طالب مدینہ منورہ۔۔17گنبد خضریٰ کا رنگ اور اختر صاحب

گوشہء نور کی کرنیں
طالب مدینہ منورہ۔۔17
گنبد خضریٰ کا رنگ اور اختر صاحب
سبز گنبد جو ہر امتی کی آ نکھوں کا خواب ہے.
ہر امتی کی آ نکھوں کی ٹھنڈک ہے۔
۔اس کو تکنا۔
اس کو نگاہوں ہی نگاہوں میں چومنا .
مدینہ میں موجود ہیں تو ہر وہ لمحہ جس میں یہ آنکھوں سے اوجھل ہو بیقرار ہو اٹھنا۔
آنکھیں بند ہوں تو اس گنبد خضریٰ کو چشم تصور میں دیکھنا۔
یہ گنبد خضریٰ میں ایسا کیا ہے؟میں اکثر سوچتی۔
کیا یہ وہ تمام انوارات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے جو صبح سے شام تک یہاں برستے ہیں؟
کیا ستر ہزار فرشتے جو صبح وشام درا قدس پر حاضری دینے آتے ہیں وہ پہلے اس گنبد کو بوسہء عقیدت دیتے ہوں گے پھر میرے کملی والے سوہنے کریم آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہوں گے۔
کتنی آنکھیں اس کو دیکھنے کے سپنے بنتی اپنے وسائل کے نا ہونے کے باوجود ایک ایک پیسہ جمع کرتی ہوں گی کہ ہم اس کا جیتے جی دیدار کر سکیں۔
کتنے شعراء نے اس گنبد پر اپنے لفظوں کے وارنے موصول کئے ہوں گے۔
اف یہ گنبد میں ایسا کیا ہے جو اسے دیکھتے دیکھتے آنکھیں سیر ہی نہیں ہوتیں۔
وہ کون لوگ ہوں گے جو اس چھو سکتے ہیں؟
میں نے اپنے بزرگوں سے سنا تھا صوفیاء کرام کی اصل اور حقیقی بینائی تو ان کی بند آنکھوں میں ہوتی ہے۔
لیکن دل کہتا وہ کون ہوں گے جنہوں نے گنبد خضریٰ کو کھلی آنکھوں سے۔
جاگتے ہوئے چھوا ہوگا؟
گنبد خضریٰ کو میرے مدینہ منورہ میں رہنے کے دوران تین مرتبہ رنگ ہوا ہے۔ڈار صاحب کی آ واز میری سماعت سے ٹکرائی۔
میں ایک دم چونک گئی۔
تو کیا انہون نے اس کو چھوا ہے ؟
میرا دل یہ جاننا چاہتا تھا۔
میں ہمہ تن گوش تھی۔
جب بھی میں اس کو رنگ ہوتا ہوا دیکھتا تو سوچتا اے کاش میں بھی اس ٹیم کا حصہ بن سکتا۔
یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ اس کو رنگ کرنے والے ہاتھ پاکستانی ہی ہو تے۔اس قوم کو اللہ کریم نے وہ عقیدت و محبت دی ہے ،عشق نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جیسا رنگ پاکستانی قوم کے قلوب پر ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔مدینہ منورہ میں تعمیر اتی کام ہو،خطاطی کا کام ،صفائی کا کام ہو یا رنگ و روغن کرنے کاکام پاکستانی عقیدت و محبت میں شرابور یہ خدمات پوری تندہی سے سر انجام دیتے ہوئے نظر آئیں گے۔وہاں جانے کے، اس کو چھونے کے طریقے میں سوچتا رہتا کہ کہیں سے کچھ بات بن جائے کوئی وسیلہ بن جائے تو میں بھی اس ٹیم میں شامل ہو سکوں۔
اختر صاحب ایک ںہت نیک پرہیز گار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بے حد محبت و عقیدت رکھنے والے ایسے ہی پاکستانی تھے۔وہ اس ٹیم کا حصہ تھے جن کا گنبد خضریٰ پر رنگ کرنے کے لئے انتخاب ہوتا تھا۔صبح چھ بجے سے دو بجے تک یہ ٹیم باب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اوپر جایا کرتی تھی۔ڈار صاحب ہمیں بتا رہے تھے اور ہم نہایت عقیدت سے سن رہے تھے۔
میں روزانہ صبح چھ بجے سے پہلے باب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے ان کی ڈیوٹی شروع ہو نے سے پہلے آن موجود ہوتا۔
کبھی تسبیح۔
کبھی ٹوپی۔
کبھی کوئی رومال چپکے سے اختر صاحب کے ہاتھ میں پکڑا دیتا وہ بھی میی محبت و عقیدت دیکھ کر خاموشی سے وہ پکڑ لیتے ۔
میری آنکھوں میں میرے دینے کا مقصد چھپا ہو ا وہ بآسانی پڑھ لیتےتھے۔
دوپہر عین دو بجے سے پہلے میں وہاں ان کے استقبال کے لئے موجود ہوتا۔میرا جی چاہتا جب یہ لوگ گنبد کو چھو کر واپس آ ئیں تو نیچے سب سے پہلے میں ان کوملوں۔میں ان کے ہاتھوں کو چوموں۔
چھ سات آدمیوں کی ٹیم اپنے وجود پر ایک لطیف سی نور کی چادر اوڑھے یوں نیچے آ رہی ہوتی کہ کیا منظر بتاؤں ڈار صاحب کہ رہے تھے ۔
اور میں چشم تصور میں ان ورکرز کے نورانی وجود دیکھ رہی ہتھی۔
یہ یقیناً چنے ہوئے لوگ ہوں گے۔
یا شاید ان کی محبت بہت اعلیٰ پائے کی ہوگی۔جو اس کام کے لئے نظر انتخاب ان پر پڑی۔
میری امانت خاموشی سے گنبد کو مس کر کے واپس لے آئے ہوتے اور مجھے تھما دیتے۔اس کو واپس لیتے ہوئے میری مسرت کو وہ پیار بھری مسکراہٹ کا تحفہ دے کر وہاں سے رخصت ہو جاتے۔ڈار صاحب ماضی میں کھوئے ہوئے ہمیں بتا رہے تھے۔
آپ کا شوق،تڑپ اور عقیدت و احترام دیکھ کر میں نے اپنے باس سے بات کی ہے۔ آپ کا کارڈ بنوانے کی کوشش کرتے ہیں امید ہے میں اس کوشش میں کامیاب ہو جاؤ ں گا پھر آپ بھی ہمارے ساتھ اوپر جاسکیں گے۔ایک دن اختر صاحب نے بڑی راز داری سے کہا۔
میں اوپر گنبد خضریٰ کے قریب جا سکوں گا میری آواز شدت جذبات سے شاید میرے سینے میں ہی گھٹ گئی۔
جی جی ۔وہ کارڈ بنانیوالے سے میری بہت اچھی سلام دعا ہے وہ کہ رہا تھا کام ہوجائے گا اختر صاحب نے اپنی پرجوش آواز کو دباتے ہوئے مسرت سے کہا۔
بن لادن کمپنی کا دفتر جہاں میری ڈیوٹی تھی وہ مسجد علی رضی اللہ عنہ کے بلکل سامنے تھا۔ اس دفتر میں بیٹھے ہوئے مجھے گنبد خضریٰ بلکل واضح نظر آتا۔
میرے پاکستانی ساتھی اوپر جاکر بڑی جانفشانی اور محبت سے اس کو رنگ کر رہے ہوتے اور میں انہیں دیکھ کر سوچنا کاش میں بھی کبھی۔۔۔
اختر صاحب بہت نفیس آدمی تھے۔سرور دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درودیوار سے بھی ان کی وارفتگی دیکھنے لائق ہوتی تھی۔یہ لوگ صبح سویرے چھ بجے باب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اوپر جاتے تھے اور لنچ بکس میں اپنا کھانا پیک کرکے ساتھ لے جاتے۔ہمیشہ ضرورت سے زیادہ روٹیاں ساتھ لے کر جاتے۔جو بچ جاتیں محبت سے پیک کرکے واپس لے آتے ۔اور نیچے آکر محبت والے دوستوں میں بانٹ لیتے۔اور آ قا علیہ الصلواۃ والسلام کے غلا م اس روٹی کو جسے گنبد کی قربت نصیب ہوئی ہوتی محبت سے چومتے اور کھا لیتے۔
“یا رسول اللہ تیرے در کی فضاؤں کو سلام”
میں یہ سب باتیں سن کر سوچ رہی تھی یہ کیسی محبت ہے؟
یہ کیسا جذبہ ہے؟
جو ہواؤں کو بھی مقدس کر دیتا ہے۔
جو محبوب کے در کی فضاؤں کو بھی والہانہ سلام عرض کرتا ہے۔
کیا کوئی بن دیکھے ایسی محبت کر سکتا ہے؟میرے اندر سے آواز آئی میں لمحہ بھر کو چپ ہو گئی کیونکہ جب سوال اندر سے اٹھے تو جواب بھی اندر ہی تلاش کرنا پڑتا ہے۔
اگر محبت کرنے والے نے نہیں بھی دیکھا تو کیا ہوا؟جس سے ہوئی ہے اس پاک ہستی ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تو ہمیں دیکھا ہے ناں۔
وہ کریم آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ہمیں جانتے ہیں۔
پہچانتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک نگاہ نے جب ہمیں دیکھا
ہمیں اپنی امت میں پایا
اس نگاہ پاک میں ایسی محبت تھی
اس محبت میں ایسی قوت تھی
کہ امتی کا دل اس محبت کی لو پکڑ گیا۔
اس لو نے چپکے سے امتی دل میں گھر کر لیا
یہ اسی لو کا اعجاز ہے
ہم جب بھی آ پ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کا نام سنتے ہیں دل میں ایک گداز سا پیدا ہوجاتا ہے
جو ان سے پیار کرتے ہیں ان کی صحبت میں بیٹھنا
ان کی باتیں سننا اچھا لگتا ہے۔میرے اندر کوئی بول رہا تھا۔
لو جی ڈار صاحب سمجھیں کہ آپ کا کام بن گیا۔میں نے آپ کا نام اس لسٹ میں شامل کروادیا جو اوپر جاکر رنگ کرنے والوں کی بنتی ہے۔ان شاءاللہ تعالیٰ اب آپ کا کارڈ بھی بن جائے گا اور آپ اوپر جا سکیں گے ہمارے ساتھ۔ اختر صاحب نے مسرت بھری آواز میں سر گوشی کی۔آپ اپنا کارڈ بننے کے لئے مجھے اقامہ دے دیں تاکہ میں وہ مینیجر صاحب کو جمع کروا دوں اختر صاحب نے بات مکمل کی۔
رنگ کرنے کے لئے تو رنگ والوں کی اور ہیلپروں کی ضرورت ہوتی ہے یہ چیف سروئیر کا وہاں کیا کام ؟مینیجر میرا اقامہ پکڑے تیکھی نظروں سے اقامہ لانے والے کو ڈانٹ رہا تھا۔اختر صاحب کی ساری کوششیں بے کار گئیں اور یوں میرا اقامہ واپس مجھ تک پہنج گیا۔میرا اوپر گنبد خضریٰ کو چھونے کا خواب ننھے ننھے آنسوؤں کی بوندیں بن کر میرے اندر ہی کہیں چھپ کر بیٹھ گیا۔
رمضان المبارک 1997 ء تھا ظہر کے بعد قیلولہ کے لئیے سو گیا تو نصیب جاگ گئے اور خواب میں دروازے پر دستک ہوئی ایک مصری آیا کہ آپ کو پراجیکٹ مینجر بلا رہا ہے فورا دفتر آئیں۔ گنبد خضریٰ کو رنگ مکمل ہو گیا ہے اس کی بن لادن کو ادائیگی کے لئے پیمائش کرنی ہے ۔ الحمدللہ اس وقت ناچیز کا آفس مسجد علی ر۔ع کے سامنے تھا اور اپنی کرسی پر بیٹھے گنبد خضریٰ میری نگاہوں کے سامنے ہوتا تھا اور الحمدللہ تیرا سال اسی جگہ آفس رہا۔ میں نے فوراً تیاری کی اپنے دو ہیلپروں کو کیمپ میں فون کیا کہ جتنی جلدی ممکن ہو آفس پہنچو اس طرح الحمدللہ اوپر جا کر گنبد خضریٰ کی چاروں طرف سے پیمائش کی اور باقاعدہ سکیچ بنا کر دیا ۔ الحمدللہ۔
بچپن سے لے کر آج تک جو سوچا وہ عطا ہوا ۔ جاگتے سوتے جو بھی خواب دیکھا اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے صدقے پورے فرمائے۔ڈار صاحب نے یادوں میں کھو ئی ہوئی آواز میں کہا۔
ایک دن اختر صاحب نے مجھے اپنے گھر بلایا۔اور میرے سامنے گنبد خضرا سے اتارے گئے پرانے سبز رنگ کی بھری ہوئی چھوٹی سی طشتری رکھ دی بولے یہ آپ کے لئے ہے۔لے جائیں اپنے گھر۔میں روزانہ آپ کی محبت و عقیدت کو صبح شام دیکھتا ہے ۔ہمیں اوپر رخصت کرتے ہوئے آپکے چہرے کی بے بسی اور سارا دل میری آنکھوں میں رہتی اور میں یوں محسوس کرتا کہ آپ میرے ساتھ ہی ہیں۔
میں وہاں آپ کے لئے دعا گو رہتا۔
میں ان کی بات سن کر سوچ رہی تھی یہ بات سچ ہے وہاں تو نیت کا خلص اور دل کی تڑپ ہی مقبول ہوتی ہے۔
اختر صاحب بہت شاندار شخصیت کے مالک تھے۔ہمدرد محبت کرنے والے اور سخی۔۔
ڈار صاحب کی آ واز میری سماعت سے ٹکرائی۔
ان کی جب بن لادن کمپنی میں جاب ہوگئی تو کمپنی والوں نے ان کا تبادلہ مکہ مکرمہ کر دیا۔جانے سے چند روز قبل میرے پاس آ ئے اور کہنے لگے میرے پاس میرے مدینہ منورہ میں رہنے والے دوستوں کی کچھ امانت ہے میں ان تک پہنچانا چاہتا ہوں۔آپ میرے ساتھ چلیں گے۔میں نے کہا ٹھیک ہے۔
اگلے روز دفتر سے واپس آ نے کے بعد میں مقررہ وقت پر ان کے پاس موجود تھا۔انہوں نے گنبد خضریٰ سے اتارے گئے پرانے سبز رنگ کی تھوڑی تھوڑی مقدار ڈال کر چھوٹے چھوٹے پیکٹ بنائے ہوئے تھے۔انہیں بڑی محبت سے پیک کیا ہوا تھا مجھے دکھائے اور کہنے لگے میرے آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرنے والے دوستوں کی یہ لسٹ میں نے بنائی ہوئی ہے ان سب کو یہ رنگ کا تحفہ دے کر پھر میں مدینہ منورہ سے جاؤں گا۔یوں ہم دونوں دودن تک دفتر سے چھٹی ہونے کے بعد مدینہ منورہ کی گلیوں میں گھر گھر جا کر آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کی نگری سے عقیدت و محبت رکھنے والوں کو یہ رنگ تحفے میں دیتے رہے۔
سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلاموں سے کمال محبت تھی ان کی ڈار صاحب اختر صاحب کی یادوں میں کھو ئے ہوئے بتا رہے تھے۔آپ کو نہیں معلوم اگر کسی کے پاس وہاں کا کوئی تبرک ہو تو لوگ بہت بخل سے کام لیتے ہیں دوسروں کو دیتے ہوئے ۔لیکن ان کی شخصیت میں کمال فیاضی تھی۔ڈار صاحب کی آواز انہیں یاد کرکے بھرا سی گئی۔
وہ اب کہان ہیں؟میں نے پوچھا۔
وہ اس جہان فانی سے پردہ فرما گئے ہیں ۔انہوں نے اپنے دوست کی یاد کے آنسو دباتے ہوئے جواب دیا۔
تحریر پسند آ ئے تو شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آگاہ ہو سکیں۔
اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں آ پ کی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے۔شکریہ۔گوشہء نور

Related Posts

Leave a Reply