طالب مدینہ منورہ. قسط۔13 عبد الرحمٰن شیبی سے ملاقات۔

گوشہء نور کی کرنیں۔۔
طالب مدینہ منورہ…قسط۔13
عبد الرحمٰن شیبی سے ملاقات۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرا تبرکات اکٹھے کرنے کا شوق بڑھتا چلا گیا۔
اب موئے مبارک بھی میرے گھر جلوہ افروز تھا۔
ڈار صاحب بتا رہے تھے اور میں سوچ رہی تھی کہ کیسے وہ ایک ایک کرکے اکٹھے کئے گئے تبرکات کے اس ذخیرے کو پاکستان لے جا کر ایک خوبصورت تبرک ہاؤس بنانے کے خواب دیکھتے ہوں گے۔
ان خوابوں کوان کی آ نکھوں نے کتنےسال بنا ہوگا۔
یہ سب تبرکات کو ان لوگوں کی زیارت کے لئے جو مدینہ منورہ نہیں جا سکتے اور آ نکھوں سے مدینہ منورہ دیکھنے کی چاہت انہیں تڑپاتی رہتی ہے۔یہاں لاکر تبرک ہاؤس بنانے کا خواب یقینا سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی منظور ی کے بغیر کیونکر ممکن ہو سکتا تھا۔
میرے کریم آ قا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیار کرنے والے کے لیے لئے ہر وہ چیز متبرک ہوتی جسے اس کے عالی مقام آ قا علیہ الصلواۃ والسلام سے کسی طرح کی بھی نسبت حاصل ہو۔
تبرکات سے متعلق میرے زوق وشوق کو دیکھ کر میرے ایک دوست شیخ شہزاد افتخار صاحب نے میری ملاقات دکتور عبد الرحمن الشیبی سے کروا ئی۔
ہم شیبی صاحب کے گھر مکہ میں موجود تھے۔ آپ کعبہ اللہ کے چابی بردار ہیں ۔اقاعلیہ الصلواۃ والسلام نے مکہ مکرمہ فتح ہونے کے بعد کعبتہ اللہ کی چابیاں اس خاندان کے حوالے کی تھیں اور رہتی دنیا تک نسل در نسل اسی خاندان میں منتقل ہو تی رہیں گی۔۔
ان سے میرے دوست شیخ شہزاد افتخار نے میرا تعارف کروایااور جب انہیں معلوم ہوا کہ میرے گھر میں موئے مبارک موجود ہے تو وہ کہنے لگے آ پ میرے خواب کی تعبیر ہو کیونکہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ میں مدینہ منورہ میں کسی کے گھر موجود موئے مبارک کو غسل دے رہا ہوں۔
یوں ان سے ایک سیر حاصل گفتگو کے بعد ان سے ملاقات اختتام پذیر ہوئی۔
پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے تبرکات مجھے ان سے بھی ملے جن میں بیت اللہ شریف کے اندر لٹکا ئے جا نے والے سرخ اور سبز پردے کے اورٹکڑے۔
غلاف کعبہ کے اور مدینہ منورہ میں جالیوں کے اندر لٹکا ئی جانے والی سبز چادر اور سرخ پردہ بھی نصیب ہؤا۔
میں کبھی ان چیزوں کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے مدینہ میں سادات گھرانے کے فرزندوں کی خدمت میں لگ جایا کرتا تھا۔
پاکستان چھٹی پر آ نا تو ان کے لئے تحائف اکٹھے کرنے میں لگ جانا کبھی چنیوٹی لکڑی کے ڈیکوریشن پیس اور کبھی سیالکوٹی لیدر کی ایکسپورٹ کوالٹی کی جیکٹیں۔
کبھی انڈین ساڑھیاں۔۔
(کیونکہ عرب عورتیں انڈین ساڑھیاں پسند کرتی ہیں۔)
یوں اس کریم رب نے کرم کیا تو میرے تصور سے بھی زیادہ نواز دیا مجھے۔
غلاف کعبہ کے میٹر بائے میٹر کے چار ٹکرے عطاء ہو ئے۔
96میں تزئین کعبہ کے اندر کا غلاف جو 12سال تک کعبہ اللہ کے اندر کی دیواروں سے لپٹا اپنے نصیب پر نازاں تھا وہ بھی میرے حصے میں آ گیا۔
اس زمانے میں باب توبہ کی طرف سرخ رنگ کا کپڑا تھا باقی سارا سبز۔96کے بعد سارا گرین کر دیا گیا۔اس میں سے بھی حصہ عطاء ہو ا۔
حرم مکی امام کے زیر استعمال جاء نماز جو کسی حکمران نے انہیں تحفے میں دیا تھا وہ بھی میرے تبرک ہاؤس کی زینت بنا۔۔
مسجد نبوی شریف کے امام صاحب کے زیر استعمال جانماز ۔۔۔
مسجد قبا مسجد قبلتین اور مسجد جمعہ کے قالین امام صاحبان کے زیر استعمال جاء نماز ۔اس کے علاوہ مسجد نبوی شریف کے استعمال شدہ قالین ۔
ریاض الجنہ کے پرانے قالین حرم مدینہ میں آ ویزاں پرانی خطاطی کے نمونے اور بے شمار چیزیں ملیں۔
میرے اوپر کرم کی بارش روز بروز بڑھتی گئی۔اور بے شمار تبرکات میرے تبرک ہاؤس کی زینت بننے کیلئے مجھ تک پہنچ چکےتھے ۔
تحریر پسند آ ئے تو شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہوسکیں۔شکریہ۔
اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں آ پ کی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے گوشہء نور۔

Related Posts

Leave a Reply