فرزانہ آ پا عید گاہ شریف

گوشہء نور کی کرنیں ۔
فرزانہ آ پا عید گاہ شریف ۔
تارکین وطن کے لئے ملک میں ہونے والے چھوٹے چھوٹے فنکشن اور محافل کی وڈیوز خاص دلچسپی کا باعث ہوتی ہیں۔اور مختلف فیملی اور فرینڈز گروپ میں شئیر کی جانے والی ایسی وڈیو ز کو ہزاروں میل دور بیٹھے پردیسی بڑی محبت سے بار بار دیکھ کر دل میں وطن کی محبت کے لئے اٹھنے والے جذبات کو ٹھنڈا کرتے ہیں۔
ایسی ہی ایک وڈیو دیکھتے ہوئے میری توجہ ایک چہرے نے کھینچ لی۔وہ سیدہ کونین جگر گوشہء رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح بیان کر رہی تھیں۔اندازبیاں اتنا دلنشیں تھا کہ محسوس ہو رہا تھا گویا الفاظ سیدہ کونین کے قدموں کو چھو کر ان کے لبوں سے ادا ہو رہے ہیں۔عشق میں بھیگا ہوا انداز بیاں سننے والے کو جھٹ سے بی بی فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے دربار میں پہنچا دے۔
وہ چند سیکنڈ کا کلپ میرے من میں بہت سی سر گوشیاں کر گیا۔
میں نے اس کلپ کو سیو کیااور دعا کی” اے اللہ میں اس خاتون سے ملنا چاہتی ہوں جس کا نام بھی مجھے معلوم نہیں ۔لیکن تو کار ساز ہے مجھے اس ہستی سے ملوا دینا. “امین”۔
رب العالمین کے حضور اپنی عرضی ڈال کر میں ہمیشہ کی طرح مطمئن ہو گئی۔
چھٹیوں میں ہم پاکستان موجود تھے ۔میری ایک بہت پیاری سہیلی جو اہل بیت کی محبت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں بہت سرشار تھی۔اہل بیت سے محبت کرنے والوں کی محبت میں بھی دیوانی۔۔۔۔
اس سے ملاقات ہوئی ۔موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اہل بیت سے محبت تھا۔ یہ آ قا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت عجیب چیز ہے۔اس محبت کا بوٹا جس دل میں لگ جائے وہ دل اپنے ہم جنس ڈھونڈ نا اور ان کی صحبت میں بیٹھنا پسند کرتا ہے۔بات محبت والوں کی ہو رہی تھی تو مجھے وہ وڈیو کلپ یاد آ گیا۔میں نے جھٹ سے وہ وڈیو نکالی اور انہیں دیکھائی۔
انہیں پہچانتی ہیں یہ کون ہیں؟
مجھے ان سے ملنا ہے انہیں ہم کیسے ڈھونڈ سکتے ہیں میں نے موبائل کی سکرین ان کے سامنے کرتے ہوئے کہا۔
ارے یہ تو فرزانہ آ پا ہیں۔
فرزانہ مجید عید گاہ شریف والی ۔
وہ سکرین پر نظریں جمائے ہوئے بولیں۔
ہیں کیا آ پ ان کو جانتی ہیں؟
میں نے خوشی سے پوچھا۔
ہاں ہاں بہت مرتبہ ملاقات ہوئی ہے ان سے وہ بولیں۔
مجھے بھی ملوا سکتی ہیں؟
میں نے امید سے پوچھا۔
ہاں ضرور جب کہو میں ان سے سے ٹائم لے کر آ پ کو ان کے ہاں لے جاؤ ں گی اس نے میری بیقرار ی دیکھتے ہوئے پیار سے جواب دیا۔
۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
اج یکم ذی الحج ہے فرزانہ آ پا کی والدہ کی برسی کا اہتمام کیا گیا ہے عیدگاہ شریف میں ۔میں وہاں انوائیٹ ہوں آ پ چلیں گی ؟میری سہیلی فون پر مجھ سے پوچھ رہی تھی۔
فرزانہ آ پا میں نے یادداشت پر زور دیتے ہوئے اس نام کو پکڑنا چاہا۔
وہی جن کی وڈیو آ پ نے مجھے دیکھائی تھی۔اور خواہش کا اظہار کیا تھا کہ آ پ ان سے ملنا چاہتی ہیں۔ وہ بولیں۔
جی جی بلکل میں نے صورتحال کو سمجھتے ہوئے خوشدلی سے جواب دیا۔
۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
گاڑی راولپنڈی کے گنجان آباد علاقے میں رش والی پتلی سی سڑک پر سست رفتار میں چل رہی تھی ۔گاڑی میں مکمل خاموشی تھی۔
your destination is on the left.
جی پی ایس کی آ واز سن کر ہم نے گاڑی بائیں جانب ایک بڑے کے احاطے کی جانب موڑ دی۔یہ وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی حویلی نما عمارت تھی جس میں ایک جانب چند گاڑیاں کھڑی تھیں۔
ایک کشادہ صحن سے ملحق ایل شیپ میں بر آ مدہ تھا جس میں قالین بچھے ہوئے تھے۔ چند لوگ یہاں بیٹھے ہوئے تھے ۔کچھ ملازمین اور گارڈ بھی وہاں موجود تھے ۔
میرے شوہر نے ماحول کا جائزہ لیا پھر بولے ۔اپ معلوم کرلیں خواتین کا پروگرام کہاں ہو رہا ہے اور ان سے ملاقات کر آئیں۔میں ادھر گاڑی آ پ کا انتظار کر رہا ہوں ۔ ان کا لہجہ حتمی تھا ۔
میں نے جونہی گاڑی کا دروازے کھولا سامنے سے ایک گارڈ میری جانب متوجہ ہوا اور بولا ادھر آ جائیں خواتین کی محفل کا اہتمام ادھر ہے۔اس نے کونے کی جانب اشارہ کیا۔میں اس طرف چل پڑی۔
کونے میں سیڑھیاں نظر آ ئیں ۔اوپر کی جانب بھی اور نیچے تہ خانے میں بھی سیڑھیاں اتر رہی تھیں۔میں ٹھٹھکی کہ مجھے کدھر جانا ہے ۔اوپر چلی جائیں مجھے عقب سے ہدایت دی گئی۔میں سیڑھیاں چڑھ کر بالائی منزل میں کھڑی تھی۔صاف ستھرا برامدہ جس میں سائیڈوں پر سر سبز گملے پڑے ہوئے تھے۔یہ بلکل پرانے زمانے کی حویلی کا ماحول تھا۔ساتھ والی دیوار پر اے سی کے چلنے کی ہلی ہلکی آ واز نے مجھے متوجہ کیا اور میں بائیں جانب جانے لگی ۔محفل اوپر ہو رہی ہے۔مجھے ایک نسوانی آ واز نے متوجہ کیا۔ادھر شاید ان کی رہائش گاہ تھی۔اوہو سوری ۔میں نے شرمندہ سا ہوکر اپنا رخ پھر سے سیڑھیوں کی جانب موڑ دیا ۔
یہ ایک وسیع کمرہ تھا۔شاید یہاں بچیوں کے لیے مدرسہ بنایا تھا۔
ہال نما کمرہ خواتین سے بھرا ہوا تھا۔جس کی مکمل خاموشی میں نسوانی آ واز میں ںہت خوب صورت دلنشیں انداز میں نعتیہ کلام پیش کیا جا رہا تھا۔حاضرین محفل اپنے آ قا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش کئے جانے والے کلام کی دلنشینی میں مست تھے۔
یہ نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم بھی امت کے لئے ایک نعمت خداوندی ہے۔ عشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ڈوب کر لکھے ہوئے اشعار سننے والے کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتے ہیں۔
عشق کی چنگاری جو شاعر کے دل سے الفاظ کا پیراہنِ زیب تن کئے بڑی سج دھج سے نکلتی ہے سننے والے ہر دل پر بڑے خاص انداز میں اٹر انداز ہوتی ہے۔
ہر دل یہ اشعار سن کر اس محبت کی لو کو پانے نکل کھڑا ہوتا ہے۔
کوئی مدینہ کی گلیوں میں یہ خوشبو ڈھونڈ رہا ہوتا ہے کوئی گنبد خضریٰ کے سامنے کھڑا نیر بہاتا ہے اور کچھ خاص دل لمحہ بھر میں صدیوں کا فاصلہ طے کرکے آ قاکریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدمین میں پہنچ جاتے ہیں۔
میں بھی ہال میں موجود نعتیہ کلام میں سر دھنتی ان خواتین کے چہروں پر ان کی دلی کیفیات کی عکاسی دیکھ رہی تھی۔
درمیان میں زمین پر چاندنی بچھی تھی۔سائیڈوں پر کرسیاں لگائی گئی تھی جن پر بڑی عمر کی خواتین بیٹھی ہوئی تھیں۔داخلی دروازے کے بلکل سامنے والی دیوار کے ساتھ گاؤ تکیے لگائے گئے تھے وہاں چند خواتین بیٹھی ہوئی تھیں ۔یہی میزبان محفل تھیں ۔ سیاہ عبایہ زیب تن کئے سکارف میں لپٹا آ نکھیں موندے نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے اشعار میں سر دھندتا یہ وجود پوری محفل کی روحانیت کا مرکز و محور دیکھائی دے رہا تھا۔
انہیں دیکھ کر یوں محسوس ہو رہا تھا گویا یہ یہاں ہیں ہی نہیں ۔یہ تو شاید دربار عالیہ کے کسی گوشے میں چھپ کر بیٹھی وہ ہستی ہیں جنہوں نے اپنی حیات کا مقصد ہی اس کریم آ قا صلی اللہ علیہ وسلم کی چاہت وعقیدت کو بنایا ہے ۔وہ اس دربار سے بہت ساری خیرات سمیٹ کر اپنے اردگرد والوں میں بانٹ رہی ہیں۔
اللہ یہ چہتہ اتنا شناسا ، اتنا شفیق ، اور اتنامن کے قریب کیوں محسوس ہو رہا ہے میرے دل نے سر گوشی کی۔
یہی تو وہ چہرہ ہے بی بی جس کی تلاش میں تم یہاں تک آ ئی ہو میرے اندر سے ہی جواب آ یا ۔
اف تو کیا یہی ہیں وہ فرزانہ آ پا؟
میں اپنے اندر سے آ نے والے جواب کی تصدیق چاہ رہی تھی۔
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ میں نے اپنے ساتھ والی کرسی پر آ کر بیٹھنے والی خاتون کو دھیمے لہجے میں مخاطب ہو کر اہستہ سے کہا۔
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ اس عورت نے خوش اخلاقی سے جواب دیا۔
اپ بھی پہلی مرتبہ آ ئی ہیں یہاں میں اس عورت سے مخاطب تھی۔
نہیں میں تو ہمیشہ آ تی ہوں جب بھی فرزانہ آ پا بلائیں اس کے لہجے میں فرزانہ آ پا کے لئے پیار ہی پیار تھا۔
کہاں ہیں فرزانہ آ پا ؟
میں نے پوچھا ۔
آ پ نہیں جانتی انہیں ؟
وہ حیران تھی۔
نہیں میں پہلی مرتبہ آ ئی ہوں یہاں میں نے سادگی سے جواب دیا۔
وہ خاتون جو سامنے بیٹھی ہیں اس نے اسی سیاہ سکارف میں لپٹے شفیق چہرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔
اب میرا دل اپنی پہچان پر بلیوں اچھل رہا تھا۔
واہ زبردست میں نے ٹھیک پہچانا میرے اندر کوئی خوشی سے کہ رہا تھا۔
مغرب کی اذان ہونے کو تھی لیکن محفل اپنے عروج پر تھی ۔عام طور پر مغرب سے پہلے اس طرح کی محافل اختتام پذیر ہو جاتی ہیں۔اور دعا اذان سے پہلے ہی کروا دی جاتی ہے۔لیکن یہاں مجھے ایسے کچھ اثار نظر نہیں آ رہے تھے۔جس کی وجہ سے میں بے چین تھی کیونکہ میرے گھروالے گاڑی میں میرے منتظر تھے اور میں انہیں یہ کہ کر آ ئی تھی کہ مغر ب تک میں واپس لوٹ آ ؤ ں گی۔
دعا کب ہوگی اذان ہونے والی ہے میں نے اپنے لہجے کو پر سکون رکھتے ہوئے اپنے ساتھ بیٹھی خاتون سے سرگوشی کی۔
دعا تو عشا سے پہلے ہو گی یہ محفل تو مغرب کے بعد بھی جاری رہے گی اس نے جواب دیا۔
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ ،مجھے فرزانہ آ پا سے ملوا دو مجے واپس جلدی جانا ہے ۔
خواتین مغرب کی نماز کی ادائیگی کے لیے اپنی اپنی جگہ سے اٹھیں تو میں نے اگلی صفوں میں بیٹھی اپنی سہیلی کو ڈھونڈ کر اس سے مخاطب تھی۔
ہیں آ پ کب پہنچیں وہ مجھے دیکھ کر خوشی سے گلے ملتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی آ ئی ہوں۔لیکن میرے شوہر نیچے انتظار کر رہے ہیں مجھے جلد ی واپس جانا ہے میں نے کہا۔
یہ ابھی عمرہ کرکے آ ئی ہیں سعودی عرب میں ہی رہتی ہیں انہیں آ پ سے ملنے کا بہت شوق تھا میری سہیلی فرزانہ آ پا سے میرا تعارف کروا رہی تھی۔بھیڑ میں کھڑی فرزانہ آ پا نے ایک شفیق ماں کی طرح بازو واکئے مجھے اپنے ساتھ لگایا اور اپنے وجود میں شفقت ومحبت سمیٹے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئے میری خیریت دریافت کی۔
بہت شوق تھا آ پ سے ملنے کا اور الحمدللہ رب العالمین نے یہ موقع عطاء کیا۔میں نے رسمی گفتگو کے بعد کہا۔
اب میں اجازت چاہوں گی۔
کیوں وہ حیرت سے بولیں ابھی تو دعا بھی نہیں ہوئی ۔اور اس کے بعد کھانا آ پ ہمارے ساتھ کھائیں گی ۔
نہیں معذرت خواہ ہوں میرے شوہر نیچے میرا انتظار کر رہے ہیں اور مجھے واپس جانا ہے۔
مدینہ شریف سے کوئی آ ئے اور ہمارے گھر سے کچھ کھائے پئے بغیر چلا جائے یہ ممکن نہیں وہ عشق مدینہ منورہ سے لبریز لہجے میں بولیں۔
اپ کے شوہر بھی ادھر رکیں میں نیچے کہلوا دیتی ہوں۔
نہیں وہ نہیں رکیں گے انہیں جلدی گھر جانا ہے میں نے انکساری سے کہا ۔
مدینہ شریف کی نسبت سے ہمارے ہاں آ نے والا کھانا کھائےبنا نہیں جا سکتا۔اپ ایسا کریں اگر وہ نہیں رک سکتے تو انہیں جانے دیں میرا ڈرائیور آ پ کو چھوڑ آ ئے گا ۔انہوں نے پیار سے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا۔
اف میرے کریم آ قا سے نسبت کتنی بڑی چیز ہے۔ان سے محبت کرنے والے تو ان کے در کی خاک کو بھی اپنے سر کے تاج میں رکھتے ہیں۔ان کی مدینہ شریف سے محبت دیکھ کر میں اپنی آ نکھوں کی نمی چھپانے کے لئے اپنی پلکیں تیزی سے جھپک رہی تھی۔
اختتامی دعا کے بعد کھانے کا عمدہ انتظام تھا ۔وہ تمام مہمانوں سے یوں شفقت فرما رہی تھیں کہ ہر ایک کو لگ رہا تھا شاید وہی اس محفل کا مہمان خاص ہے۔
اب میں ان سے رخصت چاہ رہی تھی انہوں نے اپنی اعلیٰ اسلامی روایت کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک تحائف کا لفافہ میرے ہاتھ میں یہ کہتے ہوئے تھمایا مدینہ شریف سے آ نیوالے مہمان ہمارے گھر سے خالی ہاتھ نہیں جاتے۔اور میں بھیگی آ نکھوں سے عشق ومحبت کے اس پیکر کو ہمیشہ کے لئے اپنی یادداشت میں محفوظ کر تے ہوئے رخصت ہو رہی تھی۔
اپ کو ہماری یہ تحریر کیسی لگی اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں ۔اپ کی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے ۔
پسند آ ئے تو شئیر کریں کاپی پیسٹ کرنے سے گریز کریں کیونکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہو سکیں۔شکریہ۔( گوشہء نور)

Related Posts

Leave a Reply