آ تش عشق اور سرخ گلابوں میں گر ا گھر

عبادات، مذہب اور سکون

عبادات، مذہب اور سکون
باب۔20.
مجھے سکون نہیں ہے ماں جی ۔بہت بیقرار رہتی ہوں میں ۔پل بھر کا سکون بھی میسر نہیں ہے مجھے ۔اسی بے سکونی اور اضطراب کی وجہ سے بلڈ پریشر اور سکون کی گولیاں بلا ناغہ استعمال کرتی ہوں۔حالانکہ پانچ وقت کی نماز اور قرآن مجید میرےی ذندگی کے معمولات کا حصہ ہیں۔وہ ماں جی کو اپنا حال دل سنا رہی تھی۔
اس کی عمر تقریباً تیس یا پینتیس کے لگ بھگ تھی ۔صاف ستھرا لباس اور ہلکا ہلکا میک اپ اس کے چہرے کی وحشت اور تناؤ کو چھپانے میں ناکام تھا۔ وہ دیکھنے اور بات چیت کرنے میں اس کا تعلق ایک خوشحال گھرانے سے لگ رہا تھا۔وہ آ ج پہلی مرتبہ ہماری محفل میں آ ئی تھی اور شاید اپنے سارے دکھوں کی بوری کندھوں پر اٹھائے اب وہ اتنا تھک چکی تھی کہ کسی بھی اللہ کے بندے یا بندی کی تلاش میں تھی جس کو وہ اپنی بوری میں بند ایک ایک دکھ کھول کھول کر دکھائے۔
اللہ کہاں ہے ماں جی؟یہ میری دعائیں کیوں نہیں سنتا؟تھک گئی ہوں اس کو پکار پکار کر۔وہ تو کہتا ہے وہ اپنے بندے کی شہ رگ سے بھی قریب ہے پھر میرے دکھوں سے اتنا بے نیا ز کیوں ہے وہ؟
وہ کہتا ہے مجھ سے مانگو میں عطاء کرتا ہوں پھر مجھے کیوں محروم رکھا ہوا ہے اس نے؟کتنے ہوگئے میری شادی کو دکھ سہ سہ کر کئی بیماریاں لگ گئیں مجھے ۔
وہ تو کہتا ہے میں ستر ماؤں سے بڑھ کر پیار کرتا ہوں کیا کوئی ماں اپنی بیٹی کی سسرال میں دکھوں سے بے نیاز ہو سکتی ہے؟اس کے لہجے میں تلخی تھی۔میں نے تو اس کی عبادات میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔جتنی عبادت کر سکتی تھی اس سے بہت زیادہ وقت عبادات میں صرف کیا ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ مجھے سکون نہیں ہے۔ناں شوہر کی محبت میرے نصیب میں ہے ناں ہی بچے میرا ادب کرتے ہیں ۔میں کیا کروں ماں جی۔جس کو اتنی شدت سے عبادات ووظائف کرنے کے بعد بھی سکون میسر نہ ہو وہ سکون کہاں سے ڈھونڈ ے ماں جی۔اب اس کے لہجے کی تلخی میں بے بسی تھی ۔
سکون کیسے ملتا ہے معلوم ہے؟
جب وہ خاموش ہو ئی تو ماں جی نے اس کی آ نکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔
سکون اللہ کی یاد میں ہے وہ جھٹ سے بولی۔
اللہ کہاں رہتا ہے؟
دل میں اس نے جواب دیا۔
صرف تمھارے دل میں یا اپنی تمام مخلوق کے؟ماں جی نے نرمی سے کہا۔
وہاں موجود سب دلچسپی سے دم سادھے ماں کے اس عجیب سوال پر جواب کے منتظر تھے۔
اب وہ خاموش تھی۔اس کے چہرے پر ماں کے اس عجیب سوال پر تذبذب کے اثرات تھے۔
دیکھو بیٹا تمھارا اللہ جو تمھارے دل میں رہتا ہے جسے تم خوش کرنا چاہتی ہو جسے تم پانا چاہتی ہو اسے اپنی ساری مخلوق بہت پیاری ہے ۔وہ کہتا ہے مخلوق میرا کنبہ ہے۔اسی لئے اس نے انسانوں پر ایک دوسرے کے حقوق رکھ دئیے جو یہ حق جتنے احسن طریقے سے ادا کریگا وہی اسکا مقرب ہوگا۔اس کی مخلوق کے حقوق غصب کرکے محض اس کی ذات کی پوجا کرکے تم اس کو راضی نہیں کر سکتیں یہی حقیقت ہے ماں کے لہجے میں نرمی تھی۔
حقوق غصب کیا مطلب ماں جی ؟میں کسی کے حق کیوںکر غصب کروں گی وہ تنک کر بولی۔اس کا لہجہ اس بات کا عکاس تھا کہ وہ مزاج کی تیز عورت ہے۔
میری بات کا برا مت مانیں بیٹا لیکن جب ہم اسلام کی روح کو سمجھ لیں تو بہت سی الجھنیں دور ہو جاتی ہیں ۔
مثلاً ہم سمجھتے ہیں محض عبادات ہمارے تمام مسائل کا حل ہے ۔شوہر آ فس جارہا ہے بچوں نے سکول جانا ہے تو ہم نماز پڑھنے لگ جائیں کہ اشراق کا وقت جا رہا ہے اور اگر اشراق رہ گئی ان کاموں میں تو غصہ بچوں پر نکالیں یا کم از کم اس نماز کے چھٹ جانے کا قصوروار انہیں ٹھہرا ئیں اور اپنے رویے سے انہیں احساس دلایا جائے کہ تم لوگ میری عبادات کا وقت ضائع کروا دیتے ہو۔ شوہر کو اپنے رویے سے باور کرایا جاتا ہے کہ تمھارے گھر کی ذمہ داریاں اور تمھاری خدمت میرے اور میرے رب کے درمیان حائل ہیں۔کیا آ پ کی عبادات سے اور آ پ کے اس رویے سے آ پ کے اہل خانہ آ پ سے دور نہیں ہو رہے ؟
بلکہ اگر میں کہوں وہ لوگ نہ صرف آ پ سے بلکہ آ پ کے رب سے بھی دور ہو رہے ہیں وہ مذہب سے بھی نالاں ہیں۔اپ کے بچے اپنے اس رب سے بھی خائف ہوں گے جو ان کے اور ان کی ماں کے درمیان حائل ہے۔اپ کا رویہ آ پ کے شوہر کو بھی ایک گلٹ میں مبتلا کر رہا پوگا کہ شاید میں اپنی بیوی اور اس کے رب کے درمیان حائل ہو ں۔
مذہب محض عبادات کے لئے نہیں ہے ۔مذہب کبھی بھی ازدواجی خانگی اور معاشرتی زندگی سے ٹکراتا نہیں ہے بلکہ یہ تو اس ذندگی کو بہترین گزارنے کے ڈھنگ سکھاتا ہے۔میں نہایت دکھ سے کہوں گی ہمارے ہاں مذہب کو اس طریقے سے اپنے اوپر لاگو کرکے خدا اور جنت کے متلاشی افراد معاشرے میں صرف بگاڑ کا سبب بنتے ہیں۔اللہ تو کہتا ہے جو مجھ سے محبت کرتا ہے میں اس کی محبت مخلوق کے دلوں میں ڈال دیتا ہوں ۔یوں اللہ سے پیار کرنے والا مخلوق کا محبوب بن جاتا ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے جس سے اس کے اردگرد والے سب پیار کریں وہ بے سکون ہو؟
ماں جی کے لہجے میں عجیب سی تلخی تھی جسے وہ اپنی مسکراہٹ سے چھپانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
جسے پانا چاہتے ہو اس کی بات پر غور سے سنو۔۔اگر محبوب کا محبوب بننا چاہتے ہو تو اس کا طریقہ بھی قرآن نے بتا دیا ہے۔اللہ کہتا ہے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کرو میں تمھیں اپنا محبوب بنا لوں گا گویا اسے پانے کے لئے اس کی مخلوق سے محبت اولین شرط ہے۔اس کی مخلوق کے لیے بے لوث پیار۔۔
ایسا پیار جس میں غرض نہ ہو اس کی مخلوق کی بے غرض خدمت ۔یہاں ہم ان رشتوں کی خدمت سے ان رشتوں سے بے غرض پیار کرنے سے خائف نظر آ تے ہیں جن کو ہم نے اللہ کے نام پر استوار کیا ہوتا ہے جن کا ہم پر حقوق اللہ کریم نے وضع کیے ہیں۔دل تنہائی اور عبادت مانگتا ہے جبکہ تمھاری سروسز اسی کی مخلوق مانگتی ہے جس تک تم پہنچنا چاہتے ہو۔
تو بولو تمھیں کیا کرنا چاہئے ۔
اس ضمن میں ہمارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی خانگی ذندگی کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔اپ کی تمام ازدواج مطہرات آ پ پر جان چھڑکتی تھی۔اپ سے دوست تو کیا دشمن بھی اعلیٰ اخلاق اور بہترین حسن سلوک کی وجہ سے محبت کرتے تھے۔تو میری بیٹی جان لو جب تم اس کی مخلوق کو آ سانیاں دو گے عزت و محبت دو گے اپنے سے جڑے ہر رشتے کی خدمت بے لوث ہوکر صرف اور صرف خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرو گی تو اس کا نتیجہ تمھیں کچھ عرصے میں مل جائے گا۔
اپنی محبت اور توجہ کا محور صرف خدا کی ذات کو بنانا پھر اس کے احکامات کی پیروی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ کی پیروی کرنا ان کی حیات کے ہر انداز کو اپنانا ہم نے سیکھنا ہے اپنی زندگی میں ان کے اطوار کو لاگو کرنا ہے آ پ کے خادم کے الفاظ آ ج بھی سیرت کی کتابوں میں ہمیں جگمگاتے ہوئے نظر آ تے ہیں کہ میں نے برسوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کی لیکن آ پ نے کبھی اف تک نہ کہا۔اج ہم کبھی بچوں پر چیخ رہے ہوتے ہیں کبھی ملازمین ہمارے غضب کا نشانہ بن رہے ہوتے ہیں اور کبھی شوہر ہماری بلند ہوتی ہوئی آ واز کی تلخی سی بچنے کے لیے اپنا زیادہ تر وقت گھر سے باہر گزارنے کی کوشش میں ہوتا ہےماں جی نرمی سے اپنی بات مکمل کرکے خاموش ہو گئیں۔
عورت کہاں جائے ماں ؟
کیا اسلام کے سارے احکام صرف عوت کے لئے ہیں؟اس سے جڑے رشتے کیا ان احکامات سے مبرا ہیں وہ عورت ماں جی کے خاموش ہو تے ہی بولی۔
درد جس کو محسوس ہو رہا ہے دوائی بھی وہی کھاتا ہے۔علاج اس کا ہی کیا جاتا ہے جو علاج کروانا چاہے۔
اسلام ہر فرد کی تربیت کرتا ہے ماں کی بیوی کی شوہر کی بیٹی کی ۔گویا ہر رشتہ کہیں بھی ان کی تربیت سے محروم نہیں ہے۔ماں نے بات کو سمیٹتے ہوئے کہا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ عبادات سکون نہیں دیتی؟وہ سکون کی متلاشی عورت نے بیقرار ی سے کہا۔
ہر دوائی اپنا اثر رکھتی ہے شرط یہ ہے کہ اس کا استعمال صیحح طریقے سے کیا جائے اور جو پرہیز معالج بتائے وہ پرہیز لازم ہے۔اس کو آ پ ایسے بھی سمجھ سکتے ہیں ایک مرسیڈیز آ پ کو تحفے میں ملی ہے اور آ پ کو بتایا گیا ہے یہ میلوں کا سفر منٹوں میں طے کرتی ہے اور آ پ اس میں پٹرول ڈلوائے بغیر بھلے گھنٹوں اس کا سٹئیرنگ گھماتے جائیں نہ یہ سٹارٹ ہوگی اور نہ ہی سفر طے کر سکے گی۔اس لئے بیٹا عبادات سے سکون اور قرب الٰہی کیسے حاصل ہو سکتا ہے یقیناً آپ جان چکی ہوگی ماں جی نے شفقت سے اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔۔

Related Posts

Leave a Reply