی سیاسی شخصیت سے بھی میری کوئی جان پہچان نہیں ہے ۔پھر میرا یہ خواب شرمندہ تعبیر کیسے ہو سکتا ہے؟
امید اور نا امیدی کے ہچکولے کھاتی میری سوچ جب تھک جاتی تو میرے دل کی تمنا نعتیہ اشعار میں ڈھل کر میرے آ نسووں کی جھڑی بن جاتی۔
دل کا کیا کرتا جو یہ گواہی دیتا تھا کہ ایک نہ ایک دن مجھ پر کرم ہونا ہے اور یہ خواب پوارا ہونا ہے۔
یہ جولائی کا ایک گرم دن تھا۔سورج اپنی تمازت کو ادب و محبت کی چادر اوڑھائے مدینہ منورہ کی بستی میں بڑے ادب سے پھیلا ئے ہوا تھا۔
میرے فون کی گھنٹی بجی ۔دوسری جانب جناب محمد علی ظہور ی صاحب تھے ۔میں کل دن دس بجے مدینہ منورہ اوبرائے ہوٹل میں پہنچ جاؤ ں گا۔310نمبر کمرے میں ۔آپ میرے لئے ویل چئیر لے کر وہاں آجانا وہ مجھے بتا رہے تھے۔(وہ بطور شاہی مہمان عمرے پر تشریف لائے ہوئے تھے ۔لیکن میرے ساتھ ان کی ایک خاص محبت اور انسیت تھی جو مجھے یہ سعادت مل رہی تھی)۔وہ شفقت بھری آواز میں مجھ سے مخاطب تھے۔
وطن عزیز میں وزیر اعظم نواز شریف کا دور حکومت تھا ۔ 28.مئی 1998ء پاکستان کی تاریخ کا ایک اہ
دن ۔اس کے بعد سعودی عرب کی گورنمنٹ نے جناب نواز شریف کو شاہی مہمان کے طور پر مدعو کیا۔ان کے ساتھ جناب محمد علی ظہوری مشہور نعت خواں بھی شاہی مہمان تھے۔ان سے میری مدنی محبت تھی وہ بھی مجھ پر بہت شفقت فرماتے تھے۔
میں مقررہ وقت پر ان کی خدمت میں موجود تھا۔ڈار صاحب ماضی کی یادوں میں کھوئے ہوئے ہمیں بتا رہے تھے۔
ظہوری صاحب نے مجھے ایک ٹوپی دی اور کہا،ڈار صاحب یہ ٹوپی کسی خاص جگہ پر لگانی ہے مجھے کسی بندے نے دی ہے۔میں وہ ثوپی ہاتھ میں لئے سوچ رہا تھا کہ یہ ٹوپی تو معلوم نہیں کہاں کہاں جائے گی۔میرا وجدان مجھ سے کہ رہا تھا کہ کرم ہونے والا ہے ۔کیونکہ جس کو یہ لوگ شاہی مہمان بلاتے ہیں اس کے لئے پھر حجرہ مبارک کے دروازے ضرور کھلتے ہیں۔
مجھے لگ رہا تھا یہ میرے خواب کی تکمیل کا دن ہے۔
کھانا وغیرہ کھانے کے بعد ظہوری صاحب مجھے کہنے لگے ،یار مجھے اس پروٹوکول سے نکال لو میں یہاں سے نکلنا چاہتا ہوں میں سنیوں کے برآمدوں میں جا کر بیٹھنا چاہتا ہوں۔
ہم دونوں حرم پاک کے برآمدوں میں موجود تھے۔وہ ویل چئیر پر تھے اور میں زمین پر بیٹھا ہوا تھا۔حرم میں روز کی طرح رحمتوں کا نزول دل کی کیفیات کو اتھل پتھل کر رہا تھا۔
آجکل کیا چل رہا ہے؟ ظہوری صاحب کی پیار بھری آ واز نے مجھے مخاطب کیا۔
لکھنے والوں کی اپنی زبان ہوتی ہے۔
نبیاں دے سردار مدینے
اللہ دے دلدار مدینے
پیار دی اکھ نال جے کوئی دیکھے
وسدے نے انوار مدینے
(میں نے اپنا کلام ان کے گوش گذار کیا۔میرے اشعار سن کر بے ساختہ فرمانے لگے لکھو پھر آگے۔میری جیب میں پن بھی تھا اور کاغذ بھی میں نے سعادتِ مندی سے انہیں نکالا اور ہمہ تن گوش ہو گیا۔
فرمانے لگے).
جس جس نے بخشش پانی
آجاؤ اک بار مدینے
غم دیاں دھوپاں تو بچنا ں ای
آکے سینہ ٹھار مدینے
پھر کہنے لگے اس بحر پر بہت سے شعراء نے طبع آزمائی کی ہے۔آپ نے بہت اچھا لکھا ہے۔
نواز شریف صاحب کے پرسنل سیکرٹری بہت لمبے قد کا جون آدمی تھا۔ اس دوران دو مرتبہ اس کا فون آیااور اس نے جناب ظہوری صاحب کی خیریت دریافت کی۔ میں نے بات کی اور فون بند کر دیا۔ظہوری صاحب مجھ سے پوچھنے لگے کس کا فون آرہا ہے میں نے بتایا میاں نواز شریف صاحب کے پرسنل سیکرٹری کا فون ہے کہ رہے ہیں میاں صاحب آپ کی خیریت دریافت کر رہے ہیں اگر آپ نے بات کرنی ہے تو کروا دوں؟بولے نہیں رہنے دو میرا مزاج ٹھیک نہیں ہے۔
ان پر ایک عجیب کیفیت طاری تھی۔میں محسوس کر رہا تھا کیسے وہ عجیب سی جذب کی حالت میں ہیں۔ڈار صاحب ہمیں بتا رہے تھے ۔
میں بھی گویا اس وقت اپنے آپ کو اسی جگہ انہیں برآمد وں میں کہیں آنسو ؤں میں بھیگا ہوا محسوس کر رہی تھی۔یہ تصور، یہ خیال کی قوت جو اللہ رب العزت نے ہمیں بخشی ہے کیا کمال کی نعمت ہے یہ بھی۔ہم ذرا سا اپنے خیالات اور سوچ کو یکجا کریں تو ہم جہاں چاہیں پہنچ سکتے ہیں۔
خیالات میں سب سے حسین خیال میرے کملی والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے۔
ان کے حرم کا ہے۔
ان کی محفل کا ہے۔
ان کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بیٹھک کا ہے۔
جب ہم مدینہ منورہ سے رخصت ہوتے ہیں تو دل کی کیفیت عجیب ہوتی ہے۔
جی چاہتا ہے اے کاش میرا وجود بھی کوئی خاک کا ذرہ بن کر اس سرزمین کی پاک مٹی میں مل جائے جو اس دھرتی کے مہمانوں کے قدموں کے دن رات بوسے لے۔ بس صرف یہاں رکنے کی اجازت مل جائے ۔
اے کاش یہاں سے واپس نہ جانا پڑے۔
ہر بار اس مدینہ منورہ سے جدا ہوتے یہی کیفیت دل ہوجاتی ۔
دوری کا تصور ہی دل کو مارے دیتاہے ۔
ایک دن یہی سوال میں نے وہاں کے ایک بزرگ کی خدمت میں عرض کیا اور جو جواب انہوں نے مجھے دیا وہ آج تک میری لئے ،میری سانسوں کے لئے آکسیجن کی حیثیت رکھتاہے۔
ان لفظوں نے جیسے میرے سارے زخم سی دئیے ۔فرمانے لگے۔
بہت سے لوگ مدینہ منورہ میں ہزاروں میل کا سفر طے کرکے آتے ہیں۔لیکن چند ہی دنوں میں ان کے دل اپنے وطن کی ،اپنے پیاروں کی یادوں میں کھو جاتے ہیں،ان کے وجود تو یہاں ہوتے ہیں لیکن ان کی ارواح یہاں نہیں ہوتیں۔آپ دنیا میں کہیں بھی رہو آپ کی روح یہیں رہنی چاہیے۔۔
آپ کا دل یہیں رہنا چاہیے۔۔
میرے کملی والے سوہنے کریم آقا کی محبت۔۔
ان کی خدمت میں حضور ی۔۔۔
یہ سب زمان و مکاں کی قید سے آزاد ہے۔
حضرت اویس قرنی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔
اس لئے بیٹا سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہنا چاہتے ہو تو قلب وروح کے ساتھ یہاں حاضر رہو۔۔
پھر یہ مٹی کا بت جہاں بھی جائے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
میرا سفید جوڑا آج بیگ سے نکال کر مجھے دے دینا میں ایک سوٹ کو مائع لگواکر لایا ہوں۔ اس میں ازار بند ڈال دیں۔ظہوری صاحب نے مجھے کہا۔
ابھی آپ کو دولہا بنانے کا وقت نہیں آیا جب وقت آئے گا تب وہ جوڑا آپ کو زیب تن کروا دیں گے میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
مدینہ منورہ میں میرے نعت کے حوالے سے احباب بھی میرے بلانے پر آن موجود تھے۔
ڈار صاحب کی آ واز میرے کانوں سے ٹکراتی اور میں تصور کی خوبصورت وادی سے واپس آ گئی۔
ڈار صاحب آج کون سی پہیلیاں بھجوا رہے ہیں ؟ظہوری صاحب کے پاکیزہ چہرے پر نرم مسکراہٹ ابھری۔جو
میرے اندر سے آواز آرہی ہے وہی کہ رہا ہوں میں نے اپنے خیالات ان سے چھپاتے ہوئے کہا ۔کیوں کہ میرا یقین تھا کہ آج حجرہ مبارک کے اندر حاضر ی ضرور نصیب ہو گی ۔میرے خواب کے پورا ہونے کا وقت آگیا تھا۔
ساڑھے دس بجے فون کی بیل بجی۔دوسری جانب میاں صاحب کے پرسنل سیکرٹری تھے۔آپ لوگ تیار ہوکر گیارہ بجے نیچے ہوٹل کے مین گیٹ پر آ جائیں۔دوسری جانب سے آواز آئی۔
کس کا فون ہے؟ظہوری صاحب نے پوچھا۔
پہلے تو آپ کا فون آتا تھا اب آپ کا اور میرا دونوں کا ہے میں نے جواب دیا۔
یہ آپ آج کیسی عجیب باتیں کر رہے ہیں وہ حیرت سے بولے۔
میرا جی چاہ رہا ہے آج میں ایسی ہی باتیں کرتا جاؤں آپ کے ساتھ ۔میں نے جذب کے عالم میں جواب دیا۔
دراصل ڈار صاحب کو آپ سے بہت عقیدت ہے ہر وقت ان کے لبوں پر آپ کی ہی نعتیں رہتی ہیں آج اپ کی مدینہ منورہ کی پاک فضاؤں میں صحبت نے انہیں ایسا کر دیا ہے میرے ایک ساتھی نے جھٹ سے کہا۔
ہر پاسے رحمت وسدی اے
ہتھ بن کے بہاراں کھڑیاں نے
سارے جگ توں مدینہ سوہنا اے
سونے دیاں سوہنیا گلیاں نے
بہت سالوں سے ہم تو جب بھی انہیں دیکھتے ہیں ان کے لبوں پر یہی نعت ہوتی ہے۔میرے ایک ساتھی نے کہا۔
گیار بج کر بیس منٹ ہوئے ۔
محمد اصغر سلطانی صاحب مدینہ شریف میں ان دنوں مقیم تھے (آجکل امریکہ ہوتے ہیں)۔وہ بہت اچھے نعت خواں تھے مدینہ منورہ میں۔ وہ بھی وہاں موجود تھے۔ کہنے لگے یہ جوڑا اب پہنانا ہے۔میں نے کہا جی بلکل ابھی پہنانا ہے اور انہیں تیا ر کرکے نیچے لے کر جانا ہے ۔میری بات سب کو سمجھ میں آ گئی۔اتنی بڑی سعادت، ہمیں بتایا ہی نہیں ؟
میں نے کہا اب تو بتا دیا ہے
سب لوگ بہت خوش ہوئے۔
میں نے اٹھ کر ان کے بیگ سے کلف لگا جوڑا نکالا۔ اس میں آزار بند ڈالا۔انہوں نے اسے زیب تن کیا۔سب انہیں پروٹوکول دے رہے تھے سب ساتھیوں کے،آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ثنا خوانوں کی حالت دیدنی تھی۔سب کے جھرمٹ میں میرے کریم آ قا علیہ الصلواۃ والسلام کا یہ ضعیف ثنا خواں محمد احمد ظہوری واقعتا ایک پاکیزگی کا ، محبتوں کا نور چہرے پر سمیٹے کسی ننھے بچے کی معصومیت سے زیادہ معصوم اور خوش دیکھائی دے رہے تھے۔
یوں ظہوری صاحب مدینہ منورہ کے نعت خوانوں کے جھرمٹ میں اپنے کمرے سے نکلے ہوٹل کے گیٹ پر شاہی پروٹوکول والے انتظار میں تھے اور یوں یہ قافلہ گنبد خضریٰ کی جانب رواں دواں تھا۔
اس وفد میں 65مرد حضرات اور 35خواتین تھیں۔اس زمانے میں مسجد نبوی شریف رات کو بند ہوتی تھی۔جباب البقیع کے دو حصے ہیں دروازے کے اس کا ایک حصہ کھلا ہوا تھا۔سارا وفد وہاں اکٹھا ہوگیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ لوکل لوگ الگ ہو جائیں۔ اس میں ریا ض سفارت خانہ، جدہ سفارت خانہ کے اور مدینہ شربف کے لوگ بھی شامل تھے۔کل ملا کر 65مرد اور 35خواتین تھیں اس وفد میں اس وقت ۔
ریاض الجنہ میں جگہ کم ہے اس لئے سب لوگ ایک ساتھ اندر نہیں جا سکتے یہ اعلان سنتے ہی لوکل لوگ پیچھے ہٹ گئے۔سلطانی صاحب جو ظہوری صاحب کی ویل چئیر پکڑے ہوئے تھے انہوں نے مجھ سے کہا ڈار صاحب میں اس قابل نہیں ہوں یہ ویل چئیر آپ پکر لیں اندر لے جائیں ان کی آواز لرز رہی تھی ۔
میں نے بصد شوق لے لی ۔میرے ذہن میں تھا کہ ہمارے قابلیت کے کیا پیمانے ہو سکتے ہیں ۔یہ تو ان کی کرم نوازی ہے ۔جس پر نگاہ کرم ہو جائے سو ہوجائے۔
دنیا میں جو بھی پیمانہ ہے،محبت کا،عشق کا،عقیدت کا اس کی ابتدا بھی اور انتہا بھی اسی در سے ہے۔
لائق یا نالائق ہونا ہمارا مسئلہ ہے ان کے تو پیمانے ہی کرم کے ہیں وہاں تو صرف نوازا جاتا ہے ۔جو وہاں پہنچ گیا اس کی جھولی خالی نہیں رہتی یہ اس در کا اصول نہی ہے۔ وہاں تو عطاء ہی عطاء ہے۔
ڈار صاحب ہمیں بتا رہے تھے اور میں چشم تصور میں باب القیع میں اس قافلے کے پاؤ ں سے لگنے والی خاک سے لپٹ کر اندر جانے کے لئے کوشاں تھی۔وہاں ظہوری صاحب کے عشق ومحبت کی آج قبولیت تھی۔
وفد کے ہر شخص کی آنکھوں میں آنسو ؤں کا سمندر چھپا ہوا تھا کوئی ضبط کر رہا تھا کسی کا پیمانہ چھلک رہا تھا۔
آقا بھی یقیناً آ نے والوں کی میزبانی کے لئے تیار ہو ں گے۔
مظفر وارثی نے امتی اور آقا کی محبت کے تعلق کو اپنے اشعار میں کس خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔
جہاں بھی ہو وہیں سے دو صدا سرکار سنتے ہیں۔
سر آئینہ سنتے ہیں پس دیوار سنتے ہیں
میں صدقے جاؤں ان کی رحمت اللعالمینی کے
پکارو چاہے جتنی بار وہ ہر بار سنتے ہیں
میرا ہر سانس ان کی آہٹوں کے ساتھ چلتا ہے
میرے دل کے دھڑکنے کی بھی وہ رفتار سنتے ہیں۔
مظفر جب کسی محفل میں ان کی نعت پڑھتا ہوں
میرا ایمان ہے وہ بھی میرے اشعار سنتے ہیں
اس وفد کا ہر فرد سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کرم نوازی پر
ان کی مہمان نوازی پر
نازاں اور اپنی کوتاہیوں پر نادم چھوٹے چھوٹے عقیدت واحترام کے قدم اٹھاتا ہوا اپنی لغزشوں پر ندامت کے آنسو بہاتا ہوا ریا ض الجنہ کی جانب رواں دواں تھا۔
میں نے ظہوری صاحب کی ویل چئیر پکڑی ہوئی تھی لبوں پر درود سلام دھیمی آ واز میں جاری تھا ہم دروازے پر پہنچ چکے تھے۔
میاں صاحب کا پی اے دروازے پر کھڑا تھا۔ایک ایک کرکے لوگ اندر جا رہے تھے ہم سے آگے سردار کھوسہ جنرل پرویز مشرف،اور کابینہ کے کچھ ارکان اندر داخل ہوئے ۔جب ہماری باری آ ئی تواس نے مجھے اندر جانے سے روک دیا۔اور کہنے لگا اندر جگہ کم ہے آپ جانتے ہیں ہم نے تمام لوکل لوگوں کو منع کر دیا ہے اس لئے معذرت آپ اندر نہیں جا سکتے ویل چیئر چھوڑ دیں اور واپس چلے جائیں ۔اس کا یہ کہنا تھا کہ میرے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
شدت غم سے میری آنکھوں سے آنسوامڈ آئے۔دل نے سرکاردو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کی ۔۔
اہ وہ کیسی عرض تھی۔۔
وہ کسی آہ تھی ۔۔
جو بے آواز اپنے آقا کے حضور سر بستہ تھی۔
وہ ایک سیکنڈ کا شاید ہزار واں حصہ تھا۔شاید میرے آنسو ابھی بہ کر زمین پر بھی نہیں گرنے پائے تھے کہ آ قا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مقبول ہو گئے۔
اسی شخص نے اگلے ہی لمحے میری پشت پر ہاتھ رکھا اور سرگوشی کی جائیں جی چلے جائیں اندر۔۔
اور پھر میرا ہر آنسو۔۔
میری ہر سانس ۔۔
اظہار تشکر میں لپٹ کر اپنے آ قا کی خدمت میں با ادب حاضر تھا۔۔
معلوم نہیں کتنے آنسو اس روز بہ گئے۔۔
کتنی بے قراریاں تھیں۔۔
جو قرب کے ان لمحات میں ۔۔۔
سجدے کر کر تھک ہی نہیں رہیں تھیں۔
پہلے ہم نے ریاض الجنہ میں نوافل ادا کئے۔۔
پھر وفد میں موجود خواتین وہیں رکیں انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور صرف مرد حضرات اندر گئے ۔
دو مرتبہ میاں نواز شریف صاحب نے میری طرف دیکھ کر ہاتھ کا اشارہ کر کے دوا کرنے کو کہا۔۔
اندر داخل ہونے کے بعد نو یا دس قدم کے بعد ظہوری صاحب ویل چئیر سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے قدموں پر چلنے لگے۔
وہ شخص جو بوڑھا تھا کمزور تھا اور اسے چلنا مشکل تھا اس وقت ان کے جذبے ان کی عقیدت و احترام اور شوق حاضر ی اس لو بلکل نوبر کئے ہوئے تھا۔وہ کسی بھی سہارے کے بغیر محبت وعقیدت کی مثال بنے میرے آگے آگے چل رہے تھے ۔ان کے ساتھ ساتھ میاں نواز شریف صاحب تھے۔میں پریشان تھا کہ میں تو ان کی خدمت کرنے ان کے صدقے میں یہاں تک پہنچا ہوں اگر انہیں انہیں چلتا ہو ا کسی اہلکار نے دیکھ لیا تو وہ
مجھے فالتو سمجھ کر باہر واپس بھیج دیں گے ۔
میں نے ان سے یہ بات کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اس وقت کسی اور ہی موڈ میں تھے ۔آنکھوں میں عقیدت و محبت کے آ نسو،لبوں پر درود و سلام ،وہ اس وقت بلکل بدلے ہوئے دکھائی دے رہے تھے ۔
میں بھی چشم تصور میں ان کے وفد کے پیچھے پیچھے ساری دنیاسے چھپ کر درودو سلام کا ورد کرتی ہوئی کہیں موجود تھی ۔ یوں میں جناب ظہوری کے پاکیزہ چہرے،بہتی آنکھیں اور ہلتے ہوئے ہونٹ دیکھ کر سوچ رہی تھی معلوم نہیں آج تک کتنی مرتبہ نعتیہ کلام لکھتے ہوئے انہوں نے خیال ہی خیال میں یہاں حاضر ی دی ہوگی۔
معلوم نہیں خیال میں یہاں کے کس کونے میں بیٹھ کر کون سی نعت کے اشعار لکھے ہوں گے۔
اللہ جی یہ کیسی محبت ہے میرے کریم آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی جس میں نہ دیکھنا شرط ہے نہ ملنا۔۔
اس محبت میں ضرور ت ہے تو صرف خیال کی۔۔
ایمان کی۔۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتوں کی۔۔
کسی ایسے ساتھی کی جو آپ کو پیار سے ان کی باتیں سنائیں۔
کسی ایسے ساتھی کی جو اپنے لفظوں میں لپیٹ کر آپ کو بھی ان کی محفل میں لے جائے۔۔
کسی ایسے کلام کی جس کا ایک شعر قربت کی کتنی منزلیں لمحوں میں آپ کو طے کروادے۔۔
اس محبت کی لو میں اتنی تمازت ہے کہ آ پ کے نصیب کی ساری سیاہی اس لو سے اجلی ہو جاتی ہے۔۔
میرے کانوں میں اپنی امی جان کے لفظ گونج رہے تھے کہ اللہ آپ کو نیکو ں کا ساتھ دے۔۔
یہ ساتھ بڑا قیمتی ہوتا ہے۔
لمحوں کا یہ ساتھ صدیوں کا سفر طے کروا دیتا ہے۔
میں اس منظر میں کھڑی کہیں اپنے کریم آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشبو ڈھونڈ رہی تھی کہ ڈار صاحب کی آ واز نے مجھے متوجہ کیا۔
سیدہ کائنات بی بی فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے حجرہ مبارک کے دروازے کے پٹ میری آنکھوں کے سامنے وا ہو رہے تھے۔
وہ دروازہ جس پر یہ اشعار کندہ ہیں ۔
ھو الحبیب الذی ترجی شفاعتہ
لکل ھول من الا حوال مقتحم
یہ وہی دروازہ تھا جس دروازے پر خواب میں سید عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ مجھے چھوڑ کر گئے تھے۔اب میری آنکھوں کے سامنے اسی دروازے کے در وا ہو رہے تھے۔۔
کوئی چیز مانع نہیں تھی۔۔۔
سر کار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت اللعالمینی اپنے عروج پر تھی۔۔
ہم پر۔۔۔
ہم یوں جیسے اس دنیا میں ہیں ہی نہیں۔۔
ہم تو اس زمین پر نہیں تھے شاید ۔۔
یہ واقعتاً عرش ہے کیا؟
کیا عرش پر ایسی ہی کیفیات ہوں گی۔۔
وہ تو کوئی اور دنیا ہی تھی۔۔
اور ان کی آواز میں وہ قوت تھی کہ سننے والے کو بھی اپنے ہمراہ ہی لے جانے۔۔
میں نے اس وفد کے پیچھے پیچھے باب فاطمہ الزہرا کے دروازے پر لگے تالے پر لکھے ہوئے شعر پر عقیدت کے بوسے دے رہی تھی۔الحمد للہ ۔۔
الحمد للہ۔۔ہم دروازے میں سے حجرہ مبارک میں داخل ہو چکے تھے۔پندرہ سولہ منٹ کا وقت ہمیں ملا۔۔
جو کیفیات وہاں تھیں وہ ناقابل بیان تھیں۔بہر حال اندر جاکر ہر شخص اپنی اپنی جان و روح سمیت عجیب کیفیت میں تھا۔یوں جیسے کوئی کسی کے ہمراہ ہے ہی نہیں ۔۔
ظہوری صاحب مجھ سے یکسر بیگانہ تھے۔۔
اور میں اپنے آپ سے بیگانہ۔۔۔
ڈار صاحب کہ رہے تھے۔

Related Posts

Leave a Reply